TrueHadith

ازواج مطہرات کے مکانوں اور ان مکانوں کا انہی کی طرف منسوب کرنے کا بیان اور فرمان الٰہی ہے اے ازواج مطہرات رسالتمآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تم اپنے اپنے گھروں میں قرار پکڑے بیٹھی رہو مومنو! تم خانہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ان کی اجازت کے بغیر داخل مت ہو۔

Sahih BukhariHadith 2868

Narrated by 'Aisha

حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَی وَمُحَمَّدٌ قَالَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ وَيُونُسُ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَأْذَنَ أَزْوَاجَهُ أَنْ يُمَرَّضَ فِي بَيْتِي فَأَذِنَّ لَهُ

حبان بن و موسیٰ و محمد عبداللہ معمر یونس زہری عبیداللہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ جب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا مرض شدید ہوگیا تو سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود اپنی ازواج مطہرات سے اس امر کی اجازت چاہی کہ آپ کا علاج معالجہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے مکان میں کیا جائے جس پر تمام ازواج مطہرات نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اجازت دے دی۔

Narrated 'Aisha: (the wife of the Prophet) When the sickness of Allah's Apostle got aggravated, he asked the permission of his wives that he should be treated in my house, and they permitted him.

Permalink

Sahih BukhariHadith 2869

Narrated by Ibn Abu Mulaika

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ حَدَّثَنَا نَافِعٌ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْکَةَ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي وَفِي نَوْبَتِي وَبَيْن سَحْرِي وَنَحْرِي وَجَمَعَ اللَّهُ بَيْنَ رِيقِي وَرِيقِهِ قَالَتْ دَخَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بِسِوَاکٍ فَضَعُفَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ فَأَخَذْتُهُ فَمَضَغْتُهُ ثُمَّ سَنَنْتُهُ بِهِ

ابن ابی مریم نافع ابن ابی ملیکہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ میرے (عائشہ کے) گھر میں میری باری کے دن میرے سینہ اور میری گردن کے درمیان رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے رحلت فرمائی اور اللہ تعالیٰ نے میرا اور ان کا لعاب دہن ملا دیا (واقعہ یہ ہے) عبدالرحمن ایک مسواک لائے جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چبا نہ سکے تو میں نے اس کو چبا کر اس سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسواک کی۔

Narrated Ibn Abu Mulaika: 'Aisha said, "The Prophet died in my house on the day of my turn while he was leaning on my chest closer to my neck, and Allah made my saliva mix with his Saliva." 'Aisha added, "'AbdurRahman came with a Siwak and the Prophet was too weak to use it so I took it, chewed it and then (gave it to him and he) cleaned his teeth with it."

Permalink

Sahih BukhariHadith 2870

Narrated by Safiya

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ أَنَّ صَفِيَّةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا جَائَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزُورُهُ وَهُوَ مُعْتَکِفٌ فِي الْمَسْجِدِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ ثُمَّ قَامَتْ تَنْقَلِبُ فَقَامَ مَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی إِذَا بَلَغَ قَرِيبًا مِنْ بَابِ الْمَسْجِدِ عِنْدَ بَابِ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِمَا رَجُلَانِ مِنْ الْأَنْصَارِ فَسَلَّمَا عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ نَفَذَا فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی رِسْلِکُمَا قَالَا سُبْحَانَ اللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَکَبُرَ عَلَيْهِمَا ذَلِکَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَبْلُغُ مِنْ الْإِنْسَانِ مَبْلَغَ الدَّمِ وَإِنِّي خَشِيتُ أَنْ يَقْذِفَ فِي قُلُوبِکُمَا شَيْئًا

سعید بن عفیر لیث عبدالرحمن ابن شہاب علی بن حسین رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت صفیہ زوجہ مطہرہ نے ان سے کہا کہ وہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس وقت ملاقات کو آئیں جب کہ آپ رمضان شریف کے آخری عشرہ میں معتکف تھے اور جب وہ واپس جانے لگیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ساتھ اٹھے اور مسجد کے دروازے کے پاس حضرت ام سلمہ کے مکان کے پاس پہنچے تو اس طرف سے دو انصاری گزرے اور آپ کو سلام کہہ کے جلدی سے جانے لگے تو آپ نے فرمایا ٹھہرو سنو! یہ میری بیوی ہیں تو یہ بات ان کو بہت شاق معلوم ہوئی تو وہ کہنے لگے یا رسول اللہ سبحان اللہ! اس پر رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا انسان کی رگوں میں شیطان خون کی طرح دوڑتا پھرتا ہے اور مجھے یہ خوف پیدا ہوا کہ کہیں یہ امر تمہارے دل میں کوئی شبہ پیدا نہ کر دے۔

Narrated Safiya: (the wife of the Prophet) That she came to visit Allah's Apostle while he was in Itikaf(i.e. seclusion in the Mosque during the last ten days of Ramadan. When she got up to return, Allah's Apostle got up with her and accompanied her, and when he reached near the gate of the Mosque close to the door (of the house) of Um Salama, the wife of the Prophet, two Ansari men passed by them and greeted Allah's Apostle and then went away. Allah's Apostle addressed them saying, "Don't hurry! (She is my wife)," They said, "Glorified be Allah! O Allah's Apostle (You are far away from any suspicion)," and his saying was hard on them. Allah's Apostle said, "Satan circulates in the mind of a person as blood does (in his body). I was afraid that Satan might put some (evil) thoughts in your minds."

Permalink

Sahih BukhariHadith 2871

Narrated by 'Abdullah bin 'Umar

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَی بْنِ حَبَّانَ عَنْ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ ارْتَقَيْتُ فَوْقَ بَيْتِ حَفْصَةَ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْضِي حَاجَتَهُ مُسْتَدْبِرَ الْقِبْلَةِ مُسْتَقْبِلَ الشَّأْمِ

ابراہیم انس بن عیاض عبیداللہ محمد بن یحیی بن حبان واسع بن حبان عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں ایک دفعہ حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کوٹھے پر چڑھا تو ناگاہ دیکھا کہ رسو اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبلہ کی طرف پیٹھ اور شام کی طرف منہ کیے ہوئے رفع حاجت کر رہے تھے۔

Narrated 'Abdullah bin 'Umar: Once I went upstairs in Hafsa's house and saw the Prophet answering the call of nature with his back towards the Qibla and facing Sham.

Permalink

Sahih BukhariHadith 2872

Narrated by Aisha

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ لَمْ تَخْرُجْ مِنْ حُجْرَتِهَا

ابراہیم بن منذر انس بن عیاض ہشام عروہ حضرت عائشہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عصر کی نماز ایسے وقت پڑھتے جب دھوپ ان کے کمرہ کے اندر ہوتی تھی۔

Narrated Aisha: That Allah's Apostle used to offer the 'Asr prayer while the sun was still shining in her Hujra (i.e. her dwelling place).

Permalink

Sahih BukhariHadith 2873

Narrated by 'Abdullah

حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا فَأَشَارَ نَحْوَ مَسْکَنِ عَائِشَةَ فَقَالَ هُنَا الْفِتْنَةُ ثَلَاثًا مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ

موسی جویریہ نافع عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ پڑھتے ہوئے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے مکان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تین مرتبہ فرمایا ادھر فتنہ ہوگا جدھر قرآن شیطان طلوع ہوتا ہے (قرن شیطان) کے معنی تو آفتاب ہے لیکن مطلب یہ ہے کہ مشرق سے بہت سارے فتنے اٹھیں گے اور ہر فتنہ ایسا ہوگا جو شیطان کی طرح جھلکیاں لے گا) ۔

Narrated 'Abdullah: The Prophet stood up and delivered a sermon, and pointing to 'Aisha's house (i.e. eastwards), he said thrice, "Affliction (will appear from) here," and, "from where the side of the Satan's head comes out (i.e. from the East)."

Permalink

Sahih BukhariHadith 2874

Narrated by 'Amra bint Abdur-Rahman

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ عَنْ عَمْرَةَ ابْنَةِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ عِنْدَهَا وَأَنَّهَا سَمِعَتْ صَوْتَ إِنْسَانٍ يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِ حَفْصَةَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا رَجُلٌ يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِکَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرَاهُ فُلَانًا لِعَمِّ حَفْصَةَ مِنْ الرَّضَاعَةِ الرَّضَاعَةُ تُحَرِّمُ مَا تُحَرِّمُ الْوِلَادَةُ

عبداللہ بن یوسف مالک عبداللہ بن ابوبکر عمرۃ بنت عبدالرحمن حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان (عائشہ) کے پاس تھے کہ اتنے میں انہوں نے کسی آدمی کی آواز سنی جو حضرت حفصہ کے مکان پر جانا چاہ رہا تھا تو میں (عائشہ) نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ آدمی جو آپ کے گھر جانے کا اجازت خواہ ہے یہ کون ہے؟ آپ نے فرمایا یہ حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فلانے دودھ شریک چچا ہیں اور رضاعت بھی ان رشتوں کو حرام کردیتی ہے جو ولادت سے حرام ہوتے ہیں۔

Narrated 'Amra bint Abdur-Rahman: 'Aisha, the wife of the Prophet told her that once Allah's Apostle was with her and she heard somebody asking permission to enter Hafsa's house. She said, "O Allah's Apostle! This man is asking permission to enter your house." Allah's Apostle replied, "I think he is so-and-so (meaning the foster uncle of Hafsa). What is rendered illegal because of blood relations, is also rendered illegal because of the corresponding foster-relations."

Permalink