TrueHadith

جب کوئی تم میں سے آمین کہتا ہے اور آسمان میں فرشتے بھی آمین کہتے ہیں سو ان دونوں کی آمین جب مل جائے تو اس کہنے والے آدمی کے سب پچھلے گناہ معاف ہو جاتے ہیں ۔

Sahih BukhariHadith 2985

Narrated by 'Aisha

حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ أَخْبَرَنَا مَخْلَدٌ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ أَنَّ نَافِعًا حَدَّثَهُ أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ حَدَّثَهُ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ حَشَوْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وِسَادَةً فِيهَا تَمَاثِيلُ کَأَنَّهَا نُمْرُقَةٌ فَجَائَ فَقَامَ بَيْنَ الْبَابَيْنِ وَجَعَلَ يَتَغَيَّرُ وَجْهُهُ فَقُلْتُ مَا لَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ مَا بَالُ هَذِهِ الْوِسَادَةِ قَالَتْ وِسَادَةٌ جَعَلْتُهَا لَکَ لِتَضْطَجِعَ عَلَيْهَا قَالَ أَمَا عَلِمْتِ أَنَّ الْمَلَائِکَةَ لَا تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ وَأَنَّ مَنْ صَنَعَ الصُّورَةَ يُعَذَّبُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَقُولُ أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ

محمد مخلد ابن جریج اسماعیل بن امیہ نافع قاسم بن محمد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے واسطے ایک چھوٹا سا تکیہ بھر دیا جس میں تصویریں تھیں۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو دونوں دروازوں کے درمیان کھڑے ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہر کا رنگ بدلنے لگا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ہم سے کیا خطا ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تکیہ کیسا ہے؟ میں نے کہا کہ یہ تکیہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بنایا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سر رکھ کر لیٹیں فرمایا کہ تم نہیں جانتیں کہ (رحمت کے) فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر ہو اور جو تصویریں بنائیں تو قیامت کے اسے (سخت) عذاب ہوگا اللہ تعالیٰ حکم دے گا کہ جو (تصویر) تم نے بنائی ہے اسے زندہ کرو۔

Narrated 'Aisha: I stuffed for the Prophet a pillow decorated with pictures (of animals) which looked like a Namruqa (i.e. a small cushion). He came and stood among the people with excitement apparent on his face. I said, "O Allah's Apostle! What is wrong?" He said, "What is this pillow?" I said, "I have prepared this pillow for you, so that you may recline on it." He said, "Don't you know that angels do not enter a house wherein there are pictures; and whoever makes a picture will be punished on the Day of Resurrection and will be asked to give life to (what he has created)?"

Permalink

Sahih BukhariHadith 2986

Narrated by Abu Talha

حَدَّثَنَا ابْنُ مُقَاتِلٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا طَلْحَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِکَةُ بَيْتًا فِيهِ کَلْبٌ وَلَا صُورَةُ تَمَاثِيلَ

ابن مقاتل عبداللہ معمر زہری عبیداللہ بن عبداللہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا اور جانداروں کی تصویر ہو۔

Narrated Abu Talha: I heard Allah's Apostle saying; "Angels (of Mercy) do not enter a house wherein there is a dog or a picture of a living creature (a human being or an animal)."

Permalink

Sahih BukhariHadith 2987

Narrated by Busr bin Said

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنَا عَمْرٌو أَنَّ بُکَيْرَ بْنَ الْأَشَجِّ حَدَّثَهُ أَنَّ بُسْرَ بْنَ سَعِيدٍ حَدَّثَهُ أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ وَمَعَ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عُبَيْدُ اللَّهِ الْخَوْلَانِيُّ الَّذِي کَانَ فِي حَجْرِ مَيْمُونَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُمَا زَيْدُ بْنُ خَالِدٍ أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِکَةُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ قَالَ بُسْرٌ فَمَرِضَ زَيْدُ بْنُ خَالِدٍ فَعُدْنَاهُ فَإِذَا نَحْنُ فِي بَيْتِهِ بِسِتْرٍ فِيهِ تَصَاوِيرُ فَقُلْتُ لِعُبَيْدِاللَّهِ الْخَوْلَانِيِّ أَلَمْ يُحَدِّثْنَا فِي التَّصَاوِيرِ فَقَالَ إِنَّهُ قَالَ إِلَّا رَقْمٌ فِي ثَوْبٍ أَلَا سَمِعْتَهُ قُلْتُ لَا قَالَ بَلَی قَدْ ذَکَرَهُ

احمد ابن وہب عمروبکیر بن اشج بسر بن سعید زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ بسر کے ساتھ (اس وقت) وہ بھی تھے جو زوجہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت میمونہ کی تربیت میں تھے زید بن خالد نے ان دونوں سے بیان کیا کہ ابوطلحہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر ہو بسر فرماتے ہیں کہ پھر زید بن خالد بیمار ہوئے تو ہم ان کی عیادت کو آئے تو ہم نے ان کے گھر تصویروں والا ایک پردہ دیکھا تو میں نے عبداللہ خولانی سے کہا کہ کیا انہوں نے تصویروں کے بارے میں ہم سے حدیث بیان نہیں کی تھی تو عبیداللہ نے جواب دیا کہ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ کپڑے کے نقوش جو بے زبان چیزوں کے ہوں اس سے مستثنیٰ ہیں کیا تم نے یہ نہیں سنا تھا میں نے کہا نہیں تو انہوں نے کہا ہاں یہ بھی کہا تھا۔

Narrated Busr bin Said: That Zaid bin Khalid Al-Juhani narrated to him something in the presence of Said bin 'Ubaidullah Al-Khaulani who was brought up in the house of Maimuna the wife of the Prophet. Zaid narrated to them that Abu Talha said that the Prophet said, "The Angels (of Mercy) do not enter a house wherein there is a picture." Busr said, "Later on Zaid bin Khalid fell ill and we called on him. To our surprise we saw a curtain decorated with pictures in his house. I said to Ubaidullah Al-Khaulani, "Didn't he (i.e. Zaid) tell us about the (prohibition of) pictures?" He said, "But he excepted the embroidery on garments. Didn't you hear him?" I said, "No." He said, "Yes, he did."

Permalink

Sahih BukhariHadith 2988

Narrated by Salim's father

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ قَالَ حَدَّثَنِي عُمَرُ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ وَعَدَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِبْرِيلُ فَقَالَ إِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ وَلَا کَلْبٌ

یحیی بن سلیمان ابن وہب عمرو سالم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے (آنے کا) وعدہ کیا مگر وعدہ پر نہیں آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا کہ ہم ایسے گھر میں نہیں جاتے جس میں تصویر یا کتا ہو۔

Narrated Salim's father: Once Gabriel promised the Prophet (that he would visit him, but Gabriel did not come) and later on he said, "We, angels, do not enter a house which contains a picture or a dog."

Permalink

Sahih BukhariHadith 2989

Narrated by Abu Huraira

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ حَدَّثَنِي مَالِکٌ عَنْ سُمَيٍّ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا قَالَ الْإِمَامُ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ قَوْلُهُ قَوْلَ الْمَلَائِکَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ

اسماعیل مالک سمی ابوصالح حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب امام (سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ) کہے تو تم (اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ) کہو کیونکہ جس کا (یہ) قول فرشتوں کے قول کے ساتھ مل گیا تو اس کے سب پچھلے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔۔

Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, "When the Imam, during the prayer, says, "Allah hears him who praises Him', say: 'O Allah! Our Lord! All the praises are for You/, for if the saying of anyone of you coincides with the saying of the angels, his past sins will be forgiven."

Permalink

Sahih BukhariHadith 2990

Narrated by Abu Huraira

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ أَحَدَکُمْ فِي صَلَاةٍ مَا دَامَتْ الصَّلَاةُ تَحْبِسُهُ وَالْمَلَائِکَةُ تَقُولُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ مَا لَمْ يَقُمْ مِنْ صَلَاتِهِ أَوْ يُحْدِثْ

ابراہیم بن منذر محمد بن فلیح ان کے والد ہلال بن علی عبدالرحمن بن ابی عمرہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے ہر شخص (گویا) نماز میں ہوتا ہے جب تک اسے نماز روکے رکھے فرشتے کہتے ہیں کہ اے اللہ! اس کی مغفرت فرما اس پر رحم فرما جب تک وہ اپنی نماز (کی جگہ) سے نہ اٹھے یا اس کا وضو نہ ٹوٹے۔

Narrated Abu Huraira: The Prophet said, "As long as any-one of you is waiting for the prayer, he is considered to be praying actually, and the angels say, 'O Allah! Be merciful to him and forgive him', (and go on saying so) unless he leaves his place of praying or passes wind (i.e. breaks his ablution)."

Permalink

Sahih BukhariHadith 2991

Narrated by Yali

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عَطَائٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَی عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ عَلَی الْمِنْبَرِ وَنَادَوْا يَا مَالِکُ قَالَ سُفْيَانُ فِي قِرَائَةِ عَبْدِ اللَّهِ وَنَادَوْا يَا مَالِ

علی بن عبداللہ سفیان عمرو عطاء صفوان بن یعلیٰ اپنے والد یعلی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو منبر پر پڑھتے ہوئے سنا ہے اور وہ پکاریں گے کہ اے مالک (دروغہ جہنم) سفیان کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرات میں ہے ونادوایامال (ترخیم کے ساتھ) ۔

Narrated Yali: I heard the Prophet reciting the following Verse on the pulpit: "They will call: O Mali......' and Sufyan said that 'Abdullah recited it: 'They will call: O Mali..' (43.77)

Permalink

Sahih BukhariHadith 2992

Narrated by 'Aisha

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَتْهُ أَنَّهَا قَالَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ أَتَی عَلَيْکَ يَوْمٌ کَانَ أَشَدَّ مِنْ يَوْمِ أُحُدٍ قَالَ لَقَدْ لَقِيتُ مِنْ قَوْمِکِ مَا لَقِيتُ وَکَانَ أَشَدَّ مَا لَقِيتُ مِنْهُمْ يَوْمَ الْعَقَبَةِ إِذْ عَرَضْتُ نَفْسِي عَلَی ابْنِ عَبْدِ يَالِيلَ بْنِ عَبْدِ کُلَالٍ فَلَمْ يُجِبْنِي إِلَی مَا أَرَدْتُ فَانْطَلَقْتُ وَأَنَا مَهْمُومٌ عَلَی وَجْهِي فَلَمْ أَسْتَفِقْ إِلَّا وَأَنَا بِقَرْنِ الثَّعَالِبِ فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا أَنَا بِسَحَابَةٍ قَدْ أَظَلَّتْنِي فَنَظَرْتُ فَإِذَا فِيهَا جِبْرِيلُ فَنَادَانِي فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ قَدْ سَمِعَ قَوْلَ قَوْمِکَ لَکَ وَمَا رَدُّوا عَلَيْکَ وَقَدْ بَعَثَ إِلَيْکَ مَلَکَ الْجِبَالِ لِتَأْمُرَهُ بِمَا شِئْتَ فِيهِمْ فَنَادَانِي مَلَکُ الْجِبَالِ فَسَلَّمَ عَلَيَّ ثُمَّ قَالَ يَا مُحَمَّدُ فَقَالَ ذَلِکَ فِيمَا شِئْتَ إِنْ شِئْتَ أَنْ أُطْبِقَ عَلَيْهِمْ الْأَخْشَبَيْنِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَلْ أَرْجُو أَنْ يُخْرِجَ اللَّهُ مِنْ أَصْلَابِهِمْ مَنْ يَعْبُدُ اللَّهَ وَحْدَهُ لَا يُشْرِکُ بِهِ شَيْئًا

عبداللہ بن یوسف ابن وہب یونس ابن شہاب عروہ زوجہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ کیا یوم احد سے بھی سخت دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر آیا ہے آپ نے فرمایا کہ میں نے تمہاری قوم کی جو جو تکلیفیں اٹھائی ہیں وہ اٹھائی ہیں اور سب سے زیادہ تکلیف جو میں نے اٹھائی وہ عقبہ کے دن تھی جب میں نے اپنے آپ کو ابن عبد یا لیل بن عبدکلال کے سامنے پیش کیا تو اس نے میری خواہش کو پورا نہیں کیا پھر میں رنجیدہ ہو کر سیدھا چلا ابھی میں ہوش میں نہ آیا تھا کہ قرآن الثعالب میں پہنچا میں نے اپنا سر اٹھایا تو بادل کے ایک ٹکڑے کو اپنے اوپر سایہ فگن پایا میں نے جو دیکھا تو اس میں جبرائیل علیہ السلام تھے انہوں نے مجھے آواز دی اور کہا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ سے آپ کی قوم کی گفتگو اور ان کا جواب سن لیا ہے اب پہاڑوں کے فرشتہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا ہے تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے کافروں کے بارے میں جو چاہیں حکم دیں پھر مجھے پہاڑوں کے فرشتہ نے آواز دی اور سلام کیا پھر کہا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ سب کچھ آپ کی مرضی ہے اگر آپ چاہیں تو میں اخشبین نامی دو پہاڑوں کو ان کافروں پر لا کر رکھ دو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا (نہیں) بلکہ مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کافروں کی نسل سے ایسے لوگ پیدا کرے گا جو صرف اسی کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ بالکل شرک نہ کریں گے۔

Narrated 'Aisha: That she asked the Prophet , 'Have you encountered a day harder than the day of the battle) of Uhud?" The Prophet replied, "Your tribes have troubled me a lot, and the worse trouble was the trouble on the day of 'Aqaba when I presented myself to Ibn 'Abd-Yalail bin 'Abd-Kulal and he did not respond to my demand. So I departed, overwhelmed with excessive sorrow, and proceeded on, and could not relax till I found myself at Qarnath-Tha-alib where I lifted my head towards the sky to see a cloud shading me unexpectedly. I looked up and saw Gabriel in it. He called me saying, 'Allah has heard your people's saying to you, and what they have replied back to you, Allah has sent the Angel of the Mountains to you so that you may order him to do whatever you wish to these people.' The Angel of the Mountains called and greeted me, and then said, "O Muhammad! Order what you wish. If you like, I will let Al-Akh-Shabain (i.e. two mountains) fall on them." The Prophet said, "No but I hope that Allah will let them beget children who will worship Allah Alone, and will worship None besides Him."

Permalink

Sahih BukhariHadith 2993

Narrated by Abu Ishaq-Ash-Shaibani

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ قَالَ سَأَلْتُ زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَی فَکَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَی فَأَوْحَی إِلَی عَبْدِهِ مَا أَوْحَی قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ مَسْعُودٍ أَنَّهُ رَأَی جِبْرِيلَ لَهُ سِتُّ مِائَةِ جَنَاحٍ

قتیبہ ابوعوانہ ابواسحاق شیبانی نے کہا کہ میں نے زربن حبیش سے آیت کریمہ پدس دو کمانوں کی مقدار یا اس سے بھی کم فاصلہ تھا پھر اللہ نے اپنے بندہ پر وحی بھیجی جو کچھ بھیجی کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے کہا کہ ہم سے ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا ان کے چھ سو پر تھے

Narrated Abu Ishaq-Ash-Shaibani: I asked Zir bin Hubaish regarding the Statement of Allah: "And was at a distance Of but two bow-lengths Or (even) nearer; So did (Allah) convey The Inspiration to His slave (Gabriel) and then he (Gabriel) Conveyed (that to Muhammad). (53.9-10) On that, Zir said, "Ibn Mas'ud informed us that the Prophet had seen Gabriel having 600 wings."

Permalink

Sahih BukhariHadith 2994

Narrated by Abdullah

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَقَدْ رَأَی مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْکُبْرَی قَالَ رَأَی رَفْرَفًا أَخْضَرَ سَدَّ أُفُقَ السَّمَائِ

حفص بن عمر شعبہ اعمش ابراہیم علقمہ حضرت عبداللہ سے روایت کرتے ہیں کہ آیت کریمہ بیشک انہوں نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں (کا مطلب یہ ہے) کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سبز بادل دیکھا جس نے آسمان کے کنارے ڈھانپ لئے تھے۔

Narrated Abdullah: Regarding the Verse: "Indeed he (Muhammad) did see. Of the Signs of his Lord, The Greatest!" (53.18) That the Prophet had seen a green carpet spread all over the horizon of the sky.

Permalink

Sahih BukhariHadith 2995

Narrated by Aisha

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ أَنْبَأَنَا الْقَاسِمُ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ مَنْ زَعَمَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَأَی رَبَّهُ فَقَدْ أَعْظَمَ وَلَکِنْ قَدْ رَأَی جِبْرِيلَ فِي صُورَتِهِ وَخَلْقُهُ سَادٌّ مَا بَيْنَ الْأُفُقِ

محمد بن عبداللہ بن اسماعیل محمد بن عبداللہ انصاری ابن عون قاسم حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا جو شخص یہ خیال رکھے کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے پروردگار کو دیکھا تو اس نے سخت غلطی کی بلکہ آپ نے جبرائیل علیہ السلام کو ان کی (اصلی) صورت و خلقت میں دیکھا جنہوں نے آسمان کے کنارے بھر رکھے تھے۔

Narrated Aisha: Whoever claimed that (the Prophet) Muhammad saw his Lord, is committing a great fault, for he only saw Gabriel in his genuine shape in which he was created covering the whole horizon.

Permalink

Sahih BukhariHadith 2996

Narrated by Masruq

حَدَّثَنِا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا زَکَرِيَّائُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ ابْنِ الْأَشْوَعِ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَأَيْنَ قَوْلُهُ ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّی فَکَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَی قَالَتْ ذَاکَ جِبْرِيلُ کَانَ يَأْتِيهِ فِي صُورَةِ الرَّجُلِ وَإِنَّهُ أَتَاهُ هَذِهِ الْمَرَّةَ فِي صُورَتِهِ الَّتِي هِيَ صُورَتُهُ فَسَدَّ الْأُفُقَ

محمد بن یوسف ابواسامہ زکریابن ابی زائدہ ابن الاشوع شعبی مسروق سے روایت کرتے ہیں مسروق کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان پھر قریب ہوا پھر اور نیچے آیا پس ان کے درمیان دو کمانوں یا اس سے بھی کم فاصلہ رہ گیا کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ وہ جبریل علیہ السلام تھے وہ (ویسے تو) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس انسان کی صورت میں آتے تھے لیکن اس دفعہ اپنی اصلی صورت میں آئے تھے اور انہوں نے آسمان کے کنارے بھر رکھے تھے۔

Narrated Masruq: I asked Aisha "What about His Statement:-- "Then he (Gabriel) approached And came closer, And was at a distance Of but two bow-lengths Or (even) nearer?" (53.8-9) She replied, "It was Gabriel who used to come to the Prophet in the figure of a man, but on that occasion, he came in his actual and real figure and (he was so huge) that he covered the whole horizon."

Permalink