TrueHadith

اللہ تعالیٰ کا قول کہ آپ اپنی بیویوں سے جسے چاہیں اور جب تک چاہیں علیحدہ رکھیں اور جس کو چاہیں اپنے پاس رکھیں اور جن کو الگ رکھا تھا اگر پسند کریں تو ان کو بھی طلب کریں آپ پر کوئی گناہ نہیں ابن عباس کہتے ہیں کہ"ترجی" ڈھیل دے " ارجہ" اسی سے ہے۔

Sahih BukhariHadith 4414

Narrated by Aisha

حَدَّثَنَا زَکَرِيَّائُ بْنُ يَحْيَی حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ قَالَ هِشَامٌ حَدَّثَنَا عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ کُنْتُ أَغَارُ عَلَی اللَّاتِي وَهَبْنَ أَنْفُسَهُنَّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَقُولُ أَتَهَبُ الْمَرْأَةُ نَفْسَهَا فَلَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَی تُرْجِئُ مَنْ تَشَائُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْکَ مَنْ تَشَائُ وَمَنْ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْکَ قُلْتُ مَا أُرَی رَبَّکَ إِلَّا يُسَارِعُ فِي هَوَاکَ

زکریا بن یحیی ، ابواسامہ، ہشام، عروہ، حضرت عائشہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ جن عورتوں نے اپنے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہبہ کردیا تھا میں ان کے مقابلہ پر غیرت و شرم کرتی تھی اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی کہ (تُرْجِيْ مَنْ تَشَا ءُ مِنْهُنَّ وَ تُ ْوِيْ اِلَيْكَ مَنْ تَشَا ءُ الخ) 33۔ الاحزاب : 51) تو میں نے خدمت شریف میں عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! میں دیکھتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کی مرضی کے موافق کرتا ہے اب آپ جو چاہیں کریں۔

Narrated Aisha: I used to look down upon those ladies who had given themselves to Allah's Apostle and I used to say, "Can a lady give herself (to a man)?" But when Allah revealed: "You (O Muhammad) can postpone (the turn of) whom you will of them (your wives), and you may receive any of them whom you will; and there is no blame on you if you invite one whose turn you have set aside (temporarily).' (33.51) I said (to the Prophet), "I feel that your Lord hastens in fulfilling your wishes and desires."

Permalink

Sahih BukhariHadith 4415

Narrated by Muadha

حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ عَنْ مُعَاذَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَسْتَأْذِنُ فِي يَوْمِ الْمَرْأَةِ مِنَّا بَعْدَ أَنْ أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ تُرْجِئُ مَنْ تَشَائُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْکَ مَنْ تَشَائُ وَمَنْ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْکَ فَقُلْتُ لَهَا مَا کُنْتِ تَقُولِينَ قَالَتْ کُنْتُ أَقُولُ لَهُ إِنْ کَانَ ذَاکَ إِلَيَّ فَإِنِّي لَا أُرِيدُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ أُوثِرَ عَلَيْکَ أَحَدًا تَابَعَهُ عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ سَمِعَ عَاصِمًا

حبان بن موسی، عبد اللہ، عاصم الاحول، معاذہ، حضرت عائشہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اگر باری والی بیوی کو چھوڑ کر کسی دوسری بیوی کے یہاں جانا چاہتے تھے تو باری والی سے اجازت لیا کرتے تھے اس آیت کے نازل ہونے کے بعد یعنی (تُرْجِيْ مَنْ تَشَا ءُ مِنْهُنَّ وَ تُ ْوِيْ اِلَيْكَ مَنْ تَشَا ءُ الخ) 33۔ الاحزاب : 51) معاذہ کہتی ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ سے اجازت لیتے تھے تو آپ کیا جواب دیتی تھی؟ انہوں نے فرمایا کہ میں تو کہتی تھی کہ میں یہی چاہتی ہوں کہ آپ میرے ہی پاس قیام فرمائیں اس حدیث کو عباد بن عباد عاصم سے بھی روایت کرتے ہیں۔

Narrated Muadha: 'Aisha said, "Allah's Apostle used to take the permission of that wife with whom he was supposed to stay overnight if he wanted to go to one other than her, after this Verse was revealed:-- "You (O Muhammad) can postpone (the turn of) whom you will of them (your wives) and you may receive any (of them) whom you will; and there is no blame on you if you invite one whose turn you have set aside (temporarily). (33.51) I asked Aisha, "What did you use to say (in this case)?" She said, "I used to say to him, "If I could deny you the permission (to go to your other wives) I would not allow your favor to be bestowed on any other person."

Permalink