TrueHadith

فرشتوں کا بیان حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن سلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا کہ تمام فرشتوں میں جبرئیل یہودیوں کے دشمن ہیں ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ لخن الصافون یعنی فرشتے۔

Sahih BukhariHadith 2968

Narrated by Malik bin Sasaa

حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ ح و قَالَ لِي خَلِيفَةُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ وَهِشَامٌ قَالَا حَدَّثَنَا قَتَادَةُ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ صَعْصَعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَا أَنَا عِنْدَ الْبَيْتِ بَيْنَ النَّائِمِ وَالْيَقْظَانِ وَذَکَرَ يَعْنِي رَجُلًا بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ فَأُتِيتُ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ مُلِئَ حِکْمَةً وَإِيمَانًا فَشُقَّ مِنْ النَّحْرِ إِلَی مَرَاقِّ الْبَطْنِ ثُمَّ غُسِلَ الْبَطْنُ بِمَائِ زَمْزَمَ ثُمَّ مُلِئَ حِکْمَةً وَإِيمَانًا وَأُتِيتُ بِدَابَّةٍ أَبْيَضَ دُونَ الْبَغْلِ وَفَوْقَ الْحِمَارِ الْبُرَاقُ فَانْطَلَقْتُ مَعَ جِبْرِيلَ حَتَّی أَتَيْنَا السَّمَائَ الدُّنْيَا قِيلَ مَنْ هَذَا قَالَ جِبْرِيلُ قِيلَ مَنْ مَعَکَ قَالَ مُحَمَّدٌ قِيلَ وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ قَالَ نَعَمْ قِيلَ مَرْحَبًا بِهِ وَلَنِعْمَ الْمَجِيئُ جَائَ فَأَتَيْتُ عَلَی آدَمَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ مَرْحَبًا بِکَ مِنْ ابْنٍ وَنَبِيٍّ فَأَتَيْنَا السَّمَائَ الثَّانِيَةَ قِيلَ مَنْ هَذَا قَالَ جِبْرِيلُ قِيلَ مَنْ مَعَکَ قَالَ مُحَمَّدٌ قِيلَ أُرْسِلَ إِلَيْهِ قَالَ نَعَمْ قِيلَ مَرْحَبًا بِهِ وَلَنِعْمَ الْمَجِيئُ جَائَ فَأَتَيْتُ عَلَی عِيسَی وَيَحْيَی فَقَالَا مَرْحَبًا بِکَ مِنْ أَخٍ وَنَبِيٍّ فَأَتَيْنَا السَّمَائَ الثَّالِثَةَ قِيلَ مَنْ هَذَا قِيلَ جِبْرِيلُ قِيلَ مَنْ مَعَکَ قِيلَ مُحَمَّدٌ قِيلَ وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ قَالَ نَعَمْ قِيلَ مَرْحَبًا بِهِ وَلَنِعْمَ الْمَجِيئُ جَائَ فَأَتَيْتُ عَلَی يُوسُفَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ قَالَ مَرْحَبًا بِکَ مِنْ أَخٍ وَنَبِيٍّ فَأَتَيْنَا السَّمَائَ الرَّابِعَةَ قِيلَ مَنْ هَذَا قَالَ جِبْرِيلُ قِيلَ مَنْ مَعَکَ قِيلَ مُحَمَّدٌ قِيلَ وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ قِيلَ نَعَمْ قِيلَ مَرْحَبًا بِهِ وَلَنِعْمَ الْمَجِيئُ جَائَ فَأَتَيْتُ عَلَی إِدْرِيسَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ مَرْحَبًا بِکَ مِنْ أَخٍ وَنَبِيٍّ فَأَتَيْنَا السَّمَائَ الْخَامِسَةَ قِيلَ مَنْ هَذَا قَالَ جِبْرِيلُ قِيلَ وَمَنْ مَعَکَ قِيلَ مُحَمَّدٌ قِيلَ وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ قَالَ نَعَمْ قِيلَ مَرْحَبًا بِهِ وَلَنِعْمَ الْمَجِيئُ جَائَ فَأَتَيْنَا عَلَی هَارُونَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ مَرْحَبًا بِکَ مِنْ أَخٍ وَنَبِيٍّ فَأَتَيْنَا عَلَی السَّمَائِ السَّادِسَةِ قِيلَ مَنْ هَذَا قِيلَ جِبْرِيلُ قِيلَ مَنْ مَعَکَ قِيلَ مُحَمَّدٌ قِيلَ وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ مَرْحَبًا بِهِ وَلَنِعْمَ الْمَجِيئُ جَائَ فَأَتَيْتُ عَلَی مُوسَی فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ مَرْحَبًا بِکَ مِنْ أَخٍ وَنَبِيٍّ فَلَمَّا جَاوَزْتُ بَکَی فَقِيلَ مَا أَبْکَاکَ قَالَ يَا رَبِّ هَذَا الْغُلَامُ الَّذِي بُعِثَ بَعْدِي يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِهِ أَفْضَلُ مِمَّا يَدْخُلُ مِنْ أُمَّتِي فَأَتَيْنَا السَّمَائَ السَّابِعَةَ قِيلَ مَنْ هَذَا قِيلَ جِبْرِيلُ قِيلَ مَنْ مَعَکَ قِيلَ مُحَمَّدٌ قِيلَ وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ مَرْحَبًا بِهِ وَلَنِعْمَ الْمَجِيئُ جَائَ فَأَتَيْتُ عَلَی إِبْرَاهِيمَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ مَرْحَبًا بِکَ مِنْ ابْنٍ وَنَبِيٍّ فَرُفِعَ لِي الْبَيْتُ الْمَعْمُورُ فَسَأَلْتُ جِبْرِيلَ فَقَالَ هَذَا الْبَيْتُ الْمَعْمُورُ يُصَلِّي فِيهِ کُلَّ يَوْمٍ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَکٍ إِذَا خَرَجُوا لَمْ يَعُودُوا إِلَيْهِ آخِرَ مَا عَلَيْهِمْ وَرُفِعَتْ لِي سِدْرَةُ الْمُنْتَهَی فَإِذَا نَبِقُهَا کَأَنَّهُ قِلَالُ هَجَرَ وَوَرَقُهَا کَأَنَّهُ آذَانُ الْفُيُولِ فِي أَصْلِهَا أَرْبَعَةُ أَنْهَارٍ نَهْرَانِ بَاطِنَانِ وَنَهْرَانِ ظَاهِرَانِ فَسَأَلْتُ جِبْرِيلَ فَقَالَ أَمَّا الْبَاطِنَانِ فَفِي الْجَنَّةِ وَأَمَّا الظَّاهِرَانِ النِّيلُ وَالْفُرَاتُ ثُمَّ فُرِضَتْ عَلَيَّ خَمْسُونَ صَلَاةً فَأَقْبَلْتُ حَتَّی جِئْتُ مُوسَی فَقَالَ مَا صَنَعْتَ قُلْتُ فُرِضَتْ عَلَيَّ خَمْسُونَ صَلَاةً قَالَ أَنَا أَعْلَمُ بِالنَّاسِ مِنْکَ عَالَجْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَشَدَّ الْمُعَالَجَةِ وَإِنَّ أُمَّتَکَ لَا تُطِيقُ فَارْجِعْ إِلَی رَبِّکَ فَسَلْهُ فَرَجَعْتُ فَسَأَلْتُهُ فَجَعَلَهَا أَرْبَعِينَ ثُمَّ مِثْلَهُ ثُمَّ ثَلَاثِينَ ثُمَّ مِثْلَهُ فَجَعَلَ عِشْرِينَ ثُمَّ مِثْلَهُ فَجَعَلَ عَشْرًا فَأَتَيْتُ مُوسَی فَقَالَ مِثْلَهُ فَجَعَلَهَا خَمْسًا فَأَتَيْتُ مُوسَی فَقَالَ مَا صَنَعْتَ قُلْتُ جَعَلَهَا خَمْسًا فَقَالَ مِثْلَهُ قُلْتُ سَلَّمْتُ بِخَيْرٍ فَنُودِيَ إِنِّي قَدْ أَمْضَيْتُ فَرِيضَتِي وَخَفَّفْتُ عَنْ عِبَادِي وَأَجْزِي الْحَسَنَةَ عَشْرًا وَقَالَ هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْبَيْتِ الْمَعْمُورِ

ہدبہ بن خالد ہمام قتادہ خلیفہ یزید بن زریع سعید و ہشام قتادہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن مالک مالک بن صعصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں کعبہ کے پاس خواب و بیداری کی حالت میں تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنے کو) دو مردوں کے درمیان ذکر کیا میرے پاس سونے کا طشت لایا گیا جو حکمت و ایمان سے بھرا ہوا تھا (میرے) سینہ سے پیٹ کے نیچے تک چاک کیا گیا پھر پیٹ کو زمزم کے پانی سے دھویا گیا پھر حکمت اور ایمان سے بھر دیا گیا اور ایک سفید چوپایہ جو خچر سے نیچا اور گدھے سے بڑا تھا میرے پاس لایا گیا یعنی براق پھر میں جبرائیل امین کے ساتھ چلا حتیٰ کہ ہم آسمان دنیا پر پہنچے پوچھا گیا کون ہے جواب ملا میں جبرائیل ہوں پوچھا گیا تمہارے ساتھ کون ہے انہوں نے جواب دیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں پوچھا گیا کیا انہیں بلایا گیا ہے جواب دیا کہ ہاں کہا گیا مرحبا! کتنی بہترین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری ہے تو میں اسی آسمان پر حضرت آدم (علیہ السلام) کے پاس آیا اور انہیں سلام کیا انہوں نے جواب دیا اے بیٹے اور نبی مرحبا پھر ہم دوسرے آسمان پر پہنچے پوچھا گیا کون ہے جواب ملا جبرائیل پوچھا گیا تمہارے ساتھ کون ہے انہوں نے کہا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں پوچھا گیا کہ انہیں بلایا گیا ہے انہوں نے کہا ہاں! کہا گیا مرحبا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کتنی بہترین ہے تو میں (دوسرے آسمان پر) عیسیٰ اور یحیی (علیہما السلام) کے پاس آیا۔ انہوں نے کہا اے بھائی اور نبی مرحبا پھر ہم تیسرے آسمان پر پہنچے پوچھا کون ہے جبرائیل نے جواب دیا کہ جبرائیل پوچھا گیا کہ تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ پوچھا گیا کیا انہیں بلایا گیا ہے انہوں نے کہا ہاں! کہا مرحبا کتنی بہترین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری ہے تو میں (تیسرے آسمان پر) حضرت یوسف علیہ السلام سے ملا اور انہیں سلام کیا انہوں نے کہا اے بھائی اور نبی مرحبا پھر ہم چوتھے آسمان پر پہنچے پوچھا گیا کیوں ہے جبرائیل نے کہا کہ جبرائیل پوچھا گیا تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا کہ محمد ہیں پوچھا گیا کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ انہوں نے کہا ہاں ! کہا گیا مرحبا! کتنا بہترین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تشریف لانا ہے تو میں (اس آسمان پر) حضرت ادریس کے پاس آیا اور انہیں سلام کیا انہوں نے کہا اے بھائی اور نبی مرحبا! پھر ہم پانچویں آسمان پر پہنچے (وہاں بھی) پوچھا گیا کون ہے؟ جبرائیل نے کہا کہ جبرائیل پوچھا گیا تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں پوچھا گیا کیا انہیں بلایا گیا ہے انہوں نے کہا کہ ہاں کہا گیا مرحبا! کتنا بہتر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا درود ہے تو (اس آسمان پر) ہم حضرت ہارون (علیہ اسلام) کے پاس آئے اور میں نے سلام کیا تو انہوں نے فرمایا اے بھائی اور نبی مرحبا! پھر ہم چھٹے آسمان پر پہنچے تو پوچھا گیا کون ہے؟ جواب ملا کہ جبرائیل پوچھا گیا تمہارے ساتھ کون ہے؟ جواب ملا کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ پوچھا گیا کیا انہیں بلایا گیا ہے کہا ہاں کہا مرحبا! آپ کا قدم کتنا اچھا ہے تو اس آسمان میں حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ملا میں نے انہیں سلام کیا اے بھائی اور نبی مرحبا جب میں آگے بڑھا تو حضرت موسیٰ رونے لگے پوچھا گیا تم کیوں روتے ہو؟ انہوں نے کہا اے خدا یہ لڑکا جو میرے بعد نبی بنایا گیا ہے اس کی امت کے لوگ میری امت کے لوگوں سے زیادہ جنت میں داخل ہونگے پھر ہم ساتویں آسمان پر پہنچے تو دریافت کیا گیا کہ کون ہے جواب دیا کہ جبرائیل پوچھا تمہارے ساتھ کون ہے؟ جواب ملا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں کہا گیا انہیں بلایا گیا ہے مرحبا کتنا اچھا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا آنا ( تو اس آسمان پر) میں حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ملا اور انہیں سلام کیا انہوں نے کہا مرحبا اے بیٹے اور نبی پھر میرے سامنے بیت معمور ظاہر کیا گیا میں نے حضرت جبرائیل سے پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ بیت معمور ہے جس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے نماز پڑھتے ہیں جب وہ (نماز پڑھ کر) نکل جاتے ہیں تو فرشتوں کی کثرت کی وجہ سے وہ قیامت تک واپس نہیں آتے (کہ ان کا نمبر ہی نہ آئیگا) اور مجھے سدرۃ المنتہیٰ بھی دکھائی گئی تو اس کے پھل(بیر) اتنے موٹے اور بڑے تھے جیسے ہجر (مقام) کے مٹکے اور اس کے پتے ایسے تھے جیسے ہاتھی کے کان اس کی جڑ میں چار نہریں تھیں دو اندر اور دو باہر میں نے حضرت جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ اندر والی نہریں تو جنت میں ہیں اور باہر والی نہریں فرات اور نیل میں ہیں پھر میرے (اور میری امت کے) اوپر پچاس وقت کی نمازیں فرض ہوئیں میں لوٹا تو حضرت موسیٰ کے پاس آیا انہوں نے پوچھا تم نے کیا کیا میں نے کہا کہ مجھ پر پچاس نمازیں فرض ہوئیں انہوں نے کہ کہ میں آپ کی بہت نسبت لوگوں کا حال زیادہ جانتا ہوں میں نے بنی اسرائیل کو بہت اچھی طرح آزمایا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت اس کی طاقت نہ رکھے گی۔ لہذا اللہ تعالیٰ کے پاس واپس جائیے اور عرض و معروض کیجئے میں واپس گیا اور میں نے عرض کیا تو اللہ نے چالیس نمازیں کردیں پھر ایسا ہی ہوا تو تیس پھر یہی ہوا تو بیس پھریہی ہوا تو دس نمازیں کردیں پھر میں حضرت موسیٰ کے پاس پہنچا تو انہوں نے وہی کہا (جو پہلے کہا تھا) تو اللہ تعالیٰ نے پانچ نمازیں کردیں پھر میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تو انہوں نے پوچھا کیا کیا میں نے کہا اللہ تعالیٰ نے پانچ نمازیں کردیں حضرت موسیٰ نے پھر وہی کہا (جو پہلے کہا تھا) میں نے کہا میں نے تو بھلائی کے ساتھ قبول کرلیا ہے ندائے الٰہی آئی کہ میں نے اپنا فریضہ جاری و نافذ کردیا اور میں نے اپنے بندوں سے تخفیف کردی اور میں ایک کا دس گنا ثواب دونگا (تو پانچ نمازوں کا ثواب پچاس نمازوں کے برابر ہوگا) ہمام قتادہ حسن ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فی البیت المعمور کے الفاظ روایت کرتے ہیں۔

Narrated Malik bin Sasaa: The Prophet said, "While I was at the House in a state midway between sleep and wakefulness, (an angel recognized me) as the man lying between two men. A golden tray full of wisdom and belief was brought to me and my body was cut open from the throat to the lower part of the abdomen and then my abdomen was washed with Zam-zam water and (my heart was) filled with wisdom and belief. Al-Buraq, a white animal, smaller than a mule and bigger than a donkey was brought to me and I set out with Gabriel. When I reached the nearest heaven. Gabriel said to the heaven gate-keeper, 'Open the gate.' The gatekeeper asked, 'Who is it?' He said, 'Gabriel.' The gate-keeper,' Who is accompanying you?' Gabriel said, 'Muhammad.' The gate-keeper said, 'Has he been called?' Gabriel said, 'Yes.' Then it was said, 'He is welcomed. What a wonderful visit his is!' Then I met Adam and greeted him and he said, 'You are welcomed O son and a Prophet.' Then we ascended to the second heaven. It was asked, 'Who is it?' Gabriel said, 'Gabriel.' It was said, 'Who is with you?' He said, 'Muhammad' It was asked, 'Has he been sent for?' He said, 'Yes.' It was said, 'He is welcomed. What a wonderful visit his is!" Then I met Jesus and Yahya (John) who said, 'You are welcomed, O brother and a Prophet.' Then we ascended to the third heaven. It was asked, 'Who is it?' Gabriel said, 'Gabriel.' It was asked, 'Who is with you? Gabriel said, 'Muhammad.' It was asked, 'Has he been sent for?' 'Yes,' said Gabriel. 'He is welcomed. What a wonderful visit his is!' (The Prophet added:). There I met Joseph and greeted him, and he replied, 'You are welcomed, O brother and a Prophet!' Then we ascended to the 4th heaven and again the same questions and answers were exchanged as in the previous heavens. There I met Idris and greeted him. He said, 'You are welcomed O brother and Prophet.' Then we ascended to the 5th heaven and again the same questions and answers were exchanged as in previous heavens. there I met and greeted Aaron who said, 'You are welcomed O brother and a Prophet". Then we ascended to the 6th heaven and again the same questions and answers were exchanged as in the previous heavens. There I met and greeted Moses who said, 'You are welcomed O brother and. a Prophet.' When I proceeded on, he started weeping and on being asked why he was weeping, he said, 'O Lord! Followers of this youth who was sent after me will enter Paradise in greater number than my followers.' Then we ascended to the seventh heaven and again the same questions and answers were exchanged as in the previous heavens. There I met and greeted Abraham who said, 'You are welcomed o son and a Prophet.' Then I was shown Al-Bait-al-Ma'mur (i.e. Allah's House). I asked Gabriel about it and he said, This is Al Bait-ul-Ma'mur where 70,000 angels perform prayers daily and when they leave they never return to it (but always a fresh batch comes into it daily).' Then I was shown Sidrat-ul-Muntaha (i.e. a tree in the seventh heaven) and I saw its Nabk fruits which resembled the clay jugs of Hajr (i.e. a town in Arabia), and its leaves were like the ears of elephants, and four rivers originated at its root, two of them were apparent and two were hidden. I asked Gabriel about those rivers and he said, 'The two hidden rivers are in Paradise, and the apparent ones are the Nile and the Euphrates.' Then fifty prayers were enjoined on me. I descended till I met Moses who asked me, 'What have you done?' I said, 'Fifty prayers have been enjoined on me.' He said, 'I know the people better than you, because I had the hardest experience to bring Bani Israel to obedience. Your followers cannot put up with such obligation. So, return to your Lord and request Him (to reduce the number of prayers.' I returned and requested Allah (for reduction) and He made it forty. I returned and (met Moses) and had a similar discussion, and then returned again to Allah for reduction and He made it thirty, then twenty, then ten, and then I came to Moses who repeated the same advice. Ultimately Allah reduced it to five. When I came to Moses again, he said, 'What have you done?' I said, 'Allah has made it five only.' He repeated the same advice but I said that I surrendered (to Allah's Final Order)'" Allah's Apostle was addressed by Allah, "I have decreed My Obligation and have reduced the burden on My slaves, and I shall reward a single good deed as if it were ten good deeds."

Permalink

Sahih BukhariHadith 2969

Narrated by 'Abdullah bin Mus'ud

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ قَالَ إِنَّ أَحَدَکُمْ يُجْمَعُ خَلْقُهُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا ثُمَّ يَکُونُ عَلَقَةً مِثْلَ ذَلِکَ ثُمَّ يَکُونُ مُضْغَةً مِثْلَ ذَلِکَ ثُمَّ يَبْعَثُ اللَّهُ مَلَکًا فَيُؤْمَرُ بِأَرْبَعِ کَلِمَاتٍ وَيُقَالُ لَهُ اکْتُبْ عَمَلَهُ وَرِزْقَهُ وَأَجَلَهُ وَشَقِيٌّ أَوْ سَعِيدٌ ثُمَّ يُنْفَخُ فِيهِ الرُّوحُ فَإِنَّ الرَّجُلَ مِنْکُمْ لَيَعْمَلُ حَتَّی مَا يَکُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجَنَّةِ إِلَّا ذِرَاعٌ فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ کِتَابُهُ فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ وَيَعْمَلُ حَتَّی مَا يَکُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّارِ إِلَّا ذِرَاعٌ فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْکِتَابُ فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ

حسن بن ربیع ابوالاحوص اعمش زید بن وہب حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اور وہ صادق و مصدوق تھے کہ تم میں سے ہر ایک کی پیدائش ماں کے پیٹ میں پوری کی جاتی ہے چالیس دن تک (نطفہ رہتا ہے) پھر اتنے ہی دنوں تک مضغہ گوشت رہتا ہے پھر اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ کو چار باتوں کا حکم دے کر بھیجتا ہے اور اس سے کہا جاتا ہے کہ اس کا عمل اس کا رزق اور اس کی عمر لکھ دے اور یہ (بھی لکھ دے) کہ وہ بد بخت (جہنمی) ہے یا نیک بخت (جنتی) پھر اس میں روح پھونک دی جاتی ہے بیشک تم میں سے ایک آدمی ایسے عمل کرتا ہے کہ اس کے اور جنت کے درمیان (صرف) ایک گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے کہ اس کا نوشتہ (تقدیر) غالب آجاتا ہے اور وہ دوزخیوں کے عمل کرنے لگتا ہے اور (ایک آدمی) ایسے عمل کرتا ہے کہ اس کے اور دوزخ کے درمیان (صرف) ایک گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے کہ اتنے میں تقدیر (الٰہی) اس پر غالب آجاتی ہے اور وہ اہل جنت کے کام کرنے لگتا ہے۔

Narrated 'Abdullah bin Mus'ud: Allah's Apostle, the true and truly inspired said, "(The matter of the Creation of) a human being is put together in the womb of the mother in forty days, and then he becomes a clot of thick blood for a similar period, and then a piece of flesh for a similar period. Then Allah sends an angel who is ordered to write four things. He is ordered to write down his (i.e. the new creature's) deeds, his livelihood, his (date of) death, and whether he will be blessed or wretched (in religion). Then the soul is breathed into him. So, a man amongst you may do (good deeds till there is only a cubit between him and Paradise and then what has been written for him decides his behavior and he starts doing (evil) deeds characteristic of the people of the (Hell) Fire. And similarly a man amongst you may do (evil) deeds till there is only a cubit between him and the (Hell) Fire, and then what has been written for him decides his behavior, and he starts doing deeds characteristic of the people of Paradise."

Permalink

Sahih BukhariHadith 2970

Narrated by Abu Huraira

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ أَخْبَرَنَا مَخْلَدٌ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي مُوسَی بْنُ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَابَعَهُ أَبُو عَاصِمٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي مُوسَی بْنُ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَحَبَّ اللَّهُ الْعَبْدَ نَادَی جِبْرِيلَ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ فُلَانًا فَأَحْبِبْهُ فَيُحِبُّهُ جِبْرِيلُ فَيُنَادِي جِبْرِيلُ فِي أَهْلِ السَّمَائِ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ فُلَانًا فَأَحِبُّوهُ فَيُحِبُّهُ أَهْلُ السَّمَائِ ثُمَّ يُوضَعُ لَهُ الْقَبُولُ فِي الْأَرْضِ

محمد بن سلام مخلد ابن جریج موسیٰ بن عقبہ نافع حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اور اس کے متابع حدیث ابوعاصم ابن جریج موسیٰ بن عقبہ نافع نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبرائیل کو ندا دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ فلاں سے محبت کرتا ہے لہذا تو بھی اس سے محبت رکھ تو جبرائیل اس سے محبت کرنے لگتے ہیں پھر حضرت جبرائیل تمام اہل آسمان کو ندا دیتے ہی کہ اللہ تعالیٰ فلاں کو دوست رکھتا ہے تم بھی اسے دوست رکھو تو آسمان والے بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں پھر دنیا میں (بھی) اس کی مقبولیت پیدا کردی جاتی ہے۔

Narrated Abu Huraira: The Prophet said, "If Allah loves a person, He calls Gabriel saying, 'Allah loves so and-so; O Gabriel! Love him.' Gabriel would love him and make an announcement amongst the inhabitants of the Heaven. 'Allah loves so-and-so, therefore you should love him also,' and so all the inhabitants of the Heaven would love him, and then he is granted the pleasure of the people on the earth."

Permalink

Sahih BukhariHadith 2971

Narrated by 'Aisha

حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي جَعْفَرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الْمَلَائِکَةَ تَنْزِلُ فِي الْعَنَانِ وَهُوَ السَّحَابُ فَتَذْکُرُ الْأَمْرَ قُضِيَ فِي السَّمَائِ فَتَسْتَرِقُ الشَّيَاطِينُ السَّمْعَ فَتَسْمَعُهُ فَتُوحِيهِ إِلَی الْکُهَّانِ فَيَکْذِبُونَ مَعَهَا مِائَةَ کَذْبَةٍ مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِهِمْ

محمدابن ابی مریم لیث ابن ابوجعفر محمد بن عبدالرحمن عروہ بن زبیر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ فرشتے بادل میں آتے ہیں اور اس کام کا ذکر کرتے ہیں جس کا فیصلہ آسمان میں کیا گیا ہے پس اسے شیاطین چھپ کر سن لیتے ہیں اور کاہنوں کے پاس آکر بیان کردیتے ہیں تو کاہن اپنی طرف سے اس میں سو جھوٹ ملا لیتے ہیں۔

Narrated 'Aisha: I heard Allah's Apostle saying, "The angels descend, the clouds and mention this or that matter decreed in the Heaven. The devils listen stealthily to such a matter, come down to inspire the soothsayers with it, and the latter would add to it one-hundred lies of their own."

Permalink

Sahih BukhariHadith 2972

Narrated by Abu Huraira

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ وَالْأَغَرِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا کَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ کَانَ عَلَی کُلِّ بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ الْمَلَائِکَةُ يَکْتُبُونَ الْأَوَّلَ فَالْأَوَّلَ فَإِذَا جَلَسَ الْإِمَامُ طَوَوْا الصُّحُفَ وَجَائُوا يَسْتَمِعُونَ الذِّکْرَ

احمد بن یونس ابراہیم بن سعد ابن شہاب ابوسلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور اغر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب جمعہ کا دن ہوتا ہے تو فرشتے ہر دروازہ پر (متعین ہو کر) سب سے پہلے پھر اس کے بعد (پھر اس کے بعد اسی طرح) آنے والے کو لکھتے رہتے ہیں جب امام (خطبہ کے لئے) منبر پر بیٹھ جاتا ہے تو وہ اپنے صحیفوں کو لپیٹ لیتے ہیں اور خطبہ سننے کے لئے آجاتے ہیں۔

Narrated Abu Huraira: The Prophet said, "On every Friday the angels take heir stand at every gate of the mosques to write the names of the people chronologically (i.e. according to the time of their arrival for the Friday prayer and when the Imam sits (on the pulpit) they fold up their scrolls and get ready to listen to the sermon."

Permalink

Sahih BukhariHadith 2973

Narrated by Sa'id bin Al-Musaiyab

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ مَرَّ عُمَرُ فِي الْمَسْجِدِ وَحَسَّانُ يُنْشِدُ فَقَالَ کُنْتُ أُنْشِدُ فِيهِ وَفِيهِ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْکَ ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَی أَبِي هُرَيْرَةَ فَقَالَ أَنْشُدُکَ بِاللَّهِ أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَجِبْ عَنِّي اللَّهُمَّ أَيِّدْهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ قَالَ نَعَمْ

علی بن عبداللہ سفیان زہری سعید بن مسیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا گذر مسجد میں ہوا تو حضرت حسان رضی اللہ عنہ شعر پڑھ رہے تھے (حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے روکا) تو انہوں نے کہا کہ میں مسجد میں ایسے شخص کے سامنے جو تم سے بہتر تھا (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شعر پڑھا کرتا تھا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع نہیں فرمایا) پھر حضرت حسان رضی اللہ عنہ ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رضی اللہ عنہ کی جانب متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ میں تم کو قسم دیتا ہوں کیا تم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ میری طرف سے جواب دو اور اے اللہ ان کی تائید روح القدس سے فرما تو انہوں نے کہا، ہاں!

Narrated Sa'id bin Al-Musaiyab: 'Umar came to the Mosque while Hassan was reciting a poem. ('Umar disapproved of that). On that Hassan said, "I used to recite poetry in this very Mosque in the presence of one (i.e. the Prophet ) who was better than you." Then he turned towards Abu Huraira and said (to him), "I ask you by Allah, did you hear Allah's Apostle saying (to me), "Retort on my behalf. O Allah! Support him (i.e. Hassan) with the Holy Spirit?" Abu Huraira said, "Yes."

Permalink

Sahih BukhariHadith 2974

Narrated by Al Bara

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ الْبَرَائِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَسَّانَ اهْجُهُمْ أَوْ هَاجِهِمْ وَجِبْرِيلُ مَعَکَ

حفص بن عمر شعبہ عدی بن ثابت حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت حسان سے فرمایا کہ تم مشرکوں کی ہجو کرو جبرائیل تمہارے ساتھ ہیں۔

Narrated Al Bara: The Prophet said to Hassan, "Lampoon them (i.e. the pagans) and Gabriel is with you."

Permalink

Sahih BukhariHadith 2975

Narrated by Jarir

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ سَمِعْتُ حُمَيْدَ بْنَ هِلَالٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ کَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَی غُبَارٍ سَاطِعٍ فِي سِکَّةِ بَنِي غَنْمٍ زَادَ مُوسَی مَوْکِبَ جِبْرِيلَ عليه السلام

اسحاق وہب بن جریر ان کے والد حمید بن ہلال حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ گویا وہ غبار میری نظر کے سامنے ہے جو بنی غنم کی گلی میں بند ہو رہا تھا موسیٰ نے اتنا اور زیادہ روایت کیا ہے کہ حضرت جبرائیل کی سواری کی وجہ سے۔

Narrated Jarir: as below (Hadith 437). Narrated Humaid bin Hilal: Anas bin Malik said, "As if I say a cloud of dust swirling up in the lane of Bani Ghanim." Musa added, "That was caused by the procession of Gabriel."

Permalink

Sahih BukhariHadith 2976

Narrated by Aisha

حَدَّثَنَا فَرْوَةُ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَيْفَ يَأْتِيکَ الْوَحْيُ قَالَ کُلُّ ذَاکَ يَأْتِينِي الْمَلَکُ أَحْيَانًا فِي مِثْلِ صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ فَيَفْصِمُ عَنِّي وَقَدْ وَعَيْتُ مَا قَالَ وَهُوَ أَشَدُّهُ عَلَيَّ وَيَتَمَثَّلُ لِي الْمَلَکُ أَحْيَانًا رَجُلًا فَيُکَلِّمُنِي فَأَعِي مَا يَقُولُ

فروہ علی بن مسہر ہشام بن عروہ ان کے والد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وحی کیسے آتی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر کسی وحی میں فرشتہ آتا ہے کبھی گھنٹہ جیسی آواز میں جب وہ وحی ختم ہوتی ہے تو میں اسے جو فرشتہ نے کہا یاد کر چکا ہوتا ہوں اور یہ وحی میرے اوپر بہت سخت ہے اور کبھی فرشتہ انسان کی شکل میں آتا ہے اور مجھ سے کلام کرتا ہے تو میں اس بات کو یاد کرلیتا ہوں۔

Narrated Aisha: Al Harith bin Hisham asked the Prophet, "How does the divine inspiration come to you?" He replied, "In all these ways: The Angel sometimes comes to me with a voice which resembles the sound of a ringing bell, and when this state abandons me, I remember what the Angel has said, and this type of Divine Inspiration is the hardest on me; and sometimes the Angel comes to me in the shape of a man and talks to me, and I understand and remember what he says."

Permalink

Sahih BukhariHadith 2977

Narrated by Abu Huraira

حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَبِي کَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ دَعَتْهُ خَزَنَةُ الْجَنَّةِ أَيْ فُلُ هَلُمَّ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ ذَاکَ الَّذِي لَا تَوَی عَلَيْهِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْجُو أَنْ تَکُونَ مِنْهُمْ

آدم شیبان یحیی بن ابی کثیر ابوسلمہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو کوئی ایک طرح کی چیزوں کا جوڑا جوڑا اللہ کی راہ میں خرچ کرے گا تو اسے جنت کے خازن (ہر طرف سے) بلائیں گے کہ اے فلاں یہاں آؤ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ اس شخص پر تو پھر کوئی خوف و ہلاکت کا اندیشہ نہیں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے امید ہے کہ تم انہیں میں سے ہو گے۔

Narrated Abu Huraira: I heard the Prophet saying, "Who ever spends a couple (of objects) in Allah's cause, will be called by the Gatekeepers of Paradise who will say, "O so-and-so, come on!" Abu Bakr said, "Such a person will never perish or be miserable' The Prophet said, "I hope you will be among such person."

Permalink

Sahih BukhariHadith 2978

Narrated by Abu Salama

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا يَا عَائِشَةُ هَذَا جِبْرِيلُ يَقْرَأُ عَلَيْکِ السَّلَامَ فَقَالَتْ وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَکَاتُهُ تَرَی مَا لَا أَرَی تُرِيدُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

عبداللہ بن محمد ہشام معمر زہری ابوسلمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اے عائشہ! یہ جبرائیل ہیں تمہیں سلام کہتے ہیں انہوں نے جواب دیا وعلیہ السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہ دیکھتے ہیں جو میں نہیں دیکھ سکتی۔

Narrated Abu Salama: 'Aisha said that the Prophet said to her "O 'Aisha' This is Gabriel and he sends his (greetings) salutations to you." 'Aisha said, "Salutations (Greetings) to him, and Allah's Mercy and Blessings be on him," and addressing the Prophet she said, "You see what I don't see."

Permalink

Sahih BukhariHadith 2979

Narrated by Ibn Abbas

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ قَالَ ح حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ عُمَرَ بْنِ ذَرٍّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِجِبْرِيلَ أَلَا تَزُورُنَا أَکْثَرَ مِمَّا تَزُورُنَا قَالَ فَنَزَلَتْ وَمَا نَتَنَزَّلُ إِلَّا بِأَمْرِ رَبِّکَ لَهُ مَا بَيْنَ أَيْدِينَا وَمَا خَلْفَنَا الْآيَةَ

ابو نعیم عمر بن ذر، (دوسری سند) یحیی بن جعفر وکیع عمر بن ذر ان کے والد سعید بن جبیر ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت جبرائیل سے فرمایا جتنا تم اب ہمارے پاس آتے ہو اس سے زیادہ کیوں نہیں آتے تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پروردگار کے حکم کے بغیر نہیں اترتے اسی کا ہے جو کچھ ہمارے سامنے ہے اور پیچھے ہے۔

Narrated Ibn Abbas: Allah's Apostle asked Gabriel, "Why don't you visit us more often than you do?" Then the following Holy Verse was revealed (in this respect):-- "And we (angels) descend not but by the order of your Lord. To Him belong what is before us and what is behind us, and what is between those two and your Lord was never forgetful." (19.64)

Permalink

Sahih BukhariHadith 2980

Narrated by Ibn Abbas

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ عَنْ يُونُسَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَقْرَأَنِي جِبْرِيلُ عَلَی حَرْفٍ فَلَمْ أَزَلْ أَسْتَزِيدُهُ حَتَّی انْتَهَی إِلَی سَبْعَةِ أَحْرُفٍ

اسماعیل سلیمان یونس ابن شہاب عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب مجھے جبرائیل نے ایک قرات میں قرآن پڑھایا تھا پس میں ان سے برابر زیادہ طلب کرتا رہا حتیٰ کہ سات قرات تک پہنچ گیا۔

Narrated Ibn Abbas: Allah's Apostle said, "Gabriel read the Qur'an to me in one way (i.e. dialect) and I continued asking him to read it in different ways till he read it in seven different ways."

Permalink

Sahih BukhariHadith 2981

Narrated by Ibn 'Abbas

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدَ النَّاسِ وَکَانَ أَجْوَدُ مَا يَکُونُ فِي رَمَضَانَ حِينَ يَلْقَاهُ جِبْرِيلُ وَکَانَ جِبْرِيلُ يَلْقَاهُ فِي کُلِّ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ فَيُدَارِسُهُ الْقُرْآنَ فَلَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ يَلْقَاهُ جِبْرِيلُ أَجْوَدُ بِالْخَيْرِ مِنْ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ وَرَوَی أَبُو هُرَيْرَةَ وَفَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ جِبْرِيلَ کَانَ يُعَارِضُهُ الْقُرْآنَ

محمد بن مقاتل عبداللہ یونس زہری عبیداللہ بن عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب سے زیادہ سخی تھے اور ہمیشہ سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں جب جبرائیل آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتے تھے سخی ہو جاتے تھے اور آپ ان سے قرآن کریم کا دور کرتے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جبرائیل ملتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فائدہ پہنچانے میں تیز ہوا سے بھی زیادہ سخی ہوتے تھے عبداللہ اور معمر نے بھی اسی سند کے ساتھ اس جیسی روایت کی ہے اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بجائے یدارسہ القرآن کے یہ الفاظ روایت کئے ہیں کہ أَنَّ جِبْرِيلَ کَانَ يُعَارِضُهُ الْقُرْآنَ۔

Narrated Ibn 'Abbas: Allah's Apostle was the most generous of all the people, and he used to be more generous in the month of Ramadan when Gabriel used to meet him. Gabriel used to meet him every night in Ramadan to study the Holy Quran carefully together. Allah's Apostle used to become more generous than the fast wind when he met Gabriel

Permalink

Sahih BukhariHadith 2982

Narrated by Ibn Shihab

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَخَّرَ الْعَصْرَ شَيْئًا فَقَالَ لَهُ عُرْوَةُ أَمَا إِنَّ جِبْرِيلَ قَدْ نَزَلَ فَصَلَّی أَمَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عُمَرُ اعْلَمْ مَا تَقُولُ يَا عُرْوَةُ قَالَ سَمِعْتُ بَشِيرَ بْنَ أَبِي مَسْعُودٍ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُودٍ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ نَزَلَ جِبْرِيلُ فَأَمَّنِي فَصَلَّيْتُ مَعَهُ ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ يَحْسُبُ بِأَصَابِعِهِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ

قتیبہ لیث ابن شہاب سے روایت کرتے ہیں کہ ایک روز عمر بن عبدالعزیز نے عصر کی نماز میں (کچھ) تاخیر کردی تو ان سے عروہ نے کہا کہ جبرائیل آئے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو امام بن کر نماز پڑھائی عمر بن عبدالعزیز نے کہا عروہ سوچو کیا کہہ رہے ہو (کیا یہ ممکن ہے کہ جبرائیل حضور کے امام بنیں حالانکہ حضور سے افضل نہیں) عروہ نے کہا کہ میں نے بشیر بن ابی مسعود سے انہوں نے ابومسعود سے اور انہوں نے رسول اللہ سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ جبریل علیہ السلام آئے اور میرے امام بنے میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی آپ اپنی انگلیوں پر پانچ نمازوں کا شمار کرتے تھے۔

Narrated Ibn Shihab: Once Umar bin Abdul Aziz delayed the 'Asr prayer a little. 'Urwa said to him, "Gabriel descended and led the prayer in front of the Prophet " On that 'Umar said, "O Urwa! Be sure of what you say." "Urwa, "I heard Bashir bin Abi Masud narrating from Ibn Masud who heard Allah's Apostle saying, 'Gabriel descended and led me in prayer; and then prayed with him again, and then prayed with him again, and then prayed with him again, and then prayed with him again, counting with his fingers five prayers."

Permalink

Sahih BukhariHadith 2983

Narrated by Abu Dhar

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِي جِبْرِيلُ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِکَ لَا يُشْرِکُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ أَوْ لَمْ يَدْخُلْ النَّارَ قَالَ وَإِنْ زَنَی وَإِنْ سَرَقَ قَالَ وَإِنْ

محمد بن بشار ابن ابی عدی شعبہ حبیب بن ابی ثابت زید بن وہب حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مجھ سے جبرائیل علیہ السلام نے یہ کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں سے جو کوئی اس حالت میں مرے گا کہ اس نے اللہ کے ساتھ شرک نہ کیا ہو تو وہ جنت میں داخل ہوگا یا فرمایا دوزخ میں نہ جائے گا۔ ابوذر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا چاہے اس نے زنا اور چوری کی ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چاہے (اس نے زنا اور چوری کی ہو) ۔

Narrated Abu Dhar: The Prophet said, "Gabriel said to me, 'Whoever amongst your followers die without having worshipped others besides Allah, will enter Paradise (or will not enter the (Hell) Fire)." The Prophet asked. "Even if he has committed illegal sexual intercourse or theft?" He replied, "Even then."

Permalink

Sahih BukhariHadith 2984

Narrated by Abu Huraira

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَلَائِکَةُ يَتَعَاقَبُونَ مَلَائِکَةٌ بِاللَّيْلِ وَمَلَائِکَةٌ بِالنَّهَارِ وَيَجْتَمِعُونَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ ثُمَّ يَعْرُجُ إِلَيْهِ الَّذِينَ بَاتُوا فِيکُمْ فَيَسْأَلُهُمْ وَهُوَ أَعْلَمُ فَيَقُولُ کَيْفَ تَرَکْتُمْ عِبَادِي فَيَقُولُونَ تَرَکْنَاهُمْ يُصَلُّونَ وَأَتَيْنَاهُمْ يُصَلُّونَ

ابو الیمان شعیب ابوالزناد اعرج حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ فرشتے یکے بعد دیگرے آتے ہیں کچھ فرشتے رات کو کچھ دن کو اور یہ سب جمع ہوتے ہیں فجر اور عصر کی نماز میں پھر وہ فرشتے جو رات کو تمہارے پاس تھے آسمان پر چلے جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان سے پوچھتا ہے حالانکہ وہ ان سے زیادہ جانتا ہے کہ تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا وہ کہتے ہیں کہ ہم نے انہیں نماز پڑھتے ہوئے چھوڑا ہے اور جب ان کے پاس پہنچے تھے اس وقت بھی وہ نماز پڑھ رہے تھے۔

Narrated Abu Huraira: The Prophet said, "Angels keep on descending from and ascending to the Heaven in turn, some at night and some by daytime, and all of them assemble together at the time of the Fajr and 'Asr prayers. Then those who have stayed with you over-night, ascent unto Allah Who asks them, and He knows the answer better than they, "How have you left My slaves?" They reply, "We have left them praying as we found them praying." If anyone of you says "Amin" (during the Prayer at the end of the recitation of Surat-al-Faitiha), and the angels in Heaven say the same, and the two sayings coincide, all his past sins will be forgiven."

Permalink