Sahih Bukhari — Hadith 2066
Narrated by 'Aisha
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بن سعيد قال حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ اخْتَصَمَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ وَعَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ فِي غُلَامٍ فَقَالَ سَعْدٌ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْنُ أَخِي عُتْبَةُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ عَهِدَ إِلَيَّ أَنَّهُ ابْنُهُ انْظُرْ إِلَی شَبَهِهِ وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ هَذَا أَخِي يَا رَسُولَ اللَّهِ وُلِدَ عَلَی فِرَاشِ أَبِي مِنْ وَلِيدَتِهِ فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی شَبَهِهِ فَرَأَی شَبَهًا بَيِّنًا بِعُتْبَةَ فَقَالَ هُوَ لَکَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ وَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ بِنْتَ زَمْعَةَ فَلَمْ تَرَهُ سَوْدَةُ قَطُّ
قتیبہ، لیث، ابن شہاب، عروہ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ سعد بن ابی وقاص اور عبد بن زمعہ ایک لڑکے کے متعلق جھگڑنے لگے سعد نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ میرا بھائی عتبہ بن ابی وقاص کا لڑکا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی صورت دیکھئے (کہ عتبہ سے ملتی ہے) عبد بن زمعہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ میرا بھائی ہے میرے باپ کے بستر پر اس کی لونڈی کے بطن سے پیدا ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی صورت دیکھی تو دیکھا کہ اسے عتبہ سے صاف مناسبت ہے تو آپ نے فرمایا یہ تجھ کو ملے گا اے عبد! لڑکا اس کا ہے جس کے بستر پر پیدا ہو اور زانی کے لئے پتھر ہے اور اے سودہ بنت زمعہ تم اس سے پردہ کرو چنانچہ سودہ نے اس کو کبھی نہیں دیکھا۔
Narrated 'Aisha: Sad bin Abi Waqqas and 'Abu bin Zam'a quarreled over a boy. Sad said, "O Allah's Apostle! This boy is the son of my brother ('Utba bin Abi Waqqas) who took a promise from me that I would take him as he was his (illegal) son. Look at him and see whom he resembles." 'Abu bin Zam'a said, "O Allah's Apostle! This is my brother and was born on my father's bed from his slave-girl." Allah's Apostle cast a look at the boy and found definite resemblance to 'Utba and then said, "The boy is for you, O 'Abu bin Zam'a. The child goes to the owner of the bed and the adulterer gets nothing but the stones (despair, i.e. to be stoned to death). Then the Prophet said, "O Sauda bint Zama! Screen yourself from this boy." So, Sauda never saw him again. ________________________________________