Narrated by 'Abdullah bin Masud
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ أَحَدٍ أَغْيَرُ مِنْ اللَّهِ مِنْ أَجْلِ ذَلِکَ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ وَمَا أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ الْمَدْحُ مِنْ اللَّهِ
عمربن حفص، حفص، اعمش، شقیق، عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اللہ سے زیادہ غیرت والا نہیں ہے اسی لئے اللہ نے برے کاموں کو حرام کردیا اور اللہ سے زیادہ کوئی اپنی تعریف پسند کرنے والا نہیں ہے۔
Narrated 'Abdullah bin Masud: The Prophet, said, "There is none having a greater sense of Ghira than Allah. And for that He has forbidden the doing of evil actions (illegal sexual intercourse etc.) There is none who likes to be praised more than Allah does."
Narrated by 'Aisha
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ عَنْ مَالِکٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ مَا أَحَدٌ أَغْيَرَ مِنْ اللَّهِ أَنْ يَرَی عَبْدَهُ أَوْ أَمَتَهُ تَزْنِي يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِکْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَکَيْتُمْ کَثِيرًا
عبداللہ بن مسلمہ، مالک، ہشام، عروہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے امت محمدیہ! جس وقت تم میں سے کوئی مرد یا عورت زنا کرتا ہو اس وقت اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر غیرت کسی کو نہیں آتی، اے امت محمدیہ! جو کچھ میں جانتا ہوں تم بھی جان لو تو ہنسو تھوڑا اور رو و زیادہ۔
Narrated 'Aisha: Allah's Apostle said, "O followers of Muhammad! There is none, who has a greater sense of Ghira (self-respect) than Allah, so He has forbidden that His slave commits illegal sexual intercourse or His slave girl commits illegal sexual intercourse. O followers of Muhammad! If you but knew what I know, you would laugh less and weep more!"
Narrated by Asma'
حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ يَحْيَی عَنْ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ عَنْ أُمِّهِ أَسْمَائَ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا شَيْئَ أَغْيَرُ مِنْ اللَّهِ وَعَنْ يَحْيَی أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
موسی بن اسماعیل، ہمام، یحیی ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے عروہ بن زبیرنے بیان کیا وہ اپنی والدہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ کوئی شخص اللہ سے بڑھ کر غیرت والانہیں ہے، یحیی کہتے ہیں کہ ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اس حدیث کو میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔
Narrated Asma': I heard Allah's Apostle saying, "There is nothing (none) having a greater sense of Ghira (self-respect) than Allah." And narrated Abu Huraira that he heard the Prophet (saying the same).
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ يَحْيَی عَنْ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ اللَّهَ يَغَارُ وَغَيْرَةُ اللَّهِ أَنْ يَأْتِيَ الْمُؤْمِنُ مَا حَرَّمَ اللَّهُ
ابونعیم، شیبان، یحی، ابوسلمہ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ غیرت کرتا ہے اور اللہ کی غیرت یہ ہے کہ کوئی مومن حرام فعل کرے (اللہ کو وہ برامعلوم ہوتا ہے) ۔
Narrated Abu Huraira: The Prophet; said, "Allah has a sense of Ghira, and Allah's sense of Ghira is provoked when a believer does something which Allah has prohibited."
Narrated by Asma' bint Abu Bakr
حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِي بَکْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَتْ تَزَوَّجَنِي الزُّبَيْرُ وَمَا لَهُ فِي الْأَرْضِ مِنْ مَالٍ وَلَا مَمْلُوکٍ وَلَا شَيْئٍ غَيْرَ نَاضِحٍ وَغَيْرَ فَرَسِهِ فَکُنْتُ أَعْلِفُ فَرَسَهُ وَأَسْتَقِي الْمَائَ وَأَخْرِزُ غَرْبَهُ وَأَعْجِنُ وَلَمْ أَکُنْ أُحْسِنُ أَخْبِزُ وَکَانَ يَخْبِزُ جَارَاتٌ لِي مِنْ الْأَنْصَارِ وَکُنَّ نِسْوَةَ صِدْقٍ وَکُنْتُ أَنْقُلُ النَّوَی مِنْ أَرْضِ الزُّبَيْرِ الَّتِي أَقْطَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی رَأْسِي وَهِيَ مِنِّي عَلَی ثُلُثَيْ فَرْسَخٍ فَجِئْتُ يَوْمًا وَالنَّوَی عَلَی رَأْسِي فَلَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ نَفَرٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَدَعَانِي ثُمَّ قَالَ إِخْ إِخْ لِيَحْمِلَنِي خَلْفَهُ فَاسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَسِيرَ مَعَ الرِّجَالِ وَذَکَرْتُ الزُّبَيْرَ وَغَيْرَتَهُ وَکَانَ أَغْيَرَ النَّاسِ فَعَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي قَدْ اسْتَحْيَيْتُ فَمَضَی فَجِئْتُ الزُّبَيْرَ فَقُلْتُ لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَی رَأْسِي النَّوَی وَمَعَهُ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَأَنَاخَ لِأَرْکَبَ فَاسْتَحْيَيْتُ مِنْهُ وَعَرَفْتُ غَيْرَتَکَ فَقَالَ وَاللَّهِ لَحَمْلُکِ النَّوَی کَانَ أَشَدَّ عَلَيَّ مِنْ رُکُوبِکِ مَعَهُ قَالَتْ حَتَّی أَرْسَلَ إِلَيَّ أَبُو بَکْرٍ بَعْدَ ذَلِکَ بِخَادِمٍ تَکْفِينِي سِيَاسَةَ الْفَرَسِ فَکَأَنَّمَا أَعْتَقَنِي
محمود، ابواسامہ، ہشام، اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ مجھ سے زبیر رضی اللہ عنہ نے جب شادی کی تو نہ انکے پاس مال تھا نہ زمین اور نہ لونڈی غلام تھے بجز پانی کھینچنے والے اونٹ اور گھوڑے کے کچھ نہ تھا، زبیر رضی اللہ عنہ کے گھوڑے کو میں چراتی تھیں، پانی پلاتی تھی، انکا ڈول سیتی تھی اور آٹا پیستی تھی البتہ روٹی پکانا مجھے نہیں آتا تھا میری روٹی انصاری پڑوسنیں پکا دیا کرتی تھیں وہ بڑی نیک عورتیں تھیں، زبیر رضی اللہ عنہ کی اس زمین سے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دی تھی، میں اپنے سر پر چھوہاروں کی گٹھلیاں اٹھا کرلاتی، وہ مقام دو میل دور تھا ایک دن میں اپنے سر پر گٹھلیاں رکھے آرہی تھی کہ مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ملے، آپ کے ہمراہ چند صحابہ رضوان اللہ عنہم بھی تھے، آپ نے مجھے پکارا پھر مجھے اپنے پیچھے بٹھانے کے لئے اونٹ کو اخ اخ کہا، لیکن مجھے مردوں کے ساتھ چلنے سے شرم آئی زبیر رضی اللہ عنہ کی غیرت بھی مجھے یاد آئی کہ وہ بڑے غیرت والے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تاڑ لیا کہ اسماء کو شرم آتی ہے، چنانچہ آپ چل پڑے، زبیر سے میں نے آکر کہا کہ مجھے راستہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ملے تھے، میرے سر پر گٹھلیوں کا گٹھا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ صحابہ تھے، آپ نے مجھے بٹھانے کے لئے اونٹ کو ٹھہرایا، تو مجھے اس سے شرم آئی اور تمہاری غیرت کو بھی میں جانتی ہوں، زبیر نے کہا اللہ کی قسم! مجھے تیرے سر پر گٹھلیاں لاتے ہوئے آپ کا دیکھنا آپ کے ساتھ سوار ہوجانے سے زیادہ برا معلوم ہوا اس کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ایک خادم بھیج دیا تاکہ وہ گھوڑے کی نگہبانی میں میرا کام دے گویا انہوں نے مجھے آزاد کردیا۔
Narrated Asma' bint Abu Bakr: When Az-Zubair married me, he had no real property or any slave or anything else except a camel which drew water from the well, and his horse. I used to feed his horse with fodder and drew water and sew the bucket for drawing it, and prepare the dough, but I did not know how to bake bread. So our Ansari neighbors used to bake bread for me, and they were honorable ladies. I used to carry the date stones on my head from Zubair's land given to him by Allah's Apostle and this land was two third Farsakh (about two miles) from my house. One day, while I was coming with the date stones on my head, I met Allah's Apostle along with some Ansari people. He called me and then, (directing his camel to kneel down) said, "Ikh! Ikh!" so as to make me ride behind him (on his camel). I felt shy to travel with the men and remembered Az-Zubair and his sense of Ghira, as he was one of those people who had the greatest sense of Ghira. Allah's Apostle noticed that I felt shy, so he proceeded. I came to Az-Zubair and said, "I met Allah's Apostle while I was carrying a load of date stones on my head, and he had some companions with him. He made his camel kneel down so that I might ride, but I felt shy in his presence and remembered your sense of Ghira (See the glossary). On that Az-Zubair said, "By Allah, your carrying the date stones (and you being seen by the Prophet in such a state) is more shameful to me than your riding with him." (I continued serving in this way) till Abu Bakr sent me a servant to look after the horse, whereupon I felt as if he had set me free.
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ بَعْضِ نِسَائِهِ فَأَرْسَلَتْ إِحْدَی أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ بِصَحْفَةٍ فِيهَا طَعَامٌ فَضَرَبَتْ الَّتِي النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهَا يَدَ الْخَادِمِ فَسَقَطَتْ الصَّحْفَةُ فَانْفَلَقَتْ فَجَمَعَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِلَقَ الصَّحْفَةِ ثُمَّ جَعَلَ يَجْمَعُ فِيهَا الطَّعَامَ الَّذِي کَانَ فِي الصَّحْفَةِ وَيَقُولُ غَارَتْ أُمُّکُمْ ثُمَّ حَبَسَ الْخَادِمَ حَتَّی أُتِيَ بِصَحْفَةٍ مِنْ عِنْدِ الَّتِي هُوَ فِي بَيْتِهَا فَدَفَعَ الصَّحْفَةَ الصَّحِيحَةَ إِلَی الَّتِي کُسِرَتْ صَحْفَتُهَا وَأَمْسَکَ الْمَکْسُورَةَ فِي بَيْتِ الَّتِي کَسَرَتْ
علی، ابن علیہ، حمید طویل، انس رضی اللہ عنہ (بن مالک) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی بیوی کے پاس تھے کہ آپ کی کسی دوسری بیوی نے ایک رکابی میں کھانا بھیجا، جس بیوی کے گھر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے اس نے غلام کے ہاتھ پر ہاتھ مارا جس سے رکابی گر کر ٹوٹ گئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ٹکڑے جمع کئے، پھر اس میں جو کچھ کھانا تھا اسے سمیٹتے جاتے اور یہ کہتے جاتے کہ تمھاری ماں (ہاجرہ) نے بھی ایسی ہی غیرت کی تھی، پھر آپ نے خادم کو ٹھہرا لیا اور اس بیوی سے جس کے گھر میں آپ تھے دوسری رکابی منگوا کر اس کو دی جس کی رکابی ٹوٹی تھی اور ٹوٹی ہوئی رکابی انکے گھر میں رکھ دی جنھوں نے توڑی تھی۔
Narrated Anas: While the Prophet was in the house of one of his wives, one of the mothers of the believers sent a meal in a dish. The wife at whose house the Prophet was, struck the hand of the servant, causing the dish to fall and break. The Prophet gathered the broken pieces of the dish and then started collecting on them the food which had been in the dish and said, "Your mother (my wife) felt jealous." Then he detained the servant till a (sound) dish was brought from the wife at whose house he was. He gave the sound dish to the wife whose dish had been broken and kept the broken one at the house where it had been broken.
Narrated by Jabir
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَکْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ أَوْ أَتَيْتُ الْجَنَّةَ فَأَبْصَرْتُ قَصْرًا فَقُلْتُ لِمَنْ هَذَا قَالُوا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَأَرَدْتُ أَنْ أَدْخُلَهُ فَلَمْ يَمْنَعْنِي إِلَّا عِلْمِي بِغَيْرَتِکَ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَوَعَلَيْکَ أَغَارُ
محمد بن ابی بکر مقدمی، معتمر، عبیداللہ ، محمد بن منکدر، جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب میں جنت میں گیا تو وہاں ایک محل دیکھا، میں نے پوچھا یہ (محل) کس کا ہے، فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ بن خطاب کا ہے، میں نے اندرجانے کا ارادہ کیا مگر مجھے تمھاری غیرت معلوم تھی، اس لئے رک گیا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر کہا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں کیا میں آپ سے غیرت کروں گا۔
Narrated Jabir: The Prophet, said, "I entered Paradise and saw a palace and asked whose palace is this? They (the Angels) said, "This palace belongs to 'Umar bin Al-Khattab.' I intended to enter it, and nothing stopped me except my knowledge about your sense of Ghira (self-respect (O Umar)." 'Umar said, "O Allah's Apostle! Let my father and mother be sacrificed for you! O Allah's Prophet! How dare I think of my Ghira (self-respect) being offended by you?"
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ يُونُسَ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُلُوسٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُنِي فِي الْجَنَّةِ فَإِذَا امْرَأَةٌ تَتَوَضَّأُ إِلَی جَانِبِ قَصْرٍ فَقُلْتُ لِمَنْ هَذَا قَالُوا هَذَا لِعُمَرَ فَذَکَرْتُ غَيْرَتَکَ فَوَلَّيْتُ مُدْبِرًا فَبَکَی عُمَرُ وَهُوَ فِي الْمَجْلِسِ ثُمَّ قَالَ أَوَعَلَيْکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغَارُ
عبدان، عبد اللہ، یونس، زہری، ابن مسیب، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے کہ آپ نے فرمایا میں نے خواب دیکھا ہے کہ ایک محل کے گوشہ میں ایک حسین عورت بیٹھی ہے اور میں ہوں، میں نے دریافت کیا یہ (محل) کس کا ہے، جواب دیا گیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ہے، تمہاری غیرت یاد کرکے میں الٹاچلا آیا، یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ مجلس میں رونے لگے اور کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) ! بھلا میں آپ سے غیرت کروں گا۔
Narrated Abu Huraira: While we were sitting with Allah's Apostle, (he) Allah's Apostle said, "While I was sleeping, I saw a woman performing ablution beside a palace. I asked, "Whose palace is this?' It was said, 'This palace belongs to 'Umar.' Then I remembered his sense of Ghira and returned." On that 'Umar started weeping in that gathering and said, "O Allah's Apostle! How dare I think of my self-respect being offended by you?"