حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا مُوسَی بْنُ أَعْيَنَ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ کُلُّهُمْ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ حَدَّثَنَا قَيْسٌ قَالَ سَمِعْتُ مُسْتَوْرِدًا أَخَا بَنِي فِهْرٍ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ مَا الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا مِثْلُ مَا يَجْعَلُ أَحَدُکُمْ إِصْبَعَهُ هَذِهِ وَأَشَارَ يَحْيَی بِالسَّبَّابَةِ فِي الْيَمِّ فَلْيَنْظُرْ بِمَ تَرْجِعُ وَفِي حَدِيثِهِمْ جَمِيعًا غَيْرَ يَحْيَی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ذَلِکَ وَفِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ عَنْ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ أَخِي بَنِي فِهْرٍ وَفِي حَدِيثِهِ أَيْضًا قَالَ وَأَشَارَ إِسْمَعِيلُ بِالْإِبْهَامِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن ادریس ابن نمیر ابی محمد بن بشر یحیی بن یحیی، موسیٰ بن اعین محمد بن رافع ابواسامہ اسماعیل بن ابی خالد محمد بن حاتم، یحیی بن سعید اسماعیل بن خالد قیس حضرت مستورد رضی اللہ تعالیٰ عنہ بنی فہر کے بھائی کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا اللہ کی قسم دنیا آخرت کے مقابلے میں اس طرح ہے کہ جس طرح تم میں سے کوئی آدمی اپنی انگلی اس دریا میں ڈال دے یحیی نے شہادت کی انگلی کی طرف اشارہ کیا اور پھر اس انگلی کو نکال کر دیکھے کہ اس میں کیا لگتا ہے سوائے یحیی کے تمام روایات میں یا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سنا ہے کہ الفاظ ہیں اور اسماعیل نے انگوٹھے کے ساتھ اشارہ کرنا کیا ہے۔
This hadith has been narrated through five different chains of transmitters and all of them are narrated on the authority of Mustaurid, brother of Bani Fihr, that Allah's Messenger (may peace be upon him) said: By Allah, this world (is so insigni- ficant in comparison) to the Hereafter that if one of you should dip his finger- (and wnile saying this Yahyg pointed with his forefinger) -in the ocean and then he should see as to what has stuck to it. This hadith has been narrated through another chain of transmitters also but with a slight variation of wording.
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ حَاتِمِ بْنِ أَبِي صَغِيرَةَ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْکَةَ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ النِّسَائُ وَالرِّجَالُ جَمِيعًا يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَی بَعْضٍ قَالَ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَائِشَةُ الْأَمْرُ أَشَدُّ مِنْ أَنْ يَنْظُرَ بَعْضُهُمْ إِلَی بَعْضٍ
زہیر بن حرب، یحیی بن سعید حاتم ابن ابی صغیرہ ابن ابی ملیکہ قاسم بن محمد سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ قیامت کے دن لوگوں کا حشر ہوگا اس حالت میں کہ وہ ننگے پاؤں ننگے بدن اور بغیر ختنہ کئے ہوئے ہوں گے میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کیا عورتیں اور مرد اکٹھے ہوں گے اور ایک دوسرے کی طرف دیکھیں گے آپ نے فرمایا اے عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا یہ معاملہ اس بات سے بہت سخت ہوگا کہ کوئی کسی کی طرف دیکھے۔
'A'isha reported that she beard Allah's Messenger (may peace be upon him) as saying: The people would be assembled on the Day of Resurrection barefooted, naked and uncircumcised. I said: Allah's Messenger, will the male and the female be together on the Day and would they be looking at one another? Upon this Allah's Messenger (may peace be upon him) said: 'A'isha, the matter would be too serious for them to look to one another.
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ عَنْ حَاتِمِ بْنِ أَبِي صَغِيرَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْکُرْ فِي حَدِيثِهِ غُرْلًا
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر، ابوخالد احمر حضرت حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن صغیرہ سے اس سند کے ساتھ روایت نقل کی گئی ہے اور اس روایت میں غُرْلًا کا لفظ نہیں ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Hatim b. Abi Saghira with the same chain of transmitters and there is no mention of the word" uncircum- cised."
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرُونَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ وَهُوَ يَقُولُ إِنَّکُمْ مُلَاقُو اللَّهِ مُشَاةً حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا وَلَمْ يَذْکُرْ زُهَيْرٌ فِي حَدِيثِهِ يَخْطُبُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، ابن ابی عمر اسحاق سفیان بن عیینہ، عمرو سعید بن جبیر حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ دیتے ہوئے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرما رہے تھے کہ تم لوگ ننگے پاؤں ننگے بدن اور بغیر خنتہ کئے کی حالت میں اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرو گے۔
Ibn Abbas reported that he heard Allah's Messenger (may peace be upon him) deliver an address and he was saying that they would meet Allah barefooted, naked and uncircumcised.
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي کِلَاهُمَا عَنْ شُعْبَةَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ النُّعْمَانِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا بِمَوْعِظَةٍ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّکُمْ تُحْشَرُونَ إِلَی اللَّهِ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا کَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا إِنَّا کُنَّا فَاعِلِينَ أَلَا وَإِنَّ أَوَّلَ الْخَلَائِقِ يُکْسَی يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام أَلَا وَإِنَّهُ سَيُجَائُ بِرِجَالٍ مِنْ أُمَّتِي فَيُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ فَأَقُولُ يَا رَبِّ أَصْحَابِي فَيُقَالُ إِنَّکَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَکَ فَأَقُولُ کَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ وَکُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي کُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ وَأَنْتَ عَلَی کُلِّ شَيْئٍ شَهِيدٌ إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُکَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّکَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَکِيمُ قَالَ فَيُقَالُ لِي إِنَّهُمْ لَمْ يَزَالُوا مُرْتَدِّينَ عَلَی أَعْقَابِهِمْ مُنْذُ فَارَقْتَهُمْ وَفِي حَدِيثِ وَکِيعٍ وَمُعَاذٍ فَيُقَالُ إِنَّکَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَکَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، عبیداللہ بن معاذ شعبہ، محمد بن مثنی، محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، مغیرہ بن نعمان سعید بن جبیر حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ہم میں ایک نصیحت آموز خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے لوگو تمہیں اللہ کی طرف ننگے پاؤں ننگے بدن اور بغیر ختنہ کئے ہوئے لے کر جایا جائے گا کما بدانا اول خلق نعیدہ جس طرح ہم نے پہلی مرتبہ پیدا کیا اس طرح ہم دوبارہ پیدا کریں گے اور یہ ہمارا وعدہ ہے کہ جسے ہم کرنے والے ہیں آگاہ رہو کہ قیامت کے دن ساری مخلوق میں سے سب سے پہلے حضرت ابراہیم کو لباس پہنایا جائے گا اور آگاہ رہو کہ میری امت میں سے کچھ لوگوں کو لایا جائے گا پھر ان کو بائیں طرف کو ہٹا دیا جائے گا تو میں عرض کروں گا اے پروردگار یہ تو میرے امتی ہیں تو کہا جائے گا کہ آپ نہیں جانتے کہ ان لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کیا کیا ایجادات کیں تو میں اسی طرح عرض کروں گا جس طرح کہ اللہ کے نیک بندے (حضرت عیسی) نے عرض کیا (وَکُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي کُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ وَأَنْتَ عَلَی کُلِّ شَيْئٍ شَهِيدٌ إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُکَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّکَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَکِيمُ) میں تو ان لوگوں پر اس وقت تک گواہ کے طور پر تھا جب تک کہ میں ان لوگوں میں رہا پھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو تو ان پر نگہبان تھا اور تو تو ہر چیز پر گواہ ہے اگر ان لوگوں کو عذاب دے تو یہ تیرے ہی بندے ہیں اور اگر تو ان لوگوں کو بخش دے تو تو غالب حکمت والا ہے، آپ نے فرمایا پھر مجھ سے کہا جائے گا کہ جس وقت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو چھوڑا ہے اس وقت سے مسلسل یہ لوگ اپنی ایڑیوں کے بل پھرتے رہے وکیع اور معاذ کی روایت میں ہے کہا جائے گا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں جانتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ان لوگوں نے کیا کیا بدعات ایجاد کیں۔
This hadith has been narrated through other chains of transmitters on the authority of Ibn Abbas, (and) the words are: While Allah's Messenger (may peace be upon him) stood up to deliver a sermon, he said: 0 people, Allah would make you assemble barefooted, naked and uncircumcised (and then recited the words of the Qur'an):" As We created you for the first time, We shall repeat it. (It is) a promise (binding) upon us. Lo! We are to perform it, and the first person who would be clothed on the Day of Resurrection would be (Hadrat) Ibrahim (peace be upon him)" and, behold! some persons of my Ummah would be brought and taken to the left and I would say: My Lord, they are my companions, and it would be said: You do not know what they did after you, and I would say just as the pious servant (Hadrat 'Isa) said:, I was a witness regarding them as I remained among them and Thou art a witness over everything, so if Thou chastisest them, they are Thy servants and if Thou for- givest them, Thou art Mighty, Wise" (v. 117-118). And it would be said to him: They constantly turned to their heels since you left them. This hadith has been transmitted on the authority of Waki' and Mu'adh (and the words are):" What new things they fabricated."
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَقَ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ قَالَا جَمِيعًا حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَی ثَلَاثِ طَرَائِقَ رَاغِبِينَ رَاهِبِينً وَاثْنَانِ عَلَی بَعِيرٍ وَثَلَاثَةٌ عَلَی بَعِيرٍ وَأَرْبَعَةٌ عَلَی بَعِيرٍ وَعَشَرَةٌ عَلَی بَعِيرٍ وَتَحْشُرُ بَقِيَّتَهُمْ النَّارُ تَبِيتُ مَعَهُمْ حَيْثُ بَاتُوا وَتَقِيلُ مَعَهُمْ حَيْثُ قَالُوا وَتُصْبِحُ مَعَهُمْ حَيْثُ أَصْبَحُوا وَتُمْسِي مَعَهُمْ حَيْثُ أَمْسَوْا
زہیر بن حرب، احمد بن اسحاق محمد بن حاتم، بہز وہیب عبداللہ بن طاؤس حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ لوگوں کو تین جماعتوں کی صورت میں اکٹھا کیا جائے گا کچھ لوگ خاموش ہوں گے اور کچھ لوگ ڈرے ہوئے ہوں گے اور دو آدمی ایک اونٹ پر ہوں گے اور تین ایک اونٹ پر اور چار ایک اونٹ پر اور دس ایک اونٹ پر ہوں گے اور ان میں باقی لوگوں کو آگ اکٹھا کرے گی جب وہ رات گزارنے کے لئے ٹھہریں گے تو وہ آگ ان کے ساتھ رہے گی جہاں وہ دوپہر کریں گے وہیں آگ بھی ان کے ساتھ رہے گی اور جہاں وہ صبح کے وقت ہوں گے وہیں آگ بھی ان کے ساتھ ہوگی اور جہاں وہ شام کے وقت رہیں گے تو آگ بھی شام کے وقت ان کے ساتھ رہے گی۔
Abu Huraira reported Allah's Apostle (may peace be upon him) as saying, The people will be assembled in three categories. Those desirous (of Paradise), fearing (Hell), coming two upon the came], three upon the camel, four upon the camel, ten upon the camel and the rest will be assembled, Hell-Fire being with them when they are at midday where they would spend the night and where they would spend the morning and where they would spend the evening.