TrueHadith

اللہ تعالیٰ کا قول کہ لوگ سے چمٹ کر نہیں مانگتے اور اس کا بیان کہ کتنے مال سے آدمی مالدار ہوتا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا کہ اس قدر مال نہ ملے جو اس کو بے پرواہ بنادے اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ ان فقراء کے لئے جو خدا کے راستہ میں گھیرلیے گئے ہیں اور زمین میں چل نہیں سکتے ان کو سوال نہ کرنے کے سبب سے نادان لوگ غنی سمجھتے ہیں ۔ آخر آیت فان اللہ بہ علیم تک۔

Sahih BukhariHadith 1382

Narrated by Abu Huraira

حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ الْمِسْکِينُ الَّذِي تَرُدُّهُ الْأُکْلَةَ وَالْأُکْلَتَانِ وَلَکِنْ الْمِسْکِينُ الَّذِي لَيْسَ لَهُ غِنًی وَيَسْتَحْيِي أَوْ لَا يَسْأَلُ النَّاسَ إِلْحَافًا

حجاج بن منہال، شعبہ، محمد بن زیاد حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا، مسکین وہ نہیں ہے جسے ایک لقمہ یا دو لقمہ ادھر سے ادھر پھیراتا ہے بلکہ مسکین وہ ہے جس کو مالداری حاصل نہیں ہے اور وہ شرم محسوس کرتا ہے اور لوگوں سے چمٹ کر نہیں مانگتا۔

Narrated Abu Huraira: The Prophet said, "The poor person is not the one who asks a morsel or two (of meals) from the others, but the poor is the one who has nothing and is ashamed to beg from others." ________________________________________

Permalink

Sahih BukhariHadith 1383

Narrated by Ash-sha'bi

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّائُ عَنْ ابْنِ أَشْوَعَ عَنْ الشَّعْبِيِّ حَدَّثَنِي کَاتِبُ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ کَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَی الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنْ اکْتُبْ إِلَيَّ بِشَيْئٍ سَمِعْتَهُ مِنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَکَتَبَ إِلَيْهِ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ کَرِهَ لَکُمْ ثَلَاثًا قِيلَ وَقَالَ وَإِضَاعَةَ الْمَالِ وَکَثْرَةَ السُّؤَالِ

یعقوب بن ابراہیم، اسماعیل بن علیہ، خالد حذاء، ابن اشوع، شعبی، مغیرہ بن شعبہ کو لکھا کہ مجھے کچھ بھیجو جو تم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہو انہوں نے لکھ بھیجا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے تین چیزیں ناپسند فرمائی ہیں۔ ایک بے فائدہ گفتگو دوسرے مال ضائع کرنا اور تیسرے بہت مانگنا۔

Narrated Ash-sha'bi: The clerk of Al-Mughira bin Shu'ba narrated, "Muawiya wrote to Al-Mughira bin Shu'ba: Write to me something which you have heard from the Prophet (p.b.u.h) ." So Al-Mughira wrote: I heard the Prophet saying, "Allah has hated for you three things: 1. Vain talks, (useless talk) that you talk too much or about others. 2. Wasting of wealth (by extravagance) 3. And asking too many questions (in disputed religious matters) or asking others for something (except in great need). (See Hadith No. 591, Vol. Ill)

Permalink

Sahih BukhariHadith 1384

Narrated by Sad (bin Abi Waqqas)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُزَيْرٍ الزُّهْرِيُّ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ صَالِحِ بْنِ کَيْسَانَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَعْطَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَهْطًا وَأَنَا جَالِسٌ فِيهِمْ قَالَ فَتَرَکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ رَجُلًا لَمْ يُعْطِهِ وَهُوَ أَعْجَبُهُمْ إِلَيَّ فَقُمْتُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَارَرْتُهُ فَقُلْتُ مَا لَکَ عَنْ فُلَانٍ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا قَالَ أَوْ مُسْلِمًا قَالَ فَسَکَتُّ قَلِيلًا ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَعْلَمُ فِيهِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَکَ عَنْ فُلَانٍ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا قَالَ أَوْ مُسْلِمًا قَالَ فَسَکَتُّ قَلِيلًا ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَعْلَمُ فِيهِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَکَ عَنْ فُلَانٍ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا قَالَ أَوْ مُسْلِمًا يَعْنِي فَقَالَ إِنِّي لَأُعْطِي الرَّجُلَ وَغَيْرُهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ خَشْيَةَ أَنْ يُکَبَّ فِي النَّارِ عَلَی وَجْهِهِ وَعَنْ أَبِيهِ عَنْ صَالِحٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدٍ أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ بِهَذَا فَقَالَ فِي حَدِيثِهِ فَضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ فَجَمَعَ بَيْنَ عُنُقِي وَکَتِفِي ثُمَّ قَالَ أَقْبِلْ أَيْ سَعْدُ إِنِّي لَأُعْطِي الرَّجُلَ قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ فَکُبْکِبُوا قُلِبُوا فَکُبُّوا مُکِبًّا أَکَبَّ الرَّجُلُ إِذَا کَانَ فِعْلُهُ غَيْرَ وَاقِعٍ عَلَی أَحَدٍ فَإِذَا وَقَعَ الْفِعْلُ قُلْتَ کَتبَّهُ اللَّهُ لِوَجْهِهِ وَکَبَبْتُهُ أَنَاقال ابوعبدالله صالح بن کيسان هواکبر من الزهری وهو قدادرک ابن عمر

محمد بن عزیر زہری، یعقوب بن ابراہیم، ابراہیم، صالح، ابن شہاب، عامر بن سعد اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جماعت کو مال دیا اور میں ان میں بیٹھا ہوا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو چھوڑ دیا اور اس کو کچھ نہ دیا حالانکہ وہی شخص مجھ کو زیادہ پسند تھا۔ پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور چپکے سے عرض کیا کیا بات ہے آپ نے فلاں شخص کو چھوڑ دیا و اللہ میں اسے مومن سمجھتا ہوں یا مسلمان ؟ میں تھوڑی دیر خاموش رہا پھر مجھ پر وہ چیز غالب ہوئی جو میں اس کے متعلق جانتا تھا ۔چنانچہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا بات ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں کو چھوڑ دیا ، حالانکہ میں اسے مومن سمجھتا ہوں، کہا یا مسلمان میں تھوڑی دیر خاموش رہا ۔ پھر مجھ پر اس کا وہ حال غالب آیا جو اس کے متعلق جانتا تھا ، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا بات ہے کہ فلاں کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ کچھ نہ دیا حالانکہ وہ مومن ہے، یا مسلمان، تین بار اسی طرح ہوا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فریاما میں ایک شخص کو دیتا ہوں حالانکہ دوسرا شخص میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہوتا ہے، صرف اس خوف سے دیتا ہوں کہ کہیں دوزخ میں منہ کے بل نہ گرادیا جائے ۔ اور یعقوب اپنے والد سے بواسطہ صالح، اسماعیل بن محمد، محمد (بن سعد) اس حدیث کو روایت کرتے ہیں اور اپنی حدیث میں اتنا (زیادہ) کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ سعد کے شانے اور گردن پر رکھ کر فرمایا اے سعد ادھر آؤ انی لا عطی (میں ایک شخص کو دیتا ہوں آخر تک ۔ ابوعبداللہ (بخاری) بیان کرتے ہیں کہ کبکبوا کے معنی ہیں الٹ دیئے گئے مکبا۔ أَکَبَّ الرَّجُلُ سے ماخوذ ہے (لازم استعمال ہوتا ہے) جب اس کا فعل کسی پر واقع نہیں ہوتا اور اگر وہ فعل کسی پر واقع ہو (یعنی متعدی ہو) تو اس کو بولتے ہیں کَتبَّهُ اللَّهُ لِوَجْهِهِ وَکَبَبْتُهُ أَنَا ابوعبداللہ (بخاری) نے فرمایا کہ صالح بن کیسان زہری سے بڑے ہیں اور انہوں نے ابن عمر سے ملاقات کی ہے ۔

Narrated Sad (bin Abi Waqqas) : Allah's Apostle distributed something (from the resources of Zakat) amongst a group of people while I was sitting amongst them, but he left a man whom I considered the best of the lot. So, I went up to Allah's Apostle and asked him secretly, "Why have you left that person? By Allah! I consider him a believer." The Prophet said, "Or merely a Muslim (Who surrender to Allah)." I remained quiet for a while but could not help repeating my question because of what I knew about him. I said, "O Allah's Apostle! Why have you left that person? By Allah! I consider him a believer. " The Prophet said, "Or merely a Muslim." I remained quiet for a while but could not help repeating my question because of what I knew about him. I said, "O Allah's Apostle! Why have you left that person? By Allah! I consider him a believer." The Prophet said, "Or merely a Muslim." Then Allah's Apostle (p.b.u.h) said, "I give to a person while another is dearer to me, for fear that he may be thrown in the Hell-fire on his face (by renegating from Islam)." ________________________________________

Permalink

Sahih BukhariHadith 1385

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي مَالِکٌ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ الْمِسْکِينُ الَّذِي يَطُوفُ عَلَی النَّاسِ تَرُدُّهُ اللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ وَالتَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ وَلَکِنْ الْمِسْکِينُ الَّذِي لَا يَجِدُ غِنًی يُغْنِيهِ وَلَا يُفْطَنُ بِهِ فَيُتَصَدَّقُ عَلَيْهِ وَلَا يَقُومُ فَيَسْأَلُ النَّاسَ

اسماعیل بن عبداللہ ، مالک، ابولزناد، اعرج، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، مسکین وہ نہیں جو لوگوں کے پاس گھومتا رہے اور دو لقمہ یا ایک کھجور کی امید میں ادھر ادھر گھومتا پھرے بلکہ مسکین وہ شخص ہے جسے اتنی دولت نہ ملے کہ اسے بے پرواہ بنائے، اور اس کا حال بھی کسی کو معلوم نہ ہو کہ اس کو خیرات دے اور نہ وہ اٹھ کر مانگتا پھرتا ہے۔

Narrated Abu Huraira Allah's Apostle said, "The poor person is not the one who goes round the people and ask them for a mouthful or two (of meals) or a date or two but the poor is that who has not enough (money) to satisfy his needs and whose condition is not known to others, that others may give him something in charity, and who does not beg of people." ________________________________________

Permalink

Sahih BukhariHadith 1386

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَأَنْ يَأْخُذَ أَحَدُکُمْ حَبْلَهُ ثُمَّ يَغْدُوَ أَحْسِبُهُ قَالَ إِلَی الْجَبَلِ فَيَحْتَطِبَ فَيَبِيعَ فَيَأْکُلَ وَيَتَصَدَّقَ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ

عمرو بن حفص بن غیاث، حفص بن غیاث، اعمش، ابوصالح، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص اپنی رسی لے کر (میرا خیال ہے کہ آپ نے فرمایا) کہ پہاڑ کی طرف جائے لکڑی اٹھائے، اس کو بیچ کر کھائے اور صدقہ کرے اس سے بہتر ہے کہ لوگوں سے مانگتا پھرے۔

Narrated Abu Huraira The Prophet said, "No doubt, it is better for a person to take a rope and proceed in the morning to the mountains and cut the wood and then sell it, and eat from this income and give alms from it than to ask others for something." ________________________________________

Permalink