TrueHadith

قربانی کے دن کنکریاں مارنے پھر قربانی کرنے پھر حلق کرانے اور حلق وائیں جانب سے سر منڈا شروع کرنے کی سنت کے بیان میں

Sahih MuslimHadith 2298

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَی مِنًی فَأَتَی الْجَمْرَةَ فَرَمَاهَا ثُمَّ أَتَی مَنْزِلَهُ بِمِنًی وَنَحَرَ ثُمَّ قَالَ لِلْحَلَّاقِ خُذْ وَأَشَارَ إِلَی جَانِبِهِ الْأَيْمَنِ ثُمَّ الْأَيْسَرِ ثُمَّ جَعَلَ يُعْطِيهِ النَّاسَ

یحیی بن یحیی، حفص بن غیاث، ہشام، بن محمد بن سیرین، حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منیٰ تشریف لائے تو پہلے جمرہ عقبہ پر آئے اور اسے کنکریاں ماریں پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منی میں اپنی ٹھہرنے کی جگہ تشریف لائے اور قربانی کی پھر حجام سے فرمایا کہ استرہ پکڑ اور دائیں جانب کی طرف اشارہ فرمایا کہ دائیں طرف سے شروع کرو پھر بائیں طرف سے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ بال لوگوں کو عطاء فرمائے۔

Anas b. Malik (Allah be pleased wish him) reported that Allah's Messenger (may peace be upon him) came to Mina; he went to the Jamra and threw pebbles at it, after which he went to his lodging in Mina, and sacrificed the animal. He then called for a barber and, turning his right side to him, let him shave him; after which he turned his left side. He then gave (these hair) to the people.

Permalink

Sahih MuslimHadith (internal ref #1220660)

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالُوا أَخْبَرَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ أَمَّا أَبُو بَکْرٍ فَقَالَ فِي رِوَايَتِهِ لِلْحَلَّاقِ هَا وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَی الْجَانِبِ الْأَيْمَنِ هَکَذَا فَقَسَمَ شَعَرَهُ بَيْنَ مَنْ يَلِيهِ قَالَ ثُمَّ أَشَارَ إِلَی الْحَلَّاقِ وَإِلَی الْجَانِبِ الْأَيْسَرِ فَحَلَقَهُ فَأَعْطَاهُ أُمَّ سُلَيْمٍ وَأَمَّا فِي رِوَايَةِ أَبِي کُرَيْبٍ قَالَ فَبَدَأَ بِالشِّقِّ الْأَيْمَنِ فَوَزَّعَهُ الشَّعَرَةَ وَالشَّعَرَتَيْنِ بَيْنَ النَّاسِ ثُمَّ قَالَ بِالْأَيْسَرِ فَصَنَعَ بِهِ مِثْلَ ذَلِکَ ثُمَّ قَالَ هَا هُنَا أَبُو طَلْحَةَ فَدَفَعَهُ إِلَی أَبِي طَلْحَةَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر، ابوکریب، حفص، ابن غیاث، حضرت ہشام سے اس سند کے ساتھ روایت ہے اور اس روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجام سے فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہاتھ کے ساتھ دائیں جانب کی طرف سے شروع کرنے کا اشارہ فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان بالوں کو جو کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب تھے ان میں تقسیم فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر حجام کو بائیں جانب کی طرف اشارہ فرمایا تو اس نے وہ مونڈے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ بال حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو عطاء فرمائے اور ابوکریب کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دائیں طرف سے شروع فرمایا اور ایک اور دو دو بال لوگوں کے درمیان تقسیم فرمائے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بائیں طرف سے بھی اسی طرح کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہاں ابوطلحہ ہیں تو وہ بال ابوطلحہ کو عطاء فرما دئیے۔

Abu Bakr reported: (He called for) the barber and, pointing towards the right side of his head, said: (Start from) here, and then distributed his hair among those who were near him. He then pointed to the barber (to shave) the left side and he shaved it, and he gave (these hair) to Umm Sulaim (Allah be pleased with her). And in the narration of Abu Kuraib (the words are): "He started from the right half (of his head), and he distributed a hair or two among the people, and then (asked the barber) to shave the left side and he did similarly, and he (the Holy Prophet) said: Here is Abu Talha and he gave these (hair) to Abu Talha."

Permalink

Sahih MuslimHadith 2299

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَی جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَی الْبُدْنِ فَنَحَرَهَا وَالْحَجَّامُ جَالِسٌ وَقَالَ بِيَدِهِ عَنْ رَأْسِهِ فَحَلَقَ شِقَّهُ الْأَيْمَنَ فَقَسَمَهُ فِيمَنْ يَلِيهِ ثُمَّ قَالَ احْلِقْ الشِّقَّ الْآخَرَ فَقَالَ أَيْنَ أَبُو طَلْحَةَ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ

محمد بن مثنی، عبدالاعلی، ہشام، محمد، حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جمرہ عقبہ کو کنکریاں ماریں پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اونٹوں کی طرف تشریف لے گئے اور ان کو قربان کیا اور حجام بیٹھے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اپنے سر کے بارے میں فرمایا تو اس نے دائیں طرف سے بال مونڈ دئیے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان بالوں کو جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب تھے ان میں تقسیم فرما دیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ دوسری طرف سے مونڈ دے اور فرمایا کہ ابوطلحہ کہاں ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بال ان کو عطا فرما دئیے۔

Anas b. Malik (Allah be pleased with him) reported that Allah's Messenger (may peace be upon him) threw stones at Jamrat al-'Aqaba. He then want to his sacrificial animal and sacrificed it, and there was sitting the barber, and he pointed with his hand towards his head, and he shaved the right half of it, and he (the Holy Prophet) distributed them (the hair) among those who were near him. And he again said: Shave the other half, and said: Where is Abu Talha and gave it (the hair) to him.

Permalink

Sahih MuslimHadith 2300

و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَسَّانَ يُخْبِرُ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ لَمَّا رَمَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَمْرَةَ وَنَحَرَ نُسُکَهُ وَحَلَقَ نَاوَلَ الْحَالِقَ شِقَّهُ الْأَيْمَنَ فَحَلَقَهُ ثُمَّ دَعَا أَبَا طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيَّ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ ثُمَّ نَاوَلَهُ الشِّقَّ الْأَيْسَرَ فَقَالَ احْلِقْ فَحَلَقَهُ فَأَعْطَاهُ أَبَا طَلْحَةَ فَقَالَ اقْسِمْهُ بَيْنَ النَّاسِ

ابن ابی عمر، سفیان، ہشام بن حسان، ابن سیرین، حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرمایا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جمرہ کو کنکریاں ماریں اور قربانی ذبح کرلی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی دائیں جانب حجام کے سامنے کی تو اس نے وہ مونڈ دی پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوطلحہ انصاری کو بلوایا اور انہیں یہ بال عطا فرمائے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بائیں جانب حجام کے سامنے کی اور اسے فرمایا کہ اسے مونڈ دے تو اس نے مونڈ دیئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بال حضرت ابوطلحہ کو دے کر فرمایا کہ ان کو لوگوں کے درمیان تقسیم کر دو۔

Anas b. Malik (Allah be pleased with him) reported: When Allah's Messenger (may peace be upon him) had thrown pebbles at the Jamra and had sacrificed the animal, he turned (the right side) of his head towards the barber, and i. e shaved it. He then called Abu Talha al-Ansari and gave it to him. He then turned his left side and asked him (the barber) to shave. And he (the barber) shaved. and gave it to Abu Talha and told him to distribute it amongst the people.

Permalink

Sahih MuslimHadith 2301

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عِيسَی بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِمِنًی لِلنَّاسِ يَسْأَلُونَهُ فَجَائَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ أَشْعُرْ فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ فَقَالَ اذْبَحْ وَلَا حَرَجَ ثُمَّ جَائَهُ رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ أَشْعُرْ فَنَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ فَقَالَ ارْمِ وَلَا حَرَجَ قَالَ فَمَا سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْئٍ قُدِّمَ وَلَا أُخِّرَ إِلَّا قَالَ افْعَلْ وَلَا حَرَجَ

یحیی بن یحیی، مالک، ابن شہاب، عیسیٰ بن طلحہ بن عبید اللہ، حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حجة الوداع میں منی میں ٹھہرے تاکہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مسائل وغیرہ پوچھ سکیں تو ایک آدمی آیا اور اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! میں نے قربانی کرنے سے پہلے حلق یعنی سر منڈا لیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی حرج نہیں اب قربانی ذبح کرلو پھر ایک دوسرا آدمی آیا اور اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے قربانی کرلی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی حرج نہیں اب کنکریاں مار لو راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جس عمل کو بھی آگے پیچھے کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہی فرمایا کہ کوئی حرج نہیں اب کرلو ۔

Abdullah b. 'Amr b. al-'As said that Allah's Messenger (may peace be upon him) stopped during the Farewell Pilgrimage at Mina for people who had something to ask. A man came and said: Messenger of Allah, being ignorant. I shaved before sacrificing, whereupon he (the Holy Prophet) said: Now sacrifice (the animal) and there is no harm (for you). Then another man came and he said: Messenger of Allah, being ignorant, I sacrificed before throwing the pebbles, whereupon he (the Holy Prophet) said: (Now) throw the pebbles, and there is no harm (for you). Allah's Messenger (may peace be upon him) was not asked about anything which had been done before or after (its proper time) but he said: Do it, and no harm is there (for you).

Permalink

Sahih MuslimHadith 2302

و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي عِيسَی بْنُ طَلْحَةَ التَّيْمِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ يَقُولُا وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی رَاحِلَتِهِ فَطَفِقَ نَاسٌ يَسْأَلُونَهُ فَيَقُولُ الْقَائِلُ مِنْهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَمْ أَکُنْ أَشْعُرُ أَنَّ الرَّمْيَ قَبْلَ النَّحْرِ فَنَحَرْتُ قَبْلَ الرَّمْيِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَارْمِ وَلَا حَرَجَ قَالَ وَطَفِقَ آخَرُ يَقُولُ إِنِّي لَمْ أَشْعُرْ أَنَّ النَّحْرَ قَبْلَ الْحَلْقِ فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ فَيَقُولُ انْحَرْ وَلَا حَرَجَ قَالَ فَمَا سَمِعْتُهُ يُسْأَلُ يَوْمَئِذٍ عَنْ أَمْرٍ مِمَّا يَنْسَی الْمَرْئُ وَيَجْهَلُ مِنْ تَقْدِيمِ بَعْضِ الْأُمُورِ قَبْلَ بَعْضٍ وَأَشْبَاهِهَا إِلَّا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ افْعَلُوا ذَلِکَ وَلَا حَرَجَ

حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، عیسی، ابن طلحہ، حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی سواری پر کھڑے ہوئے تھے تو لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھنا شروع کردیا ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا اے اللہ کے رسول! مجھے معلوم نہیں تھا کہ کنکریاں قربانی سے پہلے ماری جاتی ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تو اب کنکریاں مار لو اور کوئی حرج نہیں حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دوسرے آدمی نے آکر کہا کہ مجھے معلوم نہیں تھا کہ قربانی سر منڈانے سے پہلے کی جاتی ہے اور میں نے قربانی کرنے سے پہلے سر منڈا لیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا قربانی اب کرلو اور کوئی حرج نہیں عبداللہ فرماتے ہیں اس دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کسی بھی کام کو آگے پیچھے بھول کر یا جہالت کی بناء پر کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان تمام کاموں کے بارے میں فرمایا کہ اب کرلو کوئی حرج نہیں۔

'Abdullah b. 'Amr b. al-'As (Allah be pleased with them) reported: Allah's Messenger (may peace be upon him) stopped while riding his camel and the people began to ask him. One of the inquirers said: Messenger of Allah, I did not know that pebbles should be thrown before sacrificing the animal, and by mistake I sacrificed the animal before throwing pebbles, whereupon Allah's Messenger (may peace be upon him) said: (Now) throw pebbles and there is no harm in it. Then another (person) came saying: I did not know that the animal was to be sacrificed before shaving, but I got myself shaved before sacrificing the animal, whereupon he (the Holy Prophet) said: Sacrifice the animal (now) and there is no harm in it. He (the narrator) said: I did not hear that anything was asked on that day (about a matter) which a person forgot and could not observe the sequence or anything like it either due to forgetfulness or ignorance, but Allah's Messenger (may peace be upon him) said (about that): Do it; there is no harm in it.

Permalink

Sahih MuslimHadith (internal ref #1220665)

حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ عَنْ الزُّهْرِيِّ إِلَی آخِرِهِ

حسن حلوانی، یعقوب ابی صالح، ابن شہاب، حضرت زہری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے آخر تک اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Zuhri.

Permalink

Sahih MuslimHadith 2303

و حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ أَخْبَرَنَا عِيسَی عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ شِهَابٍ يَقُولُ حَدَّثَنِي عِيسَی بْنُ طَلْحَةَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَا هُوَ يَخْطُبُ يَوْمَ النَّحْرِ فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَقَالَ مَا کُنْتُ أَحْسِبُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَّ کَذَا وَکَذَا قَبْلَ کَذَا وَکَذَا ثُمَّ جَائَ آخَرُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ کُنْتُ أَحْسِبُ أَنَّ کَذَا قَبْلَ کَذَا وَکَذَا لِهَؤُلَائِ الثَّلَاثِ قَالَ افْعَلْ وَلَا حَرَجَ

علی بن خشرم، عیسی، ابن جریج، ابن شہاب، عیسیٰ بن طلحہ، حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے سامنے قربانی کے دن خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! میں جانتا نہیں تھا کہ فلاں فلاں عمل فلاں عمل سے پہلے ہے پھر ایک دوسرا آدمی آیا اور اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرا گمان ہے کہ فلاں عمل فلاں عمل سے پہلے ہے ان تینوں کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اب کرلو کوئی حرج نہیں۔

Abdullah b. Amr b. al-'As (Allah be pleased with them) reported: As Allah's Apostle (may peace be upon him) was delivering sermon on the Day of Nahr, a man stood up before him and said: Messenger of Allah, I did not know that such and such (rite was to be performed) before such and such (rite). Then another man came and said: Messenger of Allah, I thought that such and such (rite) should precede such and such (rite), and then another man came and said: Messenger of Allah, I had thought that such and such was before such and such, and such and such (is the sequence) of the three (rites, viz. throwing of pebbles, sacrificing of animal and shaving of one's head). He said to all these three: Do now (if you have not observed the sequence); there is no harm in it.

Permalink

Sahih MuslimHadith (internal ref #1220667)

و حَدَّثَنَاه عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ ح و حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَحْيَی الْأُمَوِيُّ حَدَّثَنِي أَبِي جَمِيعًا عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ أَمَّا رِوَايَةُ ابْنِ بَکْرٍ فَکَرِوَايَةِ عِيسَی إِلَّا قَوْلَهُ لِهَؤُلَائِ الثَّلَاثِ فَإِنَّهُ لَمْ يَذْکُرْ ذَلِکَ وَأَمَّا يَحْيَی الْأُمَوِيُّ فَفِي رِوَايَتِهِ حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ نَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ وَأَشْبَاهُ ذَلِکَ

عبد بن حمید، محمد بن بکر، سعید بن یحیی، حضرت ابن جریج سے اس سند کے ساتھ روایت ہے باقی اس میں تین کا ذکر نہیں اور یحیی اموی کی روایت میں یہ ہے کہ میں نے قربانی کرنے سے پہلے حلق کرایا اور میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے قربانی کر لی۔

This hadith has been narrated on the authority of Ibn Juraij with the same chain of transmitters. And the narration of Ibn Bakr is like one transmitted by 'Isa but with this (variation): "There are not these words in it: To all these three rites (throwing of pebbles sacrificing of animal and shaving of one's head)." And so far as the narration of Yahya al-Umawi (the words are): I got (my head) shaved before I sacrificed the animal, and I sacrificed the animal before throwing pebbles, and like that.

Permalink

Sahih MuslimHadith 2304

و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عِيسَی بْنِ طَلْحَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ أَتَی النَّبِيَّ رَجُلٌ فَقَالَ حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ قَالَ فَاذْبَحْ وَلَا حَرَجَ قَالَ ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ قَالَ ارْمِ وَلَا حَرَجَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، ابن عیینہ، عیسیٰ بن طلحہ، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرمایا کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا کہ میں نے قربانی ذبح کرنے سے پہلے حلق کرلیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم اب قربانی کرلو اور کوئی حرج نہیں اسی طرح ایک اور آدمی نے آکر عرض کیا کہ میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے قربانی کرلی ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم اب کنکریاں مار لو اور کوئی حرج نہیں۔

'Abdullah b. 'Amr b. al-As (Allah be pleased with them) said: As Allah's Messenger (may peace be upon him) was standing near the jamra, a person came to him on the Day of Nahr and said: Messenger of Allah, I got (my head shaved) before throwing pebbles, whereupon he (the Holy Prophet) said: Throw pebbles (now); there is no harm in it. Another man (then) came and said: I have sacrificed before throwing the stones. He said: Throw stones (now) and there is no harm. Another came to him and said: I have observed the circumambulation of Ifada of the House before throwing pebbles. He said: Throw pebbles (now); there is no harm in it. He (the narrator) said: I did not see that he (the Holy Prophet) was asked about anything on that day, but he said: Do, and there is no harm in it.

Permalink

Sahih MuslimHadith (internal ref #1220669)

و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی نَاقَةٍ بِمِنًی فَجَائَهُ رَجُلٌ بِمَعْنَی حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ

ابن ابی عمرو، عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، حضرت زہری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس سند کے ساتھ روایت ہے اس میں ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو منیٰ میں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی اونٹنی پر سوار ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک آدمی آیا آگے ابن عینیہ کی حدیث کی طرح ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters (and the words are): "I saw Allah's Messenger (may peace be upon him) on the back of the camel at Mina, and a person came to him," and the rest of the hadith is like that transmitted by Ibn 'Uyaina.

Permalink

Sahih MuslimHadith 2305

و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَکِ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عِيسَی بْنِ طَلْحَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَتَاهُ رَجُلٌ يَوْمَ النَّحْرِ وَهُوَ وَاقِفٌ عِنْدَ الْجَمْرَةِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ فَقَالَ ارْمِ وَلَا حَرَجَ وَأَتَاهُ آخَرُ فَقَالَ إِنِّي ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ قَالَ ارْمِ وَلَا حَرَجَ وَأَتَاهُ آخَرُ فَقَالَ إِنِّي أَفَضْتُ إِلَی الْبَيْتِ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ قَالَ ارْمِ وَلَا حَرَجَ قَالَ فَمَا رَأَيْتُهُ سُئِلَ يَوْمَئِذٍ عَنْ شَيْئٍ إِلَّا قَالَ افْعَلُوا وَلَا حَرَجَ

محمد بن عبداللہ بن قہزاد علی بن حسن، عبداللہ بن مبارک، محمد بن ابی حفصہ، عیسیٰ بن طلحہ، حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے کہ ایک آدمی قربانی کے دن آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمرہ کے پاس کھڑے تھے تو اس آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے حلق کرلیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اب کنکریاں مار لو اور کوئی حرج نہیں اور ایک دوسرا آدمی آیا اور اس نے عرض کیا کہ میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے قربانی ذبح کرلی ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کوئی حرج نہیں اب کنکریاں مار لو اسی طرح ایک تیسرا آدمی آیا اور اس نے عرض کیا کہ میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے بیت اللہ کا طواف افاضہ کرلیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کوئی حرج نہیں اب کنکریاں مار لو راوی کہتے ہیں کہ اس دن میں نے نہیں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کسی بھی عمل کے بارے میں پوچھا گیا ہو سوائے اس کے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی حرج نہیں اب کرلو ۔

Adullah b. 'Amr (b. al-'As) (Allah be pleased with him) reported that a person came to Allah's Apostle (may peace be upon him) and said: I got (my head) shaved before sacrificing the animal, whereupon be (the Holy Prophet) said: Sacrifice the animal (now); there is no harm in it. He (the person said): I sacrificed the animal before throwing pebbles, whereupon he said: Throw pebbles (now); there is no harm in it.

Permalink

Sahih MuslimHadith 2306

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِيلَ لَهُ فِي الذَّبْحِ وَالْحَلْقِ وَالرَّمْيِ وَالتَّقْدِيمِ وَالتَّأْخِيرِ فَقَالَ لَا حَرَجَ

محمد بن حاتم، بہز، وہیب، عبداللہ بن طاؤس، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذبح اور حلق کرانے اور کنکریاں مارنے کے بارے میں آگے پیچھے یعنی ترتیب کے بارے میں پوچھا گیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی گناہ نہیں۔

Ibn Abbas (Allah be pleased with them) reported that it was said to Allah's Apostle (may peace be upon him) about sacrificing of animals, shaving of one's head, throwing of pebbles, and (the order of) precedence and succession, and he said: There is no harm in it.

Permalink