Narrated by Anas
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ ثُمَامَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَبَا بَکْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَمَّا اسْتُخْلِفَ بَعَثَهُ إِلَی الْبَحْرَيْنِ وَکَتَبَ لَهُ هَذَا الْکِتَابَ وَخَتَمَهُ بِخَاتَمِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَکَانَ نَقْشُ الْخَاتَمِ ثَلَاثَةَ أَسْطُرٍ مُحَمَّدٌ سَطْرٌ وَرَسُولُ سَطْرٌ وَاللَّهِ سَطْرٌ
محمد بن عبداللہ انصاری عبداللہ انصاری ثمامہ انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ صدیق اکبر جب خلیفہ ہوئے تو انہوں نے مجھ (انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کو بحرین کی طرف بھیجا اور ایک تحریر لکھ دی جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مہر لگا دی آپ کی مہر میں تین سطریں کندہ تھیں پہلی سطر میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوسری میں رسول اور تیسری میں لفظ اللہ کندہ تھا۔
Narrated Anas: That when Abu Bakr became the Caliph, he sent him to Bahrain and wrote this letter for him, and stamped it with the Ring of the Prophet. Three lines were engraved on the Ring, (the word) 'Muhammad' was in a line, 'Apostle' was in another line, and 'Allah' in a third.
Narrated by 'Isa bin Tahman
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَسَدِيُّ حَدَّثَنَا عِيسَی بْنُ طَهْمَانَ قَالَ أَخْرَجَ إِلَيْنَا أَنَسٌ نَعْلَيْنِ جَرْدَاوَيْنِ لَهُمَا قِبَالَانِ فَحَدَّثَنِي ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ بَعْدُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّهُمَا نَعْلَا النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
عبداللہ بن محمد محمد بن عبداللہ اسدی عیسیٰ بن طہمان سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دو جوتے ان کے سامنے بغیر بال کے چمڑے کے نکالے جس میں دوتسمے لگے ہوئے تھے پھر ثابت نے انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سن کر مجھ سے کہا کہ وہ نعلین مبارک رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے تھے۔
Narrated 'Isa bin Tahman: Anas brought out to us two worn out leather shoes without hair and with pieces of leather straps. Later on Thabit Al-Banani told me that Anas said that they were the shoes of the Prophet.
Narrated by Abu Burda
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ قَالَ أَخْرَجَتْ إِلَيْنَا عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا کِسَائً مُلَبَّدًا وَقَالَتْ فِي هَذَا نُزِعَ رُوحُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَزَادَ سُلَيْمَانُ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ قَالَ أَخْرَجَتْ إِلَيْنَا عَائِشَةُ إِزَارًا غَلِيظًا مِمَّا يُصْنَعُ بِالْيَمَنِ وَکِسَائً مِنْ هَذِهِ الَّتِي يَدْعُونَهَا الْمُلَبَّدَةَ
محمد بن بشار عبدالوہاب ایوب حمید بن ہلال حضرت ابوبردہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمارے سامنے ایک موٹی چادر جیسے اہل یمان بنایا کرتے ہیں نکال کر کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات اس کپڑے میں ہوئی تھی سلیمان حمید ابوبردہ کے واسطہ سے اتنا زیادہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ایک موٹی ازار اور ایک چادر جسے ملبدہ کہتے ہیں ہمارے سامنے نکالی۔
Narrated Abu Burda: 'Aisha brought out to us a patched wool Len garment, and she said, "(It chanced that) the soul of Allah's Apostle was taken away while he was wearing this." Abu-Burda added, "Aisha brought out to us a thick waist sheet like the ones made by the Yemenites, and also a garment of the type called Al-Mulabbada."
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ عَنْ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ قَدَحَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْكَسَرَ فَاتَّخَذَ مَكَانَ الشَّعْبِ سِلْسِلَةً مِنْ فِضَّةٍ قَالَ عَاصِمٌ رَأَيْتُ الْقَدَحَ وَشَرِبْتُ فِيهِ
عبدان ابوحمزہ عاصم ابن سیرین حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پیالہ ٹوٹ گیا تو آپ نے اس ٹوٹی ہوئی جگہ پر چاندی کا ایک ٹکڑا لگوادیا تھا حضرت عاصم کا بیان ہے کہ میں نے قدح مبارک کو دیکھا تھا اور اس میں پیا ہے۔
Narrated Anas bin Malik: When the cup of Allah's Apostle got broken, he fixed it with a silver wire at the crack. (The sub-narrator, 'Asim said, "I saw the cup and drank (water) in it.")
Narrated by 'Ali bin Al-Husain
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَرْمِيُّ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبِي أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ کَثِيرٍ حَدَّثَهُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ الدُّؤَلِيِّ حَدَّثَهُ أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ حَدَّثَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ حُسَيْنٍ حَدَّثَهُ أَنَّهُمْ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ مِنْ عِنْدِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ مَقْتَلَ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ لَقِيَهُ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ فَقَالَ لَهُ هَلْ لَکَ إِلَيَّ مِنْ حَاجَةٍ تَأْمُرُنِي بِهَا فَقُلْتُ لَهُ لَا فَقَالَ لَهُ فَهَلْ أَنْتَ مُعْطِيَّ سَيْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَغْلِبَکَ الْقَوْمُ عَلَيْهِ وَايْمُ اللَّهِ لَئِنْ أَعْطَيْتَنِيهِ لَا يُخْلَصُ إِلَيْهِمْ أَبَدًا حَتَّی تُبْلَغَ نَفْسِي إِنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ خَطَبَ ابْنَةَ أَبِي جَهْلٍ عَلَی فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَام فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ فِي ذَلِکَ عَلَی مِنْبَرِهِ هَذَا وَأَنَا يَوْمَئِذٍ مُحْتَلِمٌ فَقَالَ إِنَّ فَاطِمَةَ مِنِّي وَأَنَا أَتَخَوَّفُ أَنْ تُفْتَنَ فِي دِينِهَا ثُمَّ ذَکَرَ صِهْرًا لَهُ مِنْ بَنِي عَبْدِ شَمْسٍ فَأَثْنَی عَلَيْهِ فِي مُصَاهَرَتِهِ إِيَّاهُ قَالَ حَدَّثَنِي فَصَدَقَنِي وَوَعَدَنِي فَوَفَی لِي وَإِنِّي لَسْتُ أُحَرِّمُ حَلَالًا وَلَا أُحِلُّ حَرَامًا وَلَکِنْ وَاللَّهِ لَا تَجْتَمِعُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِنْتُ عَدُوِّ اللَّهِ أَبَدًا
سعید بن محمد الجرمی یعقوب ابراہیم ولید محمد ابن شہاب علی بن حسین رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں (زین العابدین) شہادت حسین کے بعد یزید بن معاویہ کے پاس سے جب مدینہ آیا تو مسور بن مخرمہ نے مجھ سے ملاقات کرکے فرمایا کہ اگر کچھ کام ہو تو بتایئے میں نے جواب دیا مجھے کوئی ضرورت درپیش نہیں ہے پھر انہوں نے کہا کیا آپ مجھے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار مبارک دیں گے؟ مجھے ڈر ہے کہ لوگ اس کی بابت آپ پر زبردستی کریں گے اور اللہ کی قسم! اگر وہ تلوار آپ مجھے دے دیں گے تو پھر اس تلوار کو میری زندگی میں مجھ سے کبھی بھی کوئی شخص نہیں لے سکے گا حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی موجودگی میں جب ابوجہل کی بیٹی سے منگنی کی تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لوگوں کے سامنے اس بارے میں خطبہ پڑھتے سنا میں اس وقت بالغ تھا آپ نے فرمایا کہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا مجھ سے ہیں اور مجھے ڈر لگا ہوا ہے کہ ان کے دین کے بارے میں ان کی آزمائش کی جائے گی اس کے بعد آپ نے بنو عبد شمس والے اپنے داماد کی تعریف کی اور فرمایا کہ جو بات انہوں نے کہی وہ بالکل سچ کہی اور مجھ سے جو وعدہ انہوں نے کیا وہ ہمیشہ پورا کیا اور میں خود حلال چیز کو حرام اور کسی حرام چیز کو حلال کرنا نہیں چاہتا مگر اللہ کی قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی اور عدو اللہ کی بیٹی کبھی ایک ساتھ نہیں رہ سکتیں۔
Narrated 'Ali bin Al-Husain: That when they reached Medina after returning from Yazid bin Mu'awaiya after the martyrdom of Husain bin 'Ali (may Allah bestow His Mercy upon him), Al-Miswar bin Makhrama met him and said to him, "Do you have any need you may order me to satisfy?" 'Ali said, "No." Al-Miswar said, Will you give me the sword of Allah's Apostle for I am afraid that people may take it from you by force? By Allah, if you give it to me, they will never be able to take it till I die." When Ali bin Abu Talib demanded the hand of the daughter of Abi Jahal to be his wife besides Fatima, I heard Allah's Apostle on his pulpit delivering a sermon in this connection before the people, and I had then attained my age of puberty. Allah's Apostle said, "Fatima is from me, and I am afraid she will be subjected to trials in her religion (because of jealousy)." The Prophet then mentioned one of his son-in-law who was from the tribe of 'Abu Shams, and he praised him as a good son-in-law, saying, "Whatever he said was the truth, and he promised me and fulfilled his promise. I do not make a legal thing illegal, nor do I make an illegal thing legal, but by Allah, the daughter of Allah's Apostle and the daughter of the enemy of Allah, (i.e. Abu Jahl) can never get together (as the wives of one man) (See Hadith No. 76, Vo. 5).
Narrated by Ibn Al-Hanafiya
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ عَنْ مُنْذِرٍ عَنْ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ قَالَ لَوْ كَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ذَاكِرًا عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ذَكَرَهُ يَوْمَ جَاءَهُ نَاسٌ فَشَكَوْا سُعَاةَ عُثْمَانَ فَقَالَ لِي عَلِيٌّ اذْهَبْ إِلَى عُثْمَانَ فَأَخْبِرْهُ أَنَّهَا صَدَقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمُرْ سُعَاتَكَ يَعْمَلُونَ فِيهَا فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَقَالَ أَغْنِهَا عَنَّا فَأَتَيْتُ بِهَا عَلِيًّا فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ ضَعْهَا حَيْثُ أَخَذْتَهَا قَالَ الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُوقَةَ قَالَ سَمِعْتُ مُنْذِرًا الثَّوْرِيَّ عَنْ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ قَالَ أَرْسَلَنِي أَبِي خُذْ هَذَا الْكِتَابَ فَاذْهَبْ بِهِ إِلَى عُثْمَانَ فَإِنَّ فِيهِ أَمْرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّدَقَةِ
قتیبہ سفیان محمد منذر محمد بن حنفیہ سے روایت کرتے ہیں کہ اگر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کچھ برائی کرنا مقصود ہوتی تو اس دن حضرت عثمان کی برائی ضرور بیان کرتے جس دن ان کے پاس کچھ لوگوں نے آکر حضرت عثمان کے گورنروں کی شکایت کی تھی اسی دوران میں مجھ (محمد بن حنفیہ فرزند علی) سے پدر بزرگوار جناب علی نے کہا حضرت عثمان کے پاس جا کر کہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ دستور العمل ملاحظہ فرمائیے اور اپنے ماتحت حاکموں کو حکم دیجئے کہ اس پر عمل کریں چنانچہ اس کتابچہ دستور العمل کو میں حضرت عثمان کے پاس لے کر پہنچا تو حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا مجھے اس کے دیکھنے کی اس وقت فرصت نہیں ہے تو میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس دستور العمل کو واپس لے آیا اور پوری سرگزشت ان کو سنا دی تو انہوں نے کہا اس کو جہاں سے اٹھایا تھا وہیں رکھ دو حمیدی نے کہا ہم سے سفیان محمد بن سوقہ منذر ثوری ابن حنفیہ نے بیان کیا کہ میرے والد نے مجھے حکم دیا کہ اس کتاب کو لے کر عثمان کے پاس جاؤ کیونکہ اس کتاب میں منجانب رسول اللہ صدقہ کے تفصیلی احکام لکھے ہوئے ہیں۔
Narrated Ibn Al-Hanafiya: If Ali had spoken anything bad about 'Uthman then he would have mentioned the day when some persons came to him and complained about the Zakat officials of 'Uthman. 'Ali then said to me, "Go to 'Uthman and say to him, 'This document contains the regulations of spending the Sadaqa of Allah's Apostle so order your Zakat officials to act accordingly." I took the document to 'Uthman. 'Uthman said, "Take it away, for we are not in need of it." I returned to 'Ali with it and informed him of that. He said, "Put it whence you took it." Narrated Muhammad bin Suqa: I heard Mundhir At-Tuzi reporting Ibn Hanafiya who said, "My father sent me saying, 'Take this letter to 'Uthman for it contains the orders of the Prophet concerning the Sadaqa.' "