TrueHadith

ہر مہینے تین دن کے روزے اور ایام عرفہ کا ایک روزہ اور عاشورہ اور سوموار اور جمعرات کے دن کے روزے کے استحباب کے بیان میں

Sahih MuslimHadith 1974

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ يَزِيدَ الرِّشْکِ قَالَ حَدَّثَتْنِي مُعَاذَةُ الْعَدَوِيَّةُ أَنَّهَا سَأَلَتْ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ مِنْ کُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ قَالَتْ نَعَمْ فَقُلْتُ لَهَا مِنْ أَيِّ أَيَّامِ الشَّهْرِ کَانَ يَصُومُ قَالَتْ لَمْ يَکُنْ يُبَالِي مِنْ أَيِّ أَيَّامِ الشَّهْرِ يَصُومُ

شیبان بن فروخ، عبدالوارث، یزید، حضرت معاذہ عدویہ بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زوجہ مطہرہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر مہینے تین دنوں کے روزے رکھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں تو میں نے عرض کیا کہ مہینے کے کن دنوں کے روزے رکھتے تھے؟ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ دنوں کی پرواہ نہیں کرتے تھے مہینے کے جن دنوں میں سے چاہتے روزے رکھ لیتے۔

Mu'adha al-'Adawiyya reported that she asked 'A'isha, the wife of the Apostle of Allah (may peace be upon him), whether the Messenger of Allah (may peace be upon him) observed fasts for three days during every month. She said: Yes. I said to her: Which were (the particular) days of the month on which he observed fast? She said: He was not particular about the days of the month on which to observe fast..

Permalink

Sahih MuslimHadith 1975

و حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَائَ الضُّبَعِيُّ حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ وَهُوَ ابْنُ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ أَوْ قَالَ لِرَجُلٍ وَهُوَ يَسْمَعُ يَا فُلَانُ أَصُمْتَ مِنْ سُرَّةِ هَذَا الشَّهْرِ قَالَ لَا قَالَ فَإِذَا أَفْطَرْتَ فَصُمْ يَوْمَيْنِ

عبداللہ بن محمد بن اسماء ضبعی، مہدی، ابن میمون، غیلان بن جریر، مطرف، حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے یا کسی آدمی سے فرمایا اور وہ سن رہے تھے اے فلاں! کیا تو نے اس مہینے کے درمیان میں سے روزے رکھے ہیں؟ اس نے عرض کیا نہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب تو افطار کرلے تو دو دنوں کے اور روزے رکھنا۔

'Imran b. Husain (Allah be pleased with them) reported that the Apostle of Allah (may peace be upon him) said to him (or he said to another person and he was listening to it): O, so and so, did you observe fast in the middle of the month? He said: No. Thereupon he (the Messenger of Allah) said: When you break it, then observe fast for two days.

Permalink

Sahih MuslimHadith 1976

و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ جَمِيعًا عَنْ حَمَّادٍ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ غَيْلَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيِّ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَجُلٌ أَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ کَيْفَ تَصُومُ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَأَی عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ غَضَبَهُ قَالَ رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ غَضَبِ اللَّهِ وَغَضَبِ رَسُولِهِ فَجَعَلَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُرَدِّدُ هَذَا الْکَلَامَ حَتَّی سَکَنَ غَضَبُهُ فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ کَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ الدَّهْرَ کُلَّهُ قَالَ لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ أَوْ قَالَ لَمْ يَصُمْ وَلَمْ يُفْطِرْ قَالَ کَيْفَ مَنْ يَصُومُ يَوْمَيْنِ وَيُفْطِرُ يَوْمًا قَالَ وَيُطِيقُ ذَلِکَ أَحَدٌ قَالَ کَيْفَ مَنْ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا قَالَ ذَاکَ صَوْمُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام قَالَ کَيْفَ مَنْ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمَيْنِ قَالَ وَدِدْتُ أَنِّي طُوِّقْتُ ذَلِکَ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثٌ مِنْ کُلِّ شَهْرٍ وَرَمَضَانُ إِلَی رَمَضَانَ فَهَذَا صِيَامُ الدَّهْرِ کُلِّهِ صِيَامُ يَوْمِ عَرَفَةَ أَحْتَسِبُ عَلَی اللَّهِ أَنْ يُکَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ وَالسَّنَةَ الَّتِي بَعْدَهُ وَصِيَامُ يَوْمِ عَاشُورَائَ أَحْتَسِبُ عَلَی اللَّهِ أَنْ يُکَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ

یحیی بن یحیی، قتیبہ بن سعید، حماد، حماد بن زید، غیلان، عبداللہ بن معبد زمانی، حضرت ابوقتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا اور عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزے کیسے رکھتے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی بات سے غصہ میں آگئے اور جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کو غصہ کی حالت میں دیکھا تو کہنے لگے (رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا نَعُوذُ بِاللَّهِ) ہم اللہ تعالیٰ تعالیٰ سے اس کو رب مانتے ہوئے اور اسلام کو دین مانتے ہوئے اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نبی مانتے ہوئے راضی ہیں ہم اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگتے ہیں اللہ تعالیٰ کے غضب سے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غضب سے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے اس کلام کو بار بار دہراتے رہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا غصہ ٹھنڈا ہوگیا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول جو آدمی ساری ساری عمر روزے رکھے اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نہ اس نے روزہ رکھا اور نہ اس نے افطار کیا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ جو آدمی دو دن روزے رکھے اور ایک دن افطار کرے اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا وہ کون ہے جو اس کی طاقت رکھتا ہو؟ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ جو آدمی ایک دن روزہ رکھے اور ایک دن افطار کرے اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ حضرت داؤد علیہ السلام کے روزے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ جو آدمی ایک دن روزہ رکھے اور دو دن افطار کرے اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں پسند کرتا ہوں کہ مجھے اس کی طاقت ہوتی پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہر مہینے تین دن روزے رکھنا اور ایک رمضان کے بعد دوسرے رمضان کے روزے رکھنا پورے ایک زمانہ کے روزے کے برابر ہے اور عرفہ کے دن روزہ رکھنے سے میں اللہ تعالیٰ کی ذات سے امید کرتا ہوں کہ یہ ایک سال پہلے کے اور ایک سال بعد کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا اور عاشورہ کے دن روزہ رکھنے سے بھی اللہ تعالیٰ کی ذات سے امید کرتا ہوں کہ یہ ایک روزہ اس کے ایک سال پہلے کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔

Abu Qatada reported that a person came to the Apostle of Allah (may peace be upon him) and said: How do you observe fast? The Messenger of Allah (may peace be upon him) felt annoyed. When 'Umar (Allah be pleased with him) noticed his annoyance, he said: We are well pleased with Allah as our Lord, with Islam as our Code of Life, and with Muhammad as our Prophet. We seek refuge with Allah from the anger of Allah and that of His Messenger. 'Umar kept on repeating these words till his (the Prophet's) anger calmed down. Then Umar said: Messenger of Allah. what is the position of one who perpetually observes fasts? Thereupon he said: He neither fasted nor broke it, or he said: He did not fast and he did not break it. He said: What about him who observes fast for two days and breaks one day. Thereupon he said: Is anyone capable of doing it? He ('Umar) said: What is the position of him who observes fast for a day and breaks on the other day? Thereupon he (the Holy Prophet) said: That is the fast of David (peace be upon him). He ('Umar) said: What about him who observes fast one day and breaks it for two days. Thereupon he (the Messenger of Allah) said: I wish, I were given strength to observe that. Thereafter he said: The observance of three days' fast every Month and that of Ramadan every year is a perpetual fasting. I seek from Allah that fasting on the day of 'Arafa may atone for the sins of the preceding and the coming years. and I seek from Allah that fasting on the day of Ashura may atone for the sins of the preceding year.

Permalink

Sahih MuslimHadith 1977

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيَّ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ صَوْمِهِ قَالَ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا وَبِبَيْعَتِنَا بَيْعَةً قَالَ فَسُئِلَ عَنْ صِيَامِ الدَّهْرِ فَقَالَ لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ أَوْ مَا صَامَ وَمَا أَفْطَرَ قَالَ فَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمَيْنِ وَإِفْطَارِ يَوْمٍ قَالَ وَمَنْ يُطِيقُ ذَلِکَ قَالَ وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمٍ وَإِفْطَارِ يَوْمَيْنِ قَالَ لَيْتَ أَنَّ اللَّهَ قَوَّانَا لِذَلِکَ قَالَ وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمٍ وَإِفْطَارِ يَوْمٍ قَالَ ذَاکَ صَوْمُ أَخِي دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام قَالَ وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الِاثْنَيْنِ قَالَ ذَاکَ يَوْمٌ وُلِدْتُ فِيهِ وَيَوْمٌ بُعِثْتُ أَوْ أُنْزِلَ عَلَيَّ فِيهِ قَالَ فَقَالَ صَوْمُ ثَلَاثَةٍ مِنْ کُلِّ شَهْرٍ وَرَمَضَانَ إِلَی رَمَضَانَ صَوْمُ الدَّهْرِ قَالَ وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ فَقَالَ يُکَفِّرُ السَّنَةَ الْمَاضِيَةَ وَالْبَاقِيَةَ قَالَ وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَائَ فَقَالَ يُکَفِّرُ السَّنَةَ الْمَاضِيَةَ وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ مِنْ رِوَايَةِ شُعْبَةَ قَالَ وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ فَسَکَتْنَا عَنْ ذِکْرِ الْخَمِيسِ لَمَّا نُرَاهُ وَهْمًا

محمد بن مثنی، محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، غیلان بن جریر، عبداللہ بن معبد زمانی، حضرت ابوقتادہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روزے کے بارے میں سوال کیا گیا تو رسول اللہ غصہ ہوگئے تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ عرض کرنے لگے ہم اللہ تعالیٰ کو رب مانتے ہوئے اور اسلام کو دین مانتے ہوئے اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رسول مانتے ہوئے راضی ہیں اور جو ہم نے بیعت کی اس بیعت پر بھی راضی ہیں راوی کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صوم دہر ساری عمر کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ نہ اس نے روزہ رکھا اور نہ اس نے افطار کیا راوی کہتے ہیں کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دو دن کے روزے اور ایک دن روزہ اور دو دن افطار کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کاش کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی طاقت عطا کرتا، راوی کہتے ہیں کہ پھر آپ سے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک دن روزہ اور ایک دن افطار کرنے کے بارے میں پوچھا گیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ روزے میرے بھائی حضرت داؤد علیہ السلام کے ہیں راوی کہتے ہیں کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوموار کے دن کے روزہ کے بارے میں پوچھا گیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ وہ دن ہے جس میں مجھے پیدا کیا گیا اور اسی دن مجھے مبعوث کیا گیا اسی دن مجھ پر نازل کیا گیا راوی کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہر مہینے تین روزے اور ایک رمضان کے بعد دوسرے رمضان کے روزے رکھنا ساری عمر کے روزوں کے برابر ہے راوی کہتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرفہ کے دن کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا گزرے ہوئے سال اور آنے والے سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے راوی کہتے ہیں کہ آپ سے عاشورہ کے دن کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ روزہ رکھنا گزرے ہوئے ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے امام مسلم فرماتے ہیں اور اس حدیث میں شعبہ کی روایت میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پیر اور جمعرات کے دن کے روزوں کے بارے میں پوچھا گیا تو ہم جمعرات کے ذکر سے خاموش رہے کیونکہ ہم اس میں وہم خیال کرتے ہیں۔

Abu Qatada al-Ansari (Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (may peace be upon him) was asked about his fasting. The Messenger of Allah (may peace be upon him) felt annoyed. Thereupon 'Umar (Allah be pleased with him) said: We are pleased with Allah as the Lord, with Islam as our Code of Life, with Muhammad as the Messenger and with our pledge (to you for willing and cheerful submission) as a (sacred) commitment. He was then asked about perpetual fasting, whereupon he said: He neither fasted nor did he break it, or he did not fast and he did not break it. He was then asked about fasting for two days and breaking one day. He (the Holy Prophet) said: And who has strength enough to do it? He was asked about fasting for a day and breaking for two days, whereupon he said: May Allah bestow upon us strength to do it. He was then asked about fasting for a day and breaking on the other, whereupon he said: That is the fasting of my brother David (peace be upon him). He was then asked about fasting on Monday, whereupon he said: It was the day on which I was born. on which I was commissioned with prophethood or revelation was sent to me, (and he further) said: Three days' fasting every month and of the whole of Ramadan every year is a perpetual fast. He was asked about fasting on the day of 'Arafa (9th of Dhu'I-Hijja), whereupon he said: It expiates the sins of the preceding year and the coming year. He was asked about fasting on the day of 'Ashura (10th of Muharram), whereupon be said: It expiates the sins of the preceding year. Imam Muslim said (that in this hadith) there is a narration of Imam Shu'ba that he was asked about fasting on Monday and Thursday, but we (Imam Muslim) did not mention Thursday for we found it as an error (in reporting).

Permalink

Sahih MuslimHadith (internal ref #1220254)

و حَدَّثَنَاه عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ کُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ

عبیداللہ بن معاذ، ابوبکر بن ابی شیبہ، شبابہ، اسحاق بن ابراہیم، نضر بن شمیل، حضرت شعبہ سے اس سند کے ساتھ اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے

This hadith has been narrated by Shu'ba with the same chain of transmitters.

Permalink

Sahih MuslimHadith (internal ref #1220255)

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ حَدَّثَنَا أَبَانُ الْعَطَّارُ حَدَّثَنَا غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِ حَدِيثِ شُعْبَةَ غَيْرَ أَنَّهُ ذَکَرَ فِيهِ الِاثْنَيْنِ وَلَمْ يَذْکُرْ الْخَمِيسَ

احمد بن سعید دارمی، حبان بن ہلال، ابان عطار، غیلان بن جریر، شعبہ اس سند کے ساتھ بھی اس طرح حدیث نقل کی گئی ہے سوائے اس کے کہ اس میں سوموار کا ذکر ہے اور جمعرات کا ذکر نہیں کیا۔

This hadith has been narrated by Ghailan b. Jarir with the same chain of transmitters, but with one variation, that there has been made mention of Monday and not of Thursday.

Permalink

Sahih MuslimHadith 1978

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ عَنْ غَيْلَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيِّ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ صَوْمِ الِاثْنَيْنِ فَقَالَ فِيهِ وُلِدْتُ وَفِيهِ أُنْزِلَ عَلَيَّ

زہیر بن حرب، عبدالرحمن بن مہدی، مہدی بن میمون، غیلان، عبداللہ بن معبد زمانی، حضرت ابوقتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ سے سوموار کے دن کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اسی دن میں مجھے پیدا کیا گیا اور اس دن میں مجھ پر وحی نازل کی گئی۔

Abu Qatada Ansari (Allah be pleased with him) reported that Allah's Messenger (may peace be upon him) was asked about fasting on Monday, whereupon he said: It is (the day) when I was born and revelation was sent down to me.

Permalink