TrueHadith

آسمان کے پانی اور جاری پانی سے سیراب کی جانے والی زمین میں دسواں حصہ واجب ہے اور عمر بن عبدالعزیز نے شہد میں زکوٰۃ کو واجب نہیں سمجھا۔

Sahih BukhariHadith 1388

Narrated by Salim bin 'Abdullah from his father

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِيمَا سَقَتْ السَّمَائُ وَالْعُيُونُ أَوْ کَانَ عَثَرِيًّا الْعُشْرُ وَمَا سُقِيَ بِالنَّضْحِ نِصْفُ الْعُشْرِ قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ هَذَا تَفْسِيرُ الْأَوَّلِ لِأَنَّهُ لَمْ يُوَقِّتْ فِي الْأَوَّلِ يَعْنِي حَدِيثَ ابْنِ عُمَرَ وَفِيمَا سَقَتْ السَّمَائُ الْعُشْرُ وَبَيَّنَ فِي هَذَا وَوَقَّتَ وَالزِّيَادَةُ مَقْبُولَةٌ وَالْمُفَسَّرُ يَقْضِي عَلَی الْمُبْهَمِ إِذَا رَوَاهُ أَهْلُ الثَّبَتِ کَمَا رَوَی الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُصَلِّ فِي الْکَعْبَةِ وَقَالَ بِلَالٌ قَدْ صَلَّی فَأُخِذَ بِقَوْلِ بِلَالٍ وَتُرِکَ قَوْلُ الْفَضْلِ

سعید بن ابی مریم، عبداللہ بن وہب، یونس بن زید، ابن شہاب، سالم بن عبداللہ ، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا اس زمین میں عشر ہے، جسے آسمان یا چشمہ کا پانی سیراب کرے یا خود بخود سیراب ہو اور جس زمین کو کنوئیں سے سراب کیا جائے، اس میں بیسواں حصہ واجب ہے، ابوعبداللہ (بخاری) نے بیان کیا کہ یہ پہلی حدیث کی تفسیر ہے۔ اس لئے کہ پہلی حدیث یعنی ابن عمر کی حدیث میں اس کی تعیین نہیں کی، وہ حدیث یہ ہے۔ فما سقت السماء العشر اور اس میں بیان کیا اور تعیین کی اور یہ زیادتی مقبول ہے اور حدیث مفسر مبہم کا فیصلہ کرتی ہے، بشرطیکہ اس کو حافظہ والے روایت کریں جیسا کہ فضل بن عباس نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ میں نماز نہیں پڑھی اور بلال نے بیان کیا کہ آپ نے نماز پڑھی، تو بلال کے قول پر عمل کیا اور فضل کا قول چھوڑ دیا۔

Narrated Salim bin 'Abdullah from his father: The Prophet said, "On a land irrigated by rain water or by natural water channels or if the land is wet due to a near by water channel Ushr (i.e. one-tenth) is compulsory (as Zakat); and on the land irrigated by the well, half of an Ushr (i.e. one-twentieth) is compulsory (as Zakat on the yield of the land)." ________________________________________

Permalink