TrueHadith

حربی سے غلام خریدنے اس کے ہبہ کرنے اور آزاد کرنے کا بیان اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلمان سے فرمایا کتابت کر لے یہ آزاد تھے لیکن ان پر لوگوں نے ظلم کیا اور انہیں بیچدیا اور عمار وصہیب وبلال قید کئے گئے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر رزق میں فضیلت بخشی ہے تو جب لوگوں کو زیادہ روزی دی گئی وہ اپنی لونڈی اور غلاموں پر اپنا رزق واپس کرتے کہ وہ سب برابر ہو جائیں کیا وہ لوگ اللہ کی نعمتوں کا انکار کرتے ہیں ۔

Sahih BukhariHadith 2065

Narrated by Abu Huraira

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَاجَرَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام بِسَارَةَ فَدَخَلَ بِهَا قَرْيَةً فِيهَا مَلِکٌ مِنْ الْمُلُوکِ أَوْ جَبَّارٌ مِنْ الْجَبَابِرَةِ فَقِيلَ دَخَلَ إِبْرَاهِيمُ بِامْرَأَةٍ هِيَ مِنْ أَحْسَنِ النِّسَائِ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ أَنْ يَا إِبْرَاهِيمُ مَنْ هَذِهِ الَّتِي مَعَکَ قَالَ أُخْتِي ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهَا فَقَالَ لَا تُکَذِّبِي حَدِيثِي فَإِنِّي أَخْبَرْتُهُمْ أَنَّکِ أُخْتِي وَاللَّهِ إِنْ عَلَی الْأَرْضِ مُؤْمِنٌ غَيْرِي وَغَيْرُکِ فَأَرْسَلَ بِهَا إِلَيْهِ فَقَامَ إِلَيْهَا فَقَامَتْ تَوَضَّأُ وَتُصَلِّي فَقَالَتْ اللَّهُمَّ إِنْ کُنْتُ آمَنْتُ بِکَ وَبِرَسُولِکَ وَأَحْصَنْتُ فَرْجِي إِلَّا عَلَی زَوْجِي فَلَا تُسَلِّطْ عَلَيَّ الْکَافِرَ فَغُطَّ حَتَّی رَکَضَ بِرِجْلِهِ قَالَ الْأَعْرَجُ قَالَ أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَتْ اللَّهُمَّ إِنْ يَمُتْ يُقَالُ هِيَ قَتَلَتْهُ فَأُرْسِلَ ثُمَّ قَامَ إِلَيْهَا فَقَامَتْ تَوَضَّأُ تُصَلِّي وَتَقُولُ اللَّهُمَّ إِنْ کُنْتُ آمَنْتُ بِکَ وَبِرَسُولِکَ وَأَحْصَنْتُ فَرْجِي إِلَّا عَلَی زَوْجِي فَلَا تُسَلِّطْ عَلَيَّ هَذَا الْکَافِرَ فَغُطَّ حَتَّی رَکَضَ بِرِجْلِهِ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ أَبُو سَلَمَةَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَقَالَتْ اللَّهُمَّ إِنْ يَمُتْ فَيُقَالُ هِيَ قَتَلَتْهُ فَأُرْسِلَ فِي الثَّانِيَةِ أَوْ فِي الثَّالِثَةِ فَقَالَ وَاللَّهِ مَا أَرْسَلْتُمْ إِلَيَّ إِلَّا شَيْطَانًا ارْجِعُوهَا إِلَی إِبْرَاهِيمَ وَأَعْطُوهَا آجَرَ فَرَجَعَتْ إِلَی إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام فَقَالَتْ أَشَعَرْتَ أَنَّ اللَّهَ کَبَتَ الْکَافِرَ وَأَخْدَمَ وَلِيدَةً

ابو الیمان، شعیب، ابولزناد، اعرج، ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ابراہیم علیہ السلام نے سارہ کے ساتھ ہجرت کی ان کو لے کر ایسی آبادی میں پہنچے جہاں باشاہوں میں سے ایک بادشاہ یا ظالم حکمرانوں میں سے ایک ظالم حکمران رہتا تھا اس سے بیان کیا گیا کہ ابراہیم علیہ السلام یہاں ایک خوبصورت عورت لے کر آئے ہیں آپ علیہ السلام کے پاس اس نے ایک آدمی دریافت کرنے کو بھیجا کہ اے ابراہیم یہ عورت تمہارے ساتھ کون ہے آپ نے فرمایا میری بہن ہے پھر حضرت ابراہیم علیہ السام لوٹ کر سارہ کے پاس گئے اور کہا کہ میری بات کو جھوٹا نہ کرنا میں نے لوگوں کو بتایا کہ تو میری بہن ہے بخدا اس زمین پر میرے اور تیرے سوا کوئی مومن نہیں اور حضرت سارہ کو اس بادشاہ کے پاس بھیج دیا وہ بادشاہ حضرت سارہ کے پاس گیا وہ کھڑی ہوئیں اور وضو کر کے نماز پڑھی اور دعا کی کہ اللہ اگر میں تجھ پر اور تیرے رسول پر ایمان لائی ہوں اور میں نے اپنی شرمگاہ کی بجز اپنے شوہر کے حفاظت کی ہے تو مجھ پر اس کافر کو مسلط نہ کر تو وہ بادشاہ زمین پر گر کر خر اٹے لینے لگا یہاں تک کہ پاؤں زمین پر رگڑنے لگا اعرج کہتے ہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے بیان کیا کہ حضرت ابوہریرہ نے کہ حضرت سارہ نے کہا کہ یا اللہ اگر یہ مر جائے گا تو لوگ کہیں گے کہ اسی عورت نے بادشاہ کو قتل کیا ہے اس بادشاہ کی یہ حالت دور ہوئی تو پھر ان کی طرف اٹھا حضرت سارہ کھڑی ہوئیں وضو کر کے نماز پڑھی پھر دعاکی کہ اے میرے اللہ اگر میں تجھ پر اور تیرے رسول پر ایمان لائی ہوں اور میں نے اپنے شوہر کے سبب سے اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی ہے تو اس کافر کو مجھ پر مسلط نہ کر وہ زمین پر گر کر خر اٹے لینے لگا یہاں تک کہ پاؤں رگڑنے لگا عبدالرحمن نے بواسطہ ابوسلمہ ابوہریرہ سے نقل کیا کہ سارہ نے کہا یا اللہ اگر یہ مر گیا تو لوگ کہیں گے کہ اس عورت نے اس کو قتل کیا اس کی یہ حالت جاتی رہی بادشاہ نے دوسری یا تیسری بار کہا کہ بخدا تم نے میرے پاس ایک شیطان کو بھیجا اس کو ابراہیم کے پاس لے جاؤ اور (ہاجرہ) لونڈی ان کو دیدو وہ لوٹ کر حضرت ابراہیم کے پاس گیئں تو کہا کہ آپ نے دیکھ لیا کہ اللہ نے اس کو ذلیل کیا اور ایک لونڈی خدمت کے لئے دلوائی۔

Narrated Abu Huraira: The Prophet said, "The Prophet Abraham emigrated with Sarah and entered a village where there was a king or a tyrant. (The king) was told that Abraham had entered (the village) accompanied by a woman who was one of the most charming women. So, the king sent for Abraham and asked, 'O Abraham! Who is this lady accompanying you?' Abraham replied, 'She is my sister (i.e. in religion).' Then Abraham returned to her and said, 'Do not contradict my statement, for I have informed them that you are my sister. By Allah, there are no true believers on this land except you and 1.' Then Abraham sent her to the king. When the king got to her, she got up and performed ablution, prayed and said, 'O Allah! If I have believed in You and Your Apostle, and have saved my private parts from everybody except my husband, then please do not let this pagan overpower me.' On that the king fell in a mood of agitation and started moving his legs. Seeing the condition of the king, Sarah said, 'O Allah! If he should die, the people will say that I have killed him.' The king regained his power, and proceeded towards her but she got up again and performed ablution, prayed and said, 'O Allah! If I have believed in You and Your Apostle and have kept my private parts safe from all except my husband, then please do not let this pagan overpower me.' The king again fell in a mood of agitation and started moving his legs. On seeing that state of the king, Sarah said, 'O Allah! If he should die, the people will say that I have killed him.' The king got either two or three attacks, and after recovering from the last attack he said, 'By Allah! You have sent a satan to me. Take her to Abraham and give her Ajar.' So she came back to Abraham and said, 'Allah humiliated the pagan and gave us a slavegirl for service."

Permalink

Sahih BukhariHadith 2066

Narrated by 'Aisha

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بن سعيد قال حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ اخْتَصَمَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ وَعَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ فِي غُلَامٍ فَقَالَ سَعْدٌ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْنُ أَخِي عُتْبَةُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ عَهِدَ إِلَيَّ أَنَّهُ ابْنُهُ انْظُرْ إِلَی شَبَهِهِ وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ هَذَا أَخِي يَا رَسُولَ اللَّهِ وُلِدَ عَلَی فِرَاشِ أَبِي مِنْ وَلِيدَتِهِ فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی شَبَهِهِ فَرَأَی شَبَهًا بَيِّنًا بِعُتْبَةَ فَقَالَ هُوَ لَکَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ وَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ بِنْتَ زَمْعَةَ فَلَمْ تَرَهُ سَوْدَةُ قَطُّ

قتیبہ، لیث، ابن شہاب، عروہ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ سعد بن ابی وقاص اور عبد بن زمعہ ایک لڑکے کے متعلق جھگڑنے لگے سعد نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ میرا بھائی عتبہ بن ابی وقاص کا لڑکا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی صورت دیکھئے (کہ عتبہ سے ملتی ہے) عبد بن زمعہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ میرا بھائی ہے میرے باپ کے بستر پر اس کی لونڈی کے بطن سے پیدا ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی صورت دیکھی تو دیکھا کہ اسے عتبہ سے صاف مناسبت ہے تو آپ نے فرمایا یہ تجھ کو ملے گا اے عبد! لڑکا اس کا ہے جس کے بستر پر پیدا ہو اور زانی کے لئے پتھر ہے اور اے سودہ بنت زمعہ تم اس سے پردہ کرو چنانچہ سودہ نے اس کو کبھی نہیں دیکھا۔

Narrated 'Aisha: Sad bin Abi Waqqas and 'Abu bin Zam'a quarreled over a boy. Sad said, "O Allah's Apostle! This boy is the son of my brother ('Utba bin Abi Waqqas) who took a promise from me that I would take him as he was his (illegal) son. Look at him and see whom he resembles." 'Abu bin Zam'a said, "O Allah's Apostle! This is my brother and was born on my father's bed from his slave-girl." Allah's Apostle cast a look at the boy and found definite resemblance to 'Utba and then said, "The boy is for you, O 'Abu bin Zam'a. The child goes to the owner of the bed and the adulterer gets nothing but the stones (despair, i.e. to be stoned to death). Then the Prophet said, "O Sauda bint Zama! Screen yourself from this boy." So, Sauda never saw him again. ________________________________________

Permalink

Sahih BukhariHadith 2067

Narrated by Sad that his father said

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لِصُهَيْبٍ اتَّقِ اللَّهَ وَلَا تَدَّعِ إِلَی غَيْرِ أَبِيکَ فَقَالَ صُهَيْبٌ مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِي کَذَا وَکَذَا وَأَنِّي قُلْتُ ذَلِکَ وَلَکِنِّي سُرِقْتُ وَأَنَا صَبِيٌّ

محمد بن بشار، غندر، شعبہ، سعد بن ابراہیم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ عبدالرحمن بن عوف نے صہیب سے کہا اللہ سے ڈرو اور اپنے باپ کے سوا کسی کی طرف اپنے کو منسوب نہ کرو صہیب نے کہا مجھے اتنی اتنی دولت ملے تو بھی ایسی بات کہنا پسند نہ کروں میں بچپن میں چرالیا گیا تھا اس لیے میری زبان رومی ہوگئی ورنہ اصل میں میرا باپ ایک عرب تھا۔

Narrated Sad that his father said: Abdur-Rahman bin Auf said to Suhaib, 'Fear Allah and do not ascribe yourself to somebody other than your father.' Suhaib replied, 'I would not like to say it even if I were given large amounts of money, but I say I was kidnapped in my childhood.' " ________________________________________

Permalink

Sahih BukhariHadith 2068

Narrated by 'Urwa bin Az-Zubair

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ حَکِيمَ بْنَ حِزَامٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ أُمُورًا کُنْتُ أَتَحَنَّثُ أَوْ أَتَحَنَّتُ بِهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ مِنْ صِلَةٍ وَعَتَاقَةٍ وَصَدَقَةٍ هَلْ لِي فِيهَا أَجْرٌ قَالَ حَکِيمٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْلَمْتَ عَلَی مَا سَلَفَ لَکَ مِنْ خَيْرٍ

ابو الیمان، شعیب، زہری، عروہ بن زبیر، حکیم بن احزام سے رایت کرتے ہیں کہ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بتائیے کہ جو نیک کام میں جاہلیت کے زمانہ میں کرتا تھا یعنی صلہ رحمی غلام آزاد کرنا اور صدقہ کرنا کیا مجھ کو اس کا بھی اجر ملے گا حکیم کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم نے جس قدر نیکیاں کی ہیں تم انہیں پر مسلمان ہوئے ہو یعنی ان سب کا اجر ملے گا۔

Narrated 'Urwa bin Az-Zubair: Hakim bin Hizam said, "O Allah's Apostle! I used to do good deeds in the Pre-lslamic period of Ignorance, e.g., keeping good relations with my Kith and kin, manumitting slaves and giving alms. Shall I receive a reward for all that?" Allah's Apostle replied, "You embraced Islam with all the good deeds which you did in the past." ________________________________________

Permalink