TrueHadith

اس بات کے بیان میں کہ مومن آدمی کو جب کبھی کوئی بیماری یا کوئی پریشانی وغیرہ پہنچتی ہے تو اس پر اسے ثواب ملتا ہے ۔

Sahih MuslimHadith 4662

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ مَا رَأَيْتُ رَجُلًا أَشَدَّ عَلَيْهِ الْوَجَعُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي رِوَايَةِ عُثْمَانَ مَکَانَ الْوَجَعِ وَجَعًا

عثمان بن ابی شیبہ اسحاق بن ابراہیم، اسحاق عثمان جریر، اعمش، ابووائل مسروق، سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے کسی آدمی کو نہیں دیکھا کہ جسے رسول اللہ کی تکلیف سے بڑھ کر تکلیف ہو۔

'A'isha reported, I did not see anyone else being afflicted with more severe illness than Allah's Messenger (may peace be upon him). In the narration transmitted by 'Uthman there is a slight variation of wording.

Permalink

Sahih MuslimHadith (internal ref #1232058)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ أَخْبَرَنِي أَبِي ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ح و حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ کُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ ح و حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ کِلَاهُمَا عَنْ سُفْيَانَ عَنْ الْأَعْمَشِ بِإِسْنَادِ جَرِيرٍ مِثْلَ حَدِيثِهِ

عبیداللہ بن معاذ ابی ابن مثنی ابن بشار ابن ابی عدی، بشر ابن خالد محمد بن جعفر، شعبہ، ابوبکر بن نافع عبدالرحمن ابن نمیر، مصعب بن مقدام سفیان، حضرت اعمش رضی اللہ تعالیٰ عنہ جریر کی سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کرتے ہیں۔

This hadith has been narrated on the authority of A'mash through other chains of transmitters.

Permalink

Sahih MuslimHadith 4663

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ دَخَلْتُ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُوعَکُ فَمَسِسْتُهُ بِيَدِي فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّکَ لَتُوعَکُ وَعْکًا شَدِيدًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجَلْ إِنِّي أُوعَکُ کَمَا يُوعَکُ رَجُلَانِ مِنْکُمْ قَالَ فَقُلْتُ ذَلِکَ أَنَّ لَکَ أَجْرَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجَلْ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصِيبُهُ أَذًی مِنْ مَرَضٍ فَمَا سِوَاهُ إِلَّا حَطَّ اللَّهُ بِهِ سَيِّئَاتِهِ کَمَا تَحُطُّ الشَّجَرَةُ وَرَقَهَا وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ زُهَيْرٍ فَمَسِسْتُهُ بِيَدِي

عثمان بن ابی شیبہ زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، اسحاق جریر، اعمش، ابراہیم، حارث ابن سوید حضرت عبداللہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ کی خدمت اقدس میں آیا حال یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بخار تھا میں نے ہاتھ رکھ کر دیکھا تو میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت سخت بخار ہے رسول اللہ نے فرمایا ہاں مجھے تم میں سے دو آدمیوں کے برابر بخار ہوتا ہے راوی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اسکی کیا وجہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے دوہرا اجر ہے رسول اللہ نے فرمایا ہاں پھر رسول اللہ نے فرمایا جس مسلمان کو کوئی تکلیف آتی ہے تو اللہ اس تکلیف کے بدلہ میں اس کے اس طرح گناہ معاف کر دیتا ہے کہ جس طرح (موسم بہار) میں درخت سے پتے جھڑتے ہیں اور زہیر کی حدیث میں ہاتھ لگا کر دیکھنے کے الفاظ نہیں ہیں۔

'Abdullah reported: I visited Allah's Messenger (may peace be upon him) as he was running high temperature. I touched his body with my bard and said to him: Allah's Messenger, you are running high temperature, whereupon Allah's Messenger (may peace be upon him) said: Yes, it is so. I comparatively have a more severe fever than any one of you. I said: Is it because there is a double reward in store for you? Thereupon Allah's Messenger (may peace be upon him) said: Yes, it is so. And Allah's Messenger (may peace be upon him) again said: When a Muslim falls ill, his compensation is that his minor sins are obliterated just as leaves tall (in autumn). In the hadith transmitted on the authority of Zubair there is (no mention of these words):" I touched his body with my hands."

Permalink

Sahih MuslimHadith (internal ref #1232060)

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ وَيَحْيَی بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبِي غَنِيَّةَ کُلُّهُمْ عَنْ الْأَعْمَشِ بِإِسْنَادِ جَرِيرٍ نَحْوَ حَدِيثِهِ وَزَادَ فِي حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ قَالَ نَعَمْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا عَلَی الْأَرْضِ مُسْلِمٌ

ابوبکر بن ابی شبیہ ابوکریب ابومعاویہ محمد بن رافع عبدالرزاق، سفیان، اسحاق بن ابراہیم، ابن بی غنیہ حضرت اعمش رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جریر کی سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کی گئی ہے اور ابومعاویہ کی روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ آپنے ارشاد فرمایا ہاں اور قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے زمین پر کوئی مسلمان ایسا نہیں ہے کہ آخر تک۔

This hadith has been transmitted on the authority of jarir and the hadith transmitted on the authority of Abu Mu'awiya there is an addition of these words: He said: Yes, by Him in Whose Hand is my life, there is no Muslim upon the earth." The rest of the hadith is the same.

Permalink

Sahih MuslimHadith 4664

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ جَرِيرٍ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ قَالَ دَخَلَ شَبَابٌ مِنْ قُرَيْشٍ عَلَی عَائِشَةَ وَهِيَ بِمِنًی وَهُمْ يَضْحَکُونَ فَقَالَتْ مَا يُضْحِکُکُمْ قَالُوا فُلَانٌ خَرَّ عَلَی طُنُبِ فُسْطَاطٍ فَکَادَتْ عُنُقُهُ أَوْ عَيْنُهُ أَنْ تَذْهَبَ فَقَالَتْ لَا تَضْحَکُوا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُشَاکُ شَوْکَةً فَمَا فَوْقَهَا إِلَّا کُتِبَتْ لَهُ بِهَا دَرَجَةٌ وَمُحِيَتْ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةٌ

زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، جریر، زہیر منصور ابراہیم، حضرت اسود سے روایت ہے کہ قریش کے کچھ نوجوان سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں آئے اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اس وقت منی میں تھیں اور وہ نوجوان ہنس رہے تھے سیدہ عائشہ نے فرمایا تم کیوں ہنس رہے ہو وہ نوجوان کہنے لگے کہ فلاں آدمی خیمہ کی رسی پر گر پڑا ہے اور اس کی گردن یا اس کی آنکھ جاتے جاتے ہی بچی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا تم مت ہنسو کیونکہ میں نے رسول اللہ سے سنا ہے آپ نے فرمایا جس مسلمان کو کوئی کانٹا یا کانٹے سے بڑھ کر کوئی چیز لگ گئی ہو تو اس کے بدلے میں اس کے لئے ایک درجہ لکھ دیا جاتا ہے اور اس کا ایک گناہ مٹا دیا جاتا ہے۔

Aswad reported that some young men from the Quraish visited 'A'isha as she was in Mina and they were laughing. She said: What makes you laugh? They said: Such and such person stumbled against the rope of the tent and he was about to break his neck or lose his eyes. She said: Don't laugh for I heard Allah's Messenger (may peace be upon him) as saying: If a Muslim runs a thorn or (gets into trouble) severe than this, there is assured for him (a higher) rank and his sins are obliterated.

Permalink

Sahih MuslimHadith 4665

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لَهُمَا و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ الْحَنْظَلِيُّ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ مِنْ شَوْکَةٍ فَمَا فَوْقَهَا إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً أَوْ حَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب اسحاق حنظلی اسحاق ابومعاویہ اعمش، ابراہیم، اسود سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا جب کسی مومن آدمی کو کوئی کانٹا چبھتا ہے یا اس سے بڑھ کر اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلہ میں اس کا ایک درجہ بلند فرما دیتا ہے یا اس کا ایک گناہ مٹا دیتا ہے۔

'A'isha reported Allah's Messenger (may peace be upon him) as saying: A believer does not receive (the trouble) of running a thorn or more than that but Allah elevates him in rank or effaces his sins because of that.

Permalink

Sahih MuslimHadith 4666

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُصِيبُ الْمُؤْمِنَ شَوْکَةٌ فَمَا فَوْقَهَا إِلَّا قَصَّ اللَّهُ بِهَا مِنْ خَطِيئَتِهِ

محمد بن عبداللہ بن نمیر، محمد بن بشر ہشام سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا کسی مومن آدمی کو اگر کوئی کانٹا چبھتا ہے یا اس سے بھی بڑھ کر کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ اس کے بدلہ میں اس کا ایک گناہ مٹا دیتا ہے۔

'A'isha reported Allah's Messenger (may peace be upon him) as saying: A believer does not undergo (the trouble) of running a thorn or more than that when Allah effaces his sins.

Permalink

Sahih MuslimHadith (internal ref #1232064)

حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ

ابوکریب ابومعاویہ حضرت ہشام اس سند کے ساتھ روایت بیان کرتے ہیں۔

00000 23-10-09

Permalink

Sahih MuslimHadith 4667

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ مُصِيبَةٍ يُصَابُ بِهَا الْمُسْلِمُ إِلَّا کُفِّرَ بِهَا عَنْهُ حَتَّی الشَّوْکَةِ يُشَاکُهَا

ابوطاہر ابن وہب، مالک بن انس، یونس بن یزید ابن شہاب عروہ بن زبیر، سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی مسلمان کو جو بھی کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو اسے اس کے گناہ کا کفارہ کر دیا جاتا ہے یہاں تک کہ اگر اس کو کوئی کانٹا بھی چبھ جائے۔

'A'isha said: No trouble comes to a believer even if it is the pricking of a thorn that it becomes (the means) whereby his sins are effaced or his sins are obliterated. Yazid says: He does not know which word 'Urwa said (whether he said Qussa or Kuffira).

Permalink

Sahih MuslimHadith 4668

حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ مِنْ مُصِيبَةٍ حَتَّی الشَّوْکَةِ إِلَّا قُصَّ بِهَا مِنْ خَطَايَاهُ أَوْ کُفِّرَ بِهَا مِنْ خَطَايَاهُ لَا يَدْرِي يَزِيدُ أَيَّتُهُمَا قَالَ عُرْوَةُ

ابوطاہر ابن وہب، مالک بن انس، یزید بن خصیفہ عروہ بن زبیر، سیدہ عائشہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا کسی مومن آدمی کو جو کوئی بھی مصیبت پہنچتی ہے یہاں تک کہ اگر اسے کوئی کانٹا بھی چبھتا ہے تو اس کے بدلہ میں اس کے گناہ کم کر دئے جاتے ہیں یا اس کے گناہوں کا کفارہ کر دیا جاتا ہے یزید نہیں جانتا کہ ان دونوں میں سے عروہ نے کون سے لفظ کہا ہے۔

'A'isha reported: I heard Allah's Messenger (may peace be upon him) as saying: There is nothing (in the form of trouble) that comes to a believer even if it is the pricking of a thorn that there is decreed for him by Allah good or his sins are obliterated.

Permalink

Sahih MuslimHadith 4669

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ حَدَّثَنَا ابْنُ الْهَادِ عَنْ أَبِي بَکْرِ بْنِ حَزْمٍ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ شَيْئٍ يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ حَتَّی الشَّوْکَةِ تُصِيبُهُ إِلَّا کَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهَا حَسَنَةً أَوْ حُطَّتْ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةٌ

حاملہ بن یحیی عبداللہ بن وہب، حیوة، ابن ہاد ابی بکر بن حرم عمرة سیدہ عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا کسی مومن آدمی کو جو کوئی بھی مصیبت پہنچتی ہے یہاں تک کہ اگر اسے کوئی کانٹا بھی چبھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلہ میں اس لئے ایک نیکی لکھ دیتا ہے یا اس کا کوئی گناہ مٹا دیتا ہے۔

00000 I SHALL CHECK IT 2MORO INSHA ALLAH

Permalink

Sahih MuslimHadith 4670

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ کَثِيرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَائٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُمَا سَمِعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ مِنْ وَصَبٍ وَلَا نَصَبٍ وَلَا سَقَمٍ وَلَا حَزَنٍ حَتَّی الْهَمِّ يُهَمُّهُ إِلَّا کُفِّرَ بِهِ مِنْ سَيِّئَاتِهِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب ابواسامہ ولید بن کثیر محمد بن عمر بن عطاء، بن یسار حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان دونوں حضرات سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ کسی مومن آدمی کے جب بھی کوئی تکلیف یا ایذاء یا کوئی بیماری یا رنج یہاں تک کہ اگر اسے کوئی فکر ہی ہو تو اس سے اس کے گناہوں کا کفارہ کر دیا جاتا ہے۔

Abu Sa'id and abu Huraira reported that they heard Allah's Messenger (may peace be upon him) as saying: Never a believer is stricken with discomfort, hardship or illness, grief or even with mental worry that his sins are not expiated for him.

Permalink

Sahih MuslimHadith 4671

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبْي شَيْبَةَ کِلَاهُمَا عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ ابْنِ مُحَيْصِنٍ شَيْخٍ مِنْ قُرَيْشٍ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ مَنْ يَعْمَلْ سُوئًا يُجْزَ بِهِ بَلَغَتْ مِنْ الْمُسْلِمِينَ مَبْلَغًا شَدِيدًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَارِبُوا وَسَدِّدُوا فَفِي کُلِّ مَا يُصَابُ بِهِ الْمُسْلِمُ کَفَّارَةٌ حَتَّی النَّکْبَةِ يُنْکَبُهَا أَوْ الشَّوْکَةِ يُشَاکُهَا قَالَ مُسْلِم هُوَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَيْصِنٍ مِنْ أَهْلِ مَکَّةَ

قتیبہ بن سعید، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن عیینہ سفیان، ابن محصین محمد بن قیس ابن مخرمہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی (مَنْ يَّعْمَلْ سُوْ ءًا يُّجْزَ بِه ) 4۔ النساء : 123) جو کوئی بھی کوئی برا عمل کرے گا تو اسے اس کا بدلہ دیا جائے گا مسلمانوں کو اس سے بہت سخت پریشانی ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میانہ روی اور استقامت اختیار کرو مسلمان کو جو بھی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اس کے گناہوں کا کفارہ ہو جاتی ہے یہاں تک کہ جو اسے ٹھوکر لگتی ہے یا اسے کوئی کانٹا بھی چبھتا ہے تو وہ بھی اس کے گناہوں کا کفارہ ہو جاتا ہے امام مسلم کہتے ہیں کہ عمر بن عبدالرحمن بن محصین مکہ مکرمہ کے رہنے والے ہیں۔

Abu Huraira reported that when this verse was revealed:" Whoever does evil will be requited for it", and when this was conveyed to the Muslims they were greatly perturbed. Thereupon Allah's Messenger (may peace be upon him) said: Be moderate and stand firm in trouble that falls to the lot of a Muslim (as that) is an expiation for him; even stumbling on the path or the prickin of a thorn (are an expiation for him). Muslim said that 'Umar b. Abd al-Rahman Muhaisin was from amongst the people of Mecca.

Permalink

Sahih MuslimHadith 4672

حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ الصَّوَّافُ حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَی أُمِّ السَّائِبِ أَوْ أُمِّ الْمُسَيَّبِ فَقَالَ مَا لَکِ يَا أُمَّ السَّائِبِ أَوْ يَا أُمَّ الْمُسَيَّبِ تُزَفْزِفِينَ قَالَتْ الْحُمَّی لَا بَارَکَ اللَّهُ فِيهَا فَقَالَ لَا تَسُبِّي الْحُمَّی فَإِنَّهَا تُذْهِبُ خَطَايَا بَنِي آدَمَ کَمَا يُذْهِبُ الْکِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ

عبیداللہ بن عمر قواریری یزید بن زریع حجاج صواف ابوزبیر، حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام سائب یا ام مسیب کے ہاں تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ام سائب یا اے ام مسیب تجھے کیا ہوا تم کانپ رہی ہو اس نے عرض کیا بخار ہے اللہ اس میں برکت نہ کرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بخار کو برا نہ کہو کیونکہ بخار بنی آدم کے گناہوں کو اس طرح دور کرتا ہے کہ جس طرح بھٹی لوہے کی میل کچیل کو دور کر دیتی ہے۔

Jabir b. Abdullah reported that Allah's Messenger (may peace be upon him) visited Umm Sa'ib or Umm Musayyib and said: Umm Sa'ib or Umm Musayyib. why is it that you are shivering? She said:" It is fever and may it not be blessed by Allah, whereupon he (the Holy Prophet) said: Don't curse fever for it expiates the sir of the posterity of Adam just as furnace removes the alloy of iron.

Permalink

Sahih MuslimHadith 4673

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ وَبِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ قَالَا حَدَّثَنَا عِمْرَانُ أَبُو بَکَرٍ حَدَّثَنِي عَطَائُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ قَالَ قَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ أَلَا أُرِيکَ امْرَأَةً مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ قُلْتُ بَلَی قَالَ هَذِهِ الْمَرْأَةُ السَّوْدَائُ أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ إِنِّي أُصْرَعُ وَإِنِّي أَتَکَشَّفُ فَادْعُ اللَّهَ لِي قَالَ إِنْ شِئْتِ صَبَرْتِ وَلَکِ الْجَنَّةُ وَإِنْ شِئْتِ دَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يُعَافِيَکِ قَالَتْ أَصْبِرُ قَالَتْ فَإِنِّي أَتَکَشَّفُ فَادْعُ اللَّهَ أَنْ لَا أَتَکَشَّفَ فَدَعَا لَهَا

عیبد اللہ بن عمر قواریری یحیی بن سعید بشر بن مفضل عمران ابوبکر حضرت عطا بن ابی رباح بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس نے مجھ سے فرمایا کیا میں تجھے ایک حبشی عورت نہ دکھاؤں میں نے عرض کیا کیوں نہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا یہ سیاہ فام عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اور اس نے عرض کیا مجھے مرگی کا دورہ پڑتا ہے اور میرا ستر کھل جاتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے لئے اللہ سے دعا فرمائیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تو چاہے تو صبر کر تیرے لئے جنت ہے اور اگر تو چاہے کہ تو میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ اللہ تجھے صحت و عافیت دے دے وہ عورت کہنے لگی کہ میں صبر کروں گی لیکن میرا ستر کھل جاتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے لئے دعا فرمائی کہ میرا ستر نہ کھلے تو آپ نے اس عورت کے لئے دعا فرمائی۔

'Ata' b. Abi Rabih said: Ibn Abbas said to me: May I show you a woman of Paradise? I said: Yes. He said: Here is this dark-complexioned woman. She came to Allah's Apostle (may peace be upon him) and said: I am suffering from falling sickness and I become naked; supplicate Allah for me, whereupon he (the Holy Prophet) said: Show endurance as you can do and there would be Paradise for you and, if you desire, I supplicate Allah that He may cure you. She said: I am prepared to show endurance (but the unbearable trouble is) that I become naked, so supplicate Allah that He should not let me become naked, so he supplicated for her.

Permalink