و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ قَالَ نَزَلَ أَهْلُ قُرَيْظَةَ عَلَی حُکْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی سَعْدٍ فَأَتَاهُ عَلَی حِمَارٍ فَلَمَّا دَنَا قَرِيبًا مِنْ الْمَسْجِدِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْأَنْصَارِ قُومُوا إِلَی سَيِّدِکُمْ أَوْ خَيْرِکُمْ ثُمَّ قَالَ إِنَّ هَؤُلَائِ نَزَلُوا عَلَی حُکْمِکَ قَالَ تَقْتُلُ مُقَاتِلَتَهُمْ وَتَسْبِي ذُرِّيَّتَهُمْ قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَيْتَ بِحُکْمِ اللَّهِ وَرُبَّمَا قَالَ قَضَيْتَ بِحُکْمِ الْمَلِکِ وَلَمْ يَذْکُرْ ابْنُ الْمُثَنَّی وَرُبَّمَا قَالَ قَضَيْتَ بِحُکْمِ الْمَلِکِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن مثنی، ابن بشار، ابوبکر، غندر، شعبہ، سعد بن ابراہیم ابوامامہ، سہل بن حنیف، حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ بنو قریظة والوں نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فیصلہ پر اتر آنے کی رضا مندی کا اظہار کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف پیغام بھیجا تو وہ گدھے پر حاضر ہوئے جب وہ مسجد کے قریب پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے فرمایا اپنے سردار یا اپنے افضل ترین کی طرف اٹھو پھر فرمایا یہ لوگ تمہارے فیصلہ پر اترے ہیں سعد نے کہا ان میں سے لڑائی کرنے والے کو قتل کر دیں اور ان کی اولاد کو قیدی بنالیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اللہ کے حکم کے مطابق ہی فیصلہ کیا ہے اور کبھی فرمایا تم نے بادشاہ کے فیصلہ کے مطابق فیصلہ کیا ہے ابن مثنی نے بادشاہ کے حکم کے مطابق فیصلہ کرنے کو ذکر نہیں کیا۔
It has been narrated on the authority of Abu Sa'id al-Khudri who said: The people of Quraiza surrendered accepting the decision of Sa'd b. Mu'adh about them. Accordingly, the Messenger of Allah (may peace be upon him) sent for Sa'd who came to him riding a donkey. When he approached the mosque, the Messenger of Allah (may peace be upon him) said to the Ansar: Stand up to receive your chieftain. Then he said (to Sa'd): These people have surrendered accepting your decision. He (Sa'd) said: You will kill their fighters and capture their women and children. (Hearing this), the Propbet (may peace he upon him) said: You have adjudged by the command of God. The narrator is reported to have said: Perhaps he said: You have adjuged by the decision of a king. Ibn Muthanna (in his version of the tradition) has not mentioned the alternative words.
و حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ حَکَمْتَ فِيهِمْ بِحُکْمِ اللَّهِ وَقَالَ مَرَّةً لَقَدْ حَکَمْتَ بِحُکْمِ الْمَلِکِ
زہیر بن حرب، عبدالرحمن بن مہدی، شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ان سندوں کے ساتھ روایت ہے اور انہوں نے اپنی حدیث میں کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے ان کے بارے میں اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے اور ایک مرتبہ فرمایا کہ تم نے بادشاہ کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے۔
Through the same chain of transmitters Shu'ba has narrated the same tradition in which he says that the Messenger of Allah (may peace be upon him) said (to Sa'd): You have adjudged according to the command of God. And once he said: you have adjudged by the decision of a king.
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ الْهَمْدَانِيُّ کِلَاهُمَا عَنْ ابْنِ نُمَيْرٍ قَالَ ابْنُ الْعَلَائِ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أُصِيبَ سَعْدٌ يَوْمَ الْخَنْدَقِ رَمَاهُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ يُقَالُ لَهُ ابْنُ الْعَرِقَةِ رَمَاهُ فِي الْأَکْحَلِ فَضَرَبَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْمَةً فِي الْمَسْجِدِ يَعُودُهُ مِنْ قَرِيبٍ فَلَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْخَنْدَقِ وَضَعَ السِّلَاحَ فَاغْتَسَلَ فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ وَهُوَ يَنْفُضُ رَأْسَهُ مِنْ الْغُبَارِ فَقَالَ وَضَعْتَ السِّلَاحَ وَاللَّهِ مَا وَضَعْنَاهُ اخْرُجْ إِلَيْهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَيْنَ فَأَشَارَ إِلَی بَنِي قُرَيْظَةَ فَقَاتَلَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلُوا عَلَی حُکْمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحُکْمَ فِيهِمْ إِلَی سَعْدٍ قَالَ فَإِنِّي أَحْکُمُ فِيهِمْ أَنْ تُقْتَلَ الْمُقَاتِلَةُ وَأَنْ تُسْبَی الذُّرِّيَّةُ وَالنِّسَائُ وَتُقْسَمَ أَمْوَالُهُمْ
ابوبکر بن ابی شبیہ، محمد بن علاء ہمدانی، ابن نمیر، ہشام، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت سعد کو غزوہ خندق کے دن قریش کے ایک آدمی کا تیر لگا جسے ابن عرقہ کہا جاتا تھا اس کا وہ تیر بازو کی ایک رگ میں لگا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں اس کے لئے ایک خیمہ نصب کروا دیا تاکہ پاس ہی ان کی عیادت کر سکیں پس جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خندق سے واپس آئے اور ہتھیار اتارے غسل فرمایا تو جبرائیل آپ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے پاس اس حال میں آئے کہ وہ اپنے سر سے غبار جھاڑ رہے تھے اس نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہتھیار اتار دیے ہیں، اللہ کی قسم آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے نہ اتارئیے بلکہ ان کی طرف نکلیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہاں، جبرائیل نے بنو قریظة کی طرف اشارہ کیا پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے جنگ کی انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر اترنے پر رضا مندی ظاہر کی لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں فیصلہ کو سعد کی طرف بدل دیا تو انہوں نے کہا کہ میں ان کے بارے میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ ان میں سے لڑائی کرنے والے کو قتل کر دیں اور عورتوں اور بچوں کو قیدی بنالیں اور ان کے مال کو تقسیم کر لیں۔
It has been narrated on the authority of A'isha who said: Sa'd was wounded on the day of the Battle of the Ditch. A man from the Quraish called Ibn al-Ariqah shot at him an arrow which pierced the artery in the middle of his forearm. The Messenger of Allah (may peace be upon him) pitched a tent for him in the mosque and would inquire after him being in close proximity. When he returned from the Ditch and laid down his arms and took a bath, the angel Gabriel appeared to him and he was removing dust from his hair (as if he had just returned from the battle). The latter said: You have laid down arms. By God, we haven't (yet) laid them down. So march against them. The Messenger of Allah (may peace be upon him) asked: Where? He pointad to Banu Quraiza. So the Messenger of Allah (may peace he upon him) fought against them. They surrendered at the command of the Messenger of Allah (may peace be upon him), but he referred the decision about them to Sa'd who said: I decide about them that those of them who can fight be killed, their women and children taken prisoners and their properties distributed (among the Muslims).
و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ قَالَ قَالَ أَبِي فَأَخْبَرْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَقَدْ حَکَمْتَ فِيهِمْ بِحُکْمِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
ابوکریب، ابن نمیر، حضرت ہشام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میرے باپ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی گئی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا تم نے ان کے بارے میں اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے۔
It has been narrated on the authority of Hisham (who learnt it from his father) that the Messenger of Allah (may peace be upon him) said (to Sa'd): You have adjudged their case with the judgment of God the Exalted and Glorified.
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ هِشَامٍ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ سَعْدًا قَالَ وَتَحَجَّرَ کَلْمُهُ لِلْبُرْئِ فَقَالَ اللَّهُمَّ إِنَّکَ تَعْلَمُ أَنْ لَيْسَ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أُجَاهِدَ فِيکَ مِنْ قَوْمٍ کَذَّبُوا رَسُولَکَ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخْرَجُوهُ اللَّهُمَّ فَإِنْ کَانَ بَقِيَ مِنْ حَرْبِ قُرَيْشٍ شَيْئٌ فَأَبْقِنِي أُجَاهِدْهُمْ فِيکَ اللَّهُمَّ فَإِنِّي أَظُنُّ أَنَّکَ قَدْ وَضَعْتَ الْحَرْبَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ فَإِنْ کُنْتَ وَضَعْتَ الْحَرْبَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ فَافْجُرْهَا وَاجْعَلْ مَوْتِي فِيهَا فَانْفَجَرَتْ مِنْ لَبَّتِهِ فَلَمْ يَرُعْهُمْ وَفِي الْمَسْجِدِ مَعَهُ خَيْمَةٌ مِنْ بَنِي غِفَارٍ إِلَّا وَالدَّمُ يَسِيلُ إِلَيْهِمْ فَقَالُوا يَا أَهْلَ الْخَيْمَةِ مَا هَذَا الَّذِي يَأْتِينَا مِنْ قِبَلِکُمْ فَإِذَا سَعْدٌ جُرْحُهُ يَغِذُّ دَمًا فَمَاتَ مِنْهَا
ابوکریب، ابن نمیر، ہشام، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، روایت ہے کہ حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا زخم اچھا ہونے کے بعد بھر چکا تھا انہوں نے یہ دعا کی اے اللہ! تو جانتا ہے میرے نزدیک تیرے راستہ میں اس قوم سے جہاد کرنے سے جس نے تیرے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کی اور انہیں نکال دیا اور کوئی چیز محبوب نہیں اے اللہ! اگر قریش کے خلاف لڑائی کا کچھ حصہ باقی رہ گیا ہے تو تو مجھے باقی رکھ تاکہ میں ان کے ساتھ تیرے راستہ میں جہاد کروں اے اللہ! میرا گمان ہے کہ اگر تو نے ہمارے اور ان کے درمیان جنگ ختم کر دی ہے پس اگر تو نے ہمارے اور ان کے درمیان جنگ ختم کر دی ہے تو اس کو کھول دے اور اسی میں میری موت واقع کر دے پس وہ زخم ان کی ہنسلی سے بہنا شروع ہو گیا اور مسجد میں ان کے ساتھ بنی غفار کا خیمہ تھا تو وہ اس خون کو اپنے خیمے میں جانے سے روک نہ سکے تو انہوں نے کہا اے خیمہ والو یہ کیا چیز ہے جو تمہارے طرف سے ہمارے پاس آ رہی ہے پس اچانک دیکھا تو حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زخم سے خون بہہ رہا تھا اور اسی وجہ سے وہ فوت ہو گئے۔
It has been narrated on the authority of 'A'isha that Sa'd's wound became dry and was going to heal when he prayed: O God, surely Thou knowest that nothing is dearer to me than that I should fight for Thy cause against the people who disbelieved Your Messenger (may peace be upon him) and turned him out (from his native place). If anything yet remains to be decided from the war against the Quraish, spare my life so that I may fight against them in Thy cause. O Lord, I think Thou hast ended the war between us and them. If Thou hast done so, open my wound (so that it may discharge) and cause my death thereby. So the wound began to bleed from the front part of his neck. The people were not scared except when the blood flowed towards them, and in the mosque along with Sa'd's tent was the tent of Banu Ghifar. They said: O people of the tent, what is it that is coming to us from you? Lo! it was Sa'd's wound that was bleeding and he died thereof.
و حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْکُوفِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَانْفَجَرَ مِنْ لَيْلَتِهِ فَمَا زَالَ يَسِيلُ حَتَّی مَاتَ وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ قَالَ فَذَاکَ حِينَ يَقُولُ الشَّاعِرُ أَلَا يَا سَعْدُ سَعْدَ بَنِي مُعَاذٍ فَمَا فَعَلَتْ قُرَيْظَةُ وَالنَّضِيرُ لَعَمْرُکَ إِنَّ سَعْدَ بَنِي مُعَاذٍ غَدَاةَ تَحَمَّلُوا لَهُوَ الصَّبُورُ تَرَکْتُمْ قِدْرَکُمْ لَا شَيْئَ فِيهَا وَقِدْرُ الْقَوْمِ حَامِيَةٌ تَفُورُ وَقَدْ قَالَ الْکَرِيمُ أَبُو حُبَابٍ أَقِيمُوا قَيْنُقَاعُ وَلَا تَسِيرُوا وَقَدْ کَانُوا بِبَلْدَتِهِمْ ثِقَالًا کَمَا ثَقُلَتْ بِمَيْطَانَ الصُّخُورُ
علی بن حسن بن سلیمان کوفی، عبدة، حضرت ہشام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس سند کے ساتھ یہ روایت بھی اسی طرح ہے سوائے اس کے کہ اس روایت میں ہے کہ رات ہی سے زخم بہہ گیا اور مسلسل خون بہتا رہا یہاں تک کہ وہ انتقال کر گئے اور حدیث میں یہ زائد ہے کہ اس وقت شاعر نے کہا (جس کا ترجمہ یہ ہے) آگاہ رہو اے سعد! سعد بن معاذ قریظہ اور نضیر نے یہ کیا کیا اے سعد بن معاذ تیری عمر کی قسم جس صبح کو انہوں نے مصیبتوں کو برداشت کیا وہ بڑی صبر والی ہے تم نے اپنی ہانڈی ایسی چھوڑی کہ اس میں کچھ نہیں ہے اور قوم کی ہانڈی گرم ہے اور ابل رہی ہے کریم ابوحباب نے کہا ٹھہرو اے قینیقاع اور نہ چلو حال یہ ہے کہ وہ اپنے شہر میں بہت بوجھل تھے جیسے کہ مطان پہاڑی کے پتھر بھاری ہیں۔
This tradition has been narrated by Hisham through the same chain of transmitters with a little difference in the wording. He said: (His wound) began to bleed that very night and it continued to bleed until he died. He has made the addition that it was then that (a non-believing) poet said: Hark, O Sa'd, Sa'd of Banu Mu'adh, What have the Quraiaa and Nadir done? By thy life! Sa'd b. Mu'adh>br> Was steadfast on the morn they departed. You have left your cooking-pot empty, While the cooking-pot of the people is hot and boiling. Abu Hubab the nobleman has said, O Qainuqa', do not depart. They were weighty in their country just aa rocks are weighty in Maitan.