زکوۃ کا بیان
Explanation of Zakat
1.زکوۃ کے واجب ہونے کا بیان، اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ نماز قائم کرو اور زکوۃ دو اور ابن عباس کا بیان ہے کہ مجھ سے ابوسفیان نے بیان کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قصہ بیان کیا تو کہا کہ ہمیں نماز، زکوۃ، صلہ رحم، اور پاک دامنی کا حکم دیتے ہیں ۔2.زکواۃ دینے پر بیعت کرنے کا بیان (اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ) اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکواۃ دیں تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں ۔3.زکواۃ نہ دینے والے کے گناہ کا بیان ۔ اللہ تعالیٰ کا قول کہ جو لوگ سونا اور چاندی گاڑتے ہیں اور اس کو اللہ کے راستہ میں خرچ نہیں کرتے، ماکنتم تکنزون، تک یعنی چکھو اس چیز کا مزہ جو خزانہ بنا کر رکھتے تھے ۔4.جس مال کی زکوۃ دی جاتی ہے تو وہ کنز نہیں ہے اس لئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانچ اوقیہ سے کم میں زکواۃ نہیں5.مال کا اس کے حق میں خرچ کرنے کا بیان ۔6.پاک کمائی سے خیرات کرنے کا بیان اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اللہ تعالیٰ سود کو گھٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کسی ناشکرگزار گناہ گار کو پسند نہیں کرتا تحقیق جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے نماز قائم کی اور زکواۃ دی ان کے لئے ان کا اجر ان کے رب کے نزدیک ہے ان پر نہ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے ۔7.اس زمانہ سے پہلے صدقہ کرنے کا بیان جب کوئی خیرات لینے والا نہ رہے گا ۔8.اگرچہ کجھور کا ٹکڑا ہو یا تھوڑا سا صدقہ دے کر آگ سے بچو اور ان لوگوں کی مثال جو اپنا مال اللہ کی رضاء جوئی کے لئے اور اپنے دل کو ٹھیک رکھ کر خرچ کرتے ہیں اس باغ کی طرح ہے جو اونچی جگہ پرہے من کل الثمراتتک۔9.بخیل کے تندرستی کی حالت میں صدقہ کرنے کی فضیلت کے بیان، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور خرچ کرو اس چیز سے جو ہم نے تم کو دی، قبل اس کے کہ تم میں سے کسی کے پاس موت آئے آخر آیت تک۔ اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ اے ایمان والوتم خرچ کرو اس چیز سے جو ہم نے تم کو دی قبل اس کے کہ وہ دن آئے جس میں نہ تو خرید وفروخت ہوگی اور نہ دوستی اور نہ شفاعت آخر آیت تک۔10.یہ ترجمۃ الباب سے خالی ہے۔11.جب کسی مال دار آدمی کو صدقہ دے اور وہ نہ جانتا ہو۔12.اپنے بیٹے کو خیرات دینے کا بیان اس مال میں کہ اسے خبر نہ ہو۔ (حنفیہ کے ہاں نفلی صدقہ میں تو یہی حکم ہے البتہ زکواۃ یا کوئی اور صدقہ واجبہ اگر باپ اپنے بیٹے کو لاعلمی میں دیدے تو ادا نہیں ہوتا کیوں کہ زکواۃ اپنے بیٹے کو دینا درست نہیں ۔)13.دائیں ہاتھ سے صدقہ کرنے کا بیان ۔14.اس شخص کا بیان جس نے اپنے خادم کو صدقہ دینے کا حکم دیا اور خود نہیں دیا اور ابوموسی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا کہ وہ بھی صدقہ دینے والوں میں شمار ہوگا ۔15.صدقہ اسی صورت میں جائز ہے کہ اس کی مالداری قائم رہے اور جس نے خیرات کیا اس حال میں کہ وہ آپ محتاج ہے یا اس کے گھر والے محتاج ہیں، یا اس پر دین ہے تو دین کا ادا کرنا صدقہ سے اور آزادی وہبہ سے زیادہ مستحق ہے اور وہ اس پر پھیر دیا جائے گا اسے حق نہیں کہ لوگوں کے مالوں کو تلف کرے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے لوگوں کے مال لئے اور اس کا ارادہ اسے تلف کرنے کا ہے تو اللہ اسے برباد کرے گا بشرطے کہ وہ صبر میں مشہور ہو اور اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دے سکتا ہو، اگرچہ اسے احتیاج ہو، جیسے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کیا کہ جب اپنا مال صدقہ کیا تو سارا مال دے دیا اور اسی طرح انصار نے مہاجرین کو ترجیح دی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مال کو ضائع کرنے سے منع فرمایا ۔ اس لئے کہ اسے حق نہیں کہ دوسروں کا مال صدقہ کی بناء پر تباہ کرے ۔ اور کعب بن مالک نے بیان کیا کہ میں نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اپنی توبہ کی (مقبولیت کے) سبب سے چاہتا ہوں کہ اپنا سارا مال اللہ اور اس کے رسول پر نثار کرکے اس سے دست وبردار ہوجاو16.اس شخص کا بیان جو صدقہ دینے میں عجلت کو پسند کرتا ہے ۔17.صدقہ پر رغبت دلانے اور اس کی سفارش کرنے کا بیان ۔18.جہاں تک ہوسکے خیرات کرنے کا بیان ۔19.صدقہ گناہوں کا کفارہ ہوتا ہے ۔20.اس شخص کا بیان جس نے حالت شرک میں صدقہ کیا پھر مسلمان ہوگیا۔21.خادم کے اجر کا بیان جب وہ اپنے مالک کے حکم سے خیرات کرے بشرطے کہ گھر بے گاڑنے کی نیت نہ ہو۔22.اس عورت کے اجر کا بیان جس نے اپنے شوہر کے گھر سے کسی کو کھانا کھلایا یا صدقہ دیا بشرطے کہ گھر کی تباہی کی نیت نہ ہو۔23.اللہ بزرگ وبرتر کا قول کہ جس نے دیا اور اللہ سے ڈر، اور اچھی باتوں کی تصدیق کی تو ہمیں اسے آسانی کی جگہ کے لئے آسان کردیں گے اور جس نے بخل کیا اور بے پروائی کی آخر آیت تک اور فرشتوں کا کہنا کہ اے اللہ مال خرچ کرنے والوں کو اس کا بدل عطاء فرما۔24.صدقہ دینے والے اور بخیل کی مثال ۔25.ہر مسلمان پر صدقہ واجب ہے ۔ جو شخص (کوئی چیز) نہ پائے تو وہ نیک عمل کرے ۔26.زکوٰۃ اور صدقہ میں سے کتنا دیا جائے اور اس شخص کا بیان جس نے ایک بکری صدقہ میں دی۔27.چاندی کی زکوٰۃ کا بیان۔28.زکوٰۃ میں اسباب لینے کا بیان، اور طاو29.متفرق مال کو یکجا نہ کیا جائے اور نہ یکجا مال کو متفرق کیا جائے اور بہ سند سالم، ابن عمر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے مثل منقول ہے ۔30.کسی مال میں دو شخص شریک ہوں تو دونوں زکوٰۃ دے کر اس میں برابر سمجھ لیں، طاو31.اونٹ کی زکوٰۃ کا بیان اس کو ابوبکر رضی اللہ عنہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ۔32.اس شخص کا بیان جس پر بنت مخاض (ایک سال کی اونٹنی) واجب ہو اور وہ اس کے پاس نہ ہو۔33.بکریوں کی زکوٰۃ کا بیان ۔34.زکوٰۃ میں بوڑھی اور نہ عیب دار بکری اور نہ نرلیا جائے مگر یہ کہ زکوٰۃ وصول کرنے والا لینا چاہے۔35.زکوٰۃ میں بکری کا بچہ لینے کا بیان ۔36.زکوٰۃ میں لوگوں کے عمدہ اموال نہیں لئے جائیں گے ۔37.پانچ اونٹ سے کم میں زکوٰۃ نہیں ۔38.گائے کی زکوٰۃ کا بیان ۔ ابوسعید کا بیان ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، البتہ میں جانوں گا اس کو جو اللہ کے پاس گائے لے کر آئے گا اور وہ بولتی ہوگی اور بعض نے کہا خوار کے بجائے جوار ہے، یجارون کے معنی ہیں وہ آواز بلند کرتے ہوں گے جس طرح گائے آواز بلند کرتی ہے۔39.رشتہ داروں کو زکوٰہ دینے کا حکم اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے لئے دو اجر ہیں ایک قرابت کا اور دوسرا صدقہ کا (ثواب ملے گا) ۔40.مسلمان پر اس کے گھوڑے پر زکوۃ فرض نہیں ہے۔41.مسلمان پر اس کے غلام میں زکوٰۃ فرض نہیں ہے ۔42.یتیموں پر صدقہ کرنے کا بیان ۔43.شوہر اور زیر تربیت یتیم بچوں کو زکوٰۃ دینے کا بیان اس کو ابوسعید نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ۔44.اللہ بزرگ وبرتر کا قول، اور گردن چھڑانے اور قرضداروں اور اللہ کی راہ میں خرچ کیا جائے، اور ابن عباس سے منقول ہے ۔ آپ نے زکوٰۃ کے مال سے غلام آزاد کئے اور حج میں دئیے، اور حسن بصری نے کہا کہ اگر زکوٰۃ سے اپنے باپ کو خریدے تو جائز ہے اور مجاہدین اور اس شخص کو بھی دیا جاسکتا ہے، جس نے حج نہ کیا ہو پھر آیت انما الصدقات للفقراء آخرتک تلاوت کی ۔ ان میں سے جس کو بھی دیا جائے کافی ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کہ خالد نے اپنی زرہیں خدا کی راہ میں خرچ کیں اور ابولاس سے منقول ہے کہ ہم کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوٰۃ کے اونٹ پر سوار کرکے حج کرنے کے لئے بھیجا۔45.سوال سے بچنے کا بیان۔46.اس شخص کا بیان جس کو اللہ تعالیٰ کچھ بغیر سوال اور طمع کے دلادے (تولینا جائز ہے) اور ان کے مالوں میں مانگنے والے اور خاموش رہنے کا حق ہے ۔47.اس شخص کا بیان جو مال بڑھانے کے لئے لوگوں سے سوال کرے ۔48.اللہ تعالیٰ کا قول کہ لوگ سے چمٹ کر نہیں مانگتے اور اس کا بیان کہ کتنے مال سے آدمی مالدار ہوتا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا کہ اس قدر مال نہ ملے جو اس کو بے پرواہ بنادے اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ ان فقراء کے لئے جو خدا کے راستہ میں گھیرلیے گئے ہیں اور زمین میں چل نہیں سکتے ان کو سوال نہ کرنے کے سبب سے نادان لوگ غنی سمجھتے ہیں ۔ آخر آیت فان اللہ بہ علیم تک۔49.کجھور کا اندازہ کرلینے کا بیان ۔50.آسمان کے پانی اور جاری پانی سے سیراب کی جانے والی زمین میں دسواں حصہ واجب ہے اور عمر بن عبدالعزیز نے شہد میں زکوٰۃ کو واجب نہیں سمجھا۔51.پانچ اوسق (کجھور) سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے ۔52.پھل توڑتے وقت کجھور کی زکوٰۃ لینے کا بیان اور کیا جائز ہے کہ بچہ کو چھوڑ دیا جائے تاکہ صدقہ کے کجھور میں سے لے لے۔53.جس نے اپنے پھل، درخت، زمین یا کھیتی کو بیچا اور اس میں عشر یا زکوٰۃ واجب تھی، تو اب دوسرے مال سے زکوٰۃ دے یا پھل بیچے جس میں صدقہ واجب نہ تھا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا کہ پھل اس وقت تک نہ بیچو جب تک کہ ان کا قابل انتفاع ہونا ظاہر نہ ہوجائے، چنانچہ قابل انتفاع ہونے کے بعد آپ نے منع نہیں فرمایا اور نہ کسی کی تخصیص فرمائی کہ زکوٰۃ اس پر واجب ہوئی ہو یا نہ واجب ہوئی ہو ۔54.کیا اپنے صدقہ کے مال کو خرید سکتا ہے ؟ اور غیروں کے صدقہ کو خریدنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے اس لئے کہ نبی نے صرف صدقہ دینے والے کو خریدنے سے منع فرمایا ہے اور دوسروں کو منع نہیں فرمایا ۔55.نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی آل کے لئے صدقہ کے متعلق جو روایتیں منقول ہیں ۔56.ازواج نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں کو صدقہ دینے کا بیان ۔57.جب صدقہ محتاج کے حوالے کردیا جائے ۔58.مالداروں سے صدقہ لینے کا بیان اور فقراء کو دیا جائے جہاں بھی ہوں ۔59.امام کا صدقہ دینے والے کے لئے دعائے خیروبرکت کرنے کا بیان اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ ان کے مالوں میں سے زکوٰۃ لے کر ان کو پاک کرو اور ان کو پاکیزہ بناو60.رکاز میں پانچواں حصہ ہے مالک اور ابن ادریس نے کہا کہ رکاز جاہلیت کا دفینہ ہے کم ہو یا زیادہ اس میں پانچواں حصہ ہے، اور معدن رکاز نہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے معدن کے متعلق فرمایا کہ اسمیں گر کر مرجانے والا تاوان کا مستحق نہیں اور رکاز میں پانچواں حصہ ہے ۔ اور عمر بن عبدا لعزیز نے معدن میں ہردو سو درہم میں سے پانچ درہم (چالیس حصہ) لئے اور حسن نے کہا کہ وہ رکاز جو دارالحرب میں ہو اس کا پانچواں حصہ ہے اور دارالاسلام میں ہو تو اس میں زکوٰۃواجب ہے ۔ اور اگر دشمن کے ملک میں کوئی چیز پڑی ہوئی پائے، تو اس کا اعلان کرے، اور اگر دشمن کا مال ہو تو اسمیں پانچواں حصہ ہے اور لوگوں نے کہا کہ معدن جاہلیت کے دفینہ کی طرح رکاز ہے اس لئے کہ ارکز المعدنبولتے ہیں ۔ جب اس میں سے کوئی چیز نکلے تو اس کا جواب ہے کہ اگر کسی شخص کو کوئی چیز دی جائے یا اس کو بہت زیادہ نفع حاصل ہو یا پھل زیادہ آئے تو اس وقت بولتے ہیں ارکزت پھر انہوں نے خود ہی اس کے خلاف کیا اور کہا کہ معدن کے چھپانے میں کوئی حرج نہیں اور پانچواں حصہ ادا نہ کرے ۔61.اللہ تعالیٰ کا قول والعاملین علیھا اور صدقہ وصول کرنے کرنے والے سے امام کا محاسبہ کا بیان ۔62.صدقہ کے اونٹ اور اس کے دودھ سے مسافروں کے کام لینے کا بیان۔63.صدقہ کے اونٹوں کا امام کا اپنے ہاتھوں سے نشان لگانے کا بیان ۔64.صدقہ فطر کے فرض ہونے کا بیان ۔ ابوالعالیہ، عطائ، اور ابن سیرین نے صدقہ فطر کو فرض سمجھا۔65.صدقہ فطر کے آزاد اور غلام تمام مسلمانوں پر واجب ہونے کا بیان ۔66.صدقہ فطر میں جو ایک صاع دے ۔67.صدقہ فطر میں ایک صاع کھانا دے۔68.صدقہ فطر میں ایک صاع کجھور دے ۔69.منقی ایک صاع دینے کا بیان ۔70.عید کی نماز سے پہلے صدقہ دینے کا بیان ۔71.آزاد اور غلام پر صدقہ فطر واجب ہونے کا بیان، اور زہری نے کہا، تجارت کے غلاموں سے زکوٰۃ دی جائے اور ان کی طرف سے صدقہ فطر بھی دیا جائے ۔72.ہر چھوٹے بڑے پر صدقہ فطر واجب ہونے کا بیان، ابوعمرو نے کہا، عمر رضی اللہ عنہ، علی ابن عمر رضی اللہ عنہ، جابر رضی اللہ عنہ، عائشہ رضی اللہ عنہ، طاو