Narrated by 'Imran bin Hussain
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو حَمْزَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ إِنِّي عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَائَهُ قَوْمٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ فَقَالَ اقْبَلُوا الْبُشْرَی يَا بَنِي تَمِيمٍ قَالُوا بَشَّرْتَنَا فَأَعْطِنَا فَدَخَلَ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ فَقَالَ اقْبَلُوا الْبُشْرَی يَا أَهْلَ الْيَمَنِ إِذْ لَمْ يَقْبَلْهَا بَنُو تَمِيمٍ قَالُوا قَبِلْنَا جِئْنَاکَ لِنَتَفَقَّهَ فِي الدِّينِ وَلِنَسْأَلَکَ عَنْ أَوَّلِ هَذَا الْأَمْرِ مَا کَانَ قَالَ کَانَ اللَّهُ وَلَمْ يَکُنْ شَيْئٌ قَبْلَهُ وَکَانَ عَرْشُهُ عَلَی الْمَائِ ثُمَّ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ وَکَتَبَ فِي الذِّکْرِ کُلَّ شَيْئٍ ثُمَّ أَتَانِي رَجُلٌ فَقَالَ يَا عِمْرَانُ أَدْرِکْ نَاقَتَکَ فَقَدْ ذَهَبَتْ فَانْطَلَقْتُ أَطْلُبُهَا فَإِذَا السَّرَابُ يَنْقَطِعُ دُونَهَا وَايْمُ اللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنَّهَا قَدْ ذَهَبَتْ وَلَمْ أَقُمْ
عبدان، ابوحمزہ، اعمش، جامع بن شداد، صفوان بن محرز، عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں بنی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھا تھا کہ اتنے میں بنو تمیم کے کچھ لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ نے فرمایا کہ اے بنی تمیم! خوشخبری قبول کرو، ان لوگوں نے کہا کہ آپ نے ہمیں خوشخبری دی ہے تو کچھ عطا بھی کیجئے، پھر یمن کے کچھ لوگ آئے تو آپ نے فرمایا کہ اہل یمن خوشخبری قبول کرو، اس لئے کہ بنو تمیم نے اس کو قبول نہیں کیا، انہوں نے کہا کہ ہم نے قبول کیا ہم آپ کی خدمت میں اس لئے حاضر ہوئے ہیں کہ دین کی سمجھ حاصل کریں اور آپ سے اس امر (یعنی دنیا) کی ابتداء کے متعلق دریافت کریں کہ (اس سے پہلے) کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تھا اور اس سے پہلے کوئی خبر نہ تھی اور اس کا عرش پانی پر تھا، آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا اور لوح محفوظ میں تمام چیزیں لکھ دیں۔ پھر میرے پاس ایک شخص آیا اور کہا عمران رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی اونٹنی کی خبر لے وہ بھاگ گئی ہے میں اسکو ڈھونڈنے کیلئے چلا تو دیکھا کہ سیراب سے پرے نکل گئی ہے اور خدا کی قسم! مجھے یہ پسند تھا کہ اونٹنی جائے تو جائے لیکن آپ کے پاس سے نہ ہٹوں۔
Narrated 'Imran bin Hussain: While I was with the Prophet , some people from Bani Tamim came to him. The Prophet said, "O Bani Tamim! Accept the good news!" They said, "You have given us the good news; now give us (something)." (After a while) some Yemenites entered, and he said to them, "O the people of Yemen! Accept the good news, as Bani Tamim have refused it. " They said, "We accept it, for we have come to you to learn the Religion. So we ask you what the beginning of this universe was." The Prophet said "There was Allah and nothing else before Him and His Throne was over the water, and He then created the Heavens and the Earth and wrote everything in the Book." Then a man came to me and said, 'O Imran! Follow your she-camel for it has run away!" So I set out seeking it, and behold, it was beyond the mirage! By Allah, I wished that it (my she-camel) had gone but that I had not left (the gathering). "
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامٍ حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ يَمِينَ اللَّهِ مَلْأَی لَا يَغِيضُهَا نَفَقَةٌ سَحَّائُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ أَرَأَيْتُمْ مَا أَنْفَقَ مُنْذُ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ فَإِنَّهُ لَمْ يَنْقُصْ مَا فِي يَمِينِهِ وَعَرْشُهُ عَلَی الْمَائِ وَبِيَدِهِ الْأُخْرَی الْفَيْضُ أَوْ الْقَبْضُ يَرْفَعُ وَيَخْفِضُ
علی بن عبداللہ ، عبدالرزاق، معمر، ہمام، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا دائیں ہاتھ بھرا ہوا ہے رات دن کی بخشش اس میں کمی نہیں کرتی، بتلاؤ تو آسمانوں اور زمین کو اللہ نے جب سے پیدا کیا ہے کتنا خرچ کیا ہوگا لیکن اس میں کوئی کمی نہیں ہوئی جو اس کے دائیں ہاتھ میں ہے، اور اس کا عرش پانی پر ہے اور اس کے دوسرے ہاتھ میں فیض ہے کہ بلند کرتا ہے اور پست کرتا ہے۔
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, "The Right (Hand) of Allah Is full, and (Its fullness) is not affected by the continuous spending night and day. Do you see what He has spent since He created the Heavens and the Earth? Yet all that has not decreased what is in His Right Hand. His Throne is over the water and in His other Hand is the Bounty or the Power to bring about death, and He raises some people and brings others down." (See Hadith No. 508)
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَکْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ جَائَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ يَشْکُو فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اتَّقِ اللَّهَ وَأَمْسِکْ عَلَيْکَ زَوْجَکَ قَالَ أَنَسٌ لَوْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَاتِمًا شَيْئًا لَکَتَمَ هَذِهِ قَالَ فَکَانَتْ زَيْنَبُ تَفْخَرُ عَلَی أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ زَوَّجَکُنَّ أَهَالِيکُنَّ وَزَوَّجَنِي اللَّهُ تَعَالَی مِنْ فَوْقِ سَبْعِ سَمَوَاتٍ وَعَنْ ثَابِتٍ وَتُخْفِي فِي نَفْسِکَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ وَتَخْشَی النَّاسَ نَزَلَتْ فِي شَأْنِ زَيْنَبَ وَزَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ
احمد، محمد بن ابی بکر مقدمی، حماد بن زید، ثابت، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ زید بن حارثہ (اپنی بیوی کی) شکایت کرتے ہوئے آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمانے لگے کہ اللہ سے ڈر اور اپنی بیوی کو اپنے پاس رہنے دے۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قرآن میں کچھ چھپانے والے ہوتے تو اس آیت کو چھپا تے۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تمام بیویوں پر فخر کرتی تھیں اور کہتی تھیں کہ تمہارا نکاح تمہارے گھر والوں نے کیا اور میرا نکاح اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں کے اوپر کیا اور ثابت سے منقول ہے کہ آیت وَتُخْ فِيْ فِيْ نَفْسِكَ مَا اللّٰهُ مُبْدِيْهِ وَتَخْشَى النَّاسَ 33۔ الاحزاب : 37) اور تم اپنے دل میں چھپاتے تھے جس کہ اللہ تعالیٰ ظاہر کرنے والا ہے اور تم لوگوں سے ڈرتے تھے حضرت زینب اور زید بن حاثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی شان میں نازل ہوئی ہے۔
Narrated Anas: Zaid bin Haritha came to the Prophet complaining about his wife. The Prophet kept on saying (to him), "Be afraid of Allah and keep your wife." Aisha said, "If Allah's Apostle were to conceal anything (of the Quran he would have concealed this Verse." Zainab used to boast before the wives of the Prophet and used to say, "You were given in marriage by your families, while I was married (to the Prophet) by Allah from over seven Heavens." And Thabit recited, "The Verse:-- 'But (O Muhammad) you did hide in your heart that which Allah was about to make manifest, you did fear the people,' (33.37) was revealed in connection with Zainab and Zaid bin Haritha."
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَی حَدَّثَنَا عِيسَی بْنُ طَهْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ نَزَلَتْ آيَةُ الْحِجَابِ فِي زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ وَأَطْعَمَ عَلَيْهَا يَوْمَئِذٍ خُبْزًا وَلَحْمًا وَکَانَتْ تَفْخَرُ عَلَی نِسَائِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَکَانَتْ تَقُولُ إِنَّ اللَّهَ أَنْکَحَنِي فِي السَّمَائِ
خلاد بن یحیی، عیسیٰ بن طہمان، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن مالک فرماتے ہیں کہ حجاب کی آیت زینب بنت جحش کے متعلق نازل ہوئی اور اس دن آپ نے روٹی اور گوشت ان کے ولیمہ میں کھلایا اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تمام بیویوں پر وہ فخر کیا کرتی تھیں اور کہا کرتی تھیں کہ اللہ تعالیٰ نے میرا نکاح آسمان پر ہی کر دیا ہے۔
Narrated Anas bin Malik: The Verse of Al-Hijab (veiling of women) was revealed in connection with Zainab bint Jahsh. (On the day of her marriage with him) the Prophet gave a wedding banquet with bread and meat; and she used to boast before other wives of the Prophet and used to say, "Allah married me (to the Prophet in the Heavens."
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ لَمَّا قَضَی الْخَلْقَ کَتَبَ عِنْدَهُ فَوْقَ عَرْشِهِ إِنَّ رَحْمَتِي سَبَقَتْ غَضَبِي
ابوالیمان، شعیب، ابوالزناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جب مخلوق کو پیدا کیا تو عرش کے اوپر اپنے پاس لکھ دیا کہ میری رحمت میرے غضب سے بڑھ گئی ہے۔
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, "When Allah had finished His creation, He wrote over his Throne: 'My Mercy preceded My Anger.'
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنِي هِلَالٌ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَصَامَ رَمَضَانَ کَانَ حَقًّا عَلَی اللَّهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ هَاجَرَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ جَلَسَ فِي أَرْضِهِ الَّتِي وُلِدَ فِيهَا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا نُنَبِّئُ النَّاسَ بِذَلِکَ قَالَ إِنَّ فِي الْجَنَّةِ مِائَةَ دَرَجَةٍ أَعَدَّهَا اللَّهُ لِلْمُجَاهِدِينَ فِي سَبِيلِهِ کُلُّ دَرَجَتَيْنِ مَا بَيْنَهُمَا کَمَا بَيْنَ السَّمَائِ وَالْأَرْضِ فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللَّهَ فَسَلُوهُ الْفِرْدَوْسَ فَإِنَّهُ أَوْسَطُ الْجَنَّةِ وَأَعْلَی الْجَنَّةِ وَفَوْقَهُ عَرْشُ الرَّحْمَنِ وَمِنْهُ تَفَجَّرُ أَنْهَارُ الْجَنَّةِ
ابراہیم بن منذر، محمد فلیح، فلیح، ہلال، عطاء بن یسار، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لایا اور نماز پڑھی اور روزہ رکھا تو اللہ پر حق ہے کہ اس کو جنت میں داخل کر دے، اس نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہجرت کی ہو یا جس زمین میں پیدا ہوا وہیں رہ جائے لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم لوگوں کو اس بات کی خبر نہ دیں، آپ نے فرمایا جنت میں سو درجے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنی راہ میں جہاد کرنے والوں کے لئے تیار کر رکھے ہیں ہر درجے کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا فاصلہ آسمان اور زمین کے درمیان ہے پس جب تم اللہ سے مانگو تو فردوس مانگو کہ جنت کا درمیانی درجہ ہے اور بلند ترین درجہ ہے اور اس کے اوپر عرش خداوندی ہے اور اس سے جنت کی نہریں پھوٹ کر نکلتی ہیں۔
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, "Whoever believes in Allah and His Apostle offers prayers perfectly and fasts (the month of) Ramadan then it is incumbent upon Allah to admit him into Paradise, whether he emigrates for Allah's cause or stays in the land where he was born." They (the companions of the Prophet) said, "O Allah's Apostle! Should we not inform the people of that?" He said, "There are one-hundred degrees in Paradise which Allah has prepared for those who carry on Jihad in His Cause. The distance between every two degrees is like the distance between the sky and the Earth, so if you ask Allah for anything, ask Him for the Firdaus, for it is the last part of Paradise and the highest part of Paradise, and at its top there is the Throne of Beneficent, and from it gush forth the rivers of Paradise."
Narrated by Abu Dharr
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ هُوَ التَّيْمِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فَلَمَّا غَرَبَتْ الشَّمْسُ قَالَ يَا أَبَا ذَرٍّ هَلْ تَدْرِي أَيْنَ تَذْهَبُ هَذِهِ قَالَ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ فَإِنَّهَا تَذْهَبُ تَسْتَأْذِنُ فِي السُّجُودِ فَيُؤْذَنُ لَهَا وَکَأَنَّهَا قَدْ قِيلَ لَهَا ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ فَتَطْلُعُ مِنْ مَغْرِبِهَا ثُمَّ قَرَأَ ذَلِکَ مُسْتَقَرٌّ لَهَا فِي قِرَائَةِ عَبْدِ اللَّهِ
یحیی بن جعفر، ابومعاویہ، اعمش، ابراہیم تیمی، اپنے والد، حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں مسجد میں داخل ہوا، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے، جب آفتاب ڈوب گیا تو آپ نے فرمایا کہ اے ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ! کیا تم جانتے ہو کہ یہ کہاں جاتا ہے، میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس رسول زیادہ جاننے والے ہیں، آپ نے فرمایا کہ وہ جاتا ہے اور سجدہ کی اجازت چاہتا ہے تو اسے سجدہ کی اجازت دی جاتی ہے، اور گویا اس سے کہا گیا کہ لوٹ جا جہاں سے تو آیا ہے تو وہ مغرب سے طلوع ہوگا، پھر آپ نے ذَلِکَ مُسْتَقَرٌّ لَهَا (یہ اس کا مستقر ہے) جو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قرات میں ہے پڑھی۔
Narrated Abu Dharr: I entered the mosque while Allah's Apostle was sitting there. When the sun had set, the Prophet said, "O Abu Dharr! Do you know where this (sun) goes?" I said, "Allah and His Apostle know best." He said, "It goes and asks permission to prostrate, and it is allowed, and (one day) it, as if being ordered to return whence it came, then it will rise from the west." Then the Prophet recited, "That: "And the sun runs on its fixed course (for a term decreed)," (36.38) as it is recited by 'Abdullah.
Narrated by Zaid bin Thabit
حَدَّثَنَا مُوسَی عَنْ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ ابْنِ السَّبَّاقِ أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ حَدَّثَهُ قَالَ أَرْسَلَ إِلَيَّ أَبُو بَکْرٍ فَتَتَبَّعْتُ الْقُرْآنَ حَتَّی وَجَدْتُ آخِرَ سُورَةِ التَّوْبَةِ مَعَ أَبِي خُزَيْمَةَ الْأَنْصَارِيِّ لَمْ أَجِدْهَا مَعَ أَحَدٍ غَيْرِهِ لَقَدْ جَائَکُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِکُمْ حَتَّی خَاتِمَةِ بَرَائَةٌ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ بُکَيْرٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ يُونُسَ بِهَذَا وَقَالَ مَعَ أَبِي خُزَيْمَةَ الْأَنْصَارِيِّ
موسی، ابراہیم، ابن شہاب، عبید بن سباق، حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بلا بھیجا تو میں قرآن کو تلاش کرنے لگا یہاں تک کہ سورت توبہ کی آخری آیت میں نے ابوخزیمہ انصاری کے پاس پائی جو ان کے علاوہ کسی اور کے پاس نہیں ملی، وہ آیت لَقَدْ جَا ءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ 9۔ التوبہ : 128) (تمہارے پاس رسول تم ہی میں سے آیا) سورت براۃ کے اخیر تک کی تھی۔ یحیی بن بکیر نے بواسطہ لیث ، یونس سے اس کو روایت کیا اور کہا ابوخزیمہ انصاری کے پاس وہ (آیت ملی )
Narrated Zaid bin Thabit: Abu Bakr sent for me, so I collected the Qur'an till I found the last part of Surat-at-Tauba with Abi Khuzaima Al-Ansari and did not find it with anybody else. (The Verses are): -- 'Verily, there has come to you an Apostle (Muhammad) from amongst yourselves..(till the end of Surat Bara'a) (i.e., At-Tauba).' (9.128-129) Narrated Yunus: (As 521).
Narrated by Ibn 'Abbas
حَدَّثَنَا مُعَلَّی بْنُ أَسَدٍ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عِنْدَ الْکَرْبِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَلِيمُ الْحَلِيمُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَرَبُّ الْأَرْضِ رَبُّ الْعَرْشِ الْکَرِيمِ
معلی بن اسد، وہیب، سعید، قتادہ، ابوالعالیہ، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مصیبت کے وقت یہ (دعا) پڑھتے تھے (لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الخ) یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے وہ جاننے والا بردبار ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں عرش عظیم کا رب ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ آسمان اور زمین کا رب ہے اور عرش کریم کا رب ہے۔
Narrated Ibn 'Abbas: The Prophet used to say at the time of difficulty, 'La ilaha il-lallah Al-'Alimul-Halim. La-ilaha il-lallah Rabul- Arsh-al-Azim, La ilaha-il-lallah Rabus-Samawati Rab-ul-Ard; wa Rab-ul-Arsh Al-Karim.' (See Hadith No. 356 and 357, Vol. 8)
Narrated by Abu Said Al-Khudri
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَی عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ النَّاسُ يَصْعَقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَإِذَا أَنَا بِمُوسَی آخِذٌ بِقَائِمَةٍ مِنْ قَوَائِمِ الْعَرْشِ وَقَالَ الْمَاجِشُونُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَکُونُ أَوَّلَ مَنْ بُعِثَ فَإِذَا مُوسَی آخِذٌ بِالْعَرْشِ
محمد بن یوسف، سفیان، عمرو بن یحیی ، یحیی ، حضرت ابوسعید نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا کہ سب لوگ قیامت کے دن بے ہوش ہو جائیں گے جب میں ہوش آؤں گا تو دیکھوں گا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام عرش کا ایک پایہ پکڑے ہوئے ہوں گے۔ اور ماجشون نے عبداللہ بن فضل سے انہوں نے ابوسلمہ سے انہوں نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا آپ نے فرمایا کہ سب سے پہلے ہوش میں آنے والوں میں میں ہوں تو اس وقت دیکھوں گا کہ موسیٰ علیہ السلام عرش پکڑے ہوئے ہیں۔
Narrated Abu Said Al-Khudri: The Prophet said, "The people will fall unconscious on the Day of Resurrection, then suddenly I will see Moses holding one of the pillars of the Throne." Abu Huraira said: The Prophet said, "I will be the first person to be resurrected and will see Moses holding the Throne."