TrueHadith

اللہ تعالیٰ کا قول کہ اے ایمان والو! اپنے گھروں کے علاوہ کسی گھر میں داخل نہ ہو جب تک کہ تم اجازت نہ لے لو اور گھر کے رہنے والوں کو سلام نہ کرلو یہ تمہارے لئے بہتر ہے شاید کہ تم نصیحت پکڑو اگر تم اس مکان میں کسی کو نہ پاؤ تو داخل نہ ہو جب تک کہ تمہیں اجازت نہ دی جائے اور اگر تم سے کہا جاوے کہ تم لوٹ جاؤ تو لوٹ جاؤ یہ تمہارے لئے پاکیزگی کی بات ہے اور اللہ تعالیٰ ان چیزوں کو جاننے والا ہے جو تم کرتے ہو تم پر کوئی حرج نہیں اس بات میں کہ غیر آباد مکانوں میں داخل ہو جس میں تمہارا سامان ہے اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے اس چیز کو جو تم ظاہری طور پر کرتے ہو اور جو چھپا کر کرتے ہو اور سعید بن ابی الحسن نے حسن سے کہا کہ عجم کی عورتیں اپنے سینے اور سروں کو کھلا رکھتی ہیں تو انہوں نے کہا کہ اپنی نگاہ پھیر لو اللہ بزرگ و برتر فرماتا ہے کہ مومنوں سے کہہ دو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں قتادہ نے کہا یہ حکم ان عورتوں کے لئے ہے جو حلال نہیں (نیز اللہ تعالیٰ کا قول کہ) اور مومن عورتوں سے کہہ دو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں خائنۃ الاعین کے معنی یہ ہیں کہ اس چیز کی طرف دیکھنا جس سے منع کیا گیا ہے اور کنواری لڑکیوں کی طرف دیکھنے کے متعلق زہری نے کہا کہ اس کی طرف نظر اٹھا کر دیکھنا درست نہیں جس کو دیکھنے کی خواہش ہوتی ہو اگرچہ وہ کمسن ہو اور عطا نے ان لونڈیوں کی طرف دیکھنے کو مکروہ سمجھا جو فروخت کے لئے مکہ کے بازاروں میں آتی تھیں مگر یہ کہ ان کی خریداری کا ارادہ ہو۔

Sahih BukhariHadith 5760

Narrated by 'Abdullah bin 'Abbas

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَرْدَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ يَوْمَ النَّحْرِ خَلْفَهُ عَلَی عَجُزِ رَاحِلَتِهِ وَکَانَ الْفَضْلُ رَجُلًا وَضِيئًا فَوَقَفَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلنَّاسِ يُفْتِيهِمْ وَأَقْبَلَتْ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمَ وَضِيئَةٌ تَسْتَفْتِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَفِقَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا وَأَعْجَبَهُ حُسْنُهَا فَالْتَفَتَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا فَأَخْلَفَ بِيَدِهِ فَأَخَذَ بِذَقَنِ الْفَضْلِ فَعَدَلَ وَجْهَهُ عَنْ النَّظَرِ إِلَيْهَا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ فِي الْحَجِّ عَلَی عِبَادِهِ أَدْرَکَتْ أَبِي شَيْخًا کَبِيرًا لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَسْتَوِيَ عَلَی الرَّاحِلَةِ فَهَلْ يَقْضِي عَنْهُ أَنْ أَحُجَّ عَنْهُ قَالَ نَعَمْ

ابو الیمان شعیب زہری سلیمان بن یسار عبداللہ بن عباس سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیانکیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فضل بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نحر کے دن اپنے پیچھے اپنی سواری کو پشت پر بٹھایا اور فضل ایک خوب صورت مرد تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو کچھ مسائل بتانے کے لئے رک گئے خثعم (قبیلہ) کی ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی مسئلہ دریافت کرنے کو آئی تو فضل اس کی طرف دیکھنے لگے اور اس عورت کا حسن ان کو بھلا معلوم ہوا آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی طرف مڑے اس وقت فضل اسی عورت کو دیکھ رہے تھے آپ نے اپنا ہاتھ پیچھے کی طرف لے جا کر فضل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ٹھوڑی پکڑ کر اس عورت کی طرف سے منہ پھیر دیا اس عورت نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ نے جو اپنے بندوں پر حج فرض کیا ہے وہ میرے باپ پر بھی فرض ہوگیا ہے جو بہت بوڑھا ہے اور سواری پر سیدھی طرح بیٹھ نہیں سکتا اگر میں اس کی طرف سے حج کروں تو کیا یہ ادا ہوجائے گا آپ نے فرمایا ہاں۔

Narrated 'Abdullah bin 'Abbas: Al-Fadl bin 'Abbas rode behind the Prophet as his companion rider on the back portion of his she camel on the Day of Nahr (slaughtering of sacrifice, 10th Dhul-Hijja) and Al-Fadl was a handsome man. The Prophet stopped to give the people verdicts. In the meantime, a beautiful woman From the tribe of Khath'am came, asking the verdict of Allah's Apostle. Al-Fadl started looking at her as her beauty attracted him. The Prophet looked behind while Al-Fadl was looking at her; so the Prophet held out his hand backwards and caught the chin of Al-Fadl and turned his face (to the owner sides in order that he should not gaze at her. She said, "O Allah's Apostle! The obligation of Performing Hajj enjoined by Allah on His worshipers, has become due (compulsory) on my father who is an old man and who cannot sit firmly on the riding animal. Will it be sufficient that I perform Hajj on his behalf?" He said, "Yes."

Permalink

Sahih BukhariHadith 5761

Narrated by Abu Said Al-Khudri

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِيَّاکُمْ وَالْجُلُوسَ بِالطُّرُقَاتِ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَنَا مِنْ مَجَالِسِنَا بُدٌّ نَتَحَدَّثُ فِيهَا فَقَالَ إِذْ أَبَيْتُمْ إِلَّا الْمَجْلِسَ فَأَعْطُوا الطَّرِيقَ حَقَّهُ قَالُوا وَمَا حَقُّ الطَّرِيقِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ غَضُّ الْبَصَرِ وَکَفُّ الْأَذَی وَرَدُّ السَّلَامِ وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيُ عَنْ الْمُنْکَرِ

عبداللہ بن محمد ابوعامر زہیر زید بن اسلم عطاء بن یسار حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم راستوں میں بیٹھنے سے پرہیز کرو لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے لئے تو ایک دوسرے سے گفتگو کرنے کے لئے راستوں کے سوا کوئی چارہ کار نہیں آپ نے فرمایا کہ جب تمہارا بیٹھنا ہی ضروری ہے تو راستے کو اس کا حق دے دیا کرو لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم راستے کا کیا حق ہے؟ آپ نے فرمایا نگاہیں نیچی رکھنا تکلیف دہ باتوں سے رکناسلام کا جواب دینا اچھی باتوں کا حکم کرنا اور بری باتوں سے روکنا۔

Narrated Abu Said Al-Khudri: The Prophet said, 'Beware! Avoid sitting on the roads." They (the people) said, "O Allah s Apostle! We can't help sitting (on the roads) as these are (our places) here we have talks." The Prophet said, ' l f you refuse but to sit, then pay the road its right ' They said, "What is the right of the road, O Allah's Apostle?" He said, 'Lowering your gaze, refraining from harming others, returning greeting, and enjoining what is good, and forbidding what is evil."

Permalink