TrueHadith

وکالہ کا بیان

Discussion on Agency (Wakalah)

1.تقسیم وغیرہ میں ایک شریک کا دوسرے شریک کے وکیل ہونے کا بیان اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی کو اپنی قربانی میں شریک کیا پھر اس کے تقسیم کرنے کا حکم دیا ۔2.مسلمان کسی حربی کو دارالحرب یا دارالاسلام میں وکیل مقرر کرے تو جائز ہے ۔3.صرف میں اور وزن سے فروخت ہونے والی چیزوں میں وکیل نبانے کا بیان اور حضرت عمر اور ابن عمر نے صرف میں وکیل بنایا تھا ۔4.جب چرواہا یا وکیل بکری کو مرتا ہوا دیکھے یا کوئی چیز بگڑتی ہوئی دیکھے، تو وہ اس کو ذبح کر دے، یا بگڑتی ہوئی چیز کو درست کر دے ۔5.حاضر اور غائب کو وکیل بنانا جائز ہے، اور عبداللہ بن عمر نے اپنے وکیل کو لکھ بھیجا، کہ ان کے گھر کے تمام چھوٹے بڑے آدمیوں کی طرف سے صدقہ فطر ادا کریں ۔6.ادائے قرض میں وکیل بنانے کا بیان ۔7.جب وکیل یا کسی قوم کے سفارشی کو کوئی چیز ہبہ کرے، تو جائز ہے، اس لئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہوازن کے وفد کو جب انہوں نے غنیمت کا مال واپس مانگا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں اپنا حصہ تمہیں دے دیتا ہوں ۔8.ایک شخص نے کسی کو کچھ دینے کے لئے وکیل بنایا اور یہ نہیں بیان کیا، کہ کتنا دے اور وہ دستور کے مطابق دیدے ۔9.نکاح میں عورت کا امام کو وکیل بنانے کا بیان ۔10.جب وکیل کسی خراب چیز کو بیچ دے تو اس کی بیع مقبول نہیں ہے ۔11.وقف میں وکیل ہونے اور وکیل کے خرچ اور اپنے دوست کو کھلا نے اور خود بھی دستور کے موافق کھانے کا بیان ۔12.حدود میں وکالت کا بیان ۔13.قربانی کے اونٹوں میں وکالت اور انکی نگرانی کا بیان ۔14.جب کوئی شخص اپنے وکیل سے کہے کہ اس کو خرچ کرو، جہاں تم کو مناسب معلوم ہو اور وکیل کہے میں نے سن لیا جو کچھ تم نے کہا ۔15.خزانہ وغیرہ میں امانتدار کے وکیل بنانے کا بیان