TrueHadith

جب کوئی شخص بھول کر قسم کے خلاف کرے۔

Sahih BukhariHadith 6171

Narrated by Abu Huraira

حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَی حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ حَدَّثَنَا زُرَارَةُ بْنُ أَوْفَی عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَرْفَعُهُ قَالَ إِنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ لِأُمَّتِي عَمَّا وَسْوَسَتْ أَوْ حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا مَا لَمْ تَعْمَلْ بِهِ أَوْ تَکَلَّمْ

خلاد بن یحیی ، مسعر، قتادہ، زرارہ بن اوفی، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرفوعا روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے میری امت سے وسوسہ کو یا دل میں آنے والے خیالات کو معاف کردیا جب تک کہ اس پر عمل نہ کیا، یا گفتگو نہ کی۔

Narrated Abu Huraira: The Prophet said, "Allah forgives my followers those (evil deeds) the

Permalink

Sahih BukhariHadith 6172

Narrated by 'Abdullah bin 'Amr bin Al-As

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ أَوْ مُحَمَّدٌ عَنْهُ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ شِهَابٍ يَقُولُ حَدَّثَنِي عِيسَی بْنُ طَلْحَةَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا هُوَ يَخْطُبُ يَوْمَ النَّحْرِ إِذْ قَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَقَالَ کُنْتُ أَحْسِبُ يَا رَسُولَ اللَّهِ کَذَا وَکَذَا قَبْلَ کَذَا وَکَذَا ثُمَّ قَامَ آخَرُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ کُنْتُ أَحْسِبُ کَذَا وَکَذَا لِهَؤُلَائِ الثَّلَاثِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ افْعَلْ وَلَا حَرَجَ لَهُنَّ کُلِّهِنَّ يَوْمَئِذٍ فَمَا سُئِلَ يَوْمَئِذٍ عَنْ شَيْئٍ إِلَّا قَالَ افْعَلْ وَلَا حَرَجَ

عثمان بن ہیثم، یا محمد، ابن جریج، ابن شہاب، عیسیٰ بن طلحہ، عبداللہ بن عمرو بن عاص سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نحر کے دن خطبہ دے رہے تھے اس دوران میں ایک شخص آپ کے سامنے کھڑا ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں گمان کرتا تھا کہ فلاں فلاں رکن سے پہلے فلاں فلاں رکن ہے پھر ایک دوسرا شخص کھڑا ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ میں خیال کرتا تھا کہ فلاں فلاں عمل سے پہلے فلاں فلاں عمل ہے، یہ تین آدمی تھے پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اب کرلو، کوئی حرج نہیں اور اس دن آپ سے جس چیز کے متعلق بھی پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ کرلو کوئی حرج نہیں۔

Narrated 'Abdullah bin 'Amr bin Al-As: While the Prophet was delivering a sermon on the Day of Nahr (i.e., 10th Dhul-Hijja-Day of slaughtering the sacrifice), a man got up saying, "I thought, O Allah's Apostle, such-and-such a thing was to be done before such-and-such a thing." Another man got up, saying, "O Allah's Apostle! As regards these three (acts of Hajj), thought so-and-so." The Prophet said, "Do, and there is no harm," concerning all those matters on that day. And so, on that day, whatever question he was asked, he said, "Do it, do it, and there is no harm therein."

Permalink

Sahih BukhariHadith 6173

Narrated by Ibn 'Abbas

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ عَنْ عَطَائٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زُرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ قَالَ لَا حَرَجَ قَالَ آخَرُ حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ قَالَ لَا حَرَجَ قَالَ آخَرُ ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ قَالَ لَا حَرَجَ

احمد بن یونس، ابوبکر، عبدالعزیز بن رفیع، عطاء حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ میں نے رمی سے پہلے طواف زیارت کرلیا ہے، آپ نے فرمایا کہ کوئی حرج نہیں دوسرے آدمی نے عرض کیا میں نے ذبح سے پہلے سر منڈا لیا ہے، آپ نے فرمایا کہ کوئی حرج نہیں، تیسرے نے عرض کیا کہ میں نے رمی سے پہلے ذبح کرلیا ہے آپ نے فرمایا کہ کوئی حرج نہیں۔

Narrated Ibn 'Abbas: A man said to the Prophet (while he was delivering a sermon on the Day of Nahr), "I have performed the Tawaf round the Ka'ba before the Rami (throwing pebbles) at the Jamra." The Prophet said, "There is no harm (therein)." Another man said, "I had my head shaved before slaughtering (the sacrifice)." The Prophet said, "There is no harm." A third said, "I have slaughtered (the sacrifice) before the Rami (throwing pebbles) at the Jamra." The Prophet said, "There is no harm."

Permalink

Sahih BukhariHadith 6174

Narrated by Abu Huraira

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّی وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ فَجَائَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَقَالَ لَهُ ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّکَ لَمْ تُصَلِّ فَرَجَعَ فَصَلَّی ثُمَّ سَلَّمَ فَقَالَ وَعَلَيْکَ ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّکَ لَمْ تُصَلِّ قَالَ فِي الثَّالِثَةِ فَأَعْلِمْنِي قَالَ إِذَا قُمْتَ إِلَی الصَّلَاةِ فَأَسْبِغْ الْوُضُوئَ ثُمَّ اسْتَقْبِلْ الْقِبْلَةَ فَکَبِّرْ وَاقْرَأْ بِمَا تَيَسَّرَ مَعَکَ مِنْ الْقُرْآنِ ثُمَّ ارْکَعْ حَتَّی تَطْمَئِنَّ رَاکِعًا ثُمَّ ارْفَعْ رَأْسَکَ حَتَّی تَعْتَدِلَ قَائِمًا ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّی تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّی تَسْتَوِيَ وَتَطْمَئِنَّ جَالِسًا ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّی تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّی تَسْتَوِيَ قَائِمًا ثُمَّ افْعَلْ ذَلِکَ فِي صَلَاتِکَ کُلِّهَا

اسحاق بن منصور، ابواسامہ، عبیداللہ بن عمر، سعید بن ابی سعید، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہو کر نماز پڑھنے لگا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد کے ایک گوشے میں تشریف فرما تھے، وہ شخص آپ کی خدمت میں آیا اور آپ کو سلام کیا، آپ نے فرمایا وعلیک، تو لوٹ جا، اور نماز پڑھ اس لئے کہ تو نے نماز نہیں پڑھی، تیسری بار اس نے عرض کیا کہ مجھے بتا دیجیے آپ نے فرمایا کہ جب تو نماز کا ارادہ کرے تو پوری طرح وضو کر، پھر قبلہ کی طرف رخ کر، پھرتکبیر کہہ اور جو کچھ تجھے قرآن یاد ہو پڑھ، پھر رکوع کر، یہاں تک کہ اطمینان سے رکوع کرے، پھر اپنا سر اٹھا، یہاں تک کہ جب سیدھا کھڑا ہوجائے تو پھر سجدہ کر یہاں تک کہ اطمینان سے سجدہ کرے، پھر اٹھ کر بیٹھ، یہاں تک مطمئن ہوجائے، پھر سجدہ کر یہاں تک کہ اطمینان سے سجدہ کرے پھر اٹھ جا، یہاں تک کہ سیدھا کھڑا ہوجائے، پھر یہ اپنی تمام نمازوں میں کرے۔

Narrated Abu Huraira: A man entered the mosque and started praying while Allah's Apostle was sitting somewhere in the mosque. Then (after finishing the prayer) the man came to the Prophet and greeted him. The Prophet said to him, "Go back and pray, for you have not prayed. The man went back, and having prayed, he came and greeted the Prophet. The Prophet after returning his greetings said, "Go back and pray, for you did not pray." On the third time the man said, "(O Allah's Apostle!) teach me (how to pray)." The Prophet said, "When you get up for the prayer, perform the ablution properly and then face the Qibla and say Takbir (Allahu Akbar), and then recite of what you know of the Quran, and then bow, and remain in this state till you feel at rest in bowing, and then raise your head and stand straight; and then prostrate till you feel at rest in prostration, and then sit up till you feel at rest while sitting; and then prostrate again till you feel at rest in prostration; and then get up and stand straight, and do all this in all your prayers."

Permalink

Sahih BukhariHadith 6175

Narrated by 'Aisha

حَدَّثَنَا فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَائِ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ هُزِمَ الْمُشْرِکُونَ يَوْمَ أُحُدٍ هَزِيمَةً تُعْرَفُ فِيهِمْ فَصَرَخَ إِبْلِيسُ أَيْ عِبَادَ اللَّهِ أُخْرَاکُمْ فَرَجَعَتْ أُولَاهُمْ فَاجْتَلَدَتْ هِيَ وَأُخْرَاهُمْ فَنَظَرَ حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ فَإِذَا هُوَ بِأَبِيهِ فَقَالَ أَبِي أَبِي قَالَتْ فَوَاللَّهِ مَا انْحَجَزُوا حَتَّی قَتَلُوهُ فَقَالَ حُذَيْفَةُ غَفَرَ اللَّهُ لَکُمْ قَالَ عُرْوَةُ فَوَاللَّهِ مَا زَالَتْ فِي حُذَيْفَةَ مِنْهَا بَقِيَّةُ خَيْرٍ حَتَّی لَقِيَ اللَّهَ

فروہ ابن ابی المغراء، علی بن مسعر، ہشام بن عروہ، عروہ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ غزوہ احد میں مشرکوں کو علانیہ شکست ہوئی، ابلیس چلایا کہ اے اللہ کے بندے پیچھے دیکھو، چنانچہ وہ لوگ پیچھے کی طرف پلٹے اور پیچھے لوگوں پر پل پڑے، حذیفہ بن یمان نے اپنے باپ کو دیکھ کر کہا کہ (مسلمانوں) یہ میرے باپ ہیں لیکن وہ لوگ وہاں سے نہیں ہٹے، یہاں تک کہ ان کو قتل کردیا، حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ اللہ تم کو بخش دے، عروہ کا بیان ہے کہ مرتے دم تک حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ (کو اپنے باپ کے اس طرح مارے جانے) پر قلق رہا۔

Narrated 'Aisha: When the pagans were defeated during the (first stage) of the battle of Uhud, Satan shouted, "O Allah's slaves! Beware of what is behind you!" So the front files of the Muslims attacked their own back files. Hudhaifa bin Al-Yaman looked and on seeing his father he shouted: "My father! My father!" By Allah! The people did not stop till they killed his father. Hudhaifa then said, "May Allah forgive you." 'Urwa (the sub-narrator) added, "Hudhaifa continued asking Allah forgiveness for the killers of his father till he met Allah (till he died)."

Permalink

Sahih BukhariHadith 6176

Narrated by Abu Huraira

حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ قَالَ حَدَّثَنِي عَوْفٌ عَنْ خِلَاسٍ وَمُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَکَلَ نَاسِيًا وَهُوَ صَائِمٌ فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللَّهُ وَسَقَاهُ

یوسف بن موسی، ابواسامہ، عوف، خلاس، محمد، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص روزہ کی حالت میں بھول کر کھالے وہ اپنا روزہ پورا کرے اس لئے کہ اللہ نے اسے کھلایا اور پلایاہے۔

Narrated Abu Huraira: The Prophet said, "If somebody eats something forgetfully while he is fasting, then he should complete his fast, for Allah has made him eat and drink."

Permalink

Sahih BukhariHadith 6177

Narrated by 'Abdullah bin Buhaina

حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ قَالَ صَلَّی بِنَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ فِي الرَّکْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ قَبْلَ أَنْ يَجْلِسَ فَمَضَی فِي صَلَاتِهِ فَلَمَّا قَضَی صَلَاتَهُ انْتَظَرَ النَّاسُ تَسْلِيمَهُ فَکَبَّرَ وَسَجَدَ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ثُمَّ کَبَّرَ وَسَجَدَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَسَلَّمَ

آدم بن ابی ایاس، ابن ابی ذہب، زہری، اعرج، عبداللہ بن بحینہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ہم لوگوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھائی اور پہلی دو رکعت میں بیٹھنے سے پہلے کھڑے ہوگئے اور اسی طرح نماز پوری کی جب آپ نماز پوری کر چکے تو لوگوں نے آپ کے سلام کا انتظار کیا آپ نے تکبیر کہی اور سلام سے پہلے سجدہ کیا، پھر اپنا سر اٹھا کر تکبیر اور سجدہ کیا، پھر اپنا سر اٹھایا اور سلام پھیرا۔

Narrated 'Abdullah bin Buhaina: Once Allah's Apostle led us in prayer, and after finishing the first two Rakat, got up (instead of sitting for At-Tahiyyat) and then carried on with the prayer. When he had finished his prayer, the people were waiting for him to say Taslim, but before saying Tasiim, he said Takbir and prostrated; then he raised his head, and saying Takbir, he prostrated (SAHU) and then raised his head and finished his prayer with Taslim.

Permalink

Sahih BukhariHadith 6178

Narrated by Ibn Mas'ud

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ سَمِعَ عَبْدَ الْعَزِيزِ بْنَ عَبْدِ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّی بِهِمْ صَلَاةَ الظُّهْرِ فَزَادَ أَوْ نَقَصَ مِنْهَا قَالَ مَنْصُورٌ لَا أَدْرِي إِبْرَاهِيمُ وَهِمَ أَمْ عَلْقَمَةُ قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقَصُرَتْ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ قَالَ وَمَا ذَاکَ قَالُوا صَلَّيْتَ کَذَا وَکَذَا قَالَ فَسَجَدَ بِهِمْ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ قَالَ هَاتَانِ السَّجْدَتَانِ لِمَنْ لَا يَدْرِي زَادَ فِي صَلَاتِهِ أَمْ نَقَصَ فَيَتَحَرَّی الصَّوَابَ فَيُتِمُّ مَا بَقِيَ ثُمَّ يَسْجُدُ سَجْدَتَيْنِ

اسحاق بن ابراہیم، عبدالعزیز بن عبدالصمد، منصور، ابراہیم، علقمہ، ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان لوگوں کو ظہر کی نماز پڑھائی، پس اس میں کمی و زیادتی ہوگئی، ابراہیم نے کہا کہ میں نہیں جانتا کہ ابراہیم یا علقمہ کو وہم ہوگیا، عرض کیا گیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا نماز میں کمی کی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں، آپ نے پوچھا کہ کیا بات ہے لوگوں نے عرض کیا آپ نے اس طرح نماز پڑھی ہے پھر آپ نے ان کے ساتھ دو سجدے کئے اور فرمایا کہ یہ دو سجدے اس کے لئے ہیں جسے یاد نہیں رہا کہ اپنی نماز میں اس نے زیادتی کی ہے یا کمی کی ہے وہ گمان غالب کے مطابق عمل کرے اور جو باقی رہ گیا ہے اسے پورا کرے پھر دو سجدے کرے۔

Narrated Ibn Mas'ud: that Allah's Prophet led them in the Zuhr prayer and he offered either more or less Rakat, and it was said to him, "O Allah's Apostle ! Has the prayer been reduced, or have you forgotten?" He asked, "What is that?" They said, "You have prayed so many Rak'at." So he performed with them two more prostrations and said, "These two prostrations are to be performed by the person who does not know whether he has prayed more or less (Rakat) in which case he should seek to follow what is right. And then complete the rest (of the prayer) and perform two extra prostrations."

Permalink

Sahih BukhariHadith 6179

Narrated by Ubai bin Ka'b

حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ حَدَّثَنَا أُبَيُّ بْنُ کَعْبٍ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُؤَاخِذْنِي بِمَا نَسِيتُ وَلَا تُرْهِقْنِي مِنْ أَمْرِي عُسْرًا قَالَ کَانَتْ الْأُولَی مِنْ مُوسَی نِسْيَانًا

حمیدی، سفیان، عمر بن دینار، سعید بن جبیر حضرت ابن عباس، ابی بن کعب سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ کہ ابی بن کعب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا پہلی بار اعتراض کرنا نسیان کے سبب تھا۔

Narrated Ubai bin Ka'b: that he heard Allah's Apostle saying, "(Moses) said, 'Call me not to account for what I forget and be not hard upon me for my affair (with you)' (18.73) the first excuse of Moses was his forgetfulness." Narrated Al-Bara bin Azib that once he had a guest, so he told his family (on the Day of Id-ul-Adha) that they should slaughter the animal for sacrifice before he returned from the ('Id) prayer in order that their guest could take his meal. So his family slaughtered (the animal ) before the prayer. Then they mentioned that event to the Prophet who ordered Al-Bara to slaughter another sacrifice. Al-Bara' said to the Prophet , "I have a young milch she-goat which is better than two sheep for slaughtering." (The sub-narrator, Ibn 'Aun used to say, "I don't know whether the permission (to slaughter a she-goat as a sacrifice) was especially given to Al-Bara' or if it was in general for all the Muslims.") (See Hadith No. 99, Vol. 2.)

Permalink

Sahih BukhariHadith 6180

قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ کَتَبَ إِلَيَّ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ قَالَ قَالَ الْبَرَائُ بْنُ عَازِبٍ وَکَانَ عِنْدَهُمْ ضَيْفٌ لَهُمْ فَأَمَرَ أَهْلَهُ أَنْ يَذْبَحُوا قَبْلَ أَنْ يَرْجِعَ لِيَأْکُلَ ضَيْفُهُمْ فَذَبَحُوا قَبْلَ الصَّلَاةِ فَذَکَرُوا ذَلِکَ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهُ أَنْ يُعِيدَ الذَّبْحَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ عِنْدِي عَنَاقٌ جَذَعٌ عَنَاقُ لَبَنٍ هِيَ خَيْرٌ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ فَکَانَ ابْنُ عَوْنٍ يَقِفُ فِي هَذَا الْمَکَانِ عَنْ حَدِيثِ الشَّعْبِيِّ وَيُحَدِّثُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ بِمِثْلِ هَذَا الْحَدِيثِ وَيَقِفُ فِي هَذَا الْمَکَانِ وَيَقُولُ لَا أَدْرِي أَبَلَغَتْ الرُّخْصَةُ غَيْرَهُ أَمْ لَا رَوَاهُ أَيُّوبُ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ابوعبداللہ (امام بخاری) نے کہا کہ میرے پاس محمد بن بشار نے لکھ بھیجا کہ ہم سے معاذ بن جبل نے بواسطہ ابن عون شعبی سے روایت کیا ہے کہ حضرت براء بن عازب کے ہاں کچھ مہمان ٹھہرے ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنے گھر والوں کو حکم دیا کہ ان کے لئے ذبح کریں، اس سے قبل کہ نماز سے فارغ ہوتا کہ مہمان کھائیں، چنانچہ گھر والوں نے نماز سے پہلے ذبح کرلیا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لوگوں نے بیان کیا کہ تو آپ نے حکم دیا کہ دوبارہ ذبح کریں، براء بن عازب نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس بکری کا ایک بچہ ایسا ہے جو گوشت کی دو بکریوں سے اچھا ہے، ابن عون بطریق، شعبی نقل کرتے ہیں اس جگہ ٹھہر جاتے تھے اور محمد بن سیرین سے اسی حدیث کی مثل روایت کیا ہے اور کہتے تھے کہ مجھے معلوم ہیں کہ ان کے علاوہ دوسروں کے لئے بھی یہ اجازت تھی یا نہیں اور اس کو ایوب نے ابن سیرین سے انہوں نے انس سے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کیا۔

-

Permalink

Sahih BukhariHadith 6181

Narrated by Jundub

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ سَمِعْتُ جُنْدَبًا قَالَ شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّی يَوْمَ عِيدٍ ثُمَّ خَطَبَ ثُمَّ قَالَ مَنْ ذَبَحَ فَلْيُبَدِّلْ مَکَانَهَا وَمَنْ لَمْ يَکُنْ ذَبَحَ فَلْيَذْبَحْ بِاسْمِ اللَّهِ

سلیمان بن حرب، شعبہ، اسود بن قیس، حضرت جندب سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھا کہ آپ نے عید کی نماز پڑھی، پھر خطبہ دیا اور فرمایا کہ جس شخص نے ذبح کرلیا ہے اس کو چاہیے کہ اس کے بدلے دوسرا ذبح کرے، اور جس نے ذبح نہیں کیا اس کو چاہیے کہ وہ اللہ کے نام پر ذبح کرے۔

Narrated Jundub: I witnessed the Prophet offering the 'Id prayer (and after finishing it) he delivered a sermon and said, "Whoever has slaughtered his sacrifice (before the prayer) should make up for it (i.e. slaughter another animal) and whoever has not slaughtered his sacrifice yet, should slaughter it by mentioning Allah's Name over it."

Permalink