TrueHadith

فتح مکہ کے بیان میں

Sahih MuslimHadith 3331

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ وَفَدَتْ وُفُودٌ إِلَی مُعَاوِيَةَ وَذَلِکَ فِي رَمَضَانَ فَکَانَ يَصْنَعُ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ الطَّعَامَ فَکَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ مِمَّا يُکْثِرُ أَنْ يَدْعُوَنَا إِلَی رَحْلِهِ فَقُلْتُ أَلَا أَصْنَعُ طَعَامًا فَأَدْعُوَهُمْ إِلَی رَحْلِي فَأَمَرْتُ بِطَعَامٍ يُصْنَعُ ثُمَّ لَقِيتُ أَبَا هُرَيْرَةَ مِنْ الْعَشِيِّ فَقُلْتُ الدَّعْوَةُ عِنْدِي اللَّيْلَةَ فَقَالَ سَبَقْتَنِي قُلْتُ نَعَمْ فَدَعَوْتُهُمْ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَلَا أُعْلِمُکُمْ بِحَدِيثٍ مِنْ حَدِيثِکُمْ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ ذَکَرَ فَتْحَ مَکَّةَ فَقَالَ أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی قَدِمَ مَکَّةَ فَبَعَثَ الزُّبَيْرَ عَلَی إِحْدَی الْمُجَنِّبَتَيْنِ وَبَعَثَ خَالِدًا عَلَی الْمُجَنِّبَةِ الْأُخْرَی وَبَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ عَلَی الْحُسَّرِ فَأَخَذُوا بَطْنَ الْوَادِي وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي کَتِيبَةٍ قَالَ فَنَظَرَ فَرَآنِي فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ قُلْتُ لَبَّيْکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ لَا يَأْتِينِي إِلَّا أَنْصَارِيٌّ زَادَ غَيْرُ شَيْبَانَ فَقَالَ اهْتِفْ لِي بِالْأَنْصَارِ قَالَ فَأَطَافُوا بِهِ وَوَبَّشَتْ قُرَيْشٌ أَوْبَاشًا لَهَا وَأَتْبَاعًا فَقَالُوا نُقَدِّمُ هَؤُلَائِ فَإِنْ کَانَ لَهُمْ شَيْئٌ کُنَّا مَعَهُمْ وَإِنْ أُصِيبُوا أَعْطَيْنَا الَّذِي سُئِلْنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرَوْنَ إِلَی أَوْبَاشِ قُرَيْشٍ وَأَتْبَاعِهِمْ ثُمَّ قَالَ بِيَدَيْهِ إِحْدَاهُمَا عَلَی الْأُخْرَی ثُمَّ قَالَ حَتَّی تُوَافُونِي بِالصَّفَا قَالَ فَانْطَلَقْنَا فَمَا شَائَ أَحَدٌ مِنَّا أَنْ يَقْتُلَ أَحَدًا إِلَّا قَتَلَهُ وَمَا أَحَدٌ مِنْهُمْ يُوَجِّهُ إِلَيْنَا شَيْئًا قَالَ فَجَائَ أَبُو سُفْيَانَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُبِيحَتْ خَضْرَائُ قُرَيْشٍ لَا قُرَيْشَ بَعْدَ الْيَوْمِ ثُمَّ قَالَ مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ فَقَالَتْ الْأَنْصَارُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ أَمَّا الرَّجُلُ فَأَدْرَکَتْهُ رَغْبَةٌ فِي قَرْيَتِهِ وَرَأْفَةٌ بِعَشِيرَتِهِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَجَائَ الْوَحْيُ وَکَانَ إِذَا جَائَ الْوَحْيُ لَا يَخْفَی عَلَيْنَا فَإِذَا جَائَ فَلَيْسَ أَحَدٌ يَرْفَعُ طَرْفَهُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی يَنْقَضِيَ الْوَحْيُ فَلَمَّا انْقَضَی الْوَحْيُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ قَالُوا لَبَّيْکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ قُلْتُمْ أَمَّا الرَّجُلُ فَأَدْرَکَتْهُ رَغْبَةٌ فِي قَرْيَتِهِ قَالُوا قَدْ کَانَ ذَاکَ قَالَ کَلَّا إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ هَاجَرْتُ إِلَی اللَّهِ وَإِلَيْکُمْ وَالْمَحْيَا مَحْيَاکُمْ وَالْمَمَاتُ مَمَاتُکُمْ فَأَقْبَلُوا إِلَيْهِ يَبْکُونَ وَيَقُولُونَ وَاللَّهِ مَا قُلْنَا الَّذِي قُلْنَا إِلَّا الضِّنَّ بِاللَّهِ وَبِرَسُولِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يُصَدِّقَانِکُمْ وَيَعْذِرَانِکُمْ قَالَ فَأَقْبَلَ النَّاسُ إِلَی دَارِ أَبِي سُفْيَانَ وَأَغْلَقَ النَّاسُ أَبْوَابَهُمْ قَالَ وَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی أَقْبَلَ إِلَی الْحَجَرِ فَاسْتَلَمَهُ ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْتِ قَالَ فَأَتَی عَلَی صَنَمٍ إِلَی جَنْبِ الْبَيْتِ کَانُوا يَعْبُدُونَهُ قَالَ وَفِي يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْسٌ وَهُوَ آخِذٌ بِسِيَةِ الْقَوْسِ فَلَمَّا أَتَی عَلَی الصَّنَمِ جَعَلَ يَطْعُنُهُ فِي عَيْنِهِ وَيَقُولُ جَائَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ طَوَافِهِ أَتَی الصَّفَا فَعَلَا عَلَيْهِ حَتَّی نَظَرَ إِلَی الْبَيْتِ وَرَفَعَ يَدَيْهِ فَجَعَلَ يَحْمَدُ اللَّهَ وَيَدْعُو بِمَا شَائَ أَنْ يَدْعُوَ

شیبان بن فروخ، سلیمان بن مغیرہ، ثابت بنانی، عبداللہ بن رباح، ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رمضان المبارک میں کئی وفد حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس پہنچے اور ہم ایک دوسرے کے لئے کھانا تیار کرتے تھے اور ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہمیں اکثر اپنے ٹھکانے پر بلاتے تھے میں نے کہا کیا میں کھانا نہ پکاؤں اور پھر انہیں اپنے مکان پر آنے کی دعوت دوں تو میں نے کھانا تیار کرنے کا حکم دیا پھر شام کے وقت میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملا تو میں نے کہا آج رات میرے ہاں دعوت ہے انہوں نے کہا تم نے مجھ پر سبقت حاصل کرلی ہے میں نے کہا جی ہاں میں نے انہیں دعوت دی ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا اے انصار کی جماعت کیا میں تمہیں تمہارے بارے میں حدیث کی خبر نہ دوں پھر فتح مکہ کا ذکر کیا تو کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چل کر مکہ پہنچے اور دو اطراف میں سے ایک جانب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر کو اور دوسری جانب خالد کو بھیجا اور ابوعبیدہ کو بے زرہ لوگوں پر امیر بنا کر بھیجا وہ وادی کے اندر سے گزرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الگ ایک فوجی دستہ میں رہ گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نظر اٹھا کر مجھے دیکھا تو فرمایا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول میں حاضر ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے پاس انصار کے علاوہ کوئی نہ آئے دوسری روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انصار کو میرے پاس آواز دو پس وہ سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد جمع ہو گئے اور قریش نے بھی اپنے حماتیی اور متبعین کو اکٹھا کر لیا اور کہا ہم ان کو آگے بھیج دیتے ہیں اگر انہیں کوئی فائدہ حاصل ہوا تو ہم بھی ان کے ساتھ شریک ہو جائیں گے اور اگر انہیں کچھ ہو گیا تو ہم سے جو کچھ مانگا جائے گا دے دیں گے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم قریش کے حمایتیوں اور متبعین کو دیکھ رہے ہو، تو اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر مار کر فرمایا اور تم مجھ سے کوہ صفا پر ملاقات کرنا ہم چل دیے اور ہم میں سے جو کسی کو قتل کرنا چاہتا تو کر دیتا اور ان میں سے کوئی بھی ہمارا مقابلہ نہ کر سکتا پس ابوسفیان نے آکر عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم قریش کی سرداری ختم ہوگئی آج کے بعد کوئی قریشی نہ رہے گا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو ابوسفیان کے گھر میں داخل ہو جائے وہ امن میں رہے گا انصار نے ایک دوسرے سے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے شہر کی محبت اور اپنے قرابت داروں کے ساتھ نرمی غالب آ گئی ہے ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی آئی اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تھی تو کوئی بھی رسول اللہ کی طرف نظر اٹھا کر دیکھ نہ سکتا تھا یہاں تک کہ وحی ختم ہو جاتی پس جب وحی پوری ہوگئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے انصار کی جماعت انہوں نے کہا لبیک اے اللہ کے رسول آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے کہا ہے کہ اس شخص کو اپنے شہر کی محبت غالب آ گئی ہے انہوں نے عرض کیا واقعہ تو یہی ہوا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہرگز نہیں میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں میں نے اللہ اور تمہاری طرف ہجرت کی ہے اب میری زندگی تمہاری زندگی کے ساتھ اور موت تمہاری موت کے ساتھ ہے پس روتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھے اور عرض کرنے لگے اللہ کی قسم ہم نے جو کچھ کہا وہ صرف اور صرف اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی حرص میں کہا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک اللہ اور اس کا رسول تمہاری تصدیق کرتے ہیں اور تمہارا عذر قبول کرتے ہیں پس لوگ ابوسفیان کے گھر کی طرف جانے لگے اور کچھ لوگوں نے اپنے دروازے بند کر لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہو کر حجر اسود تک پہنچے اور اسے بوسہ دیا پھر بیت اللہ کا طواف کیا کعبہ کے ایک کونہ میں موجود ایک بت کے پاس آئے جس کی وہ پرستش کرتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ مبارک میں ایک کمان تھی جس کا کونہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پکڑے ہوئے تھے جب بت کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی آنکھوں میں اس کمان کا کونہ چبھونا شروع کر دیا اور فرماتے تھے حق آ گیا اور باطل چلا گیا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے طواف سے فارغ ہوئے تو کوہ صفا کی طرف آئے اور اس پر چڑھ کر بیت اللہ کی طرف نظر دوڑائی اور آپ نے ہاتھوں کو بلند کیا اور اللہ کی حمد و ثناء شروع کر دی اور پھر جو چاہا اللہ سے مانگتے رہے۔

It has been narrated by 'Abdullah b. Rabah from Abu Huraira, who said: Many deputations came to Mu'awiya. This was in the month of Ramadan. We would prepare food for one another. Abu Huraira was one of those who frequently invited us to his house. I said: Should I not prepare food and invite them to my place? So I ordered meals to be prepared Then I met Abu Huraira in the evening and said: (You will have) your meals with me tonight. He said: You have forestalled me. I said: Yes, and invited them. (When they had finished with the meals) Abu Huraira said: Should I not tell yon a tradition from your traditions, O ye assembly of the Ansar? He then gave an account of the Conquest of Mecca and said: The Messenger of Allah (may peace be upon him) advanced until he reached Mecca. He deputed Zubair on his right flank and Khalid on the left, and he despatched Abu Ubaida with the force that had no armour. They advanced to the interior of the valley. The Messenger of Allah (may peace be upon him) was in the midst of a large contingent of fighters. He saw me and said: Abu Huraira. I said: I am here at your call, Messenger of Allah. He said: Let no one come to me except the Ansar, so call to me the Ansar (only). Abu Huraira continued: So they gathered round him. The Quraish also gathered their ruffians and their (lowly) followers, and said: We send these forward. If they get anything, we shall be with them (to share it), and if misfortune befalls them, we shall pay (as compensation) whatever we are asked for. The Messenger of Allah (may peace be upon him) said (to the Ansar): You see the ruffians and the (lowly) followers of the Quraish. And he indicated by (striking) one of his hands over the other that they should be killed and said: Meet me at as-Safa. Then we went on (and) if any one of us wanted that a certain person should be killed, he was killed, and none could offer any resistance. Abu Huraira continued: Then came Abu Sufyan and said: Messenger of Allah, the blood of the Quraish has become very cheap. There will be no Quraish from this day on. Then he (the Holy Prophet) said: Who enters the house of Abu Sufyan, he will be safe. Some of the Ansar whispered among themselves: (After all), love for his city and tenderness towards his relations have overpowered him. Abu Huraira said: (At this moment) revelation came to the Holy Prophet (may peace be upon him) and when he was going to receive the Revelation, we understood it, and when he was (actually) receiving it, none of us would dare raise his eyes to the Messenger of Allah (may peace be upon him) until the revelation came to an end. When the revelation came to an end, the Messenger of Allah (may peace be upon him) said: O ye Assembly of the Ansar! They said: Here we are at your disposal, Messenger of Allah. He said: You were saying that love for his city and tenderness towards his people have overpowered this man. They said: So it was. He said: No, never. I am a bondman of God and His Messenger. I migrated towards God and towards you. I will live with you and will die with you. So, they (the Ansar) turned towards him in tears and they were saying: By Allah, we said what we said because of our tenacious attachment to Allah and His Messenger. The Messenger of Allah (may peace be upon him) said: Surely, Allah and His Messenger testify to your assertions and accept your apology. The narrator continued: People turned to the house of Abu Sufyan and people locked their doors. The Messenger of Allah (may peace be upon him) proceeded until he approached the (Black) Stone. He kissed it and circumambulated the Ka'ba. He reached near an idol by the side of the Ka'ba which was worshipped by the people. The Messenger of Allah (may peace be upon him) had a bow in his hand, and he was holding it from a corner. When he came near the idol, he began to pierce its eyes with the bow and (while doing so) was saying: Truth has been established and falsehood has perished. When he had finished the circumambulation, he came to Safa', ascended it to a height from where he could see the Ka'ba, raised his hands (in prayer) and began to praise Allah and prayed what he wanted to pray.

Permalink

Sahih MuslimHadith (internal ref #1230126)

و حَدَّثَنِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ ثُمَّ قَالَ بِيَدَيْهِ إِحْدَاهُمَا عَلَی الْأُخْرَی احْصُدُوهُمْ حَصْدًا وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ قَالُوا قُلْنَا ذَاکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَمَا اسْمِي إِذًا کَلَّا إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ

عبداللہ بن ہاشم، بہز، سلیمان بن مغیرہ اس سند بھی یہ حدیث مروی ہے اس میں مزید اضافہ یہ ہے کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ پر رکھ کر فرمایا انصار نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے اسی طرح کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس وقت میرا نام کیا ہوگا ہرگز نہیں میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہوں۔

The tradition has been narrated by a different chain of transmitters with the following additions: Then he (the Messenger of Allah) said with his hands one upon the other: Kill them (who stand in your way).... (ii) They (the Ansar) replied: We said so, Messenger of Allah! He said: What is my name? I am but Allah's bondman and His Messenger.

Permalink

Sahih MuslimHadith 3332

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ قَالَ وَفَدْنَا إِلَی مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ وَفِينَا أَبُو هُرَيْرَةَ فَکَانَ کُلُّ رَجُلٍ مِنَّا يَصْنَعُ طَعَامًا يَوْمًا لِأَصْحَابِهِ فَکَانَتْ نَوْبَتِي فَقُلْتُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ الْيَوْمُ نَوْبَتِي فَجَائُوا إِلَی الْمَنْزِلِ وَلَمْ يُدْرِکْ طَعَامُنَا فَقُلْتُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ لَوْ حَدَّثْتَنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی يُدْرِکَ طَعَامُنَا فَقَالَ کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ فَجَعَلَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ عَلَی الْمُجَنِّبَةِ الْيُمْنَی وَجَعَلَ الزُّبَيْرَ عَلَی الْمُجَنِّبَةِ الْيُسْرَی وَجَعَلَ أَبَا عُبَيْدَةَ عَلَی الْبَيَاذِقَةِ وَبَطْنِ الْوَادِي فَقَالَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ادْعُ لِي الْأَنْصَارَ فَدَعَوْتُهُمْ فَجَائُوا يُهَرْوِلُونَ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ هَلْ تَرَوْنَ أَوْبَاشَ قُرَيْشٍ قَالُوا نَعَمْ قَالَ انْظُرُوا إِذَا لَقِيتُمُوهُمْ غَدًا أَنْ تَحْصُدُوهُمْ حَصْدًا وَأَخْفَی بِيَدِهِ وَوَضَعَ يَمِينَهُ عَلَی شِمَالِهِ وَقَالَ مَوْعِدُکُمْ الصَّفَا قَالَ فَمَا أَشْرَفَ يَوْمَئِذٍ لَهُمْ أَحَدٌ إِلَّا أَنَامُوهُ قَالَ وَصَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّفَا وَجَائَتْ الْأَنْصَارُ فَأَطَافُوا بِالصَّفَا فَجَائَ أَبُو سُفْيَانَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُبِيدَتْ خَضْرَائُ قُرَيْشٍ لَا قُرَيْشَ بَعْدَ الْيَوْمِ قَالَ أَبُو سُفْيَانَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ وَمَنْ أَلْقَی السِّلَاحَ فَهُوَ آمِنٌ وَمَنْ أَغْلَقَ بَابَهُ فَهُوَ آمِنٌ فَقَالَتْ الْأَنْصَارُ أَمَّا الرَّجُلُ فَقَدْ أَخَذَتْهُ رَأْفَةٌ بِعَشِيرَتِهِ وَرَغْبَةٌ فِي قَرْيَتِهِ وَنَزَلَ الْوَحْيُ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْتُمْ أَمَّا الرَّجُلُ فَقَدْ أَخَذَتْهُ رَأْفَةٌ بِعَشِيرَتِهِ وَرَغْبَةٌ فِي قَرْيَتِهِ أَلَا فَمَا اسْمِي إِذًا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ أَنَا مُحَمَّدٌ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ هَاجَرْتُ إِلَی اللَّهِ وَإِلَيْکُمْ فَالْمَحْيَا مَحْيَاکُمْ وَالْمَمَاتُ مَمَاتُکُمْ قَالُوا وَاللَّهِ مَا قُلْنَا إِلَّا ضِنًّا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ قَالَ فَإِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يُصَدِّقَانِکُمْ وَيَعْذِرَانِکُمْ

عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، یحیی بن حسان، حماد بن سلمة، ثابت بن عبداللہ بن رباح، حضرت عبدالرحمن بن رباح رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم حضرت معاویہ بن ابوسفیان کے پاس گئے اور ہم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تھے اور ہم میں سے ایک آدمی ایک دن اپنے ساتھیوں کے لئے کھانا پکاتا تھا میری باری تھی تو میں نے کہا اے ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ آج میری باری ہے پس وہ گھر آ گئے لیکن کھانا ابھی تک تیار نہ ہوا تھا تو میں نے کہا اے ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کاش آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کھانا تیار ہونے تک رسول اللہ کی کوئی حدیث بیان کر دیتے تو انہوں نے کہا فتح مکہ کے دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن ولید کو دائیں طرف لشکر پر اور زبیر کو بائیں طرف کے لشکر پر اور ابوعبیدہ کو پیدل لشکر پر امیر مقرر کر کے وادی کے اندر روانہ فرمایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوہریرہ میرے پاس انصار کو بلاؤ میں نے انہیں بلایا تو وہ دوڑتے ہوئے حاضر ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے انصار کی جماعت کیا تم قریش کے کمی لوگوں کو دیکھ رہے ہو انہوں نے عرض کیا جی ہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہیں دیکھ لو جب کل تم ان سے مقابلہ کرو تو انہیں کھیتی کی طرح کاٹ دینا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں ہاتھ بائیں پر رکھ کر اشارہ فرمایا اور فرمایا تمہارے ملنے کی جگہ صفا ہے اس دن ان کا جو شخص بھی انصار کو ملا اسے انصار نے سلا دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوہ صفا پر چڑھے اور انصار نے حاضر ہو کر صفا کو گھیر لیا پس ابوسفیان نے حاضر ہو کر عرض کیا اے اللہ کے رسول قریش کی تمام جماعتیں ختم ہو گئیں آج کے بعد کوئی قریشی نہ ہوگا ابوسفیان نے کہا کہ رسول اللہ نے اعلان فرمایا جو ابوسفیان کے گھر میں داخل ہو جائے اسے امن ہوگا اور جو ہتھیار ڈال دے وہ بھی مامون ہوگا اور جو اپنا دروازہ بند کر لے وہ بھی بحفاظت رہے گا انصار نے کہا ایسے آدمی ہیں جنہیں اپنے خاندان کے ساتھ نرمی اور اپنے وطن کی محبت پیدا ہوگئی ہے اور اللہ کے رسول پر وحی نازل ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے یہ کہا تھا کہ اس آدمی کو اپنے خاندان کے ساتھ نرمی کرنے اور اپنے وطن کی محبت پیدا ہوگئی ہے کیا تم جانتے ہو اس وقت میرا نام کیا ہوگا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار یہ فرمایا کہ میں محمد ہوں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول میں نے اللہ اور تمہاری طرف ہجرت کی ہے میرا جینا تمہارے ساتھ اور میرا مرنا بھی تمہارے ساتھ ہوگا انصار نے عرض کیا اللہ کی قسم ہم نے یہ بات صرف اور صرف اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت کی حرص میں ہی کی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک اللہ اور اس کا رسول تمہاری تصدیق کرتے ہیں اور تمہارا عذر قبول کرتے ہیں۔

It has been narrated on the authority of Abdullah b. Rabah who said: We came to Mu'awiya b. Abu Sufyan as a deputation and Abu Huraira was among us. Each of us would prepare food for his companions turn by turn for a day. (Accordingly) when it was my turn I said: Abu Huraira, it is my turn today. So they came to my place. The food was not yet ready, so I said to Abu Huraira: I wish you could narrate to us a tradition from the Messenger of Allah (may peace be upon him) until the food was ready. (Complying with my request) Abu Huraira said: We were with the Messenger of Allah (may peace be upon him) on the day of the Conquest of Mecca. He appointed Khalid b. Walid as commander of the right flank, Zubair as commander of the left flank, and Abu 'Ubaida as commander of the foot-soldiers (who were to advance) to the interior of the valley. He (then) said: Abu Huraira, call the Ansar to me. So I called out to them and they came hurriedly. He said: O ye Assembly of the Ansaar, do you see the ruffians of the Quraish? They said: Yes. He said: See, when you meet them tomorrow, wipe them out. He hinted at this with his hand, placing his right hand on his left and said: You will meet us at as-Safa'. (Abu Huraira continued): Whoever was seen by them that day was put to death. The Messenger of Allah (may peace be upon him) ascended the mount of as-Safa'. The Ansar also came there and surrounded the mount. Then came Abu Sufyan and said: Messenger ot Allah, the Quraish have perished. No member of the Quraish tribe will survive this day. The Messenger of Allah (may peace be upon him) said: Who enters the house of Abu Safyan will be safe, who lays down arms will be safe, who locks his door will be safe. (Some of) the Ansar said: (After all) the man has been swayed by tenderness towards his family and love for his city. At this, Divine inspiration descended upon the Messenger of Allah (may peace be upon him). He said: You were saying that the man has been swayed by tenderness towards his family and love for his city. Do you know what my name is? I am Muhammad, the bondman of God and His Messenger. (He repeated this thrice.) I left my native place for the sake of Allah and joined you. So I will live with you and die with you. Now the Ansar said: By God, we said (that) only out of our greed for Allah and His Messenger. He said: Allah and His Apostle testify to you and accept your apology.

Permalink