Narrated by Asma
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَسْمَائَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لِيَ مَالٌ إِلَّا مَا أَدْخَلَ عَلَيَّ الزُّبَيْرُ فَأَتَصَدَّقُ قَالَ تَصَدَّقِي وَلَا تُوعِي فَيُوعَی عَلَيْکِ
ابو عاصم ابن جریج ابن ابی ملیکہ عباد بن عبداللہ اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میرے پاس وہی مال ہے جو مجھ کو زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دیا تو کیا میں اس کو صدقہ میں دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا صدقہ کر اور بند کرکے نہ رکھ ورنہ اللہ تم سے بھی بند کر لے گا۔
Narrated Asma: Once I said, "O Allah's Apostle! I have no property except what has been given to me by Az-Zubair (i.e. her husband). May I give in charity?" The Prophet said, "Give in charity and do not withhold it; otherwise Allah will withhold it back from you . "
Narrated by Asma
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ فَاطِمَةَ عَنْ أَسْمَائَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَنْفِقِي وَلَا تُحْصِي فَيُحْصِيَ اللَّهُ عَلَيْکِ وَلَا تُوعِي فَيُوعِيَ اللَّهُ عَلَيْکِ
عبیداللہ بن سعید عبداللہ بن نمیر ہشام بن عروہ فاطمہ اسماء سے روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مال خرچ کرو اور گن گن کر نہ رکھو کہ اللہ بھی گن گن کردے گا اور بند کرکے نہ رکھ ورنہ اللہ بھی تم سے روک لے گا۔
Narrated Asma: Allah's Apostle said, "Give (in charity) and do not give reluctantly lest Allah should give you in a limited amount; and do not withhold your money lest Allah should withhold it from you."
Narrated by Kurib
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ بُکَيْرٍ عَنْ اللَّيْثِ عَنْ يَزِيدَ عَنْ بُکَيْرٍ عَنْ کُرَيْبٍ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا أَعْتَقَتْ وَلِيدَةً وَلَمْ تَسْتَأْذِنْ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا کَانَ يَوْمُهَا الَّذِي يَدُورُ عَلَيْهَا فِيهِ قَالَتْ أَشَعَرْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنِّي أَعْتَقْتُ وَلِيدَتِي قَالَ أَوَفَعَلْتِ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ أَمَا إِنَّکِ لَوْ أَعْطَيْتِهَا أَخْوَالَکِ کَانَ أَعْظَمَ لِأَجْرِکِ وَقَالَ بَکْرُ بْنُ مُضَرَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ بُکَيْرٍ عَنْ کُرَيْبٍ إِنَّ مَيْمُونَةَ أَعْتَقَتْ
یحیی بن بکیر لیث یزید بن بکیر کریب (ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے غلام) میمونہ بنت حارث سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک لونڈی آزاد کردی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت نہیں لی جب ان کی باری کا دن آیا تو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا آپ کو معلوم ہے کہ میں نے اپنی لونڈی کو آزاد کردیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا تم آزاد کر چکی ہو؟ انہوں نے کہا ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر تم اسے اپنے ماموں کو دے دیتیں تو تمہیں زیادہ ثواب ہوتا بکر بن مضر نے بواسطہ عمرو بکیر کریب روایت کیا کہ میمونہ نے آزاد کردیا۔
Narrated Kurib: the freed slave of Ibn 'Abbas, that Maimuna bint Al-Harith told him that she manumitted a slave-girl without taking the permission of the Prophet. On the day when it was her turn to be with the Prophet, she said, "Do you know, O Allah's Apostle, that I have manumitted my slave-girl?" He said, "Have you really?" She replied in the affirmative. He said, "You would have got more reward if you had given her (i.e. the slave-girl) to one of your maternal uncles."
Narrated by Aisha
حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ سَفَرًا أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ فَأَيَّتُهُنَّ خَرَجَ سَهْمُهَا خَرَجَ بِهَا مَعَهُ وَکَانَ يَقْسِمُ لِکُلِّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ يَوْمَهَا وَلَيْلَتَهَا غَيْرَ أَنَّ سَوْدَةَ بِنْتَ زَمْعَةَ وَهَبَتْ يَوْمَهَا وَلَيْلَتَهَا لِعَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبْتَغِي بِذَلِکَ رِضَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حبان بن موسیٰ عبداللہ یونس زہری عروہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کا ارادہ کرتے تو اپنی عورتوں کے درمیان قرعہ اندازی کرتے جس کا نام قرعہ میں نکل آتا اس کو اپنے ساتھ لے جاتے اور ہر بیوی کے پاس ایک دن رات رہتے مگر اپنے ساتھ لے جاتے اور ہر بیوی کے پاس ایک دن رات رہتے مگر سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بنت زمعہ نے اپنی باری کے دن رات حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا زوجہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دیئے تھے اس سے غرض صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا جوئی تھی۔
Narrated Aisha: Whenever Allah's Apostle wanted to go on a journey, he would draw lots as to which of his wives would accompany him. He would take her whose name came out. He used to fix for each of them a day and a night. But Sauda bint Zam'a gave up her (turn) day and night to 'Aisha, the wife of the Prophet in order to seek the pleasure of Allah's Apostle (by that action).