TrueHadith

بیع محاقلہ اور مزابنہ اور مخابرہ اور پھلوں کی صلاحیت سے پہلے اور معاومہ یعنی چند سالوں کی بیع سے روکنے کے بیان میں

Sahih MuslimHadith 2855

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالُوا جَمِيعًا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَائٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ وَالْمُخَابَرَةِ وَعَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّی يَبْدُوَ صَلَاحُهُ وَلَا يُبَاعُ إِلَّا بِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمِ إِلَّا الْعَرَايَا

ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن عبداللہ بن نمیر، زہیر بن حرب، سفیان بن عیینہ، ابن جریج، عطاء، حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیع محاقلہ اور مزابنہ اور مخابرہ اور پھلوں کی صلاحیت سے پہلے بیع کرنے سے منع فرمایا اور فرمایا کہ پھلوں کو دینار کے علاوہ کے بدلے فروخت نہ کیا جائے سوائے عرایا کے۔

Jabir b. Abdullah (Allah be pleased with them) reported that Allah's Messenger (may peace be upon him) had forbidden Muhaqala. and Muzabana, Mukhibara and the sale of fruits until their good condition becomes clear, and (he commanded) that (commodities) should not be sold but for the dinar and dirham except in case of araya.

Permalink

Sahih MuslimHadith (internal ref #1221416)

و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَائٍ وَأَبِي الزُّبَيْرِ أَنَّهُمَا سَمِعَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ بِمِثْلِهِ

عبد بن حمید، ابوعاصم، ابن جریج، عطاء، ابی زبیر، حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی دوسری سند کے ساتھ یہی حدیث مروی ہے۔

Jabir b. 'Abdullah (Allah be pleased with them) reported that Allah's Messenger (may peace be upon him) forbade the types of sales as described before.

Permalink

Sahih MuslimHadith 2856

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ أَخْبَرَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ الْجَزَرِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَطَائٌ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ الْمُخَابَرَةِ وَالْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ وَعَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّی تُطْعِمَ وَلَا تُبَاعُ إِلَّا بِالدَّرَاهِمِ وَالدَّنَانِيرِ إِلَّا الْعَرَايَا قَالَ عَطَائٌ فَسَّرَ لَنَا جَابِرٌ قَالَ أَمَّا الْمُخَابَرَةُ فَالْأَرْضُ الْبَيْضَائُ يَدْفَعُهَا الرَّجُلُ إِلَی الرَّجُلِ فَيُنْفِقُ فِيهَا ثُمَّ يَأْخُذُ مِنْ الثَّمَرِ وَزَعَمَ أَنَّ الْمُزَابَنَةَ بَيْعُ الرُّطَبِ فِي النَّخْلِ بِالتَّمْرِ کَيْلًا وَالْمُحَاقَلَةُ فِي الزَّرْعِ عَلَی نَحْوِ ذَلِکَ يَبِيعُ الزَّرْعَ الْقَائِمَ بِالْحَبِّ کَيْلًا

اسحاق بن ابراہیم حنظلی، مخلد بن یزید جزری، ابن جریج، عطاء، حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مخابرہ اور محاقلہ اور مزابنہ اور پھلوں کی بیع سے یہاں تک کہ وہ کھائے جائیں منع فرمایا اور پھلوں کو دینار اور درہم کے علاوہ میں فروخت نہ کیا جائے سوائے عرایا کے عطاء کہتے ہیں کہ جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمارے لئے اس کی وضاحت کی کہ مخابرہ یہ ہے کہ بنجر زمین ایک آدمی دوسرے آدمی کو دے وہ اس میں خرچ کرے اور قابل کاشت بنائے پھر یہ اس کے پھل میں سے حصہ لے مزابنہ یہ ہے کہ کھجور میں تر کھجور کی بیع خشک کھجور کے ساتھ وزن کر کے ہو اور محاقلہ کھیتی میں اس طرح ہے کہ کھڑی فصل کو وزن شدہ اناج کے ساتھ بیچنا۔

Jabir b. 'Abdullah (Allah be pleased with them) reported that Allah's Messenger (may peace be upon him) forbade Mukhabara and Muhaqala, and Muzabana, and the sale of the fruit until it is fit for eating, and its sale but with dirham and dinar. Exception is made in case of 'araya. Ata' said: Jabir explained (these terms) for us. As for Mukhabara it is this that a wasteland is given by a person to another and he makes an investment in it and then gets a share in the produce. According to him (Jabir), Muzabana is the sell of fresh dates on the tree for dry dates with a measure, and Muhaqala in agriculture implies that one should sell the standing crop for grains with a measure.

Permalink

Sahih MuslimHadith 2857

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ کِلَاهُمَا عَنْ زَکَرِيَّائَ قَالَ ابْنُ خَلَفٍ حَدَّثَنَا زَکَرِيَّائُ بْنُ عَدِيٍّ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الْمَکِّيُّ وَهُوَ جَالِسٌ عِنْدَ عَطَائِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ وَالْمُخَابَرَةِ وَأَنْ تُشْتَرَی النَّخْلُ حَتَّی تُشْقِهَ وَالْإِشْقَاهُ أَنْ يَحْمَرَّ أَوْ يَصْفَرَّ أَوْ يُؤْکَلَ مِنْهُ شَيْئٌ وَالْمُحَاقَلَةُ أَنْ يُبَاعَ الْحَقْلُ بِکَيْلٍ مِنْ الطَّعَامِ مَعْلُومٍ وَالْمُزَابَنَةُ أَنْ يُبَاعَ النَّخْلُ بِأَوْسَاقٍ مِنْ التَّمْرِ وَالْمُخَابَرَةُ الثُّلُثُ وَالرُّبُعُ وَأَشْبَاهُ ذَلِکَ قَالَ زَيْدٌ قُلْتُ لِعَطَائِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ أَسَمِعْتَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَذْکُرُ هَذَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ

اسحاق بن ابراہیم، محمد بن احمد بن ابی خلف، زکریا، ابن ابی خلف، زکریا بن عدی، عبید اللہ، زید بن ابی انیسہ، ابوالولید المکی، عطاء بن ابی رباح، حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محاقلہ اور مخابرہ سے منع فرمایا اور یہ کہ کھجور کا درخت خریدا جائے یہاں تک کہ گدر ہو جائے اور گدر یہ ہے کہ سرخ یا زرد ہو جائے یا وہ کھانے کے لائق ہو جائے اور محاقلہ یہ ہے کہ کھڑی فصل کو اناج کے بدلے وزن کر کے بیچا جائے اور مزابنہ یہ ہے کہ درخت کھجور، کھجور کے اوساق کے ساتھ بیچا جائے اور مخابرہ یہ ہے کہ پیداوار سے تہائی یا چوتھائی یا اسی طرح کا حصہ لینا زید کہتے ہیں کہ میں نے عطاء سے کہا کہ تم نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا کہ وہ اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کرتے تھے تو انہوں نے کہا جی ہاں۔

Jabir b. Abdullah (Allah be pleased with them) reported Allah's Messenger (may peace be upon him) forbidding Muhaqala, and Muzabana, and Mukhabara, and the buying of date-palm until its fruit is ripened (ripening means that its colour becomes red or yellow, or it is fit for being eaten). And Muhaqala implies that crops in the field are bought for grains according to a customary measure. Muzabana implies that date-palm should be sold for dry dates by measuring them with wisqs, and al-Mukhabara is (a share), maybe one-third or one-fourth (in produce) or something like it. Zaid (one of the narrators) said to Ata' b. Abu Rabah (the other narrator): Did You bear Jabir b. Abdullah (Allah be pleased with them) making a mention of it that he had heard it directly from Allah's Messenger (may peace be upon him)? He said: Yes.

Permalink

Sahih MuslimHadith 2858

و حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَائَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُحَاقَلَةِ وَالْمُخَابَرَةِ وَعَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّی تُشْقِحَ قَالَ قُلْتُ لِسَعِيدٍ مَا تُشْقِحُ قَالَ تَحْمَارُّ وَتَصْفَارُّ وَيُؤْکَلُ مِنْهَا

عبداللہ بن ہاشم، بہز، سلیم بن حیان، سعید بن میناء، حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزابنہ، محاقلہ اور مخابرہ اور پھلوں کی بیع سے منع فرمایا یہاں تک کہ وہ سرخ زرد یا کھانے کے قابل ہو جائیں۔

Jabir b. Abdullah (Allah be pleased with them) reported Allah's Messenger (may peace be upon him) forbidding Muzabana and Muhaqala, and Mukhabara, and the sale of fruits until they are ripe. I (the narrator) said to Sa'id (the other narrator): What does ripening imply? He said: It meant that they become red or become yellow and are fit for eating.

Permalink

Sahih MuslimHadith 2859

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ وَاللَّفْظُ لِعُبَيْدِ اللَّهِ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ وَسَعِيدِ بْنِ مِينَائَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ وَالْمُعَاوَمَةِ وَالْمُخَابَرَةِ قَالَ أَحَدُهُمَا بَيْعُ السِّنِينَ هِيَ الْمُعَاوَمَةُ وَعَنْ الثُّنْيَا وَرَخَّصَ فِي الْعَرَايَا

عبیداللہ بن عمر قواریری، محمد بن عبیدالغبری، حماد بن زید، ایوب، ابی زبیر، سعید بن میناء، حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محاقلہ، مزابنہ اور معاومہ اور مخابرہ سے منع فرمایا ان میں سے ایک نے کہا کہ معاومہ چند سالوں کی بیع کو کہتے ہیں اور اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے استثناء کرنے سے بھی منع فرمایا اور عرایا میں رخصت دی۔

Jabir b. Abdullah (Allah be pleased with them) reported Allah's Messenger (may peace be upon him) forbidding Muhaqala and Muzabana and Mu'awama and Mukhabara. (One of the narrators) 'said: Sale years ahead is Mu'awama, and making exceptional but he made an exemption of araya.

Permalink

Sahih MuslimHadith (internal ref #1221421)

و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ لَا يَذْکُرُ بَيْعُ السِّنِينَ هِيَ الْمُعَاوَمَةُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، علی بن حجر، اسماعیل، ابن علیة، ایوب، ابی زبیر، حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی طرح فرمایا لیکن اس میں معاویہ کی بیع کی تعریف ذکر نہیں۔

A hadith like this has been narrated on the authority of Jabir (Allah be pleased with him) from Allah's Apostle (may peace be upon him). but he made no mention of transactions years (ahead) implying Mu'awama.

Permalink