TrueHadith

تفسیر سورت حشر! جلاء کے معنی ایک ملک سے دوسرے ملک میں نکال دینا۔

Sahih BukhariHadith 4503

Narrated by Said bin Jubair

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ سُورَةُ التَّوْبَةِ قَالَ التَّوْبَةُ هِيَ الْفَاضِحَةُ مَا زَالَتْ تَنْزِلُ وَمِنْهُمْ وَمِنْهُمْ حَتَّی ظَنُّوا أَنَّهَا لَنْ تُبْقِيَ أَحَدًا مِنْهُمْ إِلَّا ذُکِرَ فِيهَا قَالَ قُلْتُ سُورَةُ الْأَنْفَالِ قَالَ نَزَلَتْ فِي بَدْرٍ قَالَ قُلْتُ سُورَةُ الْحَشْرِ قَالَ نَزَلَتْ فِي بَنِي النَّضِيرِ

محمد بن عبدالرحیم، سعید بن سلیمان، ہشیم، ابوبشر، سعید بن جبیر سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ میں نے ابن عباس سے سورت توبہ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ یہ سورت کافروں کی فضیحت کرنے والی ومنھم، ومنھم کی آیات اترتی رہیں یہاں تک کہ لوگوں نے گمان کیا کہ کوئی بھی باقی نہ رہے گا جس کا ذکر نہ ہو میں نے سورت انفال کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ بدر کے بارہ میں نازل ہوئی ہے پھر میں نے سورت حشر کے متعلق پوچھا تو کہا کہ بنی نضیر کے متعلق نازل ہوئی ہے۔

Narrated Said bin Jubair: I asked Ibn Abbas about Surat Al-Tauba, and he said, "Surat Al-Tauba? It is exposure (of all the evils of the infidels and the hypocrites). And it continued revealing (that the oft-repeated expression): '...and of them ...and of them.' till they started thinking that none would be left unmentioned therein." I said, "What about) Surat Al-Anfal?" He replied, "Surat Al-Anfal was revealed in connection with the Badr Battle." I said, "(What about) Surat Al-Hashr?" He replied, "It was revealed in connection with Bani an-Nadir."

Permalink

Sahih BukhariHadith 4504

Narrated by Said

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُدْرِکٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَمَّادٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ سَعِيدٍ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا سُورَةُ الْحَشْرِ قَالَ قُلْ سُورَةُ بني النَّضِيرِ

حسن بن مدرک، یحیی بن حماد، ابوعوانہ، ابوبشر، حضرت سعید سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سورت حشر کے بارے میں پوچھا انہوں نے کہا کہ اسے سورت النضیر کہو۔ (آیت) (مَا قَطَعْتُمْ مِّنْ لِّيْنَةٍ) 59۔ الحشر : 5)۔ لینہ ہر اس درخت کو کہتے ہیں جو عجوہ یا برنیہ نہ ہو۔

Narrated Said: I asked Ibn 'Abbas about Surat Al-Hashr. He replied, "Say Surat An-Nadir."

Permalink

Sahih BukhariHadith 4505

Narrated by Ibn Umar

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّقَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ وَقَطَعَ وَهِيَ الْبُوَيْرَةُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَی مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَکْتُمُوهَا قَائِمَةً عَلَی أُصُولِهَا فَبِإِذْنِ اللَّهِ وَلِيُخْزِيَ الْفَاسِقِينَ

قتیبہ، لیث، نافع، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی نضیر کے درختوں کو جلا دیا اور کاٹ ڈالا اس کو بویرہ کہتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت (مَا قَطَعْتُمْ مِّنْ لِّيْنَةٍ) 59۔ الحشر : 5) تم نے جو درخت کاٹ ڈالے یا اس کو اس کی جڑوں پر کھڑا چھوڑ دیا تو اللہ کے حکم سے تھا اور اس لئے کہ فاسقوں کو رسوا کرے۔ (آیت) (جو اللہ نے اپنے رسول کو بغیر جنگ عطا کیا) ۔

Narrated Ibn Umar: 'Allah's Apostle burnt and cut down the palm trees of Bani An-Nadir which were at Al-Buwair (a place near Medina). There upon Allah revealed: 'What you (O Muslims) cut down of the palm trees (of the enemy) or you left them standing on their stems, it was by the leave of Allah, so that He might cover with shame the rebellious.' (59.5)

Permalink

Sahih BukhariHadith 4506

Narrated by Umar

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ غَيْرَ مَرَّةٍ عَنْ عَمْرٍو عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ کَانَتْ أَمْوَالُ بَنِي النَّضِيرِ مِمَّا أَفَائَ اللَّهُ عَلَی رَسُولِهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا لَمْ يُوجِفْ الْمُسْلِمُونَ عَلَيْهِ بِخَيْلٍ وَلَا رِکَابٍ فَکَانَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاصَّةً يُنْفِقُ عَلَی أَهْلِهِ مِنْهَا نَفَقَةَ سَنَتِهِ ثُمَّ يَجْعَلُ مَا بَقِيَ فِي السِّلَاحِ وَالْکُرَاعِ عُدَّةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ

علی بن عبد اللہ، سفیان، عمرو، زہری، مالک بن اوس بن حدثان، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ بنی نضیر کے مال ان مالوں میں سے تھے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو بطور فء کے عطا فرمائے تھے مسلمانوں نے اس پر گھوڑے اور سواریوں کے ذریعہ حملہ نہیں کیا تھا۔ پس یہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تھا جس سے ایک سال کا خرچہ آپ اپنے اہل و عیال کے لئے لے لیتے پھر باقی کو ہتھیاروں اور سپاہیوں میں اللہ کے راستہ میں سامان جنگ کی تیاری کے لئے تقسیم فرما دیتے۔ (آیت) اور رسول جو تمہیں دیں تو وہ لے لو۔

Narrated Umar: The properties of Bam An-Nadir were among the booty that Allah gave to His Apostle such Booty were not obtained by any expedition on the part of Muslims, neither with cavalry, nor with camelry. So those properties were for Allah's Apostle only, and he used to provide thereof the yearly expenditure for his wives, and dedicate the rest of its revenues for purchasing arms and horses as war material to be used in Allah's Cause.

Permalink

Sahih BukhariHadith 4507

Narrated by Alqama

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَعَنَ اللَّهُ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُوتَشِمَاتِ وَالْمُتَنَمِّصَاتِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ فَبَلَغَ ذَلِکَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي أَسَدٍ يُقَالُ لَهَا أُمُّ يَعْقُوبَ فَجَائَتْ فَقَالَتْ إِنَّهُ بَلَغَنِي عَنْکَ أَنَّکَ لَعَنْتَ کَيْتَ وَکَيْتَ فَقَالَ وَمَا لِي أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ هُوَ فِي کِتَابِ اللَّهِ فَقَالَتْ لَقَدْ قَرَأْتُ مَا بَيْنَ اللَّوْحَيْنِ فَمَا وَجَدْتُ فِيهِ مَا تَقُولُ قَالَ لَئِنْ کُنْتِ قَرَأْتِيهِ لَقَدْ وَجَدْتِيهِ أَمَا قَرَأْتِ وَمَا آتَاکُمْ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاکُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا قَالَتْ بَلَی قَالَ فَإِنَّهُ قَدْ نَهَی عَنْهُ قَالَتْ فَإِنِّي أَرَی أَهْلَکَ يَفْعَلُونَهُ قَالَ فَاذْهَبِي فَانْظُرِي فَذَهَبَتْ فَنَظَرَتْ فَلَمْ تَرَ مِنْ حَاجَتِهَا شَيْئًا فَقَالَ لَوْ کَانَتْ کَذَلِکَ مَا جَامَعْتُهَا

محمد بن یوسف، سفیان، منصور، ابراہیم، علقمہ، حضرت عبداللہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ان عورتوں پر لعنت کی جو بدن کو گودتی ہیں اور گودواتی ہیں اور چہرے کے بال اکھڑواتی ہیں حسن کے لئے دانتوں کو کشادہ کراتی ہیں اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی صورت کو بدلنے والی ہیں بنی اسد کی ایک عورت کو جس کا نام ام یعقوب تھا یہ خبر ملی تو وہ آئی اور کہا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تو نے اس طرح لعنت کی ہے تو انہوں نے کہا میں کیوں اس پر لعنت نہ کروں جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی ہے اور جو کتاب اللہ میں بھی ہے اس عورت نے کہا کہ میں نے اس کو پڑھ لیا ہے جو دو لوحوں کے درمیان ہے (یعنی پورا قرآن پڑھا ہے) لیکن جو تم کہتے ہو وہ میں نے اس میں نہیں پایا تو انہوں نے کہا کہ اگر تو پڑھتی تو ضرور اس میں پاتی کیا تو نے یہ آیت نہیں پڑھی کہ رسول جو کچھ تمہیں دے اس کو لے لو اور جس سے روکے باز آ جاؤ، اس نے کہا ہاں! عبداللہ نے کہا کہ آپ نے اس سے منع فرمایا ہے اس عورت نے کہا کہ تمہاری بیوی ایسا کرتی ہے انہوں نے کہا جا کر دیکھ آ، چنانچہ وہ گئی اور دیکھا تو کچھ نہ پایا عبداللہ نے کہا کہ اگر وہ ایسا کرتی تو میرے ساتھ نہ رہتی۔

Narrated Alqama: 'Abdullah (bin Masud) said. "Allah curses those ladies who practice tattooing and those who get themselves tattooed, and those ladies who remove the hair from their faces and those who make artificial spaces between their teeth in order to look more beautiful whereby they change Allah's creation." His saying reached a lady from Bani Asd called Um Yaqub who came (to Abdullah) and said, "I have come to know that you have cursed such-and-such (ladies)?" He replied, "Why should I not curse these whom Allah's Apostle has cursed and who are (cursed) in Allah's Book!" Um Yaqub said, "I have read the whole Quran, but I did not find in it what you say." He said, "Verily, if you have read it (i.e. the Quran), you have found it. Didn't you read: 'And whatsoever the Apostle gives you take it and whatsoever he forbids you, you abstain (from it). (59.7) She replied, "Yes, I did," He said, "Verily, Allah's Apostle forbade such things." "She said, "But I see your wife doing these things?" He said, "Go and watch her." She went and watched her but could not see anything in support of her statement. On that he said, "If my wife was as you thought, I would not keep her in my company."

Permalink

Sahih BukhariHadith 4508

Narrated by Abdullah (bin Mus'ud)

حَدَّثَنَا عَلِيٌّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ قَالَ ذَکَرْتُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ حَدِيثَ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَعَنَ اللَّهُ الْوَاصِلَةَ فَقَالَ سَمِعْتُهُ مِنْ امْرَأَةٍ يُقَالُ لَهَا أُمُّ يَعْقُوبَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ مِثْلَ حَدِيثِ مَنْصُورٍ

علی، عبدالرحمن، سفیان سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عبدالرحمن بن عابس سے منصور کی حدیث کا ذکر کیا جو وہ بواسطہ ابراہیم، علقمہ، حضرت عبداللہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا بال دوسرے کے بال سے جوڑنے والی پر لعنت کی ہے تو اس نے کہا میں نے یہ حدیث ایک عورت سے سنی ہے جس کا نام ام یعقوب تھا وہ عبداللہ سے منصور کی حدیث کی طرح روایت کرتی ہے۔ (آیت) اور جنہوں نے دار (مدینہ) اور ایمان کا ٹھکانہ بنایا۔

Narrated Abdullah (bin Mus'ud): Allah's Apostle has cursed the lady who uses false hair.

Permalink

Sahih BukhariHadith 4509

Narrated by 'Umar

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ قَالَ قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أُوصِي الْخَلِيفَةَ بِالْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ أَنْ يَعْرِفَ لَهُمْ حَقَّهُمْ وَأُوصِي الْخَلِيفَةَ بِالْأَنْصَارِ الَّذِينَ تَبَوَّئُوا الدَّارَ وَالْإِيمَانَ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُهَاجِرَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقْبَلَ مِنْ مُحْسِنِهِمْ وَيَعْفُوَ عَنْ مُسِيئِهِمْ بَاب قَوْلُهُ وَيُؤْثِرُونَ عَلَی أَنْفُسِهِمْ الْآيَةَ الْخَصَاصَةُ الْفَاقَةُ الْمُفْلِحُونَ الْفَائِزُونَ بِالْخُلُودِ وَالْفَلَاحُ الْبَقَائُ حَيَّ عَلَی الْفَلَاحِ عَجِّلْ وَقَالَ الْحَسَنُ حَاجَةً حَسَدًا

احمد بن یونس، ابوبکر، حصین، عمرو بن میمون سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ میں خلیفہ کو مہاجرین اولین کے متعلق وصیت کرتا ہوں کہ وہ ان کا حق پہچانیں اور انصار کے متعلق جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سے قبل مدینہ اور ایمان کو اپنا ٹھکانا بنایا خلیفہ کو وصیت کرتا ہوں کہ ان کے نیکو کاروں سے قبول کریں اور ان کی برائیوں سے درگزر کریں (آیت) اور وہ لوگ اپنے اوپر ترجیح دیتے ہیں الخ "خصاصہ" بھوک فاقہ "مفلحون" جنت میں ہمیشگی کی فلاح پانے والے " الفلاح" بقاء باقی رہنا "حی علی الفلاح" جلدی سے فلاح کی طرف آؤ اور حسن نے کہا کہ حاجتہ سے مراد حسد ہے۔

Narrated 'Umar: I recommend that my successor should take care of and secure the rights of the early emigrants; and I also advise my successor to be kind to the Ansar who had homes (in Medina) and had adopted the Faith, before the Prophet migrated to them, and to accept the good from their good ones and excuse their wrong doers.

Permalink

Sahih BukhariHadith 4510

Narrated by Abu Huraira

حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ کَثِيرٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ الْأَشْجَعِيُّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَی رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَصَابَنِي الْجَهْدُ فَأَرْسَلَ إِلَی نِسَائِهِ فَلَمْ يَجِدْ عِنْدَهُنَّ شَيْئًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا رَجُلٌ يُضَيِّفُهُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ يَرْحَمُهُ اللَّهُ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالَ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَذَهَبَ إِلَی أَهْلِهِ فَقَالَ لِامْرَأَتِهِ ضَيْفُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَدَّخِرِيهِ شَيْئًا قَالَتْ وَاللَّهِ مَا عِنْدِي إِلَّا قُوتُ الصِّبْيَةِ قَالَ فَإِذَا أَرَادَ الصِّبْيَةُ الْعَشَائَ فَنَوِّمِيهِمْ وَتَعَالَيْ فَأَطْفِئِي السِّرَاجَ وَنَطْوِي بُطُونَنَا اللَّيْلَةَ فَفَعَلَتْ ثُمَّ غَدَا الرَّجُلُ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَقَدْ عَجِبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَوْ ضَحِکَ مِنْ فُلَانٍ وَفُلَانَةَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَيُؤْثِرُونَ عَلَی أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ کَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ

یعقوب بن ابراہیم بن کثیر، ابواسامہ، فضل بن غزوان، ابوحازم ، اشجعی، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! مجھے سخت بھوک لگی ہے آپ نے اپنی بیویوں کے پاس بھیجا وہاں کوئی چیز نہیں ملی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی ہے جو آج کی رات اس کی مہمانی کرے اللہ اس پر رحم کرے گا انصار میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور عرض کیا میں (مہمانی کروں) گا یا رسول اللہ!چنانچہ وہ اپنے گھر گیا اور اپنی بیوی سے کہا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مہمان ہے اس سے کوئی چیز چھپانا نہیں بیوی نے کہا خدا کی قسم! سوائے بچوں کے کھانے کے اور کچھ نہیں ہے اس نے کہا کہ جب بچہ رات کا کھانا مانگے تو اس کو سلا دینا اور تم آکر چراغ بجھا دینا اور ہم لوگ اس رات کو بھوکے رہیں گے چنانچہ بیوی نے ایسا ہی کیا پھر وہ شخص صبح کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گیا۔ تو آپ نے فرمایا کہ اللہ بزرگ و برتر نے پسند کیا یا فرمایا کہ فلاں مرد اور فلاں عورت پر ہنسا تو اللہ بزرگ و برتر نے یہ آیت نازل فرمائی کہ وہ اپنے اوپر ترجیح دیتے ہیں اگرچہ وہ فاقہ میں ہوں۔

Narrated Abu Huraira: A man came to Allah's Apostle and said, "O Allah's Apostle! I am suffering from fatigue and hunger." The Prophet sent (somebody) to his wives (to get something), but the messenger found nothing with them. Then Allah's Apostle said (to his companions). "Isn't there anybody who can entertain this man tonight so that Allah may be merciful to him?" An Ansari man got up and said, "I (will, entertain him), O Allah's Apostle!" So he went to his wife and said to her, "This is the guest of Allah's Apostle, so do not keep anything away from him." She said. "By Allah, I have nothing but the children's food." He said, "When the children ask for their dinner, put them to bed and put out the light; we shall not take our meals tonight," She did so. In the morning the Ansari man went to Allah's Apostle who said, "Allah was pleased with (or He bestowed His Mercy) on so-and-so and his wife (because of their good deed)." Then Allah revealed: 'But give them preference over themselves even though they were in need of that.' (59.9)

Permalink