TrueHadith

اس بات کے بیان میں کہ دوزخ میں ظالم متکبر داخل ہوں گے اور جنت میں کمزور مسکین داخل ہوں گے۔

Sahih MuslimHadith 5081

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَّتْ النَّارُ وَالْجَنَّةُ فَقَالَتْ هَذِهِ يَدْخُلُنِي الْجَبَّارُونَ وَالْمُتَکَبِّرُونَ وَقَالَتْ هَذِهِ يَدْخُلُنِي الضُّعَفَائُ وَالْمَسَاکِينُ فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِهَذِهِ أَنْتِ عَذَابِي أُعَذِّبُ بِکِ مَنْ أَشَائُ وَرُبَّمَا قَالَ أُصِيبُ بِکِ مَنْ أَشَائُ وَقَالَ لِهَذِهِ أَنْتِ رَحْمَتِي أَرْحَمُ بِکِ مَنْ أَشَائُ وَلِکُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْکُمَا مِلْؤُهَا

ابن ابی عمر سفیان، ابی زناد اعرج حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دوزخ اور جنت کا آپس میں جھگڑا ہوا دوزخ نے کہا میرے اندر بڑے بڑے ظالم اور متکبر لوگ داخل ہوں گے اور جنت نے کہا میرے اندر کمزور اور مسکین لوگ داخل ہوں گے تو اللہ عزوجل نے دوزخ سے فرمایا تو میرا عذاب ہے میں تیرے ذریعے جسے چاہوں گا عذاب دوں گا اور اللہ تعالیٰ نے جنت سے فرمایا تو میری رحمت ہے میں تیرے ذریعے جس پر چاہوں گا رحمت کروں گا لیکن تم میں ہر ایک کا بھرنا ضروری ہے۔

Abu Huraira reported Allah's Messenger (may peace be upon him) as say- ing: There was a dispute between the Hell and the Paradise and it (the Hell) said: The haughty and the proud would find abode in me. And the Paradise said: The meek and the humble would find their abode in me. Thereupon Allah, the Exalted and Glorious, (addressing the Hell) said: You are (the means) of My punishment by which I punish those of My servants whom I wish. (And addressing the Paradise) He said: You are only My Mercy by means of which 1 shall show mercy to those whom I wish, but each one of you would be full.

Permalink

Sahih MuslimHadith 5082

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ حَدَّثَنِي وَرْقَائُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَحَاجَّتْ النَّارُ وَالْجَنَّةُ فَقَالَتْ النَّارُ أُوثِرْتُ بِالْمُتَکَبِّرِينَ وَالْمُتَجَبِّرِينَ وَقَالَتْ الْجَنَّةُ فَمَا لِي لَا يَدْخُلُنِي إِلَّا ضُعَفَائُ النَّاسِ وَسَقَطُهُمْ وَعَجَزُهُمْ فَقَالَ اللَّهُ لِلْجَنَّةِ أَنْتِ رَحْمَتِي أَرْحَمُ بِکِ مَنْ أَشَائُ مِنْ عِبَادِي وَقَالَ لِلنَّارِ أَنْتِ عَذَابِي أُعَذِّبُ بِکِ مَنْ أَشَائُ مِنْ عِبَادِي وَلِکُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْکُمْ مِلْؤُهَا فَأَمَّا النَّارُ فَلَا تَمْتَلِئُ فَيَضَعُ قَدَمَهُ عَلَيْهَا فَتَقُولُ قَطْ قَطْ فَهُنَالِکَ تَمْتَلِئُ وَيُزْوَی بَعْضُهَا إِلَی بَعْضٍ

محمد بن رافع شبابہ ورقاء ابی زناد اعرج، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ دوزخ اور جنت میں جھگڑا ہوا تو دوزخ نے کہا مجھے متکبر اور ظالم لوگوں کی وجہ سے فضیلت دی گئی ہے اور جنت نے کہا کہ پھر اس کی کیا وجہ ہے کہ میرے اندر سوائے کمزور حقیر اور عاجز لوگوں کے اور کوئی داخل نہیں ہوگا تو اللہ تعالیٰ نے جنت سے فرمایا تو میری رحمت ہے میں تیرے ذریعے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہوں گا رحمت کروں گا اور اللہ تعالیٰ نے دوزخ سے فرمایا تو میرا عذاب ہے میں تیرے ذریعے سے اپنے بندوں میں سے جسے چاہوں گا عذاب دوں گا لیکن تم میں سے ہر ایک کو میں نے ضرور بھرنا ہے پھر جب دوزخ نہیں بھرے گی تو اللہ تعالیٰ اپنا قدم دوزخ پر رکھیں گے تو پھر دوزخ کہے گی بس بس پھر دوزخ اسی وقت بھر جائے گی اور اس کا ایک حصہ دوسرے کی طرف سمٹ جائے گا۔

Abu Huraira reported Allah's Messenger (may peace be upon him) as saying: The Hell and the Paradise fell into dispute and the Hell said: I have been dis- tinguished by the proud and the haughty. And the Paradise said: What is the matter with me that the meek and the humble amongst people and the downtrodden and the simple enter me? Thereupon Allah said to the Paradise: You are (the means) of My Mercy whereby I show mercy to those of My servants whom 1 wish, and He said to the Hell: You are (the means) of punishment whereby 1 punish those of My servants whoml wish. Both of you will be full. The Hell will riot be filled up until Allah puts down His foot in it. The Hell would say: Enough, enough, enough, and at that time it will be filled up, all its parts integrated together.

Permalink

Sahih MuslimHadith (internal ref #1232674)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ الْهِلَالِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو سُفْيَانَ يَعْنِي مُحَمَّدَ بْنَ حُمَيْدٍ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ احْتَجَّتْ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمَعْنَی حَدِيثِ أَبِي الزِّنَادِ

عبداللہ بن عون ہلالی ابوسفیان، محمد بن حمید معمر، ایوب ابن سیرین حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت اور دوزخ کا آپس میں جھگڑا ہوا اور پھر ابوالزناد کی حدیث کی طرح روایت بیان کی ہے۔

Abu Huraira reported Allah's Apostle (may peace be upon him) as saying: The Paradise and the Hell disputed with each other. The rest of the hadith is the same.

Permalink

Sahih MuslimHadith 5083

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحَاجَّتْ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ فَقَالَتْ النَّارُ أُوثِرْتُ بِالْمُتَکَبِّرِينَ وَالْمُتَجَبِّرِينَ وَقَالَتْ الْجَنَّةُ فَمَا لِي لَا يَدْخُلُنِي إِلَّا ضُعَفَائُ النَّاسِ وَسَقَطُهُمْ وَغِرَّتُهُمْ قَالَ اللَّهُ لِلْجَنَّةِ إِنَّمَا أَنْتِ رَحْمَتِي أَرْحَمُ بِکِ مَنْ أَشَائُ مِنْ عِبَادِي وَقَالَ لِلنَّارِ إِنَّمَا أَنْتِ عَذَابِي أُعَذِّبُ بِکِ مَنْ أَشَائُ مِنْ عِبَادِي وَلِکُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْکُمَا مِلْؤُهَا فَأَمَّا النَّارُ فَلَا تَمْتَلِئُ حَتَّی يَضَعَ اللَّهُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی رِجْلَهُ تَقُولُ قَطْ قَطْ قَطْ فَهُنَالِکَ تَمْتَلِئُ وَيُزْوَی بَعْضُهَا إِلَی بَعْضٍ وَلَا يَظْلِمُ اللَّهُ مِنْ خَلْقِهِ أَحَدًا وَأَمَّا الْجَنَّةُ فَإِنَّ اللَّهَ يُنْشِئُ لَهَا خَلْقًا

محمد بن رافع عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت اور دوزخ کا آپس میں جھگڑا ہوا دوزخ کہنے لگی مجھے متکبر اور ظالم لوگوں کی وجہ سے فضیلت دی گئی ہے اور جنت کہنے لگی مجھے کیا ہے میرے اندر تو سوائے کمزور حقیر اور عاجز لوگوں کے اور کوئی داخل نہیں ہوگا اللہ تعالیٰ نے جنت سے فرمایا تو میری رحمت ہے میں تیرے ذریعے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہوں گا رحم کروں گا اور دوزخ سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تو میرا عذاب ہے میں تیرے ذریعے اپنے بندوں میں سے جسے چاہوں گا عذاب دوں گا لیکن تم میں سے ہر ایک کو بھرنا ضروری ہے پھر جب دوزخ نہیں بھرے گی تو اللہ تعالیٰ اس پر اپنا قدم رکھیں گے تو دوزخ کہے گی بس بس پھر وہ بھر جائے گی اور اللہ اپنی مخلوق میں سے کسی پر ظلم نہیں کرے گا اور جنت کو بھرنے کے لئے اللہ تعالیٰ ایک نئی مخلوق پیدا فرمائے گا۔

Hammam b. Munabbih reported that Abu Huraira narrated to them some ahadith of Allah's Messenger (may peace be upon him) and one of them is this that Allah's Messenger (may peace be upon him) said: The Paradise and the Hell fell into dispute and the Hell said: 1 have been distinguished for accommodating (the haughty and proud in me), and the Paradise said: What is the matter that the meek and the humble and the downtrodden and simple would find an abode in me? Thereupon Allah said to Paradise: You are a (means) of My Mercy. 1 shall show mercy through you to one whom I will from amongst My servants. And lie said to the Hell: You are a (sign) of My chastisement and I shall chastise through you anyone whom I will from amongst My servants and both of you, would be full. And as regards the Hell it would not be full until Allah, the Exalted and Glorious, places His foot therein, and it would say: Enough, enough, enough, and it would be then full and the one part would draw very close to the other one and Allah would not treat unjustly anyone amongst His creation and He would create another creation for the Paradise (to accommodate it).

Permalink

Sahih MuslimHadith (internal ref #1232676)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَّتْ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ فَذَکَرَ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ إِلَی قَوْلِهِ وَلِکِلَيْکُمَا عَلَيَّ مِلْؤُهَا وَلَمْ يَذْکُرْ مَا بَعْدَهُ مِنْ الزِّيَادَةِ

عثمان بن ابی شیبہ جریر، اعمش، ابوصالح حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا جنت اور دوزخ نے آپس میں جھگڑا کیا اور پھر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت کی طرح اس قول تک کہ تم دونوں کا مجھ پر بھرنا ضرور ہے روایت ذکر کی۔

Abu Sa'id al-Khudri reported that Allah's Messenger (may peace be upon him) said: The Paradise and the Hell disputed with each other. The rest of the hadith is the same as transmitted by Abu Huraira up to the words'." It is essential for Me to fill up both of you."

Permalink

Sahih MuslimHadith 5084

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ قَتَادَةَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَزَالُ جَهَنَّمُ تَقُولُ هَلْ مِنْ مَزِيدٍ حَتَّی يَضَعَ فِيهَا رَبُّ الْعِزَّةِ تَبَارَکَ وَتَعَالَی قَدَمَهُ فَتَقُولُ قَطْ قَطْ وَعِزَّتِکَ وَيُزْوَی بَعْضُهَا إِلَی بَعْضٍ

عبد بن حمید یونس بن محمد شیبان قتادہ، حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ اللہ کے نبی نے فرمایا دوزخ لگاتار یہی کہتی رہے گی ھل من مزید یعنی کیا کچھ اور بھی ہے یہاں تک کہ جب اللہ تعالیٰ اس میں اپنا قدم رکھے گا تو پھر دوزخ کہے گی تیری عزت کی قسم بس اور اس کا ایک حصہ سمٹ کر دوسرے حصے سے مل جائے گا۔

Anas b. Malik reported that Allah's Apostle (may peace be upon him) said that the Hell would continue to say: Is there anything more, until Allah, the Exalted and High, would place His foot therein and that would say: Enough, enough, by Your Honour, and some parts of it would draw close to the other.

Permalink

Sahih MuslimHadith (internal ref #1232678)

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارِ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَی حَدِيثِ شَيْبَانَ

زہیر بن حرب، عبدالصمد بن عبدالوارث ابان بن یزید عطاء، قتادہ، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے شیبان کی روایت کی طرح حدیث روایت کرتے ہیں۔

This hadith has been narrated on the authority of Anas through another chain of transmitters.

Permalink

Sahih MuslimHadith 5085

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرُّزِّيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَائٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ نَقُولُ لِجَهَنَّمَ هَلْ امْتَلَأْتِ وَتَقُولُ هَلْ مِنْ مَزِيدٍ فَأَخْبَرَنَا عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَا تَزَالُ جَهَنَّمُ يُلْقَی فِيهَا وَتَقُولُ هَلْ مِنْ مَزِيدٍ حَتَّی يَضَعَ رَبُّ الْعِزَّةِ فِيهَا قَدَمَهُ فَيَنْزَوِي بَعْضُهَا إِلَی بَعْضٍ وَتَقُولُ قَطْ قَطْ بِعِزَّتِکَ وَکَرَمِکَ وَلَا يَزَالُ فِي الْجَنَّةِ فَضْلٌ حَتَّی يُنْشِئَ اللَّهُ لَهَا خَلْقًا فَيُسْکِنَهُمْ فَضْلَ الْجَنَّةِ

محمد بن عبداللہ رازی عبدالوہاب بن عطاء، حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دوزخ میں لگاتار لوگوں کو ڈالا جائے گا اور وہ کہتی رہے گی کیا کچھ اور بھی ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس میں اپنا قدم رکھے گا تو دوزخ کا ایک حصہ سمٹ کی دوسرے حصے میں مل جائے گا اور دوزخ کہے گی تیری عزت اور تیرے کرم کی قسم بس بس اور جنت میں برابر حصہ بچا ہوا ہوگا یہاں تک کہ اس کے لئے اللہ ایک نئی مخلوق پیدا فرمائے گا اور اسے جنت کے بچے ہوئے باقی حصے میں ڈال دے گا۔

'Abd al-Wahhab b. Ata' reported in connection with the words of Allah, the Exalted and the Glorious: We would say to Hell on the Day of Ressurection: Have you been completely filled up? and it would say: Is there anything -more? And he stated on the authority of Anas b. Malik that Allah's Apostle (may peace be upon him) said: (The sinners) would be thrown therein and it would continue to say: Is there anything more, until Allah, the Exalted and Glorious, would keep His foot there- in and some of its part would draw close to the other and it would say: Enough, enough, by Thy Honour and by Thy Dignity, and there would be enough space in Paradise until Allah would create a new creation and He would make them accommo- date that spare place in Paradise.

Permalink

Sahih MuslimHadith 5086

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَبْقَی مِنْ الْجَنَّةِ مَا شَائَ اللَّهُ أَنْ يَبْقَی ثُمَّ يُنْشِئُ اللَّهُ تَعَالَی لَهَا خَلْقًا مِمَّا يَشَائُ

زہیر بن حرب، عفان حماد ابن سلمہ ثابت حضرت انس نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ جنت کا جتنا حصة باقی رکھنا چاہے گا وہ باقی رہ جائے گا پھر اللہ تعالیٰ جسے چاہے گا اس کے لئے ایک نئی مخلوق پیدا فرما دے گا۔

Anas reported Allah's Apostle (may peace be upon him) as saying: There would be left some space in Paradise as Allah would like that to be left. Then Allah would create another creation as He would like.

Permalink

Sahih MuslimHadith 5087

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُجَائُ بِالْمَوْتِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ کَأَنَّهُ کَبْشٌ أَمْلَحُ زَادَ أَبُو کُرَيْبٍ فَيُوقَفُ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ وَاتَّفَقَا فِي بَاقِي الْحَدِيثِ فَيُقَالُ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ هَلْ تَعْرِفُونَ هَذَا فَيَشْرَئِبُّونَ وَيَنْظُرُونَ وَيَقُولُونَ نَعَمْ هَذَا الْمَوْتُ قَالَ وَيُقَالُ يَا أَهْلَ النَّارِ هَلْ تَعْرِفُونَ هَذَا قَالَ فَيَشْرَئِبُّونَ وَيَنْظُرُونَ وَيَقُولُونَ نَعَمْ هَذَا الْمَوْتُ قَالَ فَيُؤْمَرُ بِهِ فَيُذْبَحُ قَالَ ثُمَّ يُقَالُ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ خُلُودٌ فَلَا مَوْتَ وَيَا أَهْلَ النَّارِ خُلُودٌ فَلَا مَوْتَ قَالَ ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ إِذْ قُضِيَ الْأَمْرُ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ وَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَی الدُّنْيَا

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب ابومعاویہ اعمش، ابوصالح حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن موت کو نمکین رنگ کے ایک دنبے کی شکل میں لایا جائے گا ابوکریب کی روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ اس دنبے کو جنت اور دوزخ کے درمیان لا کر کھڑا کردیا جائے گا پھر اللہ فرمائے گا اے جنت والو کیا تم اسے پہچانتے ہو جنتی اپنی گردنیں اٹھا کر دیکھیں گے اور کہیں گے جی ہاں یہ موت ہے پھر اللہ کی طرف سے حکم دیا جائے گا کہ اسے ذبح کردیا جائے پھر اللہ فرمائے گا اے جنت والو اب جنت میں ہمیشہ رہنا ہے موت نیہں ہے اور اے دوزخ والو اب تمہیں دوزخ میں رہنا ہے اب موت نہیں ہے راوی کہتے ہیں کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت کریمہ پڑھی (وَأَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ إِذْ قُضِيَ الْأَمْرُ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ وَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ) اور ان لوگوں کو حسرت کی دن سے ڈرائیے جب ہر بات کا فیصلہ ہو جائے گا اور وہ غفلت میں پڑے ہیں ایمان نہیں لاتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ مبارک سے دنیا کی طرف ارشاہ فرما رہے تھے۔

Abu Sa'id reported Allah's Messenger (may peace be upon him) as saying: Death would be brought on the Day of Resurrection. in the form of a white-coloured ram. Abu Kuraib made this addition: Then it would be made to stand between the Paradise and the Hell. So far as the rest of the hadith is concerned there is perfect agreement (between the two narrators) and it would be said to the inmates of Paradise: Do you recognise this? They would raise up their necks and look towards it and say: Yes, ' it is death. Then it would be said to the inmates of Hell-Fire.. Do you recognise this? And they would raise up their necks and look and say: Yes, it is death. Then command would be given for slaughtering that and then it would be said: 0 inmates of Paradise,, there is an everlasting life for you and no death. And then (addressing) to the inmates of the Hell-Fire, it would be said: 0 inmates of Hell-Fire, there is an everlasting living for you and no death. Allah's Messenger (may peace be u@on him) then recited this verse pointing with his hand to this (material) world:" Warn them, this Day of dismay, and when their affairs would be decided and they would be un- mindful and they believe not" (xix. 39).

Permalink

Sahih MuslimHadith (internal ref #1232682)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُدْخِلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ قِيلَ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ ثُمَّ ذَکَرَ بِمَعْنَی حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَذَلِکَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلَمْ يَقُلْ ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَذْکُرْ أَيْضًا وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَی الدُّنْيَا

عثمان بن ابی شیبہ جریر، اعمش، ابوصالح حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب جنت والوں کو جنت میں اور دوزخ والوں کو دوزخ میں داخل کردیا جائے گا تو کہا جائے گا اے جنت والو پھر ابومعاویہ کی روایت کی طرح روایت ذکر کی سوائے اس کے کہ اس میں َذَلِکَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلَمْ يَقُلْ کے الفاظ ہیں اور یہ نہیں کہا کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھی اور اپنے ہاتھ مبارک سے دنیا کی طرف اشارہ کیا۔

Abu Sa'id reported Allah's Messenger (may peace be upon him) as saying: When the inmates of Paradise would be admitted to Paradise and the inmates of Hell would be admitted to Hell, it would be said (to the inmates of Paradise): 0 inmates of Paradise. The rest of the hadith is the same but with this variation (that he only) said. That is the word of Allah, the Exalted. And he did not say: Then Allah's Mes- senger (may peace be upon him) recited, and he did not make a mention of his having pointed with his hand towards the (material) world.

Permalink

Sahih MuslimHadith 5088

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنِي و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ حَدَّثَنَا نَافِعٌ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُدْخِلُ اللَّهُ أَهْلَ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ وَيُدْخِلُ أَهْلَ النَّارِ النَّارَ ثُمَّ يَقُومُ مُؤَذِّنٌ بَيْنَهُمْ فَيَقُولُ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ لَا مَوْتَ وَيَا أَهْلَ النَّارِ لَا مَوْتَ کُلٌّ خَالِدٌ فِيمَا هُوَ فِيهِ

زہیر بن حرب، حسن بن علی حلوانی عبد بن حمید عبد یعقوب ابن ابراہیم بن سعد ابوصالح نافع حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ جنت والوں کو جنت میں داخل فرما دے گا اور دوزخ والوں کو دوزخ میں داخل فرما دے گا پھر ان کے سامنے پکار نے والا کھڑا ہوگا اور کہے گا اے جنت والو اب موت نہیں ہے اور اے دوزخ والوں اب موت نہیں ہے ہر آدمی جس حالت میں ہے وہ اسی میں ہمیشہ رہے گا۔

Abdullah reported that Allah's Messenger (may peace be upon him) said: Allah would admit the inmates of Paradise into Paradise and the inmates of Hell into Hell. Then the announcer would stand between them and say: 0 inmates of Paradise, there is no death for you,0 inmates of Hell, there is no death for you. You would live for ever therein.

Permalink

Sahih MuslimHadith 5089

حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا صَارَ أَهْلُ الْجَنَّةِ إِلَی الْجَنَّةِ وَصَارَ أَهْلُ النَّارِ إِلَی النَّارِ أُتِيَ بِالْمَوْتِ حَتَّی يُجْعَلَ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ ثُمَّ يُذْبَحُ ثُمَّ يُنَادِي مُنَادٍ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ لَا مَوْتَ وَيَا أَهْلَ النَّارِ لَا مَوْتَ فَيَزْدَادُ أَهْلُ الْجَنَّةِ فَرَحًا إِلَی فَرَحِهِمْ وَيَزْدَادُ أَهْلُ النَّارِ حُزْنًا إِلَی حُزْنِهِمْ

ہارون بن سعیدایلی حرملہ بن یحیی ابن وہب، عمر بن محمد زید بن حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا جب جنت والے جنت کی طرف چلے جائیں گے اور دوزخ والے دوزخ کی طرف چلے جائیں گے تو پھر موت کو جنت اور دوزخ کے درمیان لایا جائے گا پھر اسے ذبح کیا جائے گا پھر ایک پکارنے والا پکارے گا اے جنت والو اب موت نہیں ہے اور اے دوزخ والو اب موت نہیں ہے تو پھر جنت والوں کی خوشی بڑھ جائے گی اور دوزخ والوں کی پریشانی میں اور زیادتی ہو جائے گی۔

Umar b. Muhammad b. Zaid b. 'Abdullah b. 'Umar b. al-Khattab reported on the authority of his father Abdullah b. Umar that Allah's Messenger (may peace big upon him) said: When the inmates of Paradise would go to Paradise and the inmates of Hell would go to Hell, death would be called and it would be placed between the Paradise and the Hell and then slaughtered and then the announcer would announce: 0 inmates of Paradise, no death 0 Inmates of Hell-Fire, no death. And it would in. crease the delight of the inmates of Paradise and it would increase the grief of the inmates of Hell-Fire.

Permalink

Sahih MuslimHadith 5090

حَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ عَنْ هَارُونَ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضِرْسُ الْکَافِرِ أَوْ نَابُ الْکَافِرِ مِثْلُ أُحُدٍ وَغِلَظُ جِلْدِهِ مَسِيرَةُ ثَلَاثٍ

سریج بن یونس حمید بن عبدالرحمن حسن بن صالح ہارون بن سعد ابی حازم حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کافر کی داڑھ یا کافر کا دانت احد پہاڑ کے برابر ہوگا اور اسکی کھال تین رات کی مسافت کے برابر ہوگی۔

It is transmitted on the authority of Abu Huraira that Allah's Messenger (may peace be upon him) said: The molar tooth of an unbeliever or the canine teeth of an unbeliever will be like Ubud and the thickness of his skin a three night's journey.

Permalink

Sahih MuslimHadith 5091

حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ وَأَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ الْوَکِيعِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَرْفَعُهُ قَالَ مَا بَيْنَ مَنْکِبَيْ الْکَافِرِ فِي النَّارِ مَسِيرَةُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ لِلرَّاکِبِ الْمُسْرِعِ وَلَمْ يَذْکُرْ الْوَکِيعِيُّ فِي النَّارِ

ابوکریب احمد بن عمر وکیع ابن فضیل ابی حازم حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرفوعا روایت ہے کہ دوزخ میں کافر کے دو کندھوں کے درمیان مسافت تیز رفتار سوار کی تین دن کی مسافت کے برابر ہوگی راوی وکیع نے فی النار یعنی دوزخ کا لفظ نہیں کہا۔

Abu Huraira reported directly from Allah's Messenger (may peace be upon him) that he said: The distance of the two shoulders of the non-believer in Hell will be a three-day journey for a swift rider.

Permalink

Sahih MuslimHadith 5092

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنِي مَعْبَدُ بْنُ خَالِدٍ أَنَّهُ سَمِعَ حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَلَا أُخْبِرُکُمْ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ قَالُوا بَلَی قَالَ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کُلُّ ضَعِيفٍ مُتَضَعِّفٍ لَوْ أَقْسَمَ عَلَی اللَّهِ لَأَبَرَّهُ ثُمَّ قَالَ أَلَا أُخْبِرُکُمْ بِأَهْلِ النَّارِ قَالُوا بَلَی قَالَ کُلُّ عُتُلٍّ جَوَّاظٍ مُسْتَکْبِرٍ

عبیداللہ بن معاذ عنبری ابی شعبہ، معبد بن خالد حضرت حارثہ بن وہب کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے فرماتے ہیں کہ میں تمہیں جنت والوں کی خبر نہ دوں صحابہ کرام نے عرض کیا جی ہاں فرمائیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر کمزور آدمی جسے کمزور سمجھا جاتا ہے اگر وہ اللہ پر قسم کھالے تو اللہ اس کی قسم پوری فرما دے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں دوزخ والوں کی خبر نہ دوں صحابہ کرام نے عرض کیا جی ہاں ضرور فرمائیے آپ نے فرمایا ہر جاہل اکھڑ مزاج تکبر کرنے والا دوزخی ہے۔

Haritha b. Wahb reported that he heard Allah's Apostle (may peace be upon him) as saying: May I not inform you about the inmates of Paradise? They said: Do this, of course. Thereupon Allah's Apostle (may peace be upon him) said: Every humble person who is considered to be humble if he were to adjure In the name of Allah, He would fulfil it. He then said: May I not inform you about the denizens of Hell-Fire? They said: Yes. And he said: Every haughty, fat and proud (person).

Permalink

Sahih MuslimHadith (internal ref #1232688)

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ أَلَا أَدُلُّکُمْ

محمد بن مثنی، محمد بن جعفر، حضرت شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس سند کے ساتھ مذکورہ روایت بیان کرتے ہیں سوائے اس کے اس میں انہوں نے اَلَا أَدُلُّکُمْ کا لفظ کہا ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Shu'ba with the same chain of transmitters but with a slight variation of wording.

Permalink

Sahih MuslimHadith 5093

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ قَالَ سَمِعْتُ حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ الْخُزَاعِيَّ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا أُخْبِرُکُمْ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ کُلُّ ضَعِيفٍ مُتَضَعِّفٍ لَوْ أَقْسَمَ عَلَی اللَّهِ لَأَبَرَّهُ أَلَا أُخْبِرُکُمْ بِأَهْلِ النَّارِ کُلُّ جَوَّاظٍ زَنِيمٍ مُتَکَبِّرٍ

محمد بن عبداللہ بن نمیر، وکیع، سفیان، معبد بن خالد حضرت حارثہ بن وہب خزاعی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں جنت والوں کے بارے میں نہ بتاؤں پھر فرمایا ہر وہ کمزور آدمی جسے کمزور سمجھا جاتا ہے اگر وہ اللہ پر قسم کھالے تو اللہ اس کی قسم کو پورا فرما دے۔ کیا میں تمہیں دوزخ والوں کی خبر نہ دوں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر مغرور سرکش اور تکبر کرنے والا۔

Haritha b. Wahb al-KhuzaIi reported Allah's Messenger (may peace be upon him) as saying: May I not inform you about the inmates of Paradise? (And then informing about them) said: Every meek person who is considered to be humble and if they were to adjure in the name of Allah, Allah would certainly fulfil it. May I not inform you about the inmates of Hell-Fire? They are all proud, mean and haughty.

Permalink

Sahih MuslimHadith 5094

حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ عَنْ الْعَلَائِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رُبَّ أَشْعَثَ مَدْفُوعٍ بِالْأَبْوَابِ لَوْ أَقْسَمَ عَلَی اللَّهِ لَأَبَرَّهُ

سوید بن سعید حفص بن میسرہ، علاء بن عبدالرحمن حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہت پراگندہ بال ایسے لوگ کہ جن کو دروازوں پر سے دھکے دئیے جاتے ہیں اگر وہ اللہ تعالیٰ پر قسم کھالیں تو اللہ تعالیٰ ان کی قسم پوری فرما دے۔

Abu Huraira reported Allah's Messenger (may peace be upon him) as say- ing: Many a people with dishevelled hair are driven away from the door (but they are so pious) that if they are to swear in the name of Allah, He would definitely fulfil that.

Permalink

Sahih MuslimHadith 5095

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ قَالَ خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ النَّاقَةَ وَذَکَرَ الَّذِي عَقَرَهَا فَقَالَ إِذْ انْبَعَثَ أَشْقَاهَا انْبَعَثَ بِهَا رَجُلٌ عَزِيزٌ عَارِمٌ مَنِيعٌ فِي رَهْطِهِ مِثْلُ أَبِي زَمْعَةَ ثُمَّ ذَکَرَ النِّسَائَ فَوَعَظَ فِيهِنَّ ثُمَّ قَالَ إِلَامَ يَجْلِدُ أَحَدُکُمْ امْرَأَتَهُ فِي رِوَايَةِ أَبِي بَکْرٍ جَلْدَ الْأَمَةِ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي کُرَيْبٍ جَلْدَ الْعَبْدِ وَلَعَلَّهُ يُضَاجِعُهَا مِنْ آخِرِ يَوْمِهِ ثُمَّ وَعَظَهُمْ فِي ضَحِکِهِمْ مِنْ الضَّرْطَةِ فَقَالَ إِلَامَ يَضْحَکُ أَحَدُکُمْ مِمَّا يَفْعَلُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب ابن نمیر، ہشام بن عروہ حضرت عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خطبہ ارشاد فرمایا جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صالح کی اونٹنی کا ذکر فرمایا اور اس اونٹنی کی کونچیں کاٹنے کا بھی ذکر فرمایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا اذانبعث اشقھا کہ ایک مغرور آدمی اسے ذبح کرنے کے لئے اٹھا جو کہ اپنی قوم میں زمعہ کی طرح بڑا مضبوط اور دلیر تھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے بارے میں نصیحت فرمائی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کچھ لوگ اپنی عورتوں کو کیوں مارتے ہیں ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت میں باندی کا ذکر ہے اور ابوکریب کی روایت میں لونڈی کا ذکر ہے کہ جس طرح باندی یا لونڈی کو مارا جاتا ہے اور ان سے دن کے آخری حصے میں ہمبستری کرتے ہو پھر ہوا کے خارج ہونے سے ان کے ہنسنے کے بارے میں ان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نصیحت فرمائی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی اس کام پر کیوں ہنستا ہے کہ جسے وہ خود بھی کرتا ہے۔

'Abdullah b. Zam'a reported that Allah's Messenger (may peace be upon him) delivered an address and he made a mention of the dromedary and also made a mention of one (base person) who cut off Its hind legs, and he recited:" When the basest of them broke forth with mischief" (xei. 12). When A mischievous person, strong even because of the strength of a family like Abu Zam'a, broke forth. He then delivered instruction in regard to the women saying: There is amongst you who beats his woman, and in the narration on the authority of Abu Bakr, the words are: He flogs her like a slave-girl. And in the narration of Abu Kuraib (the words are): He flogs like a slave and then comforts his bed with the help of that at the end of the day, and he then advised in regard to laughing of people at the breaking of wind and said: One of you laughs at that which you yourself do.

Permalink

Sahih MuslimHadith 5096

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَيْتُ عَمْرَو بْنَ لُحَيِّ بْنِ قَمْعَةَ بْنِ خِنْدِفَ أَبَا بَنِي کَعْبٍ هَؤُلَائِ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ

زہیر بن حرب، جریر، سہیل حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا میں نے عمرو بن لحی بن قمعہ بن خندف بنی کعب کے بھائی کو دیکھا کہ وہ دوزخ میں اپنی انتڑیاں گھسیٹتے ہوئے پھر رہا ہے۔

Abu Huraira reported Allah's Messenger (may peace be upon him) as say- ing: I saw 'Amr b. Luhayy b. Qam'a b. Khindif, brother of Bani Ka'b, dragging his Intestines in Fire.

Permalink

Sahih MuslimHadith 5097

حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنِي و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يَقُولُا إِنَّ الْبَحِيرَةَ الَّتِي يُمْنَعُ دَرُّهَا لِلطَّوَاغِيتِ فَلَا يَحْلُبُهَا أَحَدٌ مِنْ النَّاسِ وَأَمَّا السَّائِبَةُ الَّتِي کَانُوا يُسَيِّبُونَهَا لِآلِهَتِهِمْ فَلَا يُحْمَلُ عَلَيْهَا شَيْئٌ وَقَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَيْتُ عَمْرَو بْنَ عَامِرٍ الْخُزَاعِيَّ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ وَکَانَ أَوَّلَ مَنْ سَيَّبَ السُّيُوبَ

عمرو ناقد حسن حلوانی عبد بن حمید عبد یعقوب ابن ابراہیم، بن سعد ابوصالح ابن شہاب حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ بحیرہ وہ جانور ہے کہ جس کا دودھ بتوں کے لئے وقف کر دیا جائے اور پھر لوگوں میں سے کوئی آدمی بھی اس جانور کا دوھ نہ دوھ سکے اور سائبہ وہ جانور ہے کہ جو مشرکین اپنے معبودوں کے نام پر چھوڑ دیا کرتے تھے اور اس جانور پر کوئی بوجھ بھی نہیں لادتے تھے ابن مسیب کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا میں نے عمرو بن عامر خزاعی کو دیکھا کہ وہ دوزخ میں اپنی انتڑیاں گھسیٹتے ہوئے پھر رہا ہے اور سب سے پہلے اس نے جانوروں کو سانڈھ بنایا تھا،

Sa'id b. Musayyib explained" al-bahira" as that animal which is not milked but for the idols. and none amongst the people milks them, and" as-sa'iba" as that animal which is let loose for the deities. Nothing is loaded over it, and Ibn Musayyib narrated that Abu Huraira stated that Allah's Messenger (may peace be upon him) said: I saw 'Amr b. 'Amir al-Khuzili dragging his intestines in fire and he was the first who devoted animals to deity.

Permalink

Sahih MuslimHadith 5098

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صِنْفَانِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ لَمْ أَرَهُمَا قَوْمٌ مَعَهُمْ سِيَاطٌ کَأَذْنَابِ الْبَقَرِ يَضْرِبُونَ بِهَا النَّاسَ وَنِسَائٌ کَاسِيَاتٌ عَارِيَاتٌ مُمِيلَاتٌ مَائِلَاتٌ رُئُوسُهُنَّ کَأَسْنِمَةِ الْبُخْتِ الْمَائِلَةِ لَا يَدْخُلْنَ الْجَنَّةَ وَلَا يَجِدْنَ رِيحَهَا وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ کَذَا وَکَذَا

زہیر بن حرب، جریر، سہیل حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دوزخیوں کی دو قسمیں ایسی ہیں کہ انہیں میں نے نہیں دیکھا ایک قسم تو اس قوم کے لوگوں کی ہے کہ جن کے پاس گایوں کی دموں کی طرح کوڑے ہوں گے اور وہ لوگوں کو ان کوڑوں سے ماریں گے اور دوسری قسم ان عورتوں کی ہے کہ جو لباس پہننے کے بادجود ننگی ہوں گی دوسرے لوگوں کو اپنی طرف مائل کریں گی اور خود بھی مائل ہوں گی ان کے سر بختی اونٹوں کی کوہان کی طرح ایک طرف کو جھکے ہوئے ہوں گے اور یہ عورتیں جنت میں داخل نہیں ہوں گی اور نہ ہی جنت کی خوشبو پائیں گی حالانکہ جنت کی خوشبو اتنی اتنی مسافت سے آتی ہو گی۔

Abu Huraira reported Allah's Messenger (may peace be upon him) as saying: Two are the types amongst the denizens of Hell, the one possessing whips like the tail of an ox and they flog people with their help. (The second one) the women who would be naked in spite of their being dressed, who are seduced (to wrong paths) and seduce others with their hair high like humps. These women would not get into Paradise and they would not perceive the odour of Paradise, although its frag- rance can be perceived from such and such distance (from great distance).

Permalink

Sahih MuslimHadith 5099

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا زَيْدٌ يَعْنِي ابْنَ حُبَابٍ حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَافِعٍ مَوْلَی أُمِّ سَلَمَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوشِکُ إِنْ طَالَتْ بِکَ مُدَّةٌ أَنْ تَرَی قَوْمًا فِي أَيْدِيهِمْ مِثْلُ أَذْنَابِ الْبَقَرِ يَغْدُونَ فِي غَضَبِ اللَّهِ وَيَرُوحُونَ فِي سَخَطِ اللَّهِ

ابن نمیر، زید ابن خباب افلح بن سعید عبداللہ بن رافع ام سلمہ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر تیری عمر لمبی ہوئی تو تو ایک ایسی قوم کو دیکھے گا کہ جن کے ہاتھوں میں گائے کی دم کے طرح کوڑے ہوں گے وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے غضب میں صبح کریں گے اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی میں شام کریں گے۔

Abu Huraira reported Allah's Messenger (may peace be upon him) as saying: If you survive for a time you would certainly see people who would have whips in their hands like the tail of an ox. They would get up in the morning under the wrath of Allah and they would get into the evening with the anger of Allah.

Permalink

Sahih MuslimHadith 5100

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ نَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَافِعٍ مَوْلَی أُمِّ سَلَمَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنْ طَالَتْ بِکَ مُدَّةٌ أَوْشَکْتَ أَنْ تَرَی قَوْمًا يَغْدُونَ فِي سَخَطِ اللَّهِ وَيَرُوحُونَ فِي لَعْنَتِهِ فِي أَيْدِيهِمْ مِثْلُ أَذْنَابِ الْبَقَرِ

عبیداللہ بن سعید ابوبکر بن نافع عبد بن حمید ابوعامر عقدی افلح بن سعید عبداللہ بن رافع ام سلمہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اگر تیری عمر لمبی ہوئی تو تو ایک ایسی قوم کو دیکھے گا کہ جو صبح اللہ تعالیٰ کی ناراضگی میں اور شام اللہ تعالیٰ کی لعنت میں کریں گے ان کے ہاتھوں میں گائے کی دم کی طرح کوڑے ہوں گے۔

Abu Huraira reported Allah's Messenger (may peace be upon him) as saying: If you live for a time, you would certainly see people get up (in the morning) in the wrath of Allah and getting into the evening under the curse of Allah, and there would be in their hands (whips) like the tail of an ox.

Permalink