Narrated by Anas
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ قَتَادَةَ حَدَّثَنَا أَنَسٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أُهْدِيَ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُبَّةُ سُنْدُسٍ وَکَانَ يَنْهَی عَنْ الْحَرِيرِ فَعَجِبَ النَّاسُ مِنْهَا فَقَالَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَمَنَادِيلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ أَحْسَنُ مِنْ هَذَا وَقَالَ سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ إِنَّ أُکَيْدِرَ دُومَةَ أَهْدَی إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
عبداللہ بن محمد یونس بن محمد شیبان قتادہ انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ریشمی جبہ تحفہ میں بھیجا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حریر (ریشم) کے استعمال سے منع فرماتے تھے لوگ اس جبہ سے بہت خوش ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد کی جان ہے سعد بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے رومال جنت میں اس سے بہتر ہوں گے اور سعید نے بواسطہ قتادہ انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کیا کہ اکیدر دومہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تحفہ بھیجا۔
Narrated Anas: A Jubba (i.e. cloak) made of thick silken cloth was presented to the Prophet. The Prophet used to forbid people to wear silk. So, the people were pleased to see it. The Prophet said, "By Him in Whose Hands Muhammad's soul is, the handkerchiefs of Sad bin Mu'adh in Paradise are better than this." Anas added, "The present was sent to the Prophet by Ukaidir (a Christian) from Dauma."
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ يَهُودِيَّةً أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ مَسْمُومَةٍ فَأَکَلَ مِنْهَا فَجِيئَ بِهَا فَقِيلَ أَلَا نَقْتُلُهَا قَالَ لَا فَمَا زِلْتُ أَعْرِفُهَا فِي لَهَوَاتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
عبداللہ بن عبدالوہاب خالد بن حارث شعبہ ہشام بن زید انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک یہودی عورت زہر آلود بکری لے کر آئی اس میں سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھا لیا اس عورت کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا اور آپ سے کہا گیا کہ کیوں نہ ہم اسے قتل کردیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نہیں میں اس کا اثر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تالو میں برابر دیکھتا رہا۔
Narrated Anas bin Malik: A Jewess brought a poisoned (cooked) sheep for the Prophet who ate from it. She was brought to the Prophet and he was asked, "Shall we kill her?" He said, "No." I continued to see the effect of the poison on the palate of the mouth of Allah's Apostle .
Narrated by 'Abdur-Rahman bin Abu Bakr
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ کُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثِينَ وَمِائَةً فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ مَعَ أَحَدٍ مِنْکُمْ طَعَامٌ فَإِذَا مَعَ رَجُلٍ صَاعٌ مِنْ طَعَامٍ أَوْ نَحْوُهُ فَعُجِنَ ثُمَّ جَائَ رَجُلٌ مُشْرِکٌ مُشْعَانٌّ طَوِيلٌ بِغَنَمٍ يَسُوقُهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْعًا أَمْ عَطِيَّةً أَوْ قَالَ أَمْ هِبَةً قَالَ لَا بَلْ بَيْعٌ فَاشْتَرَی مِنْهُ شَاةً فَصُنِعَتْ وَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَوَادِ الْبَطْنِ أَنْ يُشْوَی وَايْمُ اللَّهِ مَا فِي الثَّلَاثِينَ وَالْمِائَةِ إِلَّا قَدْ حَزَّ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُ حُزَّةً مِنْ سَوَادِ بَطْنِهَا إِنْ کَانَ شَاهِدًا أَعْطَاهَا إِيَّاهُ وَإِنْ کَانَ غَائِبًا خَبَأَ لَهُ فَجَعَلَ مِنْهَا قَصْعَتَيْنِ فَأَکَلُوا أَجْمَعُونَ وَشَبِعْنَا فَفَضَلَتْ الْقَصْعَتَانِ فَحَمَلْنَاهُ عَلَی الْبَعِيرِ أَوْ کَمَا قَالَ
ابو النعمان معتمر بن سلیمان سلیمان ابوعثمان عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ہم ایک سو تیس آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ (ایک سفر میں) تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم میں سے کسی کے پاس کھانا ہے؟ اس وقت ایک آدمی کے پاس ایک صاع یا ایک صاع کے قریب آٹا تھا۔ وہ آٹا گوندھا گیا پھر ایک مشرک دراز قد جس کے بال بکھرے ہوئے تھے بکریوں کا ایک ریوڑ ہانکتا ہوا لے کر آیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا عطیہ ہے یا ہبہ ہے؟ اس نے کہا نہیں بلکہ بیچتا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے ایک بکری خرید لی اسے ذبح کیا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کلیجی بھننے کا حکم دیا خدا کی قسم ان ایک سو تیس آدمیوں میں کوئی بھی ایسا نہ تھا جس کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کلیجی ایک ایک ٹکڑا نہ دیا ہو جو موجود تھا اس کو وہیں دے دیا اور جو موجود نہ تھا اس کا حصہ چھپا کر رکھ دیا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس گوشت کے دو پیالے بنائے جن میں سے تمام لوگوں نے کھایا اور خوب سیر ہو کر کھایا بلکہ دونوں سالوں میں سے کچھ گوشت بچ بھی گیا جس کو ہم نے اونٹ پر رکھ لیا کے کچھ الفاظ راوی نے بیان کیے۔
Narrated 'Abdur-Rahman bin Abu Bakr: We were one-hundred and thirty persons accompanying the Prophet who asked us whether anyone of us had food. There was a man who had about a Sa of wheat which was mixed with water then. A very tall pagan came driving sheep. The Prophet asked him, "Will you sell us (a sheep) or give it as a present?" He said, "I will sell you (a sheep)." The Prophet bought a sheep and it was slaughtered. The Prophet ordered that its liver and other abdominal organs be roasted. By Allah, the Prophet gave every person of the one-hundred-and-thirty a piece of that; he gave all those of them who were present; and kept the shares of those who were absent.The Prophet then put its meat in two huge basins and all of them ate to their fill, and even then more food was left in the two basins which were carried on the camel (or said something like it).