حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي وَوَکِيعٌ وَابْنُ بِشْرٍ عَنْ إِسْمَعِيلَ عَنْ قَيْسٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ يَقُولُا کُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ لَنَا نِسَائٌ فَقُلْنَا أَلَا نَسْتَخْصِي فَنَهَانَا عَنْ ذَلِکَ ثُمَّ رَخَّصَ لَنَا أَنْ نَنْکِحَ الْمَرْأَةَ بِالثَّوْبِ إِلَی أَجَلٍ ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَکُمْ وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ
محمد بن عبداللہ بن نمیر ہمدانی، وکیع، ابن بشر، اسماعیل، قیس، حضرت عبداللہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ غزوات میں شرکت کرتے تھے اور ہمارے ساتھ عورتیں نہ ہوتی تھیں ہم نے عرض کیا کیا ہم خصی نہ ہو جائیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اس سے روک دیا پھر ہمیں اجازت دی کہ ہم کسی عورت سے کپڑے کے بدلے مقررہ مدت تک کے لئے نکاح کرلیں پھر حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی اے ایمان والو! پاکیزہ چیزوں کو حرام نہ کرو جنہیں اللہ نے تمہارے لئے حلال کیا ہے اور نہ حد سے تجاوز کرو بے شک اللہ تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
Abdullah (b. Mas'ud) reported: We were on an expedition with Allah's Messenger (may peace be upon him) and we had no women with us. We said: Should we not have ourselves castrated? He (the Holy Prophet) forbade us to do so. He then granted us permission that we should contract temporary marriage for a stipulated period giving her a garment, and 'Abdullah then recited this verse: 'Those who believe do not make unlawful the good things which Allah has made lawful for you, and do not transgress. Allah does not like trangressers" (al-Qur'an, v. 87).
و حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَقَالَ ثُمَّ قَرَأَ عَلَيْنَا هَذِهِ الْآيَةَ وَلَمْ يَقُلْ قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ
عثمان بن ابی شیبہ، جریر، اسماعیل بن ابی خالد اسی حدیث کی دوسری سند ذکر کی ہے لیکن اس میں ہے کہ پھر انہوں نے ہمارے سامنے یہ آیت تلاوت کی عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تلاوت کی نہیں کہا۔
This hadith has been narrated on the authority of Jarir with the same chain of transmitters and he also recited this (above-mentioned verse) to us, but he did not say that 'Abdullah recited it.
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ إِسْمَعِيلَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ کُنَّا وَنَحْنُ شَبَابٌ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا نَسْتَخْصِي وَلَمْ يَقُلْ نَغْزُو
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، اسماعیل یہ حدیث ان اسناد سے بھی مروی ہے اس میں یہ ہے کہ ہم نوجوان تھے ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! کیا ہم خصی نہ ہو جائیں؟ ہم جہاد کرتے تھے نہیں کہا۔
This hadith has been narrated on the authority of Isma'il with the same chain of transmitters (and the words are): "We were young, so we said: Allah's Messenger, should we not have ourselves castrated? But he (the narrator) did not say; We were on an expedition."
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ مُحَمَّدٍ يُحَدِّثُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَسَلَمَةَ بْنِ الْأَکْوَعِ قَالَا خَرَجَ عَلَيْنَا مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَذِنَ لَکُمْ أَنْ تَسْتَمْتِعُوا يَعْنِي مُتْعَةَ النِّسَائِ
محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، عمرو بن دینار، حسن بن محمد، حضرت جابر بن عبداللہ اور حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا منادی آیا تو اس نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمہیں نکاح متعہ کی اجازت دی ہے۔
Jabir b. 'Abdullah and Salama b. al-Akwa' said: There came to us the proclaimer of Allah's Messenger (may peace be upon him) and said: Allah's Messenger (may peace be upon him) has granted you permission to benefit yourselves, i. e. to contract temporary marriage with women.
و حَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ الْعَيْشِيُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ يَعْنِي ابْنَ الْقَاسِمِ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَکْوَعِ وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَانَا فَأَذِنَ لَنَا فِي الْمُتْعَةِ
امیہ بن بسطام عیشی، یزید ابن زریع، روح، ابن قاسم، عمرو بن دینار، حسن بن محمد، سلمہ بن اکوع، حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہمیں نکاح متعہ کی اجازت دی۔
Salama b. al. Akwa' and Jabir b. Abdullah reported: Allah's Messenger (may peace be upon him) came to us and permitted us to contract temporary marriage.
و حَدَّثَنَا الْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ قَالَ عَطَائٌ قَدِمَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ مُعْتَمِرًا فَجِئْنَاهُ فِي مَنْزِلِهِ فَسَأَلَهُ الْقَوْمُ عَنْ أَشْيَائَ ثُمَّ ذَکَرُوا الْمُتْعَةَ فَقَالَ نَعَمْ اسْتَمْتَعْنَا عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَکْرٍ وَعُمَرَ
حسن حلوانی، عبدالرزاق، ابن جریج، حضرت عطا رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ عمرہ کے لئے تشریف لائے تو ہم ان کی قیام گاہ پر حاضر ہوئے لوگوں نے مختلف چیزوں کے بارے میں سوال کیے پھر لوگوں نے متعہ کا ذکر کیا آپ نے کہا جی ہاں ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما کے زمانہ میں متعہ کیا تھا۔
IbnJuraij reported: 'Ata' reported that Jabir b. Abdullah came to perform 'Umra, and we came to his abode, and the people asked him about different things, and then they made a mention of temporary marriage, whereupon he said: Yes, we had been benefiting ourselves by this temporary marriage during the lifetime of the Holy Prophet (may peace be upon him) and during the time of Abi Bakr and 'Umar.
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا کُنَّا نَسْتَمْتِعُ بِالْقَبْضَةِ مِنْ التَّمْرِ وَالدَّقِيقِ الْأَيَّامَ عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَکْرٍ حَتَّی نَهَی عَنْهُ عُمَرُ فِي شَأْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ
محمد بن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، ابوزبیر، حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم ایک مٹھی کھجور یا ایک مٹھی آٹے کے عوض مقررہ دنوں کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ میں متعہ کر لیتے تھے یہاں تک کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عمرو بن حریث کے واقعہ کی وجہ سے متعہ سے منع فرمایا دیا۔
Jabir b. 'Abdullah reported: We contracted temporary marriage giving a handful of (tales or flour as a dowery during the lifetime of Allah's Messenger (may peace be upon him) and during the time of Abu Bakr until 'Umar forbade it in the case of 'Amr b. Huraith.
حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَکْرَاوِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ قَالَ کُنْتُ عِنْدَ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ فَأَتَاهُ آتٍ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَابْنُ الزُّبَيْرِ اخْتَلَفَا فِي الْمُتْعَتَيْنِ فَقَالَ جَابِرٌ فَعَلْنَاهُمَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ نَهَانَا عَنْهُمَا عُمَرُ فَلَمْ نَعُدْ لَهُمَا
حامد بن عمر بکراوی، عبدالواحد ابن زیاد، عاصم، حضرت ابونضرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بیٹھا تھا ایک آنے والا آپ کے پاس حاضر ہوا اور کہا کہ ابن عباس اور ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے درمیان دونوں متعہ (حج و نکاح) میں اختلاف ہوگیا ہے سو جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ ہم ان دونوں متعہ (حج ونکاح) کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کرتے تھے پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمیں ان سے منع کر دیا تو اس کے بعد ہم نے انہیں نہیں لوٹایا نہیں کیا۔
Abu Nadra reported: While I was in the company of Jabir b. Abdullah, a person came to him and said that Ibn 'Abbas and Ibn Zubair differed on the two types of Mut'as (Tamattu' of Hajj 1846 and Tamattu' with women), whereupon Jabir said: We used to do these two during the lifetime of Allah's Messenger (may peace be upon him). Umar then forbade us to do them, and so we did not revert to them.
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا أَبُو عُمَيْسٍ عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ أَوْطَاسٍ فِي الْمُتْعَةِ ثَلَاثًا ثُمَّ نَهَی عَنْهَا
ابوبکر بن ابی شیبہ، یونس بن محمد، عبدالواحد بن زیاد، ابوعمیس، حضرت ایاس بن سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوہ اوطاس فتح مکہ کے سال تین دن تک متعہ کرنے کی اجازت دی پھر منع فرما دیا۔
Iyas b. Salama reported on the authority of his father that Allah's Messenger (may peace be upon him) gave sanction for contracting temporary marriage for three nights in the year of Autas 1847 and then forbade it.
و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ الْجُهَنِيِّ عَنْ أَبِيهِ سَبْرَةَ أَنَّهُ قَالَ أَذِنَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمُتْعَةِ فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَرَجُلٌ إِلَی امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي عَامِرٍ کَأَنَّهَا بَکْرَةٌ عَيْطَائُ فَعَرَضْنَا عَلَيْهَا أَنْفُسَنَا فَقَالَتْ مَا تُعْطِي فَقُلْتُ رِدَائِي وَقَالَ صَاحِبِي رِدَائِي وَکَانَ رِدَائُ صَاحِبِي أَجْوَدَ مِنْ رِدَائِي وَکُنْتُ أَشَبَّ مِنْهُ فَإِذَا نَظَرَتْ إِلَی رِدَائِ صَاحِبِي أَعْجَبَهَا وَإِذَا نَظَرَتْ إِلَيَّ أَعْجَبْتُهَا ثُمَّ قَالَتْ أَنْتَ وَرِدَاؤُکَ يَکْفِينِي فَمَکَثْتُ مَعَهَا ثَلَاثًا ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ کَانَ عِنْدَهُ شَيْئٌ مِنْ هَذِهِ النِّسَائِ الَّتِي يَتَمَتَّعُ فَلْيُخَلِّ سَبِيلَهَا
قتیبہ بن سعید، لیث، حضرت ربیع بن سبرہ الجہنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں نکاح متعہ کی اجازت دے دی تو میں اور ایک آدمی بنی عامر کی ایک عورت کی طرف چلے جو نوجوان اور لمبی گردن والی تھی ہم نے اپنے آپ کو اس کے سامنے پیش کیا تو اس نے کہا تم مجھے کیا عطا کرو گے؟ میں نے کہا اپنی چادر اور میرے ساتھی کی چادر میری چادر سے زیادہ عمدہ تھی اور میں اس سے زیادہ نوجوان تھا پس اس عورت نے جب میری طرف دیکھا تو مجھے پسند کیا پھر اس نے کہا تو اور تیری چادر مجھے کافی ہے پس میں اس کے ساتھ تیں دن تک ٹھہرا رہا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس کے پاس مقررہ مدت نکاح والی عورتیں ہوں جن سے وہ فائدہ اٹھاتا ہے تو چاہیے کہ وہ انہیں آزاد کر دے۔
Sabra Juhanni reported: Allah's Messenger (may peace be upon him) permitted temporary marriage for us. So I and another person went out and saw a woman of Bana 'Amir, who was like a young long-necked she-camel. We presented ourselves to her (for contracting temporary marriage), whereupon she said: What dower would you give me? I said: My cloak. And my companion also said: My cloak. And the cloak of-my companion was superior to my cloak, but I was younger than he. So when she looked at the cloak of my companion she liked it, and when she cast a glance at me I looked more attractive to her. She then said: Well, you and your cloak are sufficient for me. I remained with her for three nights, and then Allah's Messenger (may peace be upon him) said: He who has any such woman with whom he had contracted temporary marriage, he should let her off.
حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ أَنَّ أَبَاهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتْحَ مَکَّةَ قَالَ فَأَقَمْنَا بِهَا خَمْسَ عَشْرَةَ ثَلَاثِينَ بَيْنَ لَيْلَةٍ وَيَوْمٍ فَأَذِنَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مُتْعَةِ النِّسَائِ فَخَرَجْتُ أَنَا وَرَجُلٌ مِنْ قَوْمِي وَلِي عَلَيْهِ فَضْلٌ فِي الْجَمَالِ وَهُوَ قَرِيبٌ مِنْ الدَّمَامَةِ مَعَ کُلِّ وَاحِدٍ مِنَّا بُرْدٌ فَبُرْدِي خَلَقٌ وَأَمَّا بُرْدُ ابْنِ عَمِّي فَبُرْدٌ جَدِيدٌ غَضٌّ حَتَّی إِذَا کُنَّا بِأَسْفَلِ مَکَّةَ أَوْ بِأَعْلَاهَا فَتَلَقَّتْنَا فَتَاةٌ مِثْلُ الْبَکْرَةِ الْعَنَطْنَطَةِ فَقُلْنَا هَلْ لَکِ أَنْ يَسْتَمْتِعَ مِنْکِ أَحَدُنَا قَالَتْ وَمَاذَا تَبْذُلَانِ فَنَشَرَ کُلُّ وَاحِدٍ مِنَّا بُرْدَهُ فَجَعَلَتْ تَنْظُرُ إِلَی الرَّجُلَيْنِ وَيَرَاهَا صَاحِبِي تَنْظُرُ إِلَی عِطْفِهَا فَقَالَ إِنَّ بُرْدَ هَذَا خَلَقٌ وَبُرْدِي جَدِيدٌ غَضٌّ فَتَقُولُ بُرْدُ هَذَا لَا بَأْسَ بِهِ ثَلَاثَ مِرَارٍ أَوْ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ اسْتَمْتَعْتُ مِنْهَا فَلَمْ أَخْرُجْ حَتَّی حَرَّمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ابوکامل، فضیل ابن حسین جحدری، بشرا بن مفضل، عمارہ بن غزیة، حضرت ربیع بن سبرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے والد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ غزوہ فتح مکہ میں شرکت کی انہوں نے کہا پس ہم نے مکہ میں پندرہ دن (یعنی دن رات تیس) قیام کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں نکاح متعہ کی اجازت دی پس میں اور میری قوم میں سے ایک آدمی نکلے اور میں خوبصورتی میں اس پر فضیلت کا حامل تھا اور وہ بدصورتی کے قریب تھا اور ہم میں سے ہر ایک کے پاس ایک ایک چادر نئی اور عمدہ تھی جب ہم مکہ کے نیچے یا اونچے علاقے میں آئے تو ہمیں ایک عورت ملی جو کہ باکرہ نوجوان اور لمبی گردن والی تھی ہم نے اس سے کہا کیا تو ہم میں سے کسی ایک سے نکاح متعہ کر سکتی ہے اس نے کہا تم دونوں کیا بدل دو گے؟ ہر ایک نے چادر پھیلائی پس اس نے دونوں آدمیوں کی طرف دیکھنا شروع کردیا اور میرا ساتھی اسے دیکھتا تھا اس کے میلان طبع کے جانچنے کے لئے اس نے کہا یہ چادر پرانی ہے اور میری چادر نئی اور عمدہ ہے اس عورت نے دو یا تین مرتبہ کہا کہ اس چادر میں کوئی حرج نہیں پھر میں نے اس سے نکاح متعہ کیا اور میں اس کے پاس سے اس وقت تک نہ آیا جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے میرے لئے حرام نہ کردیا۔
Rabi' b. Sabra reported that his father went on an expedition with Allah's Messenger (may peace be upon him) during the Victory of Mecca, and we stayed there for fifteen days (i. e. for thirteen full days and a day and a night), and Allah's Messenger (may peace be upon him) permitted us to contract temporary marriage with women. So I and another person of my tribe went out, and I was more handsome than he, whereas he was almost ugly. Each one of us had a cloak. My cloak was worn out, whereas the cloak of my cousin was quite new. As we reached the lower or the upper side of Mecca, we came across a young woman like a young smart long-necked she-camel. We said: Is it possible that one of us may contract temporary marriage with you? She said: What will you give me as a dower? Each one of us spread his cloak. She began to cast a glance on both the persons. My companion also looked at her when she was casting a glance at her side and he said: This cloak of his is worn out, whereas my cloak is quite new. She, however, said twice or thrice: There is no harm in (accepting) this cloak (the old one). So I contracted temporary marriage with her, and I did not come out (of this) until Allah's Messenger (may peace be upon him) declared it forbidden.
و حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّارِمِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ حَدَّثَنِي الرَّبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ إِلَی مَکَّةَ فَذَکَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ بِشْرٍ وَزَادَ قَالَتْ وَهَلْ يَصْلُحُ ذَاکَ وَفِيهِ قَالَ إِنَّ بُرْدَ هَذَا خَلَقٌ مَحٌّ
احمد بن صخر دارمی، ابونعمان، وہیب، عمارہ بن غزیة، حضرت ربیع بن سبرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے والد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ فتح مکہ کے سال نکلے باقی حدیث بشر کی طرح ہی ذکر کی ہے اور اضافہ یہ ہے کہ اس عورت نے کہا یہ درست ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ ان کے ساتھی نے کہا یہ چادر پرانی اور گئی گزری ہے۔
Rabi' b. S'abra al-juhanni reported on the authority of his father. We went with Allah's Messenger (may peace be upon him) to Mecca during the year of Victory and he narrated like this a hadith transmitted by Bishr (the previous one) but with this addition: "She said: Can it be possible?" And it is also mentioned in it: "He said: The cloak of this (man) is old and worn out."
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنِي الرَّبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ کَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي قَدْ کُنْتُ أَذِنْتُ لَکُمْ فِي الِاسْتِمْتَاعِ مِنْ النِّسَائِ وَإِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَ ذَلِکَ إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ فَمَنْ کَانَ عِنْدَهُ مِنْهُنَّ شَيْئٌ فَلْيُخَلِّ سَبِيلَهُ وَلَا تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا
محمد بن عبداللہ ابن نمیر، عبدالعزیز ابن عمر، حضرت ربیع بن سبرہ جہنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے لوگو میں نے تمہیں عورتوں سے نکاح متعہ کی اجازت دی تھے اور تحقیق اللہ نے اسے قیامت تک کے لئے حرام کردیا ہے پس جس کے پاس ان میں سے کوئی عورت ہو تو اسے آزاد کر دے اور ان سے جو کچھ تم نے انہیں دیا ہے نہ لے۔
Sabra al-Juhanni reported on the authority of his father that while he was with Allah's Messenger (may peace be upon hm) he said: 0 people, I had permitted you to contract temporary marriage with women, but Allah has forbidden it (now) until the Day of Resurrection. So he who has any (woman with this type of marriage contract) he should let her off, and do not take back anything you have given to them (as dower).
و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمًا بَيْنَ الرُّکْنِ وَالْبَابِ وَهُوَ يَقُولُ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبدة بن سلیمان، عبدالعزیز بن عمر اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے اس میں یہ ہے راوی کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رکن اور باب کعبہ کے درمیان کھڑے ہوئے یہ ارشاد فرماتے دیکھا ابن نمیر کی حدیث کی طرح۔
This hadith has been narrated on the authority of 'Abd al-'Aziz b. 'Umar with the same chain of transmitters, and he said: I saw Allah's Messenger (may peace be upon him) standing between the pillar and the gate (of the Ka'ba) and he was relating a hadith as narrated by Ibn Numair.
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا يَحْيَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ الْجُهَنِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمُتْعَةِ عَامَ الْفَتْحِ حِينَ دَخَلْنَا مَکَّةَ ثُمَّ لَمْ نَخْرُجْ مِنْهَا حَتَّی نَهَانَا عَنْهَا
اسحاق بن ابراہیم، یحیی بن آدم، ابراہیم بن سعد، حضرت عبدالملک بن ربیع بن سبرہ الجہنی اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں فتح مکہ کے سال مکہ میں داخلہ کے وقت نکاح متعہ کی اجازت دی پھر ہم مکہ سے نکلے ہی نہ تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اس سے منع فرما دیا۔
'Abd al-Malik b. Rabi' b. Sabraal-Juhanni reported on the authority of his father who narrated it on the authority of his father (i e. 'Abd al-Malik's grandfather, Sabura al-juhanni): Allah's Messenger (may peace be upon him) permitted us to contract temporary marriage in the Year of Victory, as we entered Mecca, and we did come out of it but he forbade us to do it.
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي رَبِيعَ بْنَ سَبْرَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ سَبْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ فَتْحِ مَکَّةَ أَمَرَ أَصْحَابَهُ بِالتَّمَتُّعِ مِنْ النِّسَائِ قَالَ فَخَرَجْتُ أَنَا وَصَاحِبٌ لِي مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ حَتَّی وَجَدْنَا جَارِيَةً مِنْ بَنِي عَامِرٍ کَأَنَّهَا بَکْرَةٌ عَيْطَائُ فَخَطَبْنَاهَا إِلَی نَفْسِهَا وَعَرَضْنَا عَلَيْهَا بُرْدَيْنَا فَجَعَلَتْ تَنْظُرُ فَتَرَانِي أَجْمَلَ مِنْ صَاحِبِي وَتَرَی بُرْدَ صَاحِبِي أَحْسَنَ مِنْ بُرْدِي فَآمَرَتْ نَفْسَهَا سَاعَةً ثُمَّ اخْتَارَتْنِي عَلَی صَاحِبِي فَکُنَّ مَعَنَا ثَلَاثًا ثُمَّ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِفِرَاقِهِنَّ
یحیی بن یحیی، عبدالعزیز بن ربیع ابن سبرہ بن معبد، حضرت ابی ربیع بن سبرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ کو فتح مکہ کے سال عورتوں سے نکاح متعہ کی اجازت دی راوی کہتے ہیں پس میں اور میرا ایک ساتھی بنی سلیم سے نکلے یہاں تک کہ ہم نے بنی عامر کی ایک عورت کو پایا جو کہ نوجوان اور لمبی گردن والی معلوم ہوتی تھی ہم نے اسے نکاح متعہ کا پیغام دیا اور اس کے سامنے ہم نے اپنی اپنی دو چادریں پیش کیں پس اس نے مجھے دیکھنا شروع کیا کیونکہ میں اپنے ساتھی سے زیادہ خوبصورت تھا اور میرے ساتھی کی چادر کو دیکھا جو کہ میری چادر سے زیادہ عمدہ تھی تھوڑی دیر تک اس نے سوچا پھر مجھے میرے ساتھی سے پسند کرلیا پس وہ میرے ساتھ تین دن تک رہی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں مسلمانوں کو ان کے چھوڑنے کا حکم دے دیا۔
Sabra b. Ma'bad reported that Allah's Apostle (may peace be upon him) permitted his Companions to contract temporary marriage with women in the Year of Victory. So I and a friend of mine from Banu Sulaim went out, until we found a young woman of Banu Amir who was like a young she-camel having a long neck. We made proposal to her for contracting temporary marriage with us, and presented to her our cloaks (as dower). She began to look and found me more handsome than my friend, but found the cloak of my friend more beautiful than my cloak. She thought in her mind for a while, but then preferred me to my friend. So I remained with her for three (nights), and then Allah's Messenger (may peace be upon him) commanded us to part with them (such women).
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ نِکَاحِ الْمُتْعَةِ
عمرو ناقد، ابن نمیر، سفیان بن عیینہ، زہری، حضرت ربیع بن سبرہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نکاح متعہ سے منع فرمایا۔
Rabi' b. Sabra reported on the authority of his father that Allah's Apostle (may peace be upon him) prohibited the contracting of temporary marriage.
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی يَوْمَ الْفَتْحِ عَنْ مُتْعَةِ النِّسَائِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن علیہ، معمر، زہری، حضرت ربیع بن سبرہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ کے دن عورتوں کے ساتھ نکاح متعہ سے منع فرمایا۔
Rabi' b. Sabra reported on the authority of his father that Allah's Messenger (may peace be upon him) forbade on the Day of Victory to contract temporary marriage with women.
و حَدَّثَنِيهِ حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ الْجُهَنِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ الْمُتْعَةِ زَمَانَ الْفَتْحِ مُتْعَةِ النِّسَائِ وَأَنَّ أَبَاهُ کَانَ تَمَتَّعَ بِبُرْدَيْنِ أَحْمَرَيْنِ
حسن حلوانی، عبد بن حمید، یعقوب بن ابراہیم بن سعد، صالح، ابن شہاب، حضرت ربیع بن سبرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ کے زمانہ میں عورتوں کے ساتھ نکاح متعہ سے منع فرمایا اور ان کے والد یعنی سبرہ دو سرخ چادروں کے بدلہ میں نکاح متعہ کرتے تھے۔
This hadith has been narrated on the authority of Rabi' b. Sabra that Allah's Messenger (may peace be upon him) forbade to contract temporary marriage with women at the time of Victory, and that his father had contracted the marriage for two red cloaks.
و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ قَامَ بِمَکَّةَ فَقَالَ إِنَّ نَاسًا أَعْمَی اللَّهُ قُلُوبَهُمْ کَمَا أَعْمَی أَبْصَارَهُمْ يُفْتُونَ بِالْمُتْعَةِ يُعَرِّضُ بِرَجُلٍ فَنَادَاهُ فَقَالَ إِنَّکَ لَجِلْفٌ جَافٍ فَلَعَمْرِي لَقَدْ کَانَتْ الْمُتْعَةُ تُفْعَلُ عَلَی عَهْدِ إِمَامِ الْمُتَّقِينَ يُرِيدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ ابْنُ الزُّبَيْرِ فَجَرِّبْ بِنَفْسِکَ فَوَاللَّهِ لَئِنْ فَعَلْتَهَا لَأَرْجُمَنَّکَ بِأَحْجَارِکَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَأَخْبَرَنِي خَالِدُ بْنُ الْمُهَاجِرِ بْنِ سَيْفِ اللَّهِ أَنَّهُ بَيْنَا هُوَ جَالِسٌ عِنْدَ رَجُلٍ جَائَهُ رَجُلٌ فَاسْتَفْتَاهُ فِي الْمُتْعَةِ فَأَمَرَهُ بِهَا فَقَالَ لَهُ ابْنُ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيُّ مَهْلًا قَالَ مَا هِيَ وَاللَّهِ لَقَدْ فُعِلَتْ فِي عَهْدِ إِمَامِ الْمُتَّقِينَ قَالَ ابْنُ أَبِي عَمْرَةَ إِنَّهَا کَانَتْ رُخْصَةً فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ لِمَنْ اضْطُرَّ إِلَيْهَا کَالْمَيْتَةِ وَالدَّمِ وَلَحْمِ الْخِنْزِيرِ ثُمَّ أَحْکَمَ اللَّهُ الدِّينَ وَنَهَی عَنْهَا قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَأَخْبَرَنِي رَبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ أَنَّ أَبَاهُ قَالَ قَدْ کُنْتُ اسْتَمْتَعْتُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي عَامِرٍ بِبُرْدَيْنِ أَحْمَرَيْنِ ثُمَّ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُتْعَةِ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَسَمِعْتُ رَبِيعَ بْنَ سَبْرَةَ يُحَدِّثُ ذَلِکَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَأَنَا جَالِسٌ
حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مکہ میں قیام کیا تو فرمایا کہ لوگوں کے دلوں کو اللہ نے اندھا کر دیا ہے جیسا کہ وہ بینائی سے نابینا ہیں کہ وہ متعہ کا فتویٰ دیتے ہیں اتنے میں ایک آدمی نے انہیں پکارا اور کہا کہ تم کم علم اور نادان ہو میری عمر کی قسم امام المتقین یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں متعہ کیا جاتا تھا تو ان سے ( ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے) ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا تم اپنے آپ پر تجربہ کرلو اللہ کی قسم اگر آپ نے ایسا عمل کیا تو میں تجھے پتھروں سے سنگسار کر دوں گا ابن شہاب نے کہا مجھے خالد بن مہاجر بن سیف اللہ نے خبر دی کہ وہ ایک آدمی کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی نے اس سے آکر متعہ کے بارے میں فتویٰ طلب کیا تو اس نے اسے اس کی اجازت دے دی تو اس سے ابن ابی عمرہ انصاری نے کہا ٹھہر جا انہوں نے کہا کیا بات ہے حالانکہ امام المتقین صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایسا کیا گیا ابن ابی عمرہ نے فرمایا کہ یہ رخصت ابتدائے اسلام میں مضطر آدمی کے لئے تھی مردار اور خون اور خنزیر کے گوشت کی طرح پھر اللہ نے دین کو مضبوط کردیا اور متعہ سے منع کردیا ابن شہاب نے کہا مجھے ربیع بن سبرہ الجہنی نے خبر دی ہے اس کے باپ نے کہا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں متعہ کیا تھا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں متعہ سے منع فرما دیا ابن شہاب نے کہا کہ میں نے ربیع بن سبرہ کی یہ حدیث عمر بن عبدالعزیز سے بیان کرتے سنا اس حال میں کہ میں وہاں بیٹھا ہوا تھا۔
'Urwa b. Zabair reported that 'Abdullah b. Zubair (Allah be pleased with him) stood up (and delivered an address) in Mecca saying: Allah has made blind the hearts of some people as He has deprived them of eyesight that they give religious verdict in favour of temporary marriage, while he was alluding to a person (Ibn 'Abbas). Ibn Abbas called him and said: You are an uncouth person, devoid of sense. By my life, Mut'a was practised during the lifetime of the leader of the pious (he meant Allah's Messenger, (may peace be upon him), and Ibn Zubair said to him: just do it yourselves, and by Allah, if you do that I will stone you with your stones. Ibn Shihab said Khalid b. Muhajir b. Saifullah informed me: While I was sitting in the company of a person, a person came to him and he asked for a religious verdict about Mut'a and he permitted him to do it. Ibn Abu 'Amrah al-Ansari (Allah be pleased with him) said to him: Be gentle. It was permitted in the early days of Islam, (for one) who was driven to it under the stress of necessity just as (the eating of) carrion and the blood and flesh of swine and then Allah intensified (the commands of) His religion and prohibited it (altogether). Ibn Shihab reported: Rabi' b. Sabra told me that his father (Sabra) said: I contracted temporary marriage with a woman of Banu 'Amir for two cloaks during the lifetime of Allah's Messenger (may peace be upon him) ; then he forbade us to do Mut'a. Ibn Shihab said: I heard Rabi' b. Sabra narrating it to Umar b. 'Abd al-'Aziz and I was sitting there.
و حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ عَنْ ابْنِ أَبِي عَبْلَةَ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ الْمُتْعَةِ وَقَالَ أَلَا إِنَّهَا حَرَامٌ مِنْ يَوْمِکُمْ هَذَا إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَمَنْ کَانَ أَعْطَی شَيْئًا فَلَا يَأْخُذْهُ
سلمہ بن شبیب، حسن بن اعین، معقل، ابن ابی عبلة، عمر بن عبدالعزیز، حضرت ربیع بن سبرہ جہنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نکاح متعہ سے ممانعت فرمائی اور فرمایا آگاہ رہو یہ آج کے دن سے قیامت کے دن تک حرام ہے اور جس نے کوئی چیز دی ہو تو اسے واپس نہ لے۔
Sabra al-Juhanni reported on the authority of his father: Allah's Messenger (may peace be upon him) prohibited the contracting of temporary marriage and said: Behold, it is forbidden from this very day of yours to the Day of Resurrection, and he who has given something (as a dower) should not take it back.
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ وَالْحَسَنِ ابْنَيْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِمَا عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ مُتْعَةِ النِّسَائِ يَوْمَ خَيْبَرَ وَعَنْ أَکْلِ لُحُومِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ
یحیی بن یحیی، مالک، ابن شہاب، عبد اللہ، حسن، محمد بن علی، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن ابوطالب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوہ خیبر کے دن عورتوں سے نکاح متعہ کرنے سے گھریلو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا۔
'Ali b. AbiTalib reported that Allah's Messenger (may peace be upon him) prohibited on the Day of Khaibar the contracting of temporary marriage with women and the eating of the flesh of domestic asses.
و حَدَّثَنَاه عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَائَ الضُّبَعِيُّ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ عَنْ مَالِکٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ يَقُولُ لِفُلَانٍ إِنَّکَ رَجُلٌ تَائِهٌ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يَحْيَی بْنِ يَحْيَی عَنْ مَالِکٍ
عبداللہ بن محمد بن اسماء ضبعی، جویریہ، حضرت مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت علی بن ابی طالب کو ایک آدمی سے یہ فرماتے ہوئے سنا کہ وہ اسے کہہ رہے تھے کہ تو ایک بھٹکا ہوا آدمی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے متعہ سے منع فرمایا باقی حدیث یحیی بن مالک کی حدیث کی طرح ہے۔
Malik narrated this hadith on the authority of the same chain of transmitters that 'Ali b. Abi Talib said to a person: You are a person led astray; Allah's Messenger (may peace be upon him) forbade us (to do Mut'a), as is stated In the hadith transmitted on the authority of Yahya b. Malik.
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ الْحَسَنِ وَعَبْدِ اللَّهِ ابْنَيْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِمَا عَنْ عَلِيٍّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ نِکَاحِ الْمُتْعَةِ يَوْمَ خَيْبَرَ وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر، زہیر بن حرب، ابن عیینہ، زہیر، سفیان ابن عیینہ، زہری، حسن، عبد اللہ، محمد بن علی، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ بنی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوہ خیبر کے دن نکاح متعہ اور گھریلوں گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا۔
Muhammad b. 'Ali narrated on the authority of his father 'Ali that Allah's Apostle (may peace be upon him) on the Day of Khaibar prohibited for ever the contracting of temporary marriage and eating of the flesh of the domestic asses.
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ الْحَسَنِ وَعَبْدِ اللَّهِ ابْنَيْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِمَا عَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يُلَيِّنُ فِي مُتْعَةِ النِّسَائِ فَقَالَ مَهْلًا يَا ابْنَ عَبَّاسٍ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْهَا يَوْمَ خَيْبَرَ وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ
محمد بن عبداللہ بن نمیر، عبید اللہ، ابن شہاب، حسن، عبد اللہ، محمد بن علی، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو عورتوں کے متعہ میں نرمی کرتے ہوئے سنا تو فرمایا ٹھہر جاؤ اے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے غزوہ خیبر کے دن منع فرمایا اور پالتو گدھوں کے گوشت سے بھی۔
'Ali (Allah be pleased with him) heard that Ibn Abbas (Allah be pleased with them) gave some relaxation in connection with the contracting of temporary marriage, whereupon he said: Don't be hasty (in your religious verdict), Ibn 'Abbas, for Allah's Messenger (may peace be upon him) on the Day of Khaibar prohibited for ever the doing of it and eating of the flesh of domestic asses.
و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ الْحَسَنِ وَعَبْدِ اللَّهِ ابْنَيْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عَنْ أَبِيهِمَا أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ يَقُولُ لِابْنِ عَبَّاسٍ نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ مُتْعَةِ النِّسَائِ يَوْمَ خَيْبَرَ وَعَنْ أَکْلِ لُحُومِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ
ابوطاہر، حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، حسن، عبد اللہ، حضرت محمد بن علی بن ابوطالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اس نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن ابی طالب کو ابن عباس سے فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوہ خیبر کے دن عورتوں سے نکاح متعہ کرنے اور گھریلو پالتوں گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا۔
'Ali (Allah be pleased with him) said to Ibn 'Abbas (Allah be pleased with them) that Allah's Messenger (may peace be upon him) on the Day of Khaibar forbade forever the contracting of temporary marriage and the eating of the flesh of domestic asses.