TrueHadith

صرف میں اور وزن سے فروخت ہونے والی چیزوں میں وکیل نبانے کا بیان اور حضرت عمر اور ابن عمر نے صرف میں وکیل بنایا تھا ۔

Sahih BukhariHadith 2138

Narrated by Abu Said Al-Khudri and Abu Huraira

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَأَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَ رَجُلًا عَلَی خَيْبَرَ فَجَائَهُمْ بِتَمْرٍ جَنِيبٍ فَقَالَ أَکُلُّ تَمْرِ خَيْبَرَ هَکَذَا فَقَالَ إِنَّا لَنَأْخُذُ الصَّاعَ مِنْ هَذَا بِالصَّاعَيْنِ وَالصَّاعَيْنِ بِالثَّلَاثَةِ فَقَالَ لَا تَفْعَلْ بِعْ الْجَمْعَ بِالدَّرَاهِمِ ثُمَّ ابْتَعْ بِالدَّرَاهِمِ جَنِيبًا وَقَالَ فِي الْمِيزَانِ مِثْلَ ذَلِکَ

عبداللہ بن یوسف، مالک، عبدالمجید بن سہل بن عبدالرحمن بن عوف، سعید بن مسیب، ابوسعید خدری و ابوہریرہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو خیبر کا عامل مقرر کیا، تو وہ آپ کے پاس عمدہ قسم کی کھجوریں لیکر آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا خیبر کی تمام کھجوریں ایسی ہی ہوتی ہیں؟ اس نے کہا ہم ایسی کھجور ایک صاع دو صاع کے عوض اور دو صاع تین صاع کے عوض خرید لیتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ایسا نہ کرو تمام کھجوریں درہم کے عوض فروخت کر دو، پھر ان درہموں کے عوض اچھی کھجوریں خرید کرلو اور وزن سے فروخت ہونے والی چیزوں کے متعلق بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی طرح فرمایا۔

Narrated Abu Said Al-Khudri and Abu Huraira: Allah's Apostle employed someone as a governor at Khaibar. When the man came to Medina, he brought with him dates called Janib. The Prophet asked him, "Are all the dates of Khaibar of this kind?" The man replied, "(No), we exchange two Sa's of bad dates for one Sa of this kind of dates (i.e. Janib), or exchange three Sa's for two." On that, the Prophet said, "Don't do so, as it is a kind of usury (Riba) but sell the dates of inferior quality for money, and then buy Janib with the money". The Prophet said the same thing about dates sold by weight. (See Hadith No. 506).

Permalink