TrueHadith

سورۃ فاتحہ پڑھ کر دم کرنے کا بیان، اور ابن عباس رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی روایت کی ہے

Sahih BukhariHadith 5295

Narrated by Abu Said Al-Khudri

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ أَبِي الْمُتَوَکِّلِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَوْا عَلَی حَيٍّ مِنْ أَحْيَائِ الْعَرَبِ فَلَمْ يَقْرُوهُمْ فَبَيْنَمَا هُمْ کَذَلِکَ إِذْ لُدِغَ سَيِّدُ أُولَئِکَ فَقَالُوا هَلْ مَعَکُمْ مِنْ دَوَائٍ أَوْ رَاقٍ فَقَالُوا إِنَّکُمْ لَمْ تَقْرُونَا وَلَا نَفْعَلُ حَتَّی تَجْعَلُوا لَنَا جُعْلًا فَجَعَلُوا لَهُمْ قَطِيعًا مِنْ الشَّائِ فَجَعَلَ يَقْرَأُ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَيَجْمَعُ بُزَاقَهُ وَيَتْفِلُ فَبَرَأَ فَأَتَوْا بِالشَّائِ فَقَالُوا لَا نَأْخُذُهُ حَتَّی نَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلُوهُ فَضَحِکَ وَقَالَ وَمَا أَدْرَاکَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ خُذُوهَا وَاضْرِبُوا لِي بِسَهْمٍ

محمد بن بشار، غندر، ابوبشر، ابوالمتوکل، ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے چند لوگ عرب کے کسی قبیلہ کے پاس پہنچے، اس قبیلہ کے لوگوں نے ان کی ضیافت نہیں کی، وہ لوگ وہیں تھے کہ اس قبیلہ کے سردار کو سانپ نے ڈس لیا، تو انہوں نے پوچھا کہ تمہارے پاس کوئی دوا یا کوئی جھاڑ پھونک کرنے والا ہے، تو ان لوگوں نے کہا کہ تم نے ہماری مہمان داری نہیں کی اس لئے ہم کچھ نہیں کریں گے، جب تک کہ تم لوگ ہمارے لئے کوئی چیز متعین نہ کروگے، اس پر ان لوگوں نے چند بکریوں کا دینا منظور کیا، انہوں نے سورت فاتحہ پڑھنا شروع کی اور تھوک جمع کرکے اس پر ڈال دیا، تو وہ آدمی تندرست ہوگیا، وہ آدمی بکریاں لے کر آئے تو انہوں نے کہا کہ ہم یہ نہیں لیتے جب تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت نہ کرلیں، چنانچہ ان لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت کیا تو آپ ہنس پڑے، فرمایا کہ تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ سورت فاتحہ منتر ہے، تم اس کو لے لو اور ایک حصہ میرا بھی اس میں لگا دینا۔

Narrated Abu Said Al-Khudri: Some of the companions of the Prophet came across a tribe amongst the tribes of the Arabs, and that tribe did not entertain them. While they were in that state, the chief of that tribe was bitten by a snake (or stung by a scorpion). They said, (to the companions of the Prophet ), "Have you got any medicine with you or anybody who can treat with Ruqya?" The Prophet's companions said, "You refuse to entertain us, so we will not treat (your chief) unless you pay us for it." So they agreed to pay them a flock of sheep. One of them (the Prophet's companions) started reciting Surat-al-Fatiha and gathering his saliva and spitting it (at the snake-bite). The patient got cured and his people presented the sheep to them, but they said, "We will not take it unless we ask the Prophet (whether it is lawful)." When they asked him, he smiled and said, "How do you know that Surat-al-Fatiha is a Ruqya? Take it (flock of sheep) and assign a share for me."

Permalink

Sahih BukhariHadith 5296

Narrated by Ibn 'Abbas

حَدَّثَنِي سِيدَانُ بْنُ مُضَارِبٍ أَبُو مُحَمَّدٍ الْبَاهِلِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ الْبَصْرِيُّ هُوَ صَدُوقٌ يُوسُفُ بْنُ يَزِيدَ الْبَرَّائُ قَالَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَخْنَسِ أَبُو مَالِکٍ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرُّوا بِمَائٍ فِيهِمْ لَدِيغٌ أَوْ سَلِيمٌ فَعَرَضَ لَهُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَائِ فَقَالَ هَلْ فِيکُمْ مِنْ رَاقٍ إِنَّ فِي الْمَائِ رَجُلًا لَدِيغًا أَوْ سَلِيمًا فَانْطَلَقَ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَقَرَأَ بِفَاتِحَةِ الْکِتَابِ عَلَی شَائٍ فَبَرَأَ فَجَائَ بِالشَّائِ إِلَی أَصْحَابِهِ فَکَرِهُوا ذَلِکَ وَقَالُوا أَخَذْتَ عَلَی کِتَابِ اللَّهِ أَجْرًا حَتَّی قَدِمُوا الْمَدِينَةَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخَذَ عَلَی کِتَابِ اللَّهِ أَجْرًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَحَقَّ مَا أَخَذْتُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا کِتَابُ اللَّهِ

سیدان بن مضارب، ابومحمد باہلی، ابومعشر بصری، یوسف بن یزید براء، عبیداللہ بن اخنس، ابومالک، ابن ابی ملیکہ، ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے چند آدمی پانی کے رہنے والوں کے پاس سے گذرے جن میں سے ایک شخص کو سانپ کا کاٹا ہوا تھا (لدیغ یا سلیم کا لفظ بیان کیا) پانی کے رہنے والوں میں سے ایک آدمی ان صحابہ کے پاس پہنچا اور کہا تم میں سے کوئی شخص جھاڑنے والا ہے، پانی میں ایک شخص سانپ یا بچھو کا کاٹا ہوا ہے (سانپ کے کاٹے ہوئے کے لئے لدیغ یا سلیم کا لفظ بیان کیا) ایک صحابی گئے اور بکریوں کی شرط پر سورت فاتحہ پڑھی، تو وہ آدمی اچھا ہوگیا اور صحابہ کے پاس بکریاں لے کر آئے لیکن ان لوگوں نے اسے مکروہ سمجھا اور کہنے لگے کہ تو نے کتاب اللہ پر اجرت لی، یہاں تک کہ وہ لوگ مدینہ پہنچے تو ان لوگوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! انہوں نے کتاب اللہ پراجرت لی، آپ نے فرمایا کہ جن چیزوں پر اجرت لینی جائز ہے ان میں سب سے مستحق کتاب اللہ ہے۔

Narrated Ibn 'Abbas: Some of the companions of the Prophet passed by some people staying at a place where there was water, and one of those people had been stung by a scorpion. A man from those staying near the water, came and said to the companions of the Prophet, "Is there anyone among you who can do Ruqya as near the water there is a person who has been stung by a scorpion." So one of the Prophet's companions went to him and recited Surat-al-Fatiha for a sheep as his fees. The patient got cured and the man brought the sheep to his companions who disliked that and said, "You have taken wages for reciting Allah's Book." When they arrived at Medina, they said, ' O Allah's Apostle! (This person) has taken wages for reciting Allah's Book" On that Allah's Apostle said, "You are most entitled to take wages for doing a Ruqya with Allah's Book."

Permalink