TrueHadith

اللہ تعالیٰ کا قول کہ اے مسلمانو! تم نبی کے گھر میں مت جایا کرو مگر اس صورت میں کہ تم کو کھانے کے لئے بلایا جائے اور تم کو اس کے پکنے کا بھی انتظار نہیں کرنا چاہئے اور جب بلایا جائے جاؤ اور کھانے کے بعد باتوں میں دل لگا کر مت بیٹھے رہا کرو تمہارا یہ عمل نبی کے لئے تکلیف کا باعث ہوتا ہے اور وہ شرم کرتے ہیں مگر اللہ سچی بات کہنے سے نہیں شرماتا اور جب ان سے کچھ طلب کرو تو پردے کی آڑ سے مانگو یہ بات تمہارے اور ان کے دلوں کی پاکیزگی کا سبب ہے تمہارا یہ کام نہیں کہ نبی کو تکلیف دو اور ان کی بیویوں سے کبھی نکاح مت کرنا بے شک تمہارا یہ عمل خدا کے نزدیک بہت بڑا گناہ ہے " اناہ" کے معنی کھانا تیار ہونے کے میں یہ لفظ " انا، یانی، اناۃ" سے بنا ہے "لعل الساعۃ تکون قریبا " شاید قیامت عنقریب ہو جائے اگر قریبا کو ساعۃ کی صفت قرار دیا جائے تو قریۃ ہونا چاہئے اور اگر ظرف و بدل مانیں تو تائے تانیث کو ہٹا کر قریبا پڑھیں گے۔ ایسی حالت میں یہ واحد تثنیہ جمع سب ہی کے لئے ہوگا۔

Sahih BukhariHadith 4416

Narrated by Umar

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَی عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ يَدْخُلُ عَلَيْکَ الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ فَلَوْ أَمَرْتَ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ بِالْحِجَابِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ الْحِجَابِ

مسدد، یحیی ، انس، حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ آپ کے پاس تو ہر طرح کے لوگ آتے جاتے ہیں لہذا اگر آپ اپنی بیویوں کو پردہ کا حکم دیں تو بہت اچھا ہو اس وقت اللہ تعالیٰ نے آیت حجاب نازل فرمائی۔

Narrated Umar: I said, "O Allah's Apostle! Good and bad persons enter upon you, so I suggest that you order the mothers of the Believers (i.e. your wives) to observe veils." Then Allah revealed the Verses of Al-Hijab.

Permalink

Sahih BukhariHadith 4417

Narrated by Anas bin Malik

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ حَدَّثَنَا أَبُو مِجْلَزٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ دَعَا الْقَوْمَ فَطَعِمُوا ثُمَّ جَلَسُوا يَتَحَدَّثُونَ وَإِذَا هُوَ کَأَنَّهُ يَتَهَيَّأُ لِلْقِيَامِ فَلَمْ يَقُومُوا فَلَمَّا رَأَی ذَلِکَ قَامَ فَلَمَّا قَامَ قَامَ مَنْ قَامَ وَقَعَدَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ فَجَائَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَدْخُلَ فَإِذَا الْقَوْمُ جُلُوسٌ ثُمَّ إِنَّهُمْ قَامُوا فَانْطَلَقْتُ فَجِئْتُ فَأَخْبَرْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ قَدْ انْطَلَقُوا فَجَائَ حَتَّی دَخَلَ فَذَهَبْتُ أَدْخُلُ فَأَلْقَی الْحِجَابَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ الْآيَةَ

محمد بن عبد اللہ، قاشی، معتمر بن سلیمان، ان کے والد، ابومجلز، حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زینب بنت جحش کے ساتھ شادی کرکے ولیمہ کی دعوت کی، لوگوں نے کھانا کھایا پھر بیٹھے رہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اندر جانے کی فکر کر رہے تھے مگر یہ لوگ اٹھنے کا نام نہیں لیتے تھے جب آپ اٹھے تو آپ کے ہمراہ بہت سے لوگ اٹھ کھڑے ہوئے مگر تین آدمی پھر بھی بیٹھے باتیں کرتے رہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر جا کر جب دوبارہ اندر آئے تو دیکھا وہ لوگ ابھی تک بیٹھے ہی ہوئے ہیں۔ پھر کچھ دیر کے بعد وہ لوگ بھی اٹھے میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خبر دی کہ وہ سب چلے گئے اس وقت آپ اندر تشریف لائے میں نے بھی جانا چاہا مگر آپ نے پردہ ڈال دیا اس کے بعد اللہ نے آیت حجاب نازل فرمائی کہ ( يٰ اَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُيُوْتَ النَّبِيِّ اِلَّا اَنْ يُّؤْذَنَ لَكُمْ الخ۔) 33۔ الاحزاب : 53)

Narrated Anas bin Malik: When Allah's Apostle married Zainab bint Jahsh, he invited the people to a meal. They took the meal and remained sitting and talking. Then the Prophet (showed them) as if he is ready to get up, yet they did not get up. When he noticed that (there was no response to his movement), he got up, and the others too, got up except three persons who kept on sitting. The Prophet came back in order to enter his house, but he went away again. Then they left, whereupon I set out and went to the Prophet to tell him that they had departed, so he came and entered his house. I wanted to enter along with him, but he put a screen between me and him. Then Allah revealed: 'O you who believe! Do not enter the houses of the Prophet...' (33.53)

Permalink

Sahih BukhariHadith 4418

Narrated by Anas bin Malik

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَا أَعْلَمُ النَّاسِ بِهَذِهِ الْآيَةِ آيَةِ الْحِجَابِ لَمَّا أُهْدِيَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَتْ مَعَهُ فِي الْبَيْتِ صَنَعَ طَعَامًا وَدَعَا الْقَوْمَ فَقَعَدُوا يَتَحَدَّثُونَ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ ثُمَّ يَرْجِعُ وَهُمْ قُعُودٌ يَتَحَدَّثُونَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَی يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ لَکُمْ إِلَی طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ إِلَی قَوْلِهِ مِنْ وَرَائِ حِجَابٍ فَضُرِبَ الْحِجَابُ وَقَامَ الْقَوْمُ

سلیمان بن حرب، حماد بن زید، ایوب، ابوقلابہ، حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ پردہ کی آیت سے میں اچھی طرح واقف ہوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے نکاح کیا اور آپ کے گھر میں آئیں تو آپ نے ولیمہ کیا اور لوگوں کو دعوت دی لوگ آئے اور کھانا کھانے کے بعد باتیں کرنے بیٹھ گئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اندر گئے پھر باہر آ گئے تاکہ لوگ چلے جائیں مگر وہ بیٹھے ہی رہے اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ لَکُمْ إِلَی طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ إِلَی قَوْلِهِ مِنْ وَرَائِ حِجَابٍ 33۔ الأحزاب : 53) آخر آیت تک۔ آپ اندر تشریف لے گئے اور میں نے بھی جانے کا قصد کیا مگر آپ نے پردہ ڈال دیا پھر میں واپس آ گیا۔

Narrated Anas bin Malik: I of all the people know best this verse of Al-Hijab. When Allah's Apostle married Zainab bint Jahsh she was with him in the house and he prepared a meal and invited the people (to it). They sat down (after finishing their meal) and started chatting. So the Prophet went out and then returned several times while they were still sitting and talking. So Allah revealed the Verse: 'O you who believe! Enter not the Prophet's houses until leave is given to you for a meal, (and then) not (so early as) to wait for its preparation .....ask them from behind a screen.' (33.53) So the screen was set up and the people went away.

Permalink

Sahih BukhariHadith 4419

Narrated by Anas

حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بُنِيَ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِزَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ بِخُبْزٍ وَلَحْمٍ فَأُرْسِلْتُ عَلَی الطَّعَامِ دَاعِيًا فَيَجِيئُ قَوْمٌ فَيَأْکُلُونَ وَيَخْرُجُونَ ثُمَّ يَجِيئُ قَوْمٌ فَيَأْکُلُونَ وَيَخْرُجُونَ فَدَعَوْتُ حَتَّی مَا أَجِدُ أَحَدًا أَدْعُو فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا أَجِدُ أَحَدًا أَدْعُوهُ قَالَ ارْفَعُوا طَعَامَکُمْ وَبَقِيَ ثَلَاثَةُ رَهْطٍ يَتَحَدَّثُونَ فِي الْبَيْتِ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْطَلَقَ إِلَی حُجْرَةِ عَائِشَةَ فَقَالَ السَّلَامُ عَلَيْکُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ وَرَحْمَةُ اللَّهِ فَقَالَتْ وَعَلَيْکَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ کَيْفَ وَجَدْتَ أَهْلَکَ بَارَکَ اللَّهُ لَکَ فَتَقَرَّی حُجَرَ نِسَائِهِ کُلِّهِنَّ يَقُولُ لَهُنَّ کَمَا يَقُولُ لِعَائِشَةَ وَيَقُلْنَ لَهُ کَمَا قَالَتْ عَائِشَةُ ثُمَّ رَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا ثَلَاثَةٌ مِنْ رَهْطٍ فِي الْبَيْتِ يَتَحَدَّثُونَ وَکَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَدِيدَ الْحَيَائِ فَخَرَجَ مُنْطَلِقًا نَحْوَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ فَمَا أَدْرِي آخْبَرْتُهُ أَوْ أُخْبِرَ أَنَّ الْقَوْمَ خَرَجُوا فَرَجَعَ حَتَّی إِذَا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي أُسْکُفَّةِ الْبَابِ دَاخِلَةً وَأُخْرَی خَارِجَةً أَرْخَی السِّتْرَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ وَأُنْزِلَتْ آيَةُ الْحِجَابِ

ابو معمر، عبد الوارث، عبدالعزیز بن صہیب، حضرت انس بن مالک سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت زینب سے نکاح کیا اور پھر ولیمہ کا کھانا کھانے کے لئے مجھے لوگوں کو بلانے کے لئے بھیجا تو میں آدمیوں کو بلا کرلایا وہ کھا کر چلے گئے پھر دوسروں کو لایا وہ بھی چلے گئے آخر میں نے عرض کیا کہ سب چلے گئے آپ نے کھانا کھانے کا حکم دیا مگر تین آدمی بیٹھے رہے اور باتیں کرتے رہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر آئے اور پھر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حجرے کی طرف گئے اور ان کو سلام کیا اور کہا السلام علیکم اہل البیت ورحمۃ اللہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بھی جواب میں وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ کہا اور دریافت کیا کہ آپ نے اپنی بیوی کو کیسا پایا اللہ تعالیٰ آپ کو مبارک فرمائے اس کے بعد آپ اپنی سب بیویوں کے پاس تشریف لے گئے۔ سب کو السلام علیکم کہا اور سب ہی نے حضرت عائشہ کی طرح جواب دیا اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لائے وہ لوگ ابھی تک بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو انہیں دیکھ کر بڑی شرم سی محسوس ہونے لگی اور کچھ کہہ نہ سکے اور پھر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حجرے کی طرف جا کر ٹہلنے لگے پھر جب وہ لوگ چلے گئے تو میں نے یا کسی نے آپ کو خبر دی آپ تشریف لائے مگر ابھی چوکھٹ کے اندر ایک ہی قدم رکھا تھا کہ آپ نے پردہ ڈال دیا اور اندر چلے گئے اس وقت اللہ تعالیٰ نے آیت حجاب نازل فرمائی۔

Narrated Anas: A banquet of bread and meat was held on the occasion of the marriage of the Prophet to Zainab bint Jahsh. I was sent to invite the people (to the banquet), and so the people started coming (in groups); They would eat and then leave. Another batch would come, eat and leave. So I kept on inviting the people till I found nobody to invite. Then I said, "O Allah's Prophet! I do not find anybody to invite." He said, "Carry away the remaining food." Then a batch of three persons stayed in the house chatting. The Prophet left and went towards the dwelling place of Aisha and said, "Peace and Allah's Mercy be on you, O the people of the house!" She replied, "Peace and the mercy of Allah be on you too. How did you find your wife? May Allah bless you. Then he went to the dwelling places of all his other wives and said to them the same as he said to Aisha and they said to him the same as Aisha had said to him. Then the Prophet returned and found a group of three persons still in the house chatting. The Prophet was a very shy person, so he went out (for the second time) and went towards the dwelling place of 'Aisha. I do not remember whether I informed him that the people have gone away. So he returned and as soon as he entered the gate, he drew the curtain between me and him, and then the Verse of Al-Hijab was revealed.

Permalink

Sahih BukhariHadith 4420

Narrated by Anas

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَکْرٍ السَّهْمِيُّ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَوْلَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ بَنَی بِزَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ فَأَشْبَعَ النَّاسَ خُبْزًا وَلَحْمًا ثُمَّ خَرَجَ إِلَی حُجَرِ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ کَمَا کَانَ يَصْنَعُ صَبِيحَةَ بِنَائِهِ فَيُسَلِّمُ عَلَيْهِنَّ وَيُسَلِّمْنَ عَلَيْهِ وَيَدْعُو لَهُنَّ وَيَدْعُونَ لَهُ فَلَمَّا رَجَعَ إِلَی بَيْتِهِ رَأَی رَجُلَيْنِ جَرَی بِهِمَا الْحَدِيثُ فَلَمَّا رَآهُمَا رَجَعَ عَنْ بَيْتِهِ فَلَمَّا رَأَی الرَّجُلَانِ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَعَ عَنْ بَيْتِهِ وَثَبَا مُسْرِعَيْنِ فَمَا أَدْرِي أَنَا أَخْبَرْتُهُ بِخُرُوجِهِمَا أَمْ أُخْبِرَ فَرَجَعَ حَتَّی دَخَلَ الْبَيْتَ وَأَرْخَی السِّتْرَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ وَأُنْزِلَتْ آيَةُ الْحِجَابِ وَقَالَ ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ أَخْبَرَنَا يَحْيَی حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ سَمِعَ أَنَسًا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

اسحاق بن منصور، عبداللہ بن بکر سہمی، حمید، حضرت انس سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت زینب سے نکاح کے بعد شب زفاف سے فارغ ہو کر ولیمہ کیا۔ لوگ آتے جاتے اور کھا کر چلے جاتے آپ اس عرصہ میں دوسری بیویوں کے حجرہ کی طرف تشریف لے گئے ان کو سلام کیا ان سب نے بھی سلام کا جواب دیا اور آپ کو مبارک باد پیش کی پھر آپ واپس حضرت زینب کے مکان میں آئے تو دیکھا کہ تین آدمی ابھی تک بیٹھے باتیں کر رہے ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو دیکھا تو واپس چلے گئے جب ان لوگوں نے آپ کو دیکھا تو وہ بھی اٹھ کر باہر چلے گئے اس کے بعد مجھ کو یاد نہیں کہ ان لوگوں کے جانے کے بعد میں نے آپ کو خبر دی یا کسی اور نے غرض آپ تشریف لائے پھر اندر گئے اور میرے اور اپنے درمیان آپ نے پردہ ڈال دیا اس کے بعد آیت حجاب ( يٰ اَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُيُوْتَ النَّبِيِّ ۔ الخ) 33۔ الأحزاب : 53) نازل ہوئی۔

Narrated Anas: When Allah's Apostle married Zainab bint Jahsh, he made the people eat meat and bread to their fill (by giving a Walima banquet). Then he went out to the dwelling places of the mothers of the believers (his wives), as he used to do in the morning of his marriage. He would greet them and invoke good on them, and they (too) would return his greeting and invoke good on him. When he returned to his house, he found two men talking to each other; and when he saw them, he went out of his house again. When those two men saw Allah's Apostle: going out of his house, they quickly got up (and departed). I do not remember whether I informed him of their departure, or he was informed (by somebody else). So he returned, and when he entered the house, he lowered the curtain between me and him. Then the Verse of Al-Hijab was revealed.

Permalink

Sahih BukhariHadith 4421

Narrated by Aisha

حَدَّثَنا زَکَرِيَّائُ بْنُ يَحْيَی حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ خَرَجَتْ سَوْدَةُ بَعْدَمَا ضُرِبَ الْحِجَابُ لِحَاجَتِهَا وَکَانَتْ امْرَأَةً جَسِيمَةً لَا تَخْفَی عَلَی مَنْ يَعْرِفُهَا فَرَآهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ يَا سَوْدَةُ أَمَا وَاللَّهِ مَا تَخْفَيْنَ عَلَيْنَا فَانْظُرِي کَيْفَ تَخْرُجِينَ قَالَتْ فَانْکَفَأَتْ رَاجِعَةً وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي وَإِنَّهُ لَيَتَعَشَّی وَفِي يَدِهِ عَرْقٌ فَدَخَلَتْ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي خَرَجْتُ لِبَعْضِ حَاجَتِي فَقَالَ لِي عُمَرُ کَذَا وَکَذَا قَالَتْ فَأَوْحَی اللَّهُ إِلَيْهِ ثُمَّ رُفِعَ عَنْهُ وَإِنَّ الْعَرْقَ فِي يَدِهِ مَا وَضَعَهُ فَقَالَ إِنَّهُ قَدْ أُذِنَ لَکُنَّ أَنْ تَخْرُجْنَ لِحَاجَتِکُنَّ

زکریا بن یحیی ، ابواسامہ، ہشام، عروہ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ پردہ کی آیت نازل ہونے کے بعد حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رفع حاجت کے لئے چادر اوڑھ کر باہر گئیں چونکہ وہ بہت جسیم تھیں اس لئے باوجود چادر کے پہچانی جاتیں چنانچہ ایک دن وہ باہر گئیں تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پہچان کر کہا کہ آپ باوجود چادر کے ہم سے چھپی ہوئی نہیں ہیں سمجھ جاؤ کہ کس لئے نکلی ہو۔ حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی باتیں سن کر واپس آئیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے گھر میں موجود تھے۔ کھانا کھا رہے تھے ایک ہڈی آپ کے ہاتھ میں تھی حضرت سودہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں باہر گئی تھی تو عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھ سے یہ باتیں کہیں ہیں آپ نے جب یہ سنا تو آپ پر نزول وحی ہونے لگا جب نازل ہو چکی تو ہڈی ہاتھ میں ہی تھی آپ نے فرمایا کہ اللہ تم کو اجازت دیتا ہے کہ تم ضرورت کے لئے باہر جا سکتی ہو۔

Narrated Aisha: Sauda (the wife of the Prophet) went out to answer the call of nature after it was made obligatory (for all the Muslims ladies) to observe the veil. She was a fat huge lady, and everybody who knew her before could recognize her. So 'Umar bin Al-Khattab saw her and said, "O Sauda! By Allah, you cannot hide yourself from us, so think of a way by which you should not be recognized on going out. Sauda returned while Allah's Apostle was in my house taking his supper and a bone covered with meat was in his hand. She entered and said, "O Allah's Apostle! I went out to answer the call of nature and 'Umar said to me so-and-so." Then Allah inspired him (the Prophet) and when the state of inspiration was over and the bone was still in his hand as he had not put in down, he said (to Sauda), "You (women) have been allowed to go out for your needs."

Permalink