TrueHadith

سات زمینوں کے بارے میں جو روایات آئی ہیں اور آیت کریمہ اللہ ایسا ہے جس نے سات آسمان پیدا کئے ہیں اور ان کی ہی طرح زمین بھی ان سب میں (اللہ کے) احکام نازل ہوتے رہتے ہیں (یہ اس لئے بتلایا گیا) کہ تم کو معلوم ہو جائے کہ اللہ تو ہر شے پر قادر ہے اور اللہ ہر شے کو (اپنے) احاطہ علمی میں لئے ہوئے ہے کا بیان؟ السقف المرفوع یعنی آسمان سمکھا یعنی اس کی بنا جس میں حیوانات تھے۔ الحبک یعنی اس کا ہموار اور خوبصورت ہونا واذنتیعنی سنا اور اطاعت کی والقت یعنی جتنے بھی مردے وغیرہ زمین میں ہیں انہیں نکال پھینکے گی اور خالی ہو جائے گی۔ طحاہا یعنی بچھایا اس کو الساہرہ یعنی سطح زمین جس میں جانداروں کا سونا جاگنا ہوتا ہے۔

Sahih BukhariHadith 2956

Narrated by Muhammad bin Ibrahim bin Al-Harith

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَکِ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَبِي کَثِيرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَکَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أُنَاسٍ خُصُومَةٌ فِي أَرْضٍ فَدَخَلَ عَلَی عَائِشَةَ فَذَکَرَ لَهَا ذَلِکَ فَقَالَتْ يَا أَبَا سَلَمَةَ اجْتَنِبْ الْأَرْضَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ ظَلَمَ قِيدَ شِبْرٍ طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ

علی بن عبداللہ ابن علیہ علی بن مبارک یحیی بن ابی کثیر محمد بن ابراہیم بن حارث ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے اور چند لوگوں کے درمیان ایک زمین کے بارے میں جھگڑا تھا تو ابوسلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس آئے اور ان سے یہ واقعہ بیان کیا تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا اے ابوسلمہ زمین سے بچو کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جس نے بالشت برابر زمین پر بھی ناحق قبضہ کیا تو (قیامت کے دن) اس کی گردن میں سات زمینوں کا طوق ڈالا جائے گا۔

Narrated Muhammad bin Ibrahim bin Al-Harith: from Abu Salama bin 'Abdur-Rahman who had a dispute with some people on a piece of land, and so he went to 'Aisha and told her about it. She said, "O Abu Salama, avoid the land, for Allah's Apostle said, 'Any person who takes even a span of land unjustly, his neck shall be encircled with it down seven earths.' "

Permalink

Sahih BukhariHadith 2957

Narrated by Salim's father

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَةَ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَخَذَ شَيْئًا مِنْ الْأَرْضِ بِغَيْرِ حَقِّهِ خُسِفَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَی سَبْعِ أَرَضِينَ

بشیر بن محمد عبداللہ بن موسیٰ بن عقبہ سالم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے ذرا سی زمین ناحق لے لی تو اسے قیامت کے دن سات زمینوں تک دھنسایا جائے گا۔

Narrated Salim's father: The Prophet said, "Any person who takes a piece of land unjustly will sink down the seven earths on the Day of Resurrection."

Permalink

Sahih BukhariHadith 2958

Narrated by Abu Bakra

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ ابْنِ أَبِي بَکْرَةَ عَنْ أَبِي بَکْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الزَّمَانُ قَدْ اسْتَدَارَ کَهَيْئَتِهِ يَوْمَ خَلَقَ اللَّهُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ السَّنَةُ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ثَلَاثَةٌ مُتَوَالِيَاتٌ ذُو الْقَعْدَةِ وَذُو الْحِجَّةِ وَالْمُحَرَّمُ وَرَجَبُ مُضَرَ الَّذِي بَيْنَ جُمَادَی وَشَعْبَانَ

محمد بن مثنیٰ عبدالوہاب ایوب محمد بن سیرین ابن ابی بکرہ ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اسی رفتار کی طرف لوٹ گیا جو آسمان و زمین کی تخلیق کے وقت تھی (یعنی اس کے دنوں اور مہینوں میں کمی زیادتی نہیں ہوئی لہذا) سال بارہ مہینہ کا ہے جس میں سے چار شہر حرم ہیں تین تو پے بہ پے یعنی ذوالقعدہ ذوالحجہ محرم اور قبیلہ مضر کا وہ رجب جو جمادی (الاخری) اور شعبان کے درمیان ہے۔

Narrated Abu Bakra: The Prophet said. "(The division of time has turned to its original form which was current when Allah created the Heavens and the Earths. The year is of twelve months, out of which four months are sacred: Three are in succession Dhul-Qa' da, Dhul-Hijja and Muharram, and (the fourth is) Rajab of (the tribe of) Mudar which comes between Jumadi-ath-Thaniyah and Sha ban."

Permalink

Sahih BukhariHadith 2959

Narrated by Said bin Zaid bin Amr bin Nufail

حَدَّثَنِا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ أَنَّهُ خَاصَمَتْهُ أَرْوَی فِي حَقٍّ زَعَمَتْ أَنَّهُ انْتَقَصَهُ لَهَا إِلَی مَرْوَانَ فَقَالَ سَعِيدٌ أَنَا أَنْتَقِصُ مِنْ حَقِّهَا شَيْئًا أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنْ الْأَرْضِ ظُلْمًا فَإِنَّهُ يُطَوَّقُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ قَالَ ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ لِي سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ دَخَلْتُ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

عبید بن اسماعیل ابواسامہ ہشام ان کے والد سعید بن زید بن عمرو بن نفیل سے روایت کرتے ہیں کہ اروی (عورت کا نام) نے مروان کے پاس حضرت سعید کے اوپر ایک حق (جائیداد) میں مقدمہ دائر کیا تو حضرت سعید نے فرمایا میں اس عورت کے حق (جائیداد) میں کچھ کمی کر سکتا ہوں؟ (حالانکہ) میں شہادت دیتا ہوں کہ میں نے یقینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس نے ایک بالشت زمین بھی ظلما دبائی تو اس کی گردن میں قیامت کے دن سات زمینوں کا طوق ڈالا جائے گا ابن ابی الزناد ہشام اور ان کے والد سے روایت کرتے ہوئے یہ الفاظ کہتے ہیں کہ سعید نے یوں فرمایا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوا۔

Narrated Said bin Zaid bin Amr bin Nufail: That Arwa sued him before Marwan for a right, which she claimed, he had deprived her of. On that Said said, "How should I deprive her of her right? I testify that I heard Allah's Apostle saying, 'If anyone takes a span of land unjustly, his neck will be encircled with it down seven earths on the Day of Resurrection."

Permalink