TrueHadith

غزوہ احد کے بیان میں

Sahih MuslimHadith 3344

و حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ الْأَزْدِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ وَثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُفْرِدَ يَوْمَ أُحُدٍ فِي سَبْعَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ وَرَجُلَيْنِ مِنْ قُرَيْشٍ فَلَمَّا رَهِقُوهُ قَالَ مَنْ يَرُدُّهُمْ عَنَّا وَلَهُ الْجَنَّةُ أَوْ هُوَ رَفِيقِي فِي الْجَنَّةِ فَتَقَدَّمَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَاتَلَ حَتَّی قُتِلَ ثُمَّ رَهِقُوهُ أَيْضًا فَقَالَ مَنْ يَرُدُّهُمْ عَنَّا وَلَهُ الْجَنَّةُ أَوْ هُوَ رَفِيقِي فِي الْجَنَّةِ فَتَقَدَّمَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَاتَلَ حَتَّی قُتِلَ فَلَمْ يَزَلْ کَذَلِکَ حَتَّی قُتِلَ السَّبْعَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَاحِبَيْهِ مَا أَنْصَفْنَا أَصْحَابَنَا

ہداب بن خالد ازدی، حماد بن سلمة، علی بن زید، ثابت بنانی، حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ غزوہ احد کے دن رسول اللہ سات انصاریوں اور قریش کے دو آدمیوں کے ہمراہ اکیلے رہ گئے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیر لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو انہیں ہم سے ہٹائے گا اس کے لئے جنت ہے یا وہ جنت میں میرا رفیق ہوگا تو انصار میں سے ایک آدمی آگے بڑھا اور جنگ کی یہاں تک کہ شہید ہو گیا پھر بھی کافروں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیرے رکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو انہیں ہم سے دور کرے گا اس کے لئے جنت ہوگی یا وہ جنت میں میرا رفیق ہوگا پس انصار میں سے ایک آدمی آگے بڑھ کر لڑا یہاں تک کہ وہ شہید ہو گیا یہ سلسلہ برابر اسی طرح چلتا رہا یہاں تک کہ ساتوں انصاری شہید ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا ہم نے اپنے ساتھیوں سے انصاف نہیں کیا۔

It has been reported on the authority of Anas b. Malik that (when the enemy got the upper hand) on the day of the Battle of Uhud, the Messenger of Allah (may peace be upon him) was left with only seven men from the Ansar and two men from the Quraish. When the enemy advanced towards him and overwhelmed him, he said: Whoso turns them away from us will attain Paradise or will be my Companion in Paradise. A man from the Ansar came forward and fought (the enemy) until he was killed. The enemy advanced and overwhelmed him again and he repeated the words: Whoso turns them away, from us will attain Paradise or will be my Companion in Paradise. A man from the Ansar came forward and fought until he was killed. This state continued until the seven Ansar were killed (one after the other). Now, the Messenger of Allah (may peace be upon him) said to his two Companions: We have not done justice to our Companions.

Permalink

Sahih MuslimHadith 3345

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ يَسْأَلُ عَنْ جُرْحِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ فَقَالَ جُرِحَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَکُسِرَتْ رَبَاعِيَتُهُ وَهُشِمَتْ الْبَيْضَةُ عَلَی رَأْسِهِ فَکَانَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَغْسِلُ الدَّمَ وَکَانَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ يَسْکُبُ عَلَيْهَا بِالْمِجَنِّ فَلَمَّا رَأَتْ فَاطِمَةُ أَنَّ الْمَائَ لَا يَزِيدُ الدَّمَ إِلَّا کَثْرَةً أَخَذَتْ قِطْعَةَ حَصِيرٍ فَأَحْرَقَتْهُ حَتَّی صَارَ رَمَادًا ثُمَّ أَلْصَقَتْهُ بِالْجُرْحِ فَاسْتَمْسَکَ الدَّمُ

یحیی بن یحیی تمیمی، عبدالعزیز بن ابی حازم، حضرت عبدالعزیز بن ابوحازم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اپنے باپ سے روایت ہے کہ سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوہ احد کے دن زخمی ہونے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا رسول اللہ کا چہرہ اقدس زخمی کیا گیا اور آگے سے ایک دانت ٹوٹ گیا اور خود آپ کے سر مبارک میں ٹوٹ گئی تھی فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خون دھوتی تھیں اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن ابوطالب ڈھال میں پانی لا کر ڈال رہے تھے جب حضرت فاطمہ نے دیکھا کہ پانی سے خون میں کمی نہیں بلکہ زیادتی ہو رہی ہے انہوں نے چٹائی کا ایک ٹکڑا لے کر جلایا یہاں تک کہ راکھ بن گئی پھر اسے زخم پر لگا دیا جس سے خون رک گیا۔

It has been narrated on the authority of Abd-ul-'Aziz b. Abu Hazim, who learnt from his father (Abu Hazim). The latter heard it from Sahl b. Sa'd who was asked about the injury which the Messenger of Allah (may peace be upon him) got on the day of the Battle of Uhud. He said: The face of the Messenger of Allah (may peace be upon him) was injured, his front teeth were damaged and his helmet was crushed. Fatima, the daughter of the Messenger of Allah (may peace be upon him), was washing the blood (from his head), and 'Ali b. Abu Talib was pouring water on it from a shield. When Fatima saw that the bleeding had increased on account of (pouring) water (on the wound), she took a piece of mat and burnt it until it was reduced to ashes. She put the ashes on the wound and the bleeding stopped.

Permalink

Sahih MuslimHadith (internal ref #1230146)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ عَنْ أَبِي حَازِمٍ أَنَّهُ سَمِعَ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ وَهُوَ يَسْأَلُ عَنْ جُرْحِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَمَ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْرِفُ مَنْ کَانَ يَغْسِلُ جُرْحَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ کَانَ يَسْکُبُ الْمَائَ وَبِمَاذَا دُووِيَ جُرْحُهُ ثُمَّ ذَکَرَ نَحْوَ حَدِيثِ عَبْدِ الْعَزِيزِ غَيْرَ أَنَّهُ زَادَ وَجُرِحَ وَجْهُهُ وَقَالَ مَکَانَ هُشِمَتْ کُسِرَتْ

قتیبہ بن سعید، یعقوب، ابن عبدالرحمن قاری، حضرت ابوحازم سے روایت ہے کہ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زخم کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا سنو اللہ کی قسم! مجھے معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زخم کو کس نے دھویا اور کس نے پانی ڈالا اور کس چیز سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زخم کا علاج کیا گیا باقی حدیث اسی طرح ذکر کی اس میں اضافہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ اقدس زخمی کیا گیا اور هُشِمَتْ کی جگہ کُسِرَتْ بیان کیا۔

It has been reported on the authority of Abu Hazim who heard from Sahl b. Sa'd. The latter was asked about the injury of the Messenger of Allah (may peace be upon him). He said: By God, I know the person who washed the wound of the Messenger of Allah (may peace be upon him), who poured water on it and with what the wound was treated. Then Sahl narrated the same tradition as has been narrated by 'Abd al-'Aziz except that he added the words: "And his face was injured" and replaced the word "Hushimat" by "Kusirat" (i. e. it was broken).

Permalink

Sahih MuslimHadith (internal ref #1230147)

و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ ح و حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ مُطَرِّفٍ کُلُّهُمْ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَدِيثِ ابْنِ أَبِي هِلَالٍ أُصِيبَ وَجْهُهُ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ مُطَرِّفٍ جُرِحَ وَجْهُهُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، ابن ابی عمر، ابن عیینہ، عمرو بن سواد عامری، عبداللہ بن وہب، عمرو بن حارث، سعید بن ابی ہلال، محمد بن سہل تمیمی، ابن ابی مریم، محمد یعنی ابن مطرف، ابی حازم، سہل بن سعد، ان اسناد سے بھی یہ حدیث معمولی فرق سے اسی طرح روایت کی گئی ہے۔

The same tradition has been narrated on the authority of Sahl b. Sa'd through a different chain of transmitters with a slight difference in the wording.

Permalink

Sahih MuslimHadith 3346

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کُسِرَتْ رَبَاعِيَتُهُ يَوْمَ أُحُدٍ وَشُجَّ فِي رَأْسِهِ فَجَعَلَ يَسْلُتُ الدَّمَ عَنْهُ وَيَقُولُ کَيْفَ يُفْلِحُ قَوْمٌ شَجُّوا نَبِيَّهُمْ وَکَسَرُوا رَبَاعِيَتَهُ وَهُوَ يَدْعُوهُمْ إِلَی اللَّهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ لَکَ مِنْ الْأَمْرِ شَيْئٌ

عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب، حماد بن سلمہ، ثابت بن انس، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ غزوہ احد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کا دانت ٹوٹ گیا اور سر مبارک میں زخم ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس زخم سے خون پونچھتے ہوئے فرما رہے تھے وہ قوم کیسے کامیابی حاصل کر سکتی ہے جو اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو زخمی کرتی ہے اور انہوں نے اس کے سامنے کے دانت کو توڑا ہے اور وہ انہیں اللہ کی طرف دعوت دیتا ہے تو اللہ رب العزت نے ( لَيْسَ لَکَ مِنْ الْأَمْرِ شَيْئٌ) نازل فرمائی۔

It has been narrated on the authority of Anas that the Messenger of Allah (may peace be upon him) had his front teeth damaged on the day of the Battle of Uhud, and got a wound on his head. He was wiping the blood (from his face) and was saying: How will these people attain salvation who have wounded their Prophet and broken his tooth while he called them towards God? At this time, God, the Exalted and Glorious, revealed the Verse: "Thou hast no authority" (iii. 127).

Permalink

Sahih MuslimHadith 3347

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ کَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْکِي نَبِيًّا مِنْ الْأَنْبِيَائِ ضَرَبَهُ قَوْمُهُ وَهُوَ يَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ وَيَقُولُ رَبِّ اغْفِرْ لِقَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ

محمد بن عبداللہ بن نمیر، وکیع، اعمش، شقیق، حضرت عبداللہ سے روایت ہے کہ گویا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھ رہا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انبیاء میں سے کسی نبی کا قصہ بیان فرما رہے تھے کہ انہیں ان کی قوم نے مارا اور وہ اپنے چہرہ سے خون پونچھتے جا رہے تھے اور فرماتے تھے اے میرے پروردگار میری قوم کی بخشش فرمانا وہ جانتے نہیں۔

It has been narrated on the authority of 'Abdullah who said: It appeared to me as if I saw the Messenger of Allah (may peace be upon him) (and heard him) relate the story of a Prophet who had been beaten by his people, was wiping the blood from his face and was saying. My Lord, forgive my people, for they do not know.

Permalink

Sahih MuslimHadith (internal ref #1230150)

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَهُوَ يَنْضِحُ الدَّمَ عَنْ جَبِينِهِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، محمد بن بشر، اعمش، اس سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے اس میں یہ بھی ہے کہ آپ اپنی پیشانی مبارک سے خون پونچھتے جاتے تھے۔

A version of the tradition with a slightly different wording has been narrated by another chain of transmitters.

Permalink

Sahih MuslimHadith 3348

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَدَّ غَضَبُ اللَّهِ عَلَی قَوْمٍ فَعَلُوا هَذَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ حِينَئِذٍ يُشِيرُ إِلَی رَبَاعِيَتِهِ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَدَّ غَضَبُ اللَّهِ عَلَی رَجُلٍ يَقْتُلُهُ رَسُولُ اللَّهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ

محمد بن رافع، عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا اللہ کی ناراضگی اس قوم پر زیادہ ہوگی جس نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ معاملہ کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت اپنے دانت کی طرف اشارہ فرما رہے تھے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس آدمی پر بھی اللہ کا غصہ زیادہ ہوگا جسے اللہ کا رسول اللہ رب العزت کے راستہ میں قتل کرے

It has been narrated by Hammam b. Munabbih who said: This is what has been related to us by Abu Huraira from the Messenger of Allah (may peace be upon him). (With this introduction) he narrated a number of traditions. One of these was that the Messenger of Allah (may peace be upon him) said: Great is the wrath of Allah upon a people who have done this to the Messenger of Allah (may peace be upon him), and he was at that time pointing to his front teeth. The Messenger of Allah (may peace be upon him) also said: Great is the wrath of Allah upon a person who has been killed by the Messenger of Allah (may peace be upon him) in the way of Allah, the Exalted and Glorious.

Permalink