TrueHadith

جہاد کر نے والی عورتوں کو بطور عطیہ دینے اور غنیمت میں حصہ مقرر نہ کرنے کا حکم اور اہل حرب کے بچوں کو قتل کرنے کی ممانعت کے بیان میں

Sahih MuslimHadith 3377

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ أَنَّ نَجْدَةَ کَتَبَ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ خَمْسِ خِلَالٍ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَوْلَا أَنْ أَکْتُمَ عِلْمًا مَا کَتَبْتُ إِلَيْهِ کَتَبَ إِلَيْهِ نَجْدَةُ أَمَّا بَعْدُ فَأَخْبِرْنِي هَلْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو بِالنِّسَائِ وَهَلْ کَانَ يَضْرِبُ لَهُنَّ بِسَهْمٍ وَهَلْ کَانَ يَقْتُلُ الصِّبْيَانَ وَمَتَی يَنْقَضِي يُتْمُ الْيَتِيمِ وَعَنْ الْخُمْسِ لِمَنْ هُوَ فَکَتَبَ إِلَيْهِ ابْنُ عَبَّاسٍ کَتَبْتَ تَسْأَلُنِي هَلْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو بِالنِّسَائِ وَقَدْ کَانَ يَغْزُو بِهِنَّ فَيُدَاوِينَ الْجَرْحَی وَيُحْذَيْنَ مِنْ الْغَنِيمَةِ وَأَمَّا بِسَهْمٍ فَلَمْ يَضْرِبْ لَهُنَّ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَکُنْ يَقْتُلُ الصِّبْيَانَ فَلَا تَقْتُلْ الصِّبْيَانَ وَکَتَبْتَ تَسْأَلُنِي مَتَی يَنْقَضِي يُتْمُ الْيَتِيمِ فَلَعَمْرِي إِنَّ الرَّجُلَ لَتَنْبُتُ لِحْيَتُهُ وَإِنَّهُ لَضَعِيفُ الْأَخْذِ لِنَفْسِهِ ضَعِيفُ الْعَطَائِ مِنْهَا فَإِذَا أَخَذَ لِنَفْسِهِ مِنْ صَالِحِ مَا يَأْخُذُ النَّاسُ فَقَدْ ذَهَبَ عَنْهُ الْيُتْمُ وَکَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنْ الْخُمْسِ لِمَنْ هُوَ وَإِنَّا کُنَّا نَقُولُ هُوَ لَنَا فَأَبَی عَلَيْنَا قَوْمُنَا ذَاکَ

عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب، سلیمان بن بلال، جعفر بن محمد، یزید بن ہرمز، حضرت یزید بن ہرمز رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نجدہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پانچ باتوں کے بارے میں پوچھنے کے لئے لکھا تو ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا اگر مجھے علم چھپانے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں نہ لکھتا، ان کی طرف نجدہ نے لکھا کہ آپ مجھے خبر دیں کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کو جہاد میں شریک کرتے تھے اور کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لئے حصہ مقرر فرماتے تھے اور کیا آپ بچوں کو قتل کرتے تھے اور یتیم کی یتیمی کب ختم ہوتی ہے اور مال غنیمت کا پانچواں حصہ کس کا حق ہے ۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کی طرف(جواباً) تحریر فرمایا تو نے مجھ سے پوچھنے کے لئے لکھا، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کو جہاد میں شریک کرتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کو جہاد میں شریک کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں جہاد میں ساتھ لے جاتے تھے اور وہ زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی تھیں اور انہیں مال غنیمت میں سے کچھ عطا بھی کیا جاتا تھا بہرحال مال غنیمت میں سے ان کے لئے حصہ مقرر نہ کیا جاتا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کو قتل نہ کرتے تھے پس تو بھی بچوں کو قتل نہ کرنا اور تو نے مجھ سے پوچھنے کے لئے لکھا ہے کہ یتیم کی یتیمی کب ختم ہو جاتی ہے، تو میری عمر کی قسم بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ ان کی داڑھی نکل آتی ہے لیکن وہ اپنے لینے اور دینے میں کمزور ہوتے ہیں پس جب وہ باسلیقہ لوگوں کی طرح اپنا فائدہ حاصل کرنے کے قابل ہو جائیں تو اس کی مدت یتیمی ختم ہو جائے گی اور تو نے مجھ سے مال غنیمت میں پانچواں حصہ کے بارے میں پوچھنے کے لئے لکھا ہے کہ اس کا حقدار کون ہے ہم کہا کرتے تھے کہ وہ ہمارا حق ہے لیکن قوم نے ہمیں یہ حق دینے سے انکار کردیا۔

It has been narrated on the authority of Yazid b. Hurmuz that Najda wrote to Ibn Abbas inquiring of him five things. Ibn Abbas said: If I had not the fear of committing (sin) for concealing the knowledge I would not have written to him. Najda wrote to him saying (after praising the Almighty and invoking blessings on the Prophet): Tell me whether the Messenger of Allah (may peace be upon him) took women to participate with him in Jihad; (if he did), whether he allotted them a regular share from the booty; whether he killed the children of (the enemy in the war how long an orphan would be entitled to consideration as such and for whom the Kbums (fifth part of the booty) was booty. Ibn Abbas wrote to him: You have written asking me whether the Messenger of Allah (may peace be upon him) took women with him to participate in Jihad. He did take them to the battle and sometimes he fought along with them. They would treat the wounded and were given a reward from the booty, but he did not assign any regular share for them. And the Messenger of Allah (may peace be upon him) did not kill the children of the enemy, so thou shouldst not kill the children. Also you have written to me asking me when the orphanhood of an orphan comes to an end. By my life, if a man has become bearded but is still incapable of getting his due from others as well as meeting his obligation towards them, (he is yet an orphan to be treated you such), but when he can look after his interests like grown-up people, he is no longer an orphan. And you have written to me inquiring about Khums as to whom it is meant for. (In this connection) we (the kinsmen of the Messenger of Allah) used to say: It is for us, but those people (i. e. Banu Umayya) have denied it to us.

Permalink

Sahih MuslimHadith (internal ref #1230188)

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ کِلَاهُمَا عَنْ حَاتِمِ بْنِ إِسْمَعِيلَ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ أَنَّ نَجْدَةَ کَتَبَ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ خِلَالٍ بِمِثْلِ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ حَاتِمٍ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَکُنْ يَقْتُلُ الصِّبْيَانَ فَلَا تَقْتُلْ الصِّبْيَانَ إِلَّا أَنْ تَکُونَ تَعْلَمُ مَا عَلِمَ الْخَضِرُ مِنْ الصَّبِيِّ الَّذِي قَتَلَ وَزَادَ إِسْحَقُ فِي حَدِيثِهِ عَنْ حَاتِمٍ وَتُمَيِّزَ الْمُؤْمِنَ فَتَقْتُلَ الْکَافِرَ وَتَدَعَ الْمُؤْمِنَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، حاتم بن اسماعیل، جعفر بن محمد، یزید بن ہرمز، اس سند سے یہ حدیث مروی ہے حضرت یزید بن ہرمز سے ہے کہ نجدہ نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف لکھا اور اس نے چند باتوں کے بارے میں پوچھا باقی حدیث اسی طرح ہے اس میں یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کو قتل نہ کیا کرتے تھے پس تو بھی بچوں کو قتل نہ کر سوائے اس کے کہ تجھے بھی وہ علم حاصل ہو جائے جو حضرت خضر علیہ السلام کو اس بچے کے بارے میں عطا ہوا تھا جسے انہوں نے قتل کردیا دوسری روایت میں یہ اضافہ بھی ہے کہ تو مومن کی تمیز کر کافر کو قتل کر دے اور جو مومن ہو اسے چھوڑ دے۔

This tradition has been narrated by the game authority (Yazid b. Hurmus) through a different chain of transmitters with the following difference in the elucidation of one of the points raised by Najda in his letter to Ibn Abbas: The Messenger of Allah (may peace be upon him) used not to kill the children, so thou shouldst not kill them unless you could know what Khadir had known about the child he killed, or you could distinguish between a child who would grow up to be a believer (and a child who would grow up to be a non-believer), so that you killed the (prospective) non-believer and left the (prospective) believer aside.

Permalink

Sahih MuslimHadith 3378

و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ قَالَ کَتَبَ نَجْدَةُ بْنُ عَامِرٍ الْحَرُورِيُّ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ الْعَبْدِ وَالْمَرْأَةِ يَحْضُرَانِ الْمَغْنَمَ هَلْ يُقْسَمُ لَهُمَا وَعَنْ قَتْلِ الْوِلْدَانِ وَعَنْ الْيَتِيمِ مَتَی يَنْقَطِعُ عَنْهُ الْيُتْمُ وَعَنْ ذَوِي الْقُرْبَی مَنْ هُمْ فَقَالَ لِيَزِيدَ اکْتُبْ إِلَيْهِ فَلَوْلَا أَنْ يَقَعَ فِي أُحْمُوقَةٍ مَا کَتَبْتُ إِلَيْهِ اکْتُبْ إِنَّکَ کَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنْ الْمَرْأَةِ وَالْعَبْدِ يَحْضُرَانِ الْمَغْنَمَ هَلْ يُقْسَمُ لَهُمَا شَيْئٌ وَإِنَّهُ لَيْسَ لَهُمَا شَيْئٌ إِلَّا أَنْ يُحْذَيَا وَکَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنْ قَتْلِ الْوِلْدَانِ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَقْتُلْهُمْ وَأَنْتَ فَلَا تَقْتُلْهُمْ إِلَّا أَنْ تَعْلَمَ مِنْهُمْ مَا عَلِمَ صَاحِبُ مُوسَی مِنْ الْغُلَامِ الَّذِي قَتَلَهُ وَکَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنْ الْيَتِيمِ مَتَی يَنْقَطِعُ عَنْهُ اسْمُ الْيُتْمِ وَإِنَّهُ لَا يَنْقَطِعُ عَنْهُ اسْمُ الْيُتْمِ حَتَّی يَبْلُغَ وَيُؤْنَسَ مِنْهُ رُشْدٌ وَکَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنْ ذَوِي الْقُرْبَی مَنْ هُمْ وَإِنَّا زَعَمْنَا أَنَّا هُمْ فَأَبَی ذَلِکَ عَلَيْنَا قَوْمُنَا

ابن ابی عمر، سفیان، اسماعیل بن امیہ، سعید مقبری، یزید بن ہرمز، حضرت یزید بن ہرمز رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نجدہ بن عامر حروری نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے غلام اور عورت کے بارے میں پوچھنے کے لئے لکھا کہ اگر وہ دونوں مال غنیمت کی تقسیم کے وقت موجود ہوں تو کیا انہیں حصہ دیا جائے گا اور بچوں کے قتل کے بارے میں اور یتیم کے بارے میں پوچھا کہ اس کی یتیمی کب ختم ہوتی ہے اور ذوی القربی کے بارے میں کہ وہ کون ہے تو ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یزید سے کہا اس کی طرف لکھو اگر مجھے یہ خیال نہ ہوتا کہ وہ حماقت میں واقع ہو جائے گا تو اس کا جواب نہ لکھتا لکھو تو نے عورت اور غلام کے بارے میں مجھ سے پوچھنے کے لئے لکھا کہ اگر وہ مال غنیمت کی تقسیم کے وقت موجود ہوں تو کیا انہیں بھی کچھ ملے گا ان کے لئے سوائے عطیہ کے کوئی حصہ نہیں ہے اور تو نے مجھ سے بچوں کے قتل کے بارے میں پوچھنے کے لئے لکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قتل نہیں کیا اور تو بھی انہیں قتل نہ کر سوائے اس کے کہ تجھے وہ علم ہو جائے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھی کو اس بچے کے بارے میں علم ہوگیا تھا جنہیں انہوں نے قتل کیا اور تو نے مجھ سے یتیم کے بارے میں پوچھنے کے لئے لکھا کہ یتیم سے یتیمی کب ختم ہوتی ہے یتیم سے یتیمی کا نام اس کے بالغ ہونے تک ختم نہیں ہوتا اور سمجھ کے آثار کے نمودار ہونے تک اور تو نے مجھ سے ذوالقربی کے بارے میں پوچھنے کے لئے لکھا کہ وہ کون ہیں ہمارا خیال تھا کہ وہ ہم ہیں لیکن ہماری قوم نے ہمارے بارے میں اس بات کا انکار کر دیا۔

It has been narrated on the authority of Yazid b. Hurmuz who said: Najda b. 'Amir al-Haruri wrote to Ibn Abbas asking him about the slave and the woman as to whether they would get a share from the booty (it they participated in Jihad); about the killing of (enemy) children (in war); about the orphan as to when his orphanhood comes to an end; about kinsmen (of the Holy Prophet) as to who they are. He said to Yazid: Write to him. (If he were not likely to fall into folly, I would not have written to him.) Write: You have written asking about the woman and the slave whether they would get a share of the booty if they participated in Jihad. (You should know that) there is nothing of the sort for them except that they will be given a prize. And you have written asking me about the killing of the enemy children in war. (You should understand that) the Messenger of Allah (may peare be upon him) did not kill them. and thou shouldst not kill them unless thou knew what the companion of Moses (i. e. Khadir) knew about the boy he had killed. And you have written asking me about the orphan as to when the period of his orphanhood comes to an end, so that the sobriquet of "orphan" is dropped from him. (In this regard, you should know that) the sobriquet "orphan" will not be dropped from him until he attains maturity of body and mind. And you have written asking me about the close relatives (of the Holy Prophet) as to who they are. We think that it is we, but our people have denied us this (position and its concomitant privileges).

Permalink

Sahih MuslimHadith (internal ref #1230190)

و حَدَّثَنَاه عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ قَالَ کَتَبَ نَجْدَةُ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ قَالَ أَبُو إِسْحَقَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بِهَذَا الْحَدِيثِ بِطُولِهِ

عبدالرحمن بن بشر عبدی، سفیان، اسماعیل بن امیہ، سعید بن ابوسعید، یزید بن ہرمز، یزید بن ہرمز سے روایت ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ نجدہ نے حضرت ابن عباس کو لکھا اور پھر آگے اسی طرح حدیث بیان کی۔

This hadith has been narrated on the authority of Yazid b. Hurmuz through another chain of transmitters.

Permalink

Sahih MuslimHadith 3379

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ سَمِعْتُ قَيْسًا يُحَدِّثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ قَالَ کَتَبَ نَجْدَةُ بْنُ عَامِرٍ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ فَشَهِدْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ حِينَ قَرَأَ کِتَابَهُ وَحِينَ کَتَبَ جَوَابَهُ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَاللَّهِ لَوْلَا أَنْ أَرُدَّهُ عَنْ نَتْنٍ يَقَعُ فِيهِ مَا کَتَبْتُ إِلَيْهِ وَلَا نُعْمَةَ عَيْنٍ قَالَ فَکَتَبَ إِلَيْهِ إِنَّکَ سَأَلْتَ عَنْ سَهْمِ ذِي الْقُرْبَی الَّذِي ذَکَرَ اللَّهُ مَنْ هُمْ وَإِنَّا کُنَّا نَرَی أَنَّ قَرَابَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُمْ نَحْنُ فَأَبَی ذَلِکَ عَلَيْنَا قَوْمُنَا وَسَأَلْتَ عَنْ الْيَتِيمِ مَتَی يَنْقَضِي يُتْمُهُ وَإِنَّهُ إِذَا بَلَغَ النِّکَاحَ وَأُونِسَ مِنْهُ رُشْدٌ وَدُفِعَ إِلَيْهِ مَالُهُ فَقَدْ انْقَضَی يُتْمُهُ وَسَأَلْتَ هَلْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْتُلُ مِنْ صِبْيَانِ الْمُشْرِکِينَ أَحَدًا فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَکُنْ يَقْتُلُ مِنْهُمْ أَحَدًا وَأَنْتَ فَلَا تَقْتُلْ مِنْهُمْ أَحَدًا إِلَّا أَنْ تَکُونَ تَعْلَمُ مِنْهُمْ مَا عَلِمَ الْخَضِرُ مِنْ الْغُلَامِ حِينَ قَتَلَهُ وَسَأَلْتَ عَنْ الْمَرْأَةِ وَالْعَبْدِ هَلْ کَانَ لَهُمَا سَهْمٌ مَعْلُومٌ إِذَا حَضَرُوا الْبَأْسَ فَإِنَّهُمْ لَمْ يَکُنْ لَهُمْ سَهْمٌ مَعْلُومٌ إِلَّا أَنْ يُحْذَيَا مِنْ غَنَائِمِ الْقَوْمِ

اسحاق بن ابراہیم، وہب، ابن جریر، ابن حازم، یزید بن ہرمز، حضرت یزید بن ہرمز سے روایت ہے کہ نجدہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرح لکھا اور اس میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر تھا جب انہوں نے اس کے خط کو پڑھا اور اس کا جواب لکھا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لکھا اللہ کی قسم اگر مجھے یہ خیال نہ ہوتا کہ وہ بدبو یعنی کسی برے کام میں پڑ جائے گا تو میں اس کی طرف جواب نہ لکھتا اور نہ اس کی آنکھیں خوش ہوتیں پس ابن عباسں نے نجدہ کی طرف لکھا کہ تو نے ان ذوی القربی کے حصہ کے بارے میں پوچھا جن کا اللہ نے ذکر فرمایا کہ وہ کون ہیں ہم نے خیال کیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قرابت داروں سے ہم لوگ ہی مراد ہیں لیکن ہماری قوم نے ہمارے اس خیال کو ماننے سے انکار کردیا اور تو نے یتیم کے بارے میں پوچھا ہے کہ اس کی مدت یتیمی کب ختم ہوتی ہے جب وہ نکاح کے قابل ہو جائے اور اس سے سمجھداری محسوس ہونے لگے تو اس کا مال اس کے حوالے کر دیا جائے تو اس کی مدت یتیمی ختم ہو جاتی ہے اور تو نے پوچھا ہے کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے کسی کو بھی قتل نہیں کیا اور تو بھی ان میں سے کسی کو بھی قتل نہ کر سوائے اس کے کہ تجھے ان کے بارے میں وہی علم ہو جائے جو خضر علیہ السلام کو بچے کے بارے میں اس کے قتل کے وقت ہوا تھا اور تو نے عورت اور غلام کے بارے میں پوچھا کیا ان کا حصہ مقرر شدہ ہے جب وہ جنگ میں شریک ہوں تو ان کے لئے کوئی مقرر شدہ حصہ مال غنیمت میں سے نہیں سوائے اس کے کہ لوگوں کے مال غنیمت میں سے انہیں کچھ بطور ہدیہ وعطیہ دید یا جائے۔

It has been narrated on the anthority of Yazid b. Hurmuz who said: Najda wrote to Ibn Abbas. I was sitting in the company of Ibn 'Abbas when he read his letter and wrote its reply. Ibn Abbas said: Were it not for preventing him from falling into wickedness, I would not have replied to his letter, may he never be joyful. He wrote in reply to him referring to the share of the close relatives (of the Holy Prophet) (from the booty) whom God has mentioned. (I have to tell you that) we thought we were the close relatives of the Messenger of Allah (may peace be upon him), but our people have refused to recognise us as such. You have asked about the orphan as to when his orphanhood comes to an end. (I have to say that) when he reaches the age of marriage, attains maturity of mind, and his property is returned to him, then he is no longer an orphan. You have inquired whether the Messenger of Allah (may peace be upo him) used to kill anyone from the children of the polytheists in the war. (You should know that) the Messenger of Allah (may peace be upon him) used not to kill any one of their children, and you (too) should not kill any one of them, except when you knew about them what Khadir had known about the boy whom he killed. And you have inquired whether there is a fixed share of the booty for women and slaves when they participate in a battle. (I have to tell you that) there is no fixed share for them except that they will be given some reward from the spoils of war.

Permalink

Sahih MuslimHadith (internal ref #1230192)

و حَدَّثَنِي أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ عَنْ الْمُخْتَارِ بْنِ صَيْفِيٍّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ قَالَ کَتَبَ نَجْدَةُ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ فَذَکَرَ بَعْضَ الْحَدِيثِ وَلَمْ يُتِمَّ الْقِصَّةَ کَإِتْمَامِ مَنْ ذَکَرْنَا حَدِيثَهُمْ

ابوکریب، ابواسامة، زائدہ، سلیمان، اعمش، مختار بن صیفی، یزید بن ہرمز، یزید بن ہرمز سے روایت ہے کہ نجدہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو لکھا اور پھر کچھ حدیث ذکر کی اور پورا قصہ ذکر نہیں کیا جیسا کہ دوسری حدیثوں میں ذکر کیا گیا۔

This hadith has been transmitted on the authority of Yazid b. Hurmuz. but not complete (as we find in the above mentioned ahadith).

Permalink

Sahih MuslimHadith 3380

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ الْأَنْصَارِيَّةِ قَالَتْ غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ أَخْلُفُهُمْ فِي رِحَالِهِمْ فَأَصْنَعُ لَهُمْ الطَّعَامَ وَأُدَاوِي الْجَرْحَی وَأَقُومُ عَلَی الْمَرْضَی

ابوبکر بن ابی شیبہ، عبدالرحیم بن سلیمان، ہشام، حفصہ بنت سیرین، ام عطیہ انصاریہ، حضرت ام عطیہ انصاریہ فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سات غزوات میں گئی میں مجاہدین کے پیچھے والے خیموں میں رہتی تھی اور ان کے لئے کھانا بناتی اور زخمیوں کو دوا دیتی اور بیماروں کی عیادت کرتی تھی۔

It has been narrated on the authority of Umm 'Atiyya, the Ansarite, who said: I took part with the Messenger of Allah (may peace be upon him) in seven battles. I would stay behind in the camp of men, cook their food, treat the wounded and nurse the sick.

Permalink

Sahih MuslimHadith (internal ref #1230194)

و حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ

عمرو ناقد، یزید بن ہارون، ہشام بن حسان، حضرت ہشام بن حسان نے اس سند کے ساتھ اسی طرح روایت نقل کی ہے۔

A similar tradition has been narrated on the authority of Hisham b. Hassan through a different chain of transmitters.

Permalink