TrueHadith

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی بیویوں سے اس طرح جدا ہونے کا بیان کہ خود ان کے گھروں کے علاوہ دوسری جگہ رہیں معاویہ بن حیدہ سے یہ مرفوعا مروی ہے، اگرچہ اس میں یہ زائد ہے کہ اس سے علیحدگی کرکے گھر سے باہر نہ جاوے اور پہلی حدیث بہت صحیح ہے؟

Sahih BukhariHadith 4803

Narrated by Um Salama

حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يَحْيَی بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ أَنَّ عِکْرِمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ أَخْبَرَهُ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَلَفَ لَا يَدْخُلُ عَلَی بَعْضِ أَهْلِهِ شَهْرًا فَلَمَّا مَضَی تِسْعَةٌ وَعِشْرُونَ يَوْمًا غَدَا عَلَيْهِنَّ أَوْ رَاحَ فَقِيلَ لَهُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ حَلَفْتَ أَنْ لَا تَدْخُلَ عَلَيْهِنَّ شَهْرًا قَالَ إِنَّ الشَّهْرَ يَکُونُ تِسْعَةً وَعِشْرِينَ يَوْمًا

ابوعاصم، ابن جریج، محمد بن مقاتل، عبداللہ ، ابن جریج، یحیی بن عبداللہ بن صیفی، عکرمہ بن عبدالرحمن بن حارث، ام سلمہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بعض بیویوں کے پاس ایک ماہ تک نہ جانے کی قسم کھائی تھی، جب انتیس دن ہو چکے تو صبح کے وقت یا شام کے وقت آپ ان کے ہاں چلے گئے تو کسی نے کہا یا رسول اللہ! آپ نے تو اپنی بیویوں کے پاس ایک ماہ تک نہ آنے کی قسم کھائی تو آپ نے جواب دیا کہ مہینہ انتیس کا بھی ہوتا ہے۔

Narrated Um Salama: The Prophet took an oath that he would not enter upon some of his wives for one month. But when twenty nine days had elapsed, he went to them in the morning or evening. It was said to him, "O Allah's Prophet! You had taken an oath that you would not enter upon them for one month." He replied, "The month can be of twenty nine days."

Permalink

Sahih BukhariHadith 4804

Narrated by Ibn 'Abbas

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا أَبُو يَعْفُورٍ قَالَ تَذَاکَرْنَا عِنْدَ أَبِي الضُّحَی فَقَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ أَصْبَحْنَا يَوْمًا وَنِسَائُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْکِينَ عِنْدَ کُلِّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ أَهْلُهَا فَخَرَجْتُ إِلَی الْمَسْجِدِ فَإِذَا هُوَ مَلْآنُ مِنْ النَّاسِ فَجَائَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَصَعِدَ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي غُرْفَةٍ لَهُ فَسَلَّمَ فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ ثُمَّ سَلَّمَ فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ ثُمَّ سَلَّمَ فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ فَنَادَاهُ فَدَخَلَ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَطَلَّقْتَ نِسَائَکَ فَقَالَ لَا وَلَکِنْ آلَيْتُ مِنْهُنَّ شَهْرًا فَمَکَثَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ ثُمَّ دَخَلَ عَلَی نِسَائِهِ

علی بن عبد اللہ، مروان بن معاویہ، ابویعفور، ابی ضحیٰ، ابن عباس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات اور پورے گھر والے ایک دن صبح صبح گریہ وزاری کر رہے تھے، میں مسجد میں گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ مسجد لوگوں سے بھری ہوئی ہے، اتنے میں عمر بن خطاب آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چڑھنے لگے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت غرفہ میں تھے، حضرت عمر سے کوئی نہ بولا، انہوں نے سلام کیا، مگر کسی نے جواب نہ دیا، پھر سلام کیا اور کسی نے جواب نہ دیا، پھر (دربان نے) آوازدی، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلے گئے اور پوچھا کیا آپ نے بیویوں کو طلاق دے دی ہے، آپ نے فرمایا نہیں، لیکن میں نے ایک ماہ تک ان سے جدا رہنے کی قسم کھائی ہے، آپ انتیس دن تک رکے رہے پھر اپنی بیویوں کے پاس تشریف لے آئے۔

Narrated Ibn 'Abbas: One morning we saw the wives of the Prophet weeping, and everyone of them had her family with her, I went to the mosque and found that it was crowded with people. Then 'Umar bin Al-Khattab came and went up to the Prophet who was in his upper room. He greeted him but nobody answered. He greeted again, but nobody answered. Then the gatekeeper called him and he entered upon the Prophet, and asked, "Have you divorced your wives?" The Prophet, said, "No, but I have taken an oath not to go to them for one month." So the Prophet stayed away (from his wives) for twenty nine days and then entered upon them.

Permalink