Narrated by Asma
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي وَحَدَّثَتْنِي أَيْضًا فَاطِمَةُ عَنْ أَسْمَائَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ صَنَعْتُ سُفْرَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ أَبِي بَکْرٍ حِينَ أَرَادَ أَنْ يُهَاجِرَ إِلَی الْمَدِينَةِ قَالَتْ فَلَمْ نَجِدْ لِسُفْرَتِهِ وَلَا لِسِقَائِهِ مَا نَرْبِطُهُمَا بِهِ فَقُلْتُ لِأَبِي بَکْرٍ وَاللَّهِ مَا أَجِدُ شَيْئًا أَرْبِطُ بِهِ إِلَّا نِطَاقِي قَالَ فَشُقِّيهِ بِاثْنَيْنِ فَارْبِطِيهِ بِوَاحِدٍ السِّقَائَ وَبِالْآخَرِ السُّفْرَةَ فَفَعَلْتُ فَلِذَلِکَ سُمِّيَتْ ذَاتَ النِّطَاقَيْنِ
عبیداللہ ابواسامہ ہشام عروہ حضرت فاطمہ الزہرا حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے حضرت صدیق اکبر کے گھر میں اس وقت کھانا تیار کیا جب آپ مدینہ کی جانب ہجرت کا ارادہ کر چکے تھے مجھے آپ کے کھانے اور پانی کے برتن باندھنے کے لئے کوئی چیز نہیں ملی جس سے میں باندھ دیتی تو میں نے صدیق اکبر سے کہا اللہ کی قسم اس کے باندھنے کے لئے سوائے میرے کمر بند کے اور کوئی چیز نہیں ملی تو صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا تم اس کمر بند کے دو ٹکڑے کرکے ایک سے پانی کا برتن اور دوسرے سے ناشتہ دان باندھ دو چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا اور اسی لئے میرا نام دو کمر بند والی پڑ گیا۔
Narrated Asma: I prepared the journey-food for Allah's Apostle in Abu Bakr's house when he intended to emigrate to Medina. I could not find anything to tie the food-container and the water skin with. So, I said to Abu Bakr, "By Allah, I do not find anything to tie (these things) with except my waist belt." He said, "Cut it into two pieces and tie the water-skin with one piece and the food-container with the other (the sub-narrator added, "She did accordingly and that was the reason for calling her Dhatun-Nitaqain (i.e. two-belted woman))."
Narrated by Jabir bin 'Abdullah
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَائٌ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ کُنَّا نَتَزَوَّدُ لُحُومَ الْأَضَاحِيِّ عَلَی عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی الْمَدِينَةِ
علی سفیان عمرو عطاء حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ زمانہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ہم لوگ قربانی کا گوشت مدینہ تک لے جاتے تھے۔
Narrated Jabir bin 'Abdullah: During the life-time of the Prophet we used to take the meat of sacrificed animals (as journey food) to Medina. (See Hadith No. 474 Vol. 7)
Narrated by Suwaid bin An-Nu'man
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَی قَالَ أَخْبَرَنِي بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ أَنَّ سُوَيْدَ بْنَ النُّعْمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ خَيْبَرَ حَتَّی إِذَا کَانُوا بِالصَّهْبَائِ وَهِيَ مِنْ خَيْبَرَ وَهِيَ أَدْنَی خَيْبَرَ فَصَلَّوْا الْعَصْرَ فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْأَطْعِمَةِ فَلَمْ يُؤْتَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا بِسَوِيقٍ فَلُکْنَا فَأَکَلْنَا وَشَرِبْنَا ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَضْمَضَ وَمَضْمَضْنَا وَصَلَّيْنَا
محمد بن مثنی ، عبدالوہاب یحیی حضرت سوید بن نعمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ سال خیبر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ خیبر کے حلقہ میں بمقام صہباء وارد ہوئے جہاں سے خیبر نزدیک ہی تھا سب نے نماز عصر ادا کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھانا طلب فرمایا تو آپ کی خدمت میں صرف ستو پیش کئے گئے اور ستو کھائے پیئے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو گئے اور آپ نے کلی کی اور ہم سب نے بھی کلی کی اور نماز ادا کی۔
Narrated Suwaid bin An-Nu'man: That he went out in the company o; the Prophet during the year of Khaibar (campaign till they reached a place called As-Sahba', the lower part of Khaibar. They offered the 'Asr prayer (there) and the Prophet asked for the food. Nothing but Sawiq was brought to the Prophet. So, they chewed it and ate it and drank water. After that the Prophet got up, washed his mouth, and they too washed their mouths and then offered the prayer.
Narrated by Salama
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مَرْحُومٍ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَفَّتْ أَزْوَادُ النَّاسِ وَأَمْلَقُوا فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَحْرِ إِبِلِهِمْ فَأَذِنَ لَهُمْ فَلَقِيَهُمْ عُمَرُ فَأَخْبَرُوهُ فَقَالَ مَا بَقَاؤُکُمْ بَعْدَ إِبِلِکُمْ فَدَخَلَ عُمَرُ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا بَقَاؤُهُمْ بَعْدَ إِبِلِهِمْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَادِ فِي النَّاسِ يَأْتُونَ بِفَضْلِ أَزْوَادِهِمْ فَدَعَا وَبَرَّکَ عَلَيْهِ ثُمَّ دَعَاهُمْ بِأَوْعِيَتِهِمْ فَاحْتَثَی النَّاسُ حَتَّی فَرَغُوا ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ
بشر حاتم یزید سلمہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ لوگوں کا زاد راہ کم ہوگیا اور سب تہی دست ہو گئے تو آپ سے اونٹ کاٹنے کی اجازت طلب کرنے حاضر ہوئے آپ نے ان کو اجازت دے دی اس کے بعد حضرت عمر سے ان لوگوں نے مل کر پوری کیفیت بیان کی تو انہوں نے فرمایا کہ اونٹوں کے بعد تم کس طرح زندہ رہو گے چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دربار رسالت میں حاضر ہو کر کہا یا رسول اللہ اونٹوں کے بعد ان کی زندگی کیسے کٹے گی؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں میں اعلان کردو کہ وہ اپنا بچا ہوا زاد راہ ہمارے پاس لے آئیں چنانچہ ان کے زاد راہ لانے کے بعد آپ نے دعا فرمائی اور اللہ سے برکت طلب کی اور ان کے ناشتے دان منگوائے اور لوگوں نے ان کو بھرنا شروع کیا جب لوگ اپنے ناشتہ دان بھرنے سے فارغ ہو گئے تو آپ نے فرمایا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوائے کوئی معبود نہیں ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں۔
Narrated Salama: Once the journey-food of the people ran short and they were in great need. So, they came to the Prophet to take his permission for slaughtering their camels, and he permitted them. Then 'Umar met them and they informed him about it. He said, "What will sustain you after your camels (are finished)?" Then 'Umar went to the Prophet and said, "O Allah's Apostle! What will sustain them after their camels (are finished)?" Allah's Apostle said, "Make an announcement amongst the people that they should bring all their remaining food (to me)." (They brought it and) the Prophet invoked Allah and asked for His Blessings for it. Then he asked them to bring their food utensils and the people started filling their food utensils with their hands till they were satisfied. Allah's Apostle then said, "I testify that None has the right to be worshipped but Allah, and I am His Apostle. "