Narrated by Abu Dhar
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي ذَرٍّ حِينَ غَرَبَتْ الشَّمْسُ أَتَدْرِي أَيْنَ تَذْهَبُ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ فَإِنَّهَا تَذْهَبُ حَتَّی تَسْجُدَ تَحْتَ الْعَرْشِ فَتَسْتَأْذِنَ فَيُؤْذَنُ لَهَا وَيُوشِکُ أَنْ تَسْجُدَ فَلَا يُقْبَلَ مِنْهَا وَتَسْتَأْذِنَ فَلَا يُؤْذَنَ لَهَا يُقَالُ لَهَا ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ فَتَطْلُعُ مِنْ مَغْرِبِهَا فَذَلِکَ قَوْلُهُ تَعَالَی وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا ذَلِکَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ
محمد بن یوسف سفیان اعمش ابراہیم التیمی ان کے والد حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب سورج غروب ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ تمہیں معلوم ہے کہ سورج کہاں جاتا ہے میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول خوب جانتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سورج جاتا ہے حتیٰ کہ عرش کے نیچے سجدہ کرتا ہے۔ پھر (طلوع ہونے کی) اجازت مانگتا ہے تو اسے اجازت مل جاتی ہے اور عنقریب وہ وقت آئے گا کہ یہ (جا کر) سجدہ کرے گا تو وہ مقبول نہ ہوگا اور (طلوع ہونے کی) اجازت چاہے گا تو اجازت نہ ملے گی بلکہ اسے حکم ہوگا کہ جہاں سے آیا ہے وہیں واپس چلا جا اس وقت یہ مغرب سے طلوع ہوگا اور یہی اس آیت کریمہ کا مطلب ہے اور آفتاب اپنے ٹھکانے کی طرف چلتا رہتا ہے یہ اندازہ باندھا ہوا ہے اس کا جو زبردست ہے علم والا ہے۔
Narrated Abu Dhar: The Prophet asked me at sunset, "Do you know where the sun goes (at the time of sunset)?" I replied, "Allah and His Apostle know better." He said, "It goes (i.e. travels) till it prostrates Itself underneath the Throne and takes the permission to rise again, and it is permitted and then (a time will come when) it will be about to prostrate itself but its prostration will not be accepted, and it will ask permission to go on its course but it will not be permitted, but it will be ordered to return whence it has come and so it will rise in the west. And that is the interpretation of the Statement of Allah: "And the sun Runs its fixed course For a term (decreed). that is The Decree of (Allah) The Exalted in Might, The All-Knowing." (36.38)
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ الدَّانَاجُ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ مُکَوَّرَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
مسدد عبدالعزیز بن مختار عبداللہ داناج ابوسلمہ بن عبدالرحمن حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ چاند اور سورج قیامت کے دن لپیٹ دیئے جائیں گے۔
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, "The sun and the moon will be folded up (deprived of their light) on the Day of Resurrection."
Narrated by 'Abdullah bin 'Umar
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ کَانَ يُخْبِرُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ وَلَکِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَصَلُّوا
یحیی بن سلیمان ابن وہب عمرو عبدالرحمن بن قاسم ان کے والد حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چاند اور سورج کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے بلکہ یہ دونوں خدا کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں لہذا جب تم ان دونوں کو گرہن دیکھو تو نماز پڑھو۔
Narrated 'Abdullah bin 'Umar: The Prophet said, "The sun and the moon do not eclipse because of someone's death or wife (i.e. birth), but they are two signs amongst the Signs of Allah. So, if you see them (i.e. eclipse) offer the Prayer (of eclipse)."
Narrated by 'Abdullah bin 'Abbas
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ قَالَ حَدَّثَنِي مَالِکٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِکَ فَاذْکُرُوا اللَّهَ
اسماعیل بن ابی اویس مالک زید بن اسلم عطاء بن یسار حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ چاند اور سورج اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں کسی کی موت اور زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے لہذا جب تم ایسا دیکھو تو اللہ تعالیٰ کو یاد کرو (نماز پڑھو)
Narrated 'Abdullah bin 'Abbas: The Prophet said, "The sun and the moon are two signs amongst the Signs of Allah. They do not eclipse because of someone's death or life. So, if you see them (i.e. eclipse), celebrate the Praises of Allah (i.e. pray)."
Narrated by 'Aisha
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ بُکَيْرٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَسَفَتْ الشَّمْسُ قَامَ فَکَبَّرَ وَقَرَأَ قِرَائَةً طَوِيلَةً ثُمَّ رَکَعَ رُکُوعًا طَوِيلًا ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ وَقَامَ کَمَا هُوَ فَقَرَأَ قِرَائَةً طَوِيلَةً وَهِيَ أَدْنَی مِنْ الْقِرَائَةِ الْأُولَی ثُمَّ رَکَعَ رُکُوعًا طَوِيلًا وَهِيَ أَدْنَی مِنْ الرَّکْعَةِ الْأُولَی ثُمَّ سَجَدَ سُجُودًا طَوِيلًا ثُمَّ فَعَلَ فِي الرَّکْعَةِ الْآخِرَةِ مِثْلَ ذَلِکَ ثُمَّ سَلَّمَ وَقَدْ تَجَلَّتْ الشَّمْسُ فَخَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ فِي کُسُوفِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ إِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَافْزَعُوا إِلَی الصَّلَاةِ
یحیی بن بکیر لیث عقیل ابن شہاب عروہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ جس دن سورج گرہن ہوا تو رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (نماز کے لئے) کھڑے ہوئے تو آپ نے تکبیر (تحریمہ) کہی اور بہت طویل قرات کی پھر بہت طویل رکوع کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (رکوع سے) سر اٹھایا کہا سمع اللہ لمن حمدہ اور اسی طرح کھڑے رہے پھر آپ نے طویل قرات کی جو پہلی قرات سے کچھ کم تھی پھر آپ نے طویل رکوع کیا جو پہلے رکوع سے کچھ کم تھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت طویل سجدہ کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری رکعت میں بھی ایسا ہی کیا اس کے بعد سلام پھیر دیا اس وقت آفتاب صاف ہوگیا تھا پھر آپ نے لوگوں کے سامنے خطبہ دیتے ہوئے چاند اور سورج کے گرہن کے متعلق فرمایا کہ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں کسی کی موت و زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے لہذا جب تم ان دونوں کو گرہن دیکھو تو نماز کی طرف جھک پڑو۔
Narrated 'Aisha: On the day of a solar eclipse, Allah's Apostle stood up (to offer the eclipse prayer). He recited Takbir, recited a long recitation (of Holy Verses), bowed a long bowing, and then he raised h is head saying. "Allah hears him who sends his praises to Him." Then he stayed standing, recited a long recitation again, but shorter than the former, bowed a long bowing, but shorter than the first, performed a long prostration and then performed the second Rak'a in the same way as he had done the first. By the time he had finished his prayer with Taslim, the solar eclipse had been over. Then he addressed the people referring to the solar and lunar eclipses saying, "These are two signs amongst the Signs of Allah, and they do not eclipse because of anyone's death or life. So, if you see them, hasten for the Prayer."
Narrated by Abu Mas'ud
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا يَحْيَی عَنْ إِسْمَاعِيلَ قَالَ حَدَّثَنِي قَيْسٌ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ لَا يَنْکَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ وَلَکِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَصَلُّوا
محمد بن مثنیٰ یحیی اسماعیل قیس حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ چاند اور سورج کسی کی موت اور زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں لہذا جب تم ان کو گرہن ہوتے دیکھو تو نماز پڑھو۔
Narrated Abu Mas'ud: The Prophet said, "the sun and the moon do not eclipse because of the death or life of someone, but they are two signs amongst the Signs of Allah. So, if you see them, offer the Prayer (of eclipse)."