حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ ذَهَبْتُ بِعْبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيِّ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ وُلِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَبَائَةٍ يَهْنَأُ بَعِيرًا لَهُ فَقَالَ هَلْ مَعَکَ تَمْرٌ فَقُلْتُ نَعَمْ فَنَاوَلْتُهُ تَمَرَاتٍ فَأَلْقَاهُنَّ فِي فِيهِ فَلَاکَهُنَّ ثُمَّ فَغَرَ فَا الصَّبِيِّ فَمَجَّهُ فِي فِيهِ فَجَعَلَ الصَّبِيُّ يَتَلَمَّظُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُبُّ الْأَنْصَارِ التَّمْرَ وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ
عبدالاعلی بن حماد حماد بن سلمہ ثابت بن انس بن مالک، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں عبداللہ بن ابوطلحہ انصاری کی ولادت کے بعد اسے رسول اللہ کی خدمت میں لے کر حاضر ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سخت کام میں مشغول تھے یعنی اپنے اونٹ کو روغن مل رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تیرے پاس کھجوریں ہیں میں نے عرض کیا جی ہاں اور میں نے کچھ کھجوریں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے منہ میں ڈال کر چبایا پھر اس بچے کا منہ کھول کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بچے کے مندہ میں ڈال دیا بچہ نے اسے چوسنا شروع کردیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انصار کو کھجوریں پسندیدہ ہیں اور اس کا نام عبداللہ رکھا۔
Anas b. Malik reported: I took 'Abdullah b. Abi Talha Ansari to Allah's Messenger (may peace be upon him) at the time of his birth. Allah's Messenger (may peace be upon him) was at that time wearing a woollen cloak and besmearing the camels with tar. He said: Have you got with you the dates? I said: Yes. He took hold of the dates and put them in his mouth and softened them, then opened the mouth of the infant and put that in it and the child began to lick it. Thereupon Allah's Messenger (may peace be upon him) said: The Ansar have a liking for the dates, and he (the Holy Prophet) gave him the name of 'Abdullah.
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ کَانَ ابْنٌ لِأَبِي طَلْحَةَ يَشْتَکِي فَخَرَجَ أَبُو طَلْحَةَ فَقُبِضَ الصَّبِيُّ فَلَمَّا رَجَعَ أَبُو طَلْحَةَ قَالَ مَا فَعَلَ ابْنِي قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ هُوَ أَسْکَنُ مِمَّا کَانَ فَقَرَّبَتْ إِلَيْهِ الْعَشَائَ فَتَعَشَّی ثُمَّ أَصَابَ مِنْهَا فَلَمَّا فَرَغَ قَالَتْ وَارُوا الصَّبِيَّ فَلَمَّا أَصْبَحَ أَبُو طَلْحَةَ أَتَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ أَعْرَسْتُمْ اللَّيْلَةَ قَالَ نَعَمْ قَالَ اللَّهُمَّ بَارِکْ لَهُمَا فَوَلَدَتْ غُلَامًا فَقَالَ لِي أَبُو طَلْحَةَ احْمِلْهُ حَتَّی تَأْتِيَ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَی بِهِ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَعَثَتْ مَعَهُ بِتَمَرَاتٍ فَأَخَذَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَمَعَهُ شَيْئٌ قَالُوا نَعَمْ تَمَرَاتٌ فَأَخَذَهَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَضَغَهَا ثُمَّ أَخَذَهَا مِنْ فِيهِ فَجَعَلَهَا فِي فِي الصَّبِيِّ ثُمَّ حَنَّکَهُ وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، یزید بن ہارون، ابن عون ابن سیرین ، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ابوطلحہ کا بیٹا بیمار تھا ابوطلحہ کہیں باہر تشریف لے گئے تو بچہ فوت ہوگیا جب ابوطلحہ واپس آئے تو پوچھا میرے بیٹے کیا کیا حال ہے ام سلیم نے کہا وہ پہلے سے افاقہ میں ہے پھر انہیں شام کا کھانا پیش کیا ابوطلحہ نے کھانا کھایا پھر اپنی بیوی سے صحبت کی جب فارغ ہوئے تو ام سلیم نے کہا بچے کو دفن کر دو جب صبح ہوئی تو ابوطلحة نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو اس کی خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم نے رات کو صحبت بھی کی تو انہوں نے عرض کیا جی ہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ ان دونوں کے لئے برکت عطا فرمایا چنانچہ ام سلیم کے ہاں بچہ پیدا ہوا تو ابوطلحہ نے مجھے کہا کہ اسے اٹھا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے جاؤ انس اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائے اور ام سلیم نے کچھ کھجوریں بھی ساتھ بھیج دیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بچہ کے لے کو فرمایا کیا اس کے ساتھ کوئی چیز بھی ہے صحابہ نے عرض کیا جی ہاں کھجوریں ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لے کر چبایا پھر ان کھجوروں کو بچہ کے منہ میں ڈال دیا پھر اس کے تالو سے لگایا اور ان کھجوروں کو بچہ نے منہ میں ڈال دیا۔
Anas b. Malik reported that the son of Abu Talha had been ailing. Abu Talha set out (on a journey) and his son breathed his last (in his absence). When Abu Talha came back, he said (to his wife): What about my child? Umm Sulaim (the wife of Abu Talha) said: He is now in a more comfortable state than before. She served him the evening meal and he took it. He then came to her (and had sexual intercourse with her) and when it was all over she said: Make arrangements for the burial of the child. When it was morning. Abu Talha came to Allah's Messenger (may peace be upon him) and informed him, whereupon he said: Did you spend the night with her. He said: Yes. He (the Holy Prophet) then said: O Allah, bless both of them (and as a result of blessing) she gave birth to a child. Abu Talha said to me (Anas b. Malik) to take the child, (so I took him) and came to Allah's Messenger (may peace be upon him). She (Umm Sulaim) also had sent some dates (along with the child). Allah's Apostle (may peace be upon him) took him (the child) (in his lap) and said: Is there anything with you (for Tahnik). They (the Companions) said: Yes. Allah's Apostle (may peace be upon him) took hold of them (dates and chewed them). He then put them (the chewed dates) in the mouth of the child and then rubbed his palate and gave him the name of 'Abdullah.
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَنَسٍ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ نَحْوَ حَدِيثِ يَزِيدَ
محمد بن بشار، حامد بن مسعدہ ابن عون محمد بن انس، اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے۔
This hadith has been reported on the authority of Anas through another chain of transmitters.
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الْأَشْعَرِيُّ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ وُلِدَ لِي غُلَامٌ فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمَّاهُ إِبْرَاهِيمَ وَحَنَّکَهُ بِتَمْرَةٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن براد، اشعری ابوکریب ابواسامہ برید ابوبردہ ابوموسی حضرت ابوموسی سے روایت ہے کہ میرے ہاں بچہ پیدا ہوا تو میں اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام ابراہیم رکھا اور کھجور سے گھٹی دی۔
Abu Musa reported: A child was born in my house and I brought him to Allah's Apostle (may peace be upod him) and he gave him the name of Ibrahim and he rubbed his palate with dates.
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى أَبُو صَالِحٍ حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَقَ أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ وَفَاطِمَةُ بِنْتُ الْمُنْذِرِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّهُمَا قَالَا خَرَجَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ حِينَ هَاجَرَتْ وَهِيَ حُبْلَى بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ فَقَدِمَتْ قُبَاءً فَنُفِسَتْ بِعَبْدِ اللَّهِ بِقُبَاءٍ ثُمَّ خَرَجَتْ حِينَ نُفِسَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُحَنِّكَهُ فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا فَوَضَعَهُ فِي حَجْرِهِ ثُمَّ دَعَا بِتَمْرَةٍ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ فَمَكَثْنَا سَاعَةً نَلْتَمِسُهَا قَبْلَ أَنْ نَجِدَهَا فَمَضَغَهَا ثُمَّ بَصَقَهَا فِي فِيهِ فَإِنَّ أَوَّلَ شَيْءٍ دَخَلَ بَطْنَهُ لَرِيقُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَتْ أَسْمَاءُ ثُمَّ مَسَحَهُ وَصَلَّى عَلَيْهِ وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ ثُمَّ جَاءَ وَهُوَ ابْنُ سَبْعِ سِنِينَ أَوْ ثَمَانٍ لِيُبَايِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَهُ بِذَلِكَ الزُّبَيْرُ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَآهُ مُقْبِلًا إِلَيْهِ ثُمَّ بَايَعَهُ
حکم بن موسیٰ ابوصالح شعیب ابن اسحاق ہشام بن عروہ عروہ ابن زبیر فاطمہ بنت منذر بن زبیر اسما بنت ابوبکر حضرت عروہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن زبیر اور فاطمہ بنت منذر بن زبیر سے روایت ہے کہ حضرت اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حالت حمل میں ہجرت کے لئے چلیں جب قبا آئیں تو عبداللہ پیدا ہوئے پھر وہ رسول اللہ کی خدمت میں گھٹی کے لئے حاضر ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ کا ان سے لے لیا اور اپنی گود میں بٹھا کر کھجور منگوائی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتی ہیں ہم تھوڑی دیر کھجوریں تلاش کرتے رہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چبا کر اس کا لعاب دہن بچہ کے منہ میں ڈالا پس سب سے پہلی چیز جو اس بچہ کے منہ میں گئی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لعاب تھا اسما نے کہا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچہ ہاتھ پھیرا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام عبداللہ رکھا پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سات یا آٹھ سال کی عمر میں حضرت زبیر کے حکم پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرنے کے لئے حاضر ہوا تو رسول اللہ نے جب اسے پانی طرف آتے دیکھا تو مسکرائے پھر اسے بیعت کر لیا۔
'Urwa b. Zubair and Fatima daughter of Mandhir b. Zubair, reported that Asma' daughter of Abu Bakr was at the time of migration in the family way with 'Abdullah b. Zubair (in her womb). She came to Quba' and gave birth to 'Abdullah at that place and then sent him to Allah's Messenger (may peace be upon him) so that he should rub his palate with chewed dates. Allah's Messenger (may peace he upon him) took hold of him (the child) and he placed him in his lap and then called for dates. 'A'isha said: Some time was spent before we were able to find them. He (the Holy Prophet) chewed them and then put his saliva in his mouth. The first thing that entered his stomach, was the saliva of Allah's Messenger (may peace be upon him). Asma' said: He then rubbed him and blessed him and gave him the name of Abdullah. He ('Abdullah) went to him (the Holy Prophet) when he had attained the age of seven or eight years in order to pledge allegiance to Allah's Messenger (may peace be upon him) as Zubair had commanded him to do. Allah's Messenger (may peace be upon him) smiled when he saw him coming towards him and then accepted his allegiance.
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَسْمَائَ أَنَّهَا حَمَلَتْ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ بِمَکَّةَ قَالَتْ فَخَرَجْتُ وَأَنَا مُتِمٌّ فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَنَزَلْتُ بِقُبَائٍ فَوَلَدْتُهُ بِقُبَائٍ ثُمَّ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعَهُ فِي حَجْرِهِ ثُمَّ دَعَا بِتَمْرَةٍ فَمَضَغَهَا ثُمَّ تَفَلَ فِي فِيهِ فَکَانَ أَوَّلَ شَيْئٍ دَخَلَ جَوْفَهُ رِيقُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ حَنَّکَهُ بِالتَّمْرَةِ ثُمَّ دَعَا لَهُ وَبَرَّکَ عَلَيْهِ وَکَانَ أَوَّلَ مَوْلُودٍ وُلِدَ فِي الْإِسْلَامِ
ابوکریب محمد بن علاء ابواسامہ ہشام ، اسماء سے روایت ہے کہ وہ مکہ میں عبداللہ بن زبیر سے حاملی تھی جب میں مکہ سے نکلی تو میں نے اسے قباء میں جنم دیا پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی گود میں بٹھا لیا پھر کھجوریں منگوائیں ان کو چبا کر بچہ کے منہ میں لعاب ڈالا اور سب سے پہلی چیز جو اس کے پیٹ میں گئی وہ رسول اللہ کا لعاب مبارک تھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے انہیں کھجور کی گھٹی دی پھر اس کے لئے برکت کی دعا کی اور یہ سب سے پہلے بچے تھے جو مسلمانوں کے ہاں پیدا ہوئے۔
Asma' reported that she had become pregnant at Mecca with Abdullah b. Zubair (in her womb) and she (further) said: I set out (for migration to Medina) as I was in the advanced stage of pregnancy. I came to Medina and got down at the place known as Quba' and gave birth to a child there. Then I came to Allah's Messenger (may peace he upon him). He placed him (the child) in his lap and then commanded for the dates to be brought. He chewed them and then put the saliva in his mouth. The first thing which went into his stomach was the saliva of Allah's Messenger (may peace be upon him). He then rubbed his palate with dates and then invoked blessings for him and blessed him. He was the first child who was born in Islam (after Migration).
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِي بَکْرٍ أَنَّهَا هَاجَرَتْ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ حُبْلَی بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ فَذَکَرَ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ
ابوبکر بن ابی شبیہ خالد بن مخلد علی بن مسہر، ہشام بن عروہ اسماء بنت ابوبکر صدیق حضرت اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ کی طرف حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن زبیر کے حمل سے ہجرت کی باقی حدیث مبارکہ اسی طرح ہے۔
Asma', daughter of Abu Bakr, reported that when she migrated to Allah's Messenger (may peace be upon him) in Medina she was in the family way with Abdullah b. Zubair in her womb.
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يُؤْتَی بِالصِّبْيَانِ فَيُبَرِّکُ عَلَيْهِمْ وَيُحَنِّکُهُمْ
ابوبکر بن ابی شبیہ عبداللہ بن نمیر ہشام ابن عروہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ کی خدمت میں بچے لائے جاتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لئے برکت کی دعا فرماتے اور انہیں گھٹی دیتے۔
'A'isha reported that the new-born infants were brought to Allah's Messenger (may peace be upon him). He blessed them and rubbed their palates with dates.
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ جِئْنَا بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَنِّکُهُ فَطَلَبْنَا تَمْرَةً فَعَزَّ عَلَيْنَا طَلَبُهَا
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوخالد احمر ہشام حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ ہم عبداللہ بن زبیر کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں گھٹی دی ہم نے کھجور تلاش کی تو ہمیں اس کا تلاش کرنا مشکل ہوا یعنی مشکل سے ملی۔
'A'isha reported: We took 'Abdullah b. Zubair to Allah's Apostle (may peace be upon him) so that he should put saliva in his mouth and we had to make a good deal of effort in order to procure them.
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَقَ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ مُطَرِّفٍ أَبُو غَسَّانَ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ أُتِيَ بِالْمُنْذِرِ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ وُلِدَ فَوَضَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی فَخِذِهِ وَأَبُو أُسَيْدٍ جَالِسٌ فَلَهِيَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْئٍ بَيْنَ يَدَيْهِ فَأَمَرَ أَبُو أُسَيْدٍ بِابْنِهِ فَاحْتُمِلَ مِنْ عَلَی فَخِذِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقْلَبُوهُ فَاسْتَفَاقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَيْنَ الصَّبِيُّ فَقَالَ أَبُو أُسَيْدٍ أَقْلَبْنَاهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ مَا اسْمُهُ قَالَ فُلَانٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لَا وَلَکِنْ اسْمُهُ الْمُنْذِرُ فَسَمَّاهُ يَوْمَئِذٍ الْمُنْذِرَ
محمد بن سہل تمیمی ابوبکر بن اسحاق ابن ابی مریم محمد بن مطرف ابوغسان ابوحازم ، سہل بن سعد منذر بن ابی اسید حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب منذر بن ابواسید پیدا ہوئے تو انہیں رسول اللہ کی خدمت میں لایا گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی ران پر بٹھا لیا ابواسید بھی حاضر خدمت تھا رسول اللہ اپنے سامنے موجود کسی چیز میں مشغول ہو گئے اباسید نے اپنے بیٹے کو اٹھانے کا حکم دیا تو اسے رسول اللہ کی ران پر سے اٹھا لیا گیا وہ اسے لے گئے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کام سے فارغ ہو کر متوجہ ہوئے تو فرمایا بچہ کہاں ہے ابواسید نے عرض کیا اے اللہ کے رسول میں نے اسے اٹھالیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کام کا کیا ہے عرض کیا اے اللہ کے رسول فلاں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں بلکہ اس کا نام منذر ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام اسی دن سے منذر رکھ دیا۔
Sahl b. Sa'd reported that Mundhir b. Aba Usaid was brought to Allah's Messenger (may peace be upon him) at the time of his birth Allah's. Apostle (may peace be upon him) placed him on his thigh and Abi Usaid kept sitting there. Allah's Apostle (may peace be upon him) had been occupied with something else before him. Abu Usaid commanded his child to be lifted from the lap of Allah's Messenger (may peace be upon him) and so he was lifted. When Allah's Messenger (may peace be upon him) had finished the work he said: Where is the child? Abd Usaid said: Allah's Messenger, we took him away. He said: What is his name? He said; Allah's Messenger, it is so and so, whereupon he (the Holy Prophet) said: Nay, his name is Mundhir, and named him Mundhir on that day.