حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِي بَکْرٍ قَالَتْ جَائَتْ امْرَأَةٌ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي ابْنَةً عُرَيِّسًا أَصَابَتْهَا حَصْبَةٌ فَتَمَرَّقَ شَعْرُهَا أَفَأَصِلُهُ فَقَالَ لَعَنَ اللَّهُ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ
یحیی بن یحیی، ابومعاویہ، ہشام بن عروہ، فاطمہ بنت منذر، اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ فرماتی ہیں کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میری بیٹی دلہن بنی ہے اسے چچک نکلے ہے جس کے وجہ سے اس کے بال جھڑ گئے ہیں تو کیا میں اس کے بالوں کا جوڑا لگا سکتی ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے بال جوڑنے والی اور بال جڑوانے والی پر لعنت فرمائی ہے۔
Asma', daughter of Abu Bakr, reported that a woman came to Allah's Apostle (may peace be upon him) and said: I have a daughter who has been newly wedded. She had an attack of smallpox and thus her hair had fallen; should I add false hair to her head? Thereupon Allah's Messenger (may peace be upon him) said: Allah has cursed the woman who adds some false hair and the woman who asks for it.
حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ح و حَدَّثَنَاه ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي وَعَبْدَةُ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ أَخْبَرَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ کُلُّهُمْ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ غَيْرَ أَنَّ وَکِيعًا وَشُعْبَةَ فِي حَدِيثِهِمَا فَتَمَرَّطَ شَعْرُهَا
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبدہ ابن نمیر، ابی عبدہ، ابوکریب، وکیع، عمر وناقد، اسود بن عامر، شعبہ، ہشام ابن عروہ ابومعاویہ حضرت ہشام رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن عروہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس سند کے ساتھ حضرت ابومعاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث کی طرح حدیث نقل کی گئی ہے صرف لفظی فرق ہے ترجمہ میں کوئی فرق نہیں ہے۔
This hadith has been transmitted on the authority of Shu'ba with a slight variation of wording.
و حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ أَخْبَرَنَا حَبَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ عَنْ أُمِّهِ عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِي بَکْرٍ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنِّي زَوَّجْتُ ابْنَتِي فَتَمَرَّقَ شَعَرُ رَأْسِهَا وَزَوْجُهَا يَسْتَحْسِنُهَا أَفَأَصِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَنَهَاهَا
احمد بن سعید دارمی حبان وہیب منصور امہ اسما بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اور اس نے عرض کیا میں نے اپنی بیٹی کی شادی کی ہے اور اس کے سر کے بال جھڑ گئے ہیں حالانکہ اس کا خاوند بالوں کو پسند کرتا ہے اے اللہ کے رسول کیا میں اس کے بالوں میں جوڑا لگا دو؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرما دیا۔
Asma', daughter of Abu Bakr, reported that a woman came to Allah's Apostle (may peace be upon him) and said: I have married my daughter (whose) hair of head have fallen. Her spouse likes them (the long hair). Allah's Messenger (may add false hair to her head? He forbade her to do this.
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ مُسْلِمٍ يُحَدِّثُ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ جَارِيَةً مِنْ الْأَنْصَارِ تَزَوَّجَتْ وَأَنَّهَا مَرِضَتْ فَتَمَرَّطَ شَعَرُهَا فَأَرَادُوا أَنْ يَصِلُوهُ فَسَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِکَ فَلَعَنَ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ
محمد بن مثنی، ابن بشار ابوداؤد شعبہ، ابوبکر بن ابی شیبہ، یحیی بن ابی بکر شعبہ، عمرو بن مرہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ انصار کی ایک لڑکی کی شادی ہوئی اور وہ بیمار ہوگئی اور اس کے سر کے بال جھڑ گئے تو لوگوں نے ارادہ کیا کہ اس کے بالوں میں جوڑا لگا دیا جائے انہوں نے اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جوڑا لگانے والی اور جوڑا لگوانے والی پر لعنت فرمائی۔
A'isha reported that a girl of the Ansar who had fallen ill and had lost the hair was married. They (her relatives) thought of adding false hair (to her head). so they asked Allah's Messenger (may peace be upon him) about it, whereupon he cursed the woman who adds false hair and the woman who asks for it.
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَافِعٍ أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ يَنَّاقَ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ زَوَّجَتْ ابْنَةً لَهَا فَاشْتَکَتْ فَتَسَاقَطَ شَعْرُهَا فَأَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنَّ زَوْجَهَا يُرِيدُهَا أَفَأَصِلُ شَعَرَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لُعِنَ الْوَاصِلَاتُ
زہیر بن حرب، زید بن حبان، ابراہیم، بن نافع حسن بن مسلم بن یناق صفیہ بنت شیبہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ انصار کی ایک عورت نے اپنی بیٹی کی شادی کی پھر وہ لڑکی بیمار ہوگئی اور اس کے سر کے بال گر گئے تو وہ عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اور اس نے عرض کیا کہ میری بیٹی کا خاوند چاہتا ہے کہ میں اس کے بالوں میں جوڑا لگا دو تو رسول اللہ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جوڑا لگانے والیوں پر لعنت کی گئی ہے۔
A'isha reported that a woman from the Ansar married her daughter who had lost her hair because of illness. She came to Allah's Apostle (may peace be upon him) and said: Her husband wants that false hair should be aaded to her head. Thereupon Allah's Messenger (may peace be upon him) said: The woman who adds false hair has been cursed.
و حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَافِعٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ لُعِنَ الْمُوصِلَاتُ
محمد بن حاتم، عبدالرحمن بن مہدی، حضرت ابراہیم بن نافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جوڑا لگانے والی اور جوڑا لگوانے والی اور گودنے والی اور گدوانے والی پر لعنت فرمائی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Nafi' with the same chain of transmitters but with a slight variation of wording.
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَحْيَی وَهُوَ الْقَطَّانُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُسْتَوْشِمَةَ
محمد بن عبداللہ بن نمیر، عبیداللہ زہیر بن حرب، محمد بن مثنی، زہیر یحیی قطان عبیداللہ نافع ابن عمر حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جوڑا لگانے اور جوڑا لگوانے والی اور گودنے والی اور گدوانے والی پر لعنت فرمائی ہے۔
Ibn Umar reported Allah's Messenger (may peace be upon him) cursing the woman who added false hair and the woman who asked for tattoos.
و حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ حَدَّثَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
محمد بن عبداللہ ابن بزیع، بشر بن مفضل، صخر ابن جویریہ، نافع، عبداللہ حضرت عبیداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مذکورہ حدیث مبارکہ کی طرح روایت نقل کی ہے۔
This hadith has been reported on the authority of Abdullah through another chain of transmitters.
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لِإِسْحَقَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَعَنَ اللَّهُ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُسْتَوْشِمَاتِ وَالنَّامِصَاتِ وَالْمُتَنَمِّصَاتِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ قَالَ فَبَلَغَ ذَلِکَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي أَسَدٍ يُقَالُ لَهَا أُمُّ يَعْقُوبَ وَکَانَتْ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ فَأَتَتْهُ فَقَالَتْ مَا حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْکَ أَنَّکَ لَعَنْتَ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُسْتَوْشِمَاتِ وَالْمُتَنَمِّصَاتِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَمَا لِي لَا أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي کِتَابِ اللَّهِ فَقَالَتْ الْمَرْأَةُ لَقَدْ قَرَأْتُ مَا بَيْنَ لَوْحَيْ الْمُصْحَفِ فَمَا وَجَدْتُهُ فَقَالَ لَئِنْ کُنْتِ قَرَأْتِيهِ لَقَدْ وَجَدْتِيهِ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَمَا آتَاکُمْ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاکُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا فَقَالَتْ الْمَرْأَةُ فَإِنِّي أَرَی شَيْئًا مِنْ هَذَا عَلَی امْرَأَتِکَ الْآنَ قَالَ اذْهَبِي فَانْظُرِي قَالَ فَدَخَلَتْ عَلَی امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ فَلَمْ تَرَ شَيْئًا فَجَائَتْ إِلَيْهِ فَقَالَتْ مَا رَأَيْتُ شَيْئًا فَقَالَ أَمَا لَوْ کَانَ ذَلِکَ لَمْ نُجَامِعْهَا
اسحاق بن ابراہیم، عثمان بن ابی شیبہ اسحاق جریر، منصورابراہیم، علقمہ عبداللہ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ نے تعالیٰ نے گودنے والی اور گدوانے والی اور اکھڑوانے والی اور دانتوں کو کشادہ کرنے والی اور اللہ تعالیٰ کی بناوٹ میں تبدیلی کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے راوی کہتے ہیں کہ یہ بات بنی اسد کی ایک عورت تک پہنچی جس کو ام یعقوب کہا جاتا ہے اور وہ قرآن مجید پڑھا کرتی تھی تو وہ حضرت عبیداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ وہ کیا بات ہے کہ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مجھ تک پہنچی ہے کہ آپ نے گودنے والی اور گدوانے والی اور پلکوں کے بال اکھیڑنے والی اور اکھڑوانے والی پر لعنت فرمائی اور دانتوں کو کشادہ کرنے والی اور اللہ تعالیٰ کی بناوٹ میں تبدیلی کرنے والی عورتوں پر لعنت کیوں فرمائی ہے حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمانے لگے کہ میں اس پر لعنت کیوں نہ کروں کہ جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی ہے اور یہ بات اللہ کی کتاب میں موجود ہے وہ عورت کہنے لگی کہ میں نے قرآن مجید کے دونوں گتوں کے درمیان والا پڑھ ڈالا ہے میں نے تو کہیں نہیں پایا حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمانے لگے کہ اگر تو قرآن مجید پڑھتی تو اسے ضرور پاتی اللہ عز وجل نے فرمایا وَمَا آتَاکُمْ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاکُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا, اللہ کہ رسول تمہیں جو کچھ دے اس سے لے لو اور تمہیں جس سے روک دے اس سے رک جاؤ وہ عورت کہنے لگی کہ ان کاموں میں سے کچھ کام تو آپ کی بیوی بھی کرتی ہے حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمانے لگے کہ جاؤ جا کر دیکھو وہ عورت ان کے بیوی کے پاس گئی تو کچھ بھی نہیں دیکھا پھر واپس حضرت عبداللہ کی طرف آئی اور کہنے لگی کہ میں نے تو ان باتوں میں سے ان میں کچھ بھی نہیں دیکھا حضرت عبداللہ فرمانے لگے کہ اگر وہ اس طرح کرتی تو میں اس سے ہم بستری نہ کرتا۔
'Abdullah reported that Allah had cursed those women who tattooed and who have themselves tattooed, those who pluck hair from their faces and those who make spaces between their teeth for beautification changing what God has created. This news reached a woman of the tribe of Asad who was called Umm Ya'qub and she used to recite the Holy Qur'an. She came to him and said: What is this news that has reached me from you that you curse those women who tattooed and those women who have themselves tattooed, the women who pluck hair from their faces and who make spaces between their teeth for beautification changing what God has created? Thereupon 'Abdullah said: Should I not curse one upon whom Allah's Messenger (may peace be upon him) has invoked curse and that is in the Book also. Thereupon that woman said: I read the Qur'an from cover to cover, but I did not find that in it. whereupon he said: If you had read (thoroughly) you would have definitely found this in that (as) Allah, the Exalted and Glorious, has said:" What Allah's Messenger brings for you accept that. and what he has forbidden you. refrain from that." That woman said: I find this thing in your wife even now. Thereupon he said: Go and see her. She reported: I went to the wife of 'Abdullah but found nothing of this sort in her. She came back to him and said: I have not seen anything. whereupon he said: Had there been anything like it in her, I would have never slept with her in the bed.
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَهُوَ ابْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ وَهُوَ ابْنُ مُهَلْهِلٍ کِلَاهُمَا عَنْ مَنْصُورٍ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمَعْنَی حَدِيثِ جَرِيرٍ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ سُفْيَانَ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُسْتَوْشِمَاتِ وَفِي حَدِيثِ مُفَضَّلٍ الْوَاشِمَاتِ وَالْمَوْشُومَاتِ
محمد بن مثنی، ابن بشار عبدالرحمن ابن مہدی سفیان، محمد بن رافع یحیی بن آدم مفضل ابن مہلہل منصور جریر، سفیان، حضرت منصور رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس سند کے ساتھ حضرت جریر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت کی طرح حدیث نقل کی گئی ہے صرف لفظی تبدیلی ہے ترجمہ میں کوئی فرق نہیں۔
This hadith has been reported on the authority of Mansur with the same chain of transmitters but with a slight variation of wording.
حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالُوا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ الْحَدِيثَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُجَرَّدًا عَنْ سَائِرِ الْقِصَّةِ مِنْ ذِکْرِ أُمِّ يَعْقُوبَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن مثنی، ابن بشار محمد بن جعفر، شعبہ، حضرت منصور رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس سند کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی روایت نقل کی گئے ہے لیکن اس میں ام یعقوب کے پورے واقعہ کا ذکر نہیں کیا گیا۔
This hadith has been narrated on the authority of Mansur without the story pertaining to Umm Ya'qub.
و حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ
شیبان بن فروخ جریر، ابن حازم اعمش، ابراہیم، علقمہ عبداللہ حضرت عبداللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کی ہے۔
This hadith has been transmitted on the authority of Abdullah.
و حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا زَجَرَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَصِلَ الْمَرْأَةُ بِرَأْسِهَا شَيْئًا
حسن بن علی حلوانی محمد بن رافع عبدالرزاق، ابن جریج، ابوزبیر، جابر بن عبد اللہ، حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ عورت اپنے سر کے بالوں کو جوڑ لگائے۔
Jabir b. Abdullah reported that Allah's Apostle (may peace be upon him) reprimanded that a woman should add anything to her head (in the form of artificial hair).
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ عَامَ حَجَّ وَهُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ وَتَنَاوَلَ قُصَّةً مِنْ شَعَرٍ کَانَتْ فِي يَدِ حَرَسِيٍّ يَقُولُ يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَيْنَ عُلَمَاؤُکُمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَی عَنْ مِثْلِ هَذِهِ وَيَقُولُ إِنَّمَا هَلَکَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ حِينَ اتَّخَذَ هَذِهِ نِسَاؤُهُمْ
یحیی بن یحیی، مالک ابن شہاب، حمید بن عبدالرحمن بن عوف معاویہ بن ابی سفیان، حضرت حمید رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن عوف سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن ابی سفیاں سے سنا جس سال انہوں نے حج کیا اس حال میں کہ وہ منبر پر تشریف فرما تھے انہوں نے بالوں کا ایک چٹلا اپنے ہاتھ میں لیا جو کہ ان کے خادم کے پاس تھا اور فرمانے لگے اے مدینہ والو! تمہارے علماء کہاں ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح کی چیزوں سے منع فرماتے تھے اور فرماتے تھے کہ بنی اسرائیل اس وقت تباہ برباد ہو گئے جس وقت کہ ان کی عورتوں نے اس طرح کی عیش وعشرت شروع کر دی۔
Abd al-Rahman b. 'Auf said that he heard Mu'awiya b Sufyan during the season of Hajj. (saying) as he sat upon the pulpit holding a bunch of hair in his hand which was (previously) in the hand of his sentinel: O people of Medina, where are your scholars? I heard Allah's Messenger (may peace be upon him) forbidding this and saying: That the people of Bani Isra'il were ruined at the time when their women wore shuch hair.
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ح و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ کُلُّهُمْ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِکٍ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ مَعْمَرٍ إِنَّمَا عُذِّبَ بَنُو إِسْرَائِيلَ
ابن ابی عمر سفیان بن عیینہ، حرملہ بن یحیی ابن وہب، یونس عبد بن حمید عبدالرزاق معمر، زہری، حضرت زہری سے مالک کی حدیث کی طرح روایت نقل کی گئی ہے لیکن معمر کی حدیث میں ہے بنی اسرائیل کو اسی وجہ سے عذاب میں مبتلا کیا گیا۔
This hadith has been transmitted on the authority of Zuhri but with a slight variation of wording.
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ قَدِمَ مُعَاوِيَةُ الْمَدِينَةَ فَخَطَبَنَا وَأَخْرَجَ کُبَّةً مِنْ شَعَرٍ فَقَالَ مَا کُنْتُ أُرَی أَنَّ أَحَدًا يَفْعَلُهُ إِلَّا الْيَهُودَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَلَغَهُ فَسَمَّاهُ الزُّورَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، غندر شعبہ، ابن مثنی ابن بشار محمد بن جعفر، شعبہ، عمرو بن مرہ حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مدینہ منورہ تشریف لائے تو انہوں نے ہمیں ایک خطبہ ارشاد اور بالوں کا ایک لپٹا ہوا گچھا نکال کر فرمایا کہ مجھے یہ خیال بھی نہیں تھا کہ یہودیوں کے علاوہ بھی کوئی اس طرح کرے گا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ بات پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جھوٹ قرار دیا۔
Sa'id b. Musayyib reported: Mu'awiya came to Medina and he addressed us and he took out a bunch of hair and said: What do I see that one of you does but that what the Jews did? (I can well recall) that when this act (adding of artificial hair) reached Allah's Messenger (may peace be upon him), he named it as cheating.
و حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی قَالَا أَخْبَرَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ مُعَاوِيَةَ قَالَ ذَاتَ يَوْمٍ إِنَّکُمْ قَدْ أَحْدَثْتُمْ زِيَّ سَوْئٍ وَإِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ الزُّورِ قَالَ وَجَائَ رَجُلٌ بِعَصًا عَلَی رَأْسِهَا خِرْقَةٌ قَالَ مُعَاوِيَةُ أَلَا وَهَذَا الزُّورُ قَالَ قَتَادَةُ يَعْنِي مَا يُکَثِّرُ بِهِ النِّسَائُ أَشْعَارَهُنَّ مِنْ الْخِرَقِ
ابوغسان مسمعی محمد بن مثنی معاذ ابن ہشام ابی قتادہ، سعید بن مسیب معاویہ، حضرت سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک دن فرمایا کہ تم نے بہت بُری پوشش اختیار کرلی ہے اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹ سے منع کیا ہے راوی کہتے ہیں کہ ایک آدمی ایک ایسی لکڑی لئے ہوئے آیا کہ جس کے سرے پر ایک چیتھڑا لگا ہوا تھا حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ یہ تو جھوٹ ہے حضرت قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ عورتیں کپڑے باندھ کر اپنے بالوں کو لمبا کرلیتی ہیں۔
Sa'id b. Musayyib reported that Mu'awiya said one day: Should I narrate to you the evil make-up. Allah's Apostle (may peace be upon him) forbade cheating. It was during that time that a person came with a staff and there was a cloth on its head, whereupon Mu'awiya said: Behold, that is cheating. Qatada said: This implies how women artificially increase their hair with the help of rags.