حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ حَدَّثَنَا عِکْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ عَنْ سِمَاکٍ أَبِي زُمَيْلٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَالَ لَمَّا اعْتَزَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَائَهُ قَالَ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا النَّاسُ يَنْکُتُونَ بِالْحَصَی وَيَقُولُونَ طَلَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَائَهُ وَذَلِکَ قَبْلَ أَنْ يُؤْمَرْنَ بِالْحِجَابِ فَقَالَ عُمَرُ فَقُلْتُ لَأَعْلَمَنَّ ذَلِکَ الْيَوْمَ قَالَ فَدَخَلْتُ عَلَی عَائِشَةَ فَقُلْتُ يَا بِنْتَ أَبِي بَکْرٍ أَقَدْ بَلَغَ مِنْ شَأْنِکِ أَنْ تُؤْذِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ مَا لِي وَمَا لَکَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ عَلَيْکَ بِعَيْبَتِکَ قَالَ فَدَخَلْتُ عَلَی حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ فَقُلْتُ لَهَا يَا حَفْصَةُ أَقَدْ بَلَغَ مِنْ شَأْنِکِ أَنْ تُؤْذِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُحِبُّکِ وَلَوْلَا أَنَا لَطَلَّقَکِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَکَتْ أَشَدَّ الْبُکَائِ فَقُلْتُ لَهَا أَيْنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ هُوَ فِي خِزَانَتِهِ فِي الْمَشْرُبَةِ فَدَخَلْتُ فَإِذَا أَنَا بِرَبَاحٍ غُلَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدًا عَلَی أُسْکُفَّةِ الْمَشْرُبَةِ مُدَلٍّ رِجْلَيْهِ عَلَی نَقِيرٍ مِنْ خَشَبٍ وَهُوَ جِذْعٌ يَرْقَی عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَنْحَدِرُ فَنَادَيْتُ يَا رَبَاحُ اسْتَأْذِنْ لِي عِنْدَکَ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَظَرَ رَبَاحٌ إِلَی الْغُرْفَةِ ثُمَّ نَظَرَ إِلَيَّ فَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا ثُمَّ قُلْتُ يَا رَبَاحُ اسْتَأْذِنْ لِي عِنْدَکَ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَظَرَ رَبَاحٌ إِلَی الْغُرْفَةِ ثُمَّ نَظَرَ إِلَيَّ فَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا ثُمَّ رَفَعْتُ صَوْتِي فَقُلْتُ يَا رَبَاحُ اسْتَأْذِنْ لِي عِنْدَکَ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنِّي أَظُنُّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ظَنَّ أَنِّي جِئْتُ مِنْ أَجْلِ حَفْصَةَ وَاللَّهِ لَئِنْ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضَرْبِ عُنُقِهَا لَأَضْرِبَنَّ عُنُقَهَا وَرَفَعْتُ صَوْتِي فَأَوْمَأَ إِلَيَّ أَنْ ارْقَهْ فَدَخَلْتُ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَی حَصِيرٍ فَجَلَسْتُ فَأَدْنَی عَلَيْهِ إِزَارَهُ وَلَيْسَ عَلَيْهِ غَيْرُهُ وَإِذَا الْحَصِيرُ قَدْ أَثَّرَ فِي جَنْبِهِ فَنَظَرْتُ بِبَصَرِي فِي خِزَانَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا أَنَا بِقَبْضَةٍ مِنْ شَعِيرٍ نَحْوِ الصَّاعِ وَمِثْلِهَا قَرَظًا فِي نَاحِيَةِ الْغُرْفَةِ وَإِذَا أَفِيقٌ مُعَلَّقٌ قَالَ فَابْتَدَرَتْ عَيْنَايَ قَالَ مَا يُبْکِيکَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ وَمَا لِي لَا أَبْکِي وَهَذَا الْحَصِيرُ قَدْ أَثَّرَ فِي جَنْبِکَ وَهَذِهِ خِزَانَتُکَ لَا أَرَی فِيهَا إِلَّا مَا أَرَی وَذَاکَ قَيْصَرُ وَکِسْرَی فِي الثِّمَارِ وَالْأَنْهَارِ وَأَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَفْوَتُهُ وَهَذِهِ خِزَانَتُکَ فَقَالَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ أَلَا تَرْضَی أَنْ تَکُونَ لَنَا الْآخِرَةُ وَلَهُمْ الدُّنْيَا قُلْتُ بَلَی قَالَ وَدَخَلْتُ عَلَيْهِ حِينَ دَخَلْتُ وَأَنَا أَرَی فِي وَجْهِهِ الْغَضَبَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا يَشُقُّ عَلَيْکَ مِنْ شَأْنِ النِّسَائِ فَإِنْ کُنْتَ طَلَّقْتَهُنَّ فَإِنَّ اللَّهَ مَعَکَ وَمَلَائِکَتَهُ وَجِبْرِيلَ وَمِيکَائِيلَ وَأَنَا وَأَبُو بَکْرٍ وَالْمُؤْمِنُونَ مَعَکَ وَقَلَّمَا تَکَلَّمْتُ وَأَحْمَدُ اللَّهَ بِکَلَامٍ إِلَّا رَجَوْتُ أَنْ يَکُونَ اللَّهُ يُصَدِّقُ قَوْلِي الَّذِي أَقُولُ وَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ آيَةُ التَّخْيِيرِ عَسَی رَبُّهُ إِنْ طَلَّقَکُنَّ أَنْ يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِنْکُنَّ وَإِنْ تَظَاهَرَا عَلَيْهِ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ مَوْلَاهُ وَجِبْرِيلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمَلَائِکَةُ بَعْدَ ذَلِکَ ظَهِيرٌ وَکَانَتْ عَائِشَةُ بِنْتُ أَبِي بَکْرٍ وَحَفْصَةُ تَظَاهَرَانِ عَلَی سَائِرِ نِسَائِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَطَلَّقْتَهُنَّ قَالَ لَا قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ وَالْمُسْلِمُونَ يَنْکُتُونَ بِالْحَصَی يَقُولُونَ طَلَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَائَهُ أَفَأَنْزِلُ فَأُخْبِرَهُمْ أَنَّکَ لَمْ تُطَلِّقْهُنَّ قَالَ نَعَمْ إِنْ شِئْتَ فَلَمْ أَزَلْ أُحَدِّثُهُ حَتَّی تَحَسَّرَ الْغَضَبُ عَنْ وَجْهِهِ وَحَتَّی کَشَرَ فَضَحِکَ وَکَانَ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ ثَغْرًا ثُمَّ نَزَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَزَلْتُ فَنَزَلْتُ أَتَشَبَّثُ بِالْجِذْعِ وَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَأَنَّمَا يَمْشِي عَلَی الْأَرْضِ مَا يَمَسُّهُ بِيَدِهِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا کُنْتَ فِي الْغُرْفَةِ تِسْعَةً وَعِشْرِينَ قَالَ إِنَّ الشَّهْرَ يَکُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ فَقُمْتُ عَلَی بَابِ الْمَسْجِدِ فَنَادَيْتُ بِأَعْلَی صَوْتِي لَمْ يُطَلِّقْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَائَهُ وَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَإِذَا جَائَهُمْ أَمْرٌ مِنْ الْأَمْنِ أَوْ الْخَوْفِ أَذَاعُوا بِهِ وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَی الرَّسُولِ وَإِلَی أُولِي الْأَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنْبِطُونَهُ مِنْهُمْ فَکُنْتُ أَنَا اسْتَنْبَطْتُ ذَلِکَ الْأَمْرَ وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ آيَةَ التَّخْيِيرِ
زہیر بن حرب، عمر بن یونس حنفی، عکرمہ بن عمار، سماک ابی زمیل، ابن عباس ، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن خطاب سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اپنی ازواج رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے علیحدہ ہو گئے اس وقت میں مسجد میں داخل ہوا تو لوگوں کو کنکریاں الٹ پلٹ کرتے ہوئے دیکھا وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے یہ انہیں پردے کا حکم دیے جانے سے پہلے کا واقعہ ہے عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا میں نے کہا میں آج کے حالات ضرور معلوم کروں گا پس میں سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس گیا اور کہا اے ابوبکر کی بیٹی تمہارا یہ حال کیا ہے کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تکلیف دینے لگی ہو انہوں نے کہا ابن خطاب مجھے تجھ سے اور تجھ کو مجھ سے کیا کام تم پر اپنی گٹھڑی کا خیال رکھنا لازم ہے حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا پھر میں حفصہ بنت عمر کے پاس گیا اور میں نے اسے کہا اے حفصہ! تمہارا یہ حال کیا ہے کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایذاء دینے لگی ہو اور اللہ کی قسم تو جانتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تجھ سے محبت نہیں کرتے اور اگر میں نہ ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تجھے طلاق دے چکے ہوتے پس وہ روئیں اور خوب روئیں تو میں نے ان سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہاں ہیں تو اس نے کہا وہ اپنے گودام اور بالاخانے اوپر والے کمرے میں ہیں، میں حاضر ہوا تو دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا غلام رباخ اس بالاخانے کے دروازے پر اپنے پاؤں ایک کھدی ہوئی لکڑی پر لٹکائے جو کہ کھجور دکھائی دے رہی تھے بیٹھا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس لکڑی پر سے چڑھتے اور اترتے تھے میں نے آواز دی اے رباخ میرے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہونے کے لئے اجازت لو رباح نے کمرے کی طرف دیکھا پھر میری طرف دیکھا لیکن کوئی بات نہیں کی پھر میں نے کہا حاضر ہونے کی اجازت لو تو رباح نے بالاخانے کی طرف دیکھا پھر میری طرف دیکھا لیکن کوئی بات نہیں کی پھر میں نے بآواز بلند کہا اے رباح! میرے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہونے کی اجازت لو پس میں نے اندازہ لگایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گمان کیا کہ میں حفصہ کی وجہ سے حاضر ہوا ہوں حالانکہ اللہ کی قسم اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے اس کی گردن مار دینے کا حکم دیتے تو میں اس کی گردن مار دیتا اور میں نے اپنی آواز کو بلند کیا تو اس نے اشارہ کیا کہ میں چڑھ آؤں پس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے میں بیٹھ گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی چادر اپنے اوپر لے لی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اس کے علاوہ کوئی کپڑا نہ تھا اور چٹائی کے نشانات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو (کمر) پر لگے ہوئے تھے پس میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خزانہ کو بغور دیکھا تو اس میں چند مٹھی جو تھے جو کہ ایک صاع کی مقدار میں ہوں گے اور اس کے برابر سلم کے پتے ایک کونہ میں پڑے ہوئے تھے اور ایک کچا چمڑا جس کی دباغت اچھی طرح نہ ہوئی تھی لٹکا ہوا تھا پس میری آنکھیں بھر آئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے ابن خطاب! تجھے کس چیز نے رلادیا؟ میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی! مجھے کیا ہوگیا کہ میں نہ رو وں حالانکہ یہ چٹائی کے نشانات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو پر ہیں اور یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خزانہ ہے میں نہیں دیکھتا اس میں کچھ مگر وہی جو سامنے ہے اور وہ قیصر وکسری ہیں جو پھلوں اور نہروں میں زندگی گزارتے ہیں حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول اور اس کے برگزید بندے ہیں اور یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خزانہ ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے ابن خطاب کیا تم اس بات پر خوش نہیں ہو کہ ہمارے لئے آخرت ہے اور ان کے لئے دنیا؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں اور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جب حاضر ہوا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ انور پر غصہ دیکھا میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عورتوں کی طرف سے کیا مشکل پیش آئی اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہیں طلاق دے چکے ہیں تو اللہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہے نصرت ومدد اس کے فرشتے جبرائیل اور میکائیل ہیں اور ابوبکر اور مومنین آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہیں اور اکثرجب میں گفتگو کرتا اور اللہ کی تعریف کرتا کسی گفتگو کے ساتھ تو اس امید کے ساتھ کہ اللہ اس کی تصدیق کرے گا جو بات میں کرتا ہوں اور آیت تخیر نازل ہوئی (وَاِنْ تَظٰهَرَا عَلَيْهِ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوْلٰىهُ وَجِبْرِيْلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمَلٰ ى ِكَةُ بَعْدَ ذٰلِكَ ظَهِيْرٌ Ć عَسٰى رَبُّه اِنْ طَلَّقَكُنَّ اَنْ يُّبْدِلَه اَزْوَاجًا خَيْرًا مِّنْكُنَّ) 66۔ التحریم : 3۔4) قریب ہے کہ نبی اگر تم کو طلاق دے دیں تو اس کا پروردیگار اس کو تم سے بہتر بیویاں عطا کر دے اور تم دونوں نے ان پر زور دیا تو اللہ ہی اس کا مددگار اور جبرائیل اور نیک مومنین اور فرشتے اس کے بعد پشت پنائی کرنے والے ہیں اور عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بنت ابوبکر اور حفصہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تمام بیویوں پر زور دیا تھا میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں طلاق دے دی ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نہیں میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول میں مسجد میں داخل ہوا اور لوگ کنکریاں الٹ پلٹ رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے کیا میں اتر کر انہیں خبر نہ دوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں طلاق نہیں دی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہاں اگر تو چاہے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گفتگو میں مشغول رہا یہاں تک کہ غصہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ سے دور ہوگیا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دانت مبارک کھولے اور مسکرائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دانتوں کی ہنسی سب لوگوں سے خوبصورت تھی پھر اللہ کے نبی اترے اور میں بھی اترا اس کھجور کی لکڑی کو پکڑتا ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس طرح اترے گویا زمین پر چل رہے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس لکڑی کو ہاتھ تک نہ لگایا میں نے کہا اے اللہ کے رسول آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انتیس دن سے اس کمرہ میں تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مہینہ کبھی انتیس دن کا بھی ہوتا ہے مسجد کے دروازہ پر کھڑے ہو کر میں نے پکارا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ازواج کو طلاق نہیں دی اور یہ آیت نازل ہوئی (وَاِذَا جَا ءَھُمْ اَمْرٌ مِّنَ الْاَمْنِ اَوِ الْخَوْفِ اَذَاعُوْا بِه وَلَوْ رَدُّوْهُ اِلَى الرَّسُوْلِ وَاِلٰ ى اُولِي الْاَمْرِ مِنْھُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِيْنَ يَسْتَنْ بِطُوْنَه مِنْھُمْ) 4۔ النساء : 83) جب انکے پاس کوئی خبر چین یا خوف کی آتی ہے تو اسے مشہور کر دتیے ہیں اور اگر وہ اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اپنے اہل امر کی طرف لوٹاتے تو لوگ جان لیتے ان لوگوں کو جو ان میں سے استنباط کرنے والے ہیں تو میں نے اس سے اس حقیقت کو چن لیا پھر اللہ عزوجل نے آیت تخیر نازل کی۔
'Umar b. al-Khattab (Allah be pleased with him) reported: When Allah's Apostle (may peace be upon him) kept himself away from his wives, I entered the mosque, and found people striking the ground with pebbles and saying: Allah's Messenger (may peace be upon him) has divorced his wives, and that was before they were commanded to observe seclusion 'Umar said to himself: I must find this (actual position) today. So I went to 'A'isha (Allah be pleased with her) and said (to her): Daughter of Abu Bakr, have you gone to the extent of giving trouble to Allah's Messenger (may peace be upon him)? Thereupon she said: Son of Khattab, you have nothing to do with me, and I have nothing to do with you. You should look to your own receptacle. He ('Umar) said: I visited Hafsa daughter of 'Umar, and said to her: Hafsa, the (news) has reached me that you cause Allah's Messenger (may peace be upon him) trouble. You know that Allah's Messenger (may peace be upon him) does not love you, and had I not been (your father) he would have divorced you. (On hearing this) she wept bitterly. I said to her: Where is Allah's Messenger (may peace be upon him)? She said: He is in the attic room. I went in and found Rabah, the servant of Allah's Messenger (may peace be upon him), sitting on the thresholds of the window dangling his feet on the hollow wood of the date-palm with the help of which Allah's Messenger (may peace be upon him) climbed (to the apartment) and came down. I cried: 0 Rabah, seek permission for me from Allah's Messenger (way peace be upon him). Rabah cast a glance at the apartment and then looked toward me but said nothing. I again said: Rabah, seek permission for me from Allah's Messenger (may peace be upon him). Rabah looked towards the apartment and then cast a glance at me, but said nothing. I then raised my voice and said: 0 Rabah, seek permission for me from Allah's Messenger (may peace be upon him). I think that Allah's Messenger (may peace be upon him) is under the impression that I have come for the sake of Hafsa. By Allah, if Allah's Messenger (may peace be upon him) would command me to strike her neck, I would certainly strike her neck. I raised my voice and he pointed me to climb up (and get into his apartment). I visited Allah's Messenger (may peace be upon him), and he was lying on a mat. I sat down and he drew up his lower garment over him and he had nothing (else) over him, and that the mat had left its marks on his sides. I looked with my eyes in the store room of Allah's Messenger (may peace be upon him). I found only a handful of barley equal to one sa' and an equal quantity of the leaves of Mimosa Flava placed in the nook of the cell, and a semi-tanned leather bag hanging (in one side), and I was moved to tears (on seeing this extremely austere living of the Holy Prophet), and he said: Ibn Khattab, what makes you weep? I said: Apostle of Allah, why should I not shed tears? This mat has left its marks on your sides and I do not see in your store room (except these few things) that I have seen; Ceasar and Closroes are leading their lives in plenty whereas you are Allah's Messenger, His chosen one, and that is your store! He said: Ibn Khattab, aren't you satisfied that for us (there should be the prosperity) of the Hereafter, and for them (there should be the prosperity of) this world? I said: Yes. And as I had entered I had seen the signs of anger on his face, and I therefore, said: Messenger of Allah, what trouble do you feel from your wives, and if you have divorced them, verily Allah is with you, His angels, Gabriel, Mika'il, I and Abu Bakr and the believers are with you. And seldom I talked and (which I uttered on that day) I hoped that Allah would testify to my words that I uttered. And so the verse of option (Ayat al-Takhyir) was revealed. Maybe his Lord, if he divorce you, will give him in your place wives better than you..." (Ixv. 5). And if you back up one another against him, then surely Allah is his Patron, and Gabriel and the righteous believers, and the angels after that are the aidera (lvi. 4). And it was 'A'isha, daughter of Abu Bakr, and Hafsa who had prevailed upon all the wives of Allah's Prophet (may peace be upon him) for (pressing them for mote money). I said: Messenger of Allah, have you divorced them? He said: No. I said: Messenger of Allah, I entered the mosque and found the Muslims playing with pebbles (absorbed in thought) and saying: Allah's Messenger has divorced his wives. Should I get down and inform them that you have not divorced them? He said: Yes, if you so like. And I went on talking to him until I (found) the signs of anger disappeared on his face and (his seriousness was changed to a happy mood and as a result thereof) his face had the natural tranquillity upon it and he laughed and his teeth were the most charming (among the teeth) of all people. Then Allah's Apostle (may peace be upon him) climbed down and I also climbed down and catching hold of the wood of the palm-tree and Allah's Messenger (may peace be upon him) came down (with such ease) as if he was walking on the ground, not touching anything with his hand (to get support). I said: Messenger of Allah, you remained in your apartment for twenty-nine days. He said: (At times) the month consists of twenty-nine days. I stood at the door of the mosque and I called out at the top of my voice: The Messenger of Allah (may peace be upon him) has not divorced his wives (and it was on this occasion that this) verse was revealed: "And if any matter pertaining to peace or alarm comes within their ken, they broadcast it; whereas, if they would refer it to the Apostle and those who have been entrusted with authority amongst them, those of them who are engaged in obtaining intelligence would indeed know (what to do with) it" (iv 83). And it was I who understood this matter, and Allah revealed the verse pertaining to option given to the Holy Prophet (may peace be upon him) in regard to the retaining or divorcing of his wives).
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ أَخْبَرَنِي يَحْيَی أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ بْنُ حُنَيْنٍ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ قَالَ مَکَثْتُ سَنَةً وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَنْ آيَةٍ فَمَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَسْأَلَهُ هَيْبَةً لَهُ حَتَّی خَرَجَ حَاجًّا فَخَرَجْتُ مَعَهُ فَلَمَّا رَجَعَ فَکُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ عَدَلَ إِلَی الْأَرَاکِ لِحَاجَةٍ لَهُ فَوَقَفْتُ لَهُ حَتَّی فَرَغَ ثُمَّ سِرْتُ مَعَهُ فَقُلْتُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَنْ اللَّتَانِ تَظَاهَرَتَا عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَزْوَاجِهِ فَقَالَ تِلْکَ حَفْصَةُ وَعَائِشَةُ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ وَاللَّهِ إِنْ کُنْتُ لَأُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَکَ عَنْ هَذَا مُنْذُ سَنَةٍ فَمَا أَسْتَطِيعُ هَيْبَةً لَکَ قَالَ فَلَا تَفْعَلْ مَا ظَنَنْتَ أَنَّ عِنْدِي مِنْ عِلْمٍ فَسَلْنِي عَنْهُ فَإِنْ کُنْتُ أَعْلَمُهُ أَخْبَرْتُکَ قَالَ وَقَالَ عُمَرُ وَاللَّهِ إِنْ کُنَّا فِي الْجَاهِلِيَّةِ مَا نَعُدُّ لِلنِّسَائِ أَمْرًا حَتَّی أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَی فِيهِنَّ مَا أَنْزَلَ وَقَسَمَ لَهُنَّ مَا قَسَمَ قَالَ فَبَيْنَمَا أَنَا فِي أَمْرٍ أَأْتَمِرُهُ إِذْ قَالَتْ لِي امْرَأَتِي لَوْ صَنَعْتَ کَذَا وَکَذَا فَقُلْتُ لَهَا وَمَا لَکِ أَنْتِ وَلِمَا هَاهُنَا وَمَا تَکَلُّفُکِ فِي أَمْرٍ أُرِيدُهُ فَقَالَتْ لِي عَجَبًا لَکَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ مَا تُرِيدُ أَنْ تُرَاجَعَ أَنْتَ وَإِنَّ ابْنَتَکَ لَتُرَاجِعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی يَظَلَّ يَوْمَهُ غَضْبَانَ قَالَ عُمَرُ فَآخُذُ رِدَائِي ثُمَّ أَخْرُجُ مَکَانِي حَتَّی أَدْخُلَ عَلَی حَفْصَةَ فَقُلْتُ لَهَا يَا بُنَيَّةُ إِنَّکِ لَتُرَاجِعِينَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی يَظَلَّ يَوْمَهُ غَضْبَانَ فَقَالَتْ حَفْصَةُ وَاللَّهِ إِنَّا لَنُرَاجِعُهُ فَقُلْتُ تَعْلَمِينَ أَنِّي أُحَذِّرُکِ عُقُوبَةَ اللَّهِ وَغَضَبَ رَسُولِهِ يَا بُنَيَّةُ لَا يَغُرَّنَّکِ هَذِهِ الَّتِي قَدْ أَعْجَبَهَا حُسْنُهَا وَحُبُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاهَا ثُمَّ خَرَجْتُ حَتَّی أَدْخُلَ عَلَی أُمِّ سَلَمَةَ لِقَرَابَتِي مِنْهَا فَکَلَّمْتُهَا فَقَالَتْ لِي أُمُّ سَلَمَةَ عَجَبًا لَکَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ قَدْ دَخَلْتَ فِي کُلِّ شَيْئٍ حَتَّی تَبْتَغِيَ أَنْ تَدْخُلَ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَزْوَاجِهِ قَالَ فَأَخَذَتْنِي أَخْذًا کَسَرَتْنِي عَنْ بَعْضِ مَا کُنْتُ أَجِدُ فَخَرَجْتُ مِنْ عِنْدِهَا وَکَانَ لِي صَاحِبٌ مِنْ الْأَنْصَارِ إِذَا غِبْتُ أَتَانِي بِالْخَبَرِ وَإِذَا غَابَ کُنْتُ أَنَا آتِيهِ بِالْخَبَرِ وَنَحْنُ حِينَئِذٍ نَتَخَوَّفُ مَلِکًا مِنْ مُلُوکِ غَسَّانَ ذُکِرَ لَنَا أَنَّهُ يُرِيدُ أَنْ يَسِيرَ إِلَيْنَا فَقَدْ امْتَلَأَتْ صُدُورُنَا مِنْهُ فَأَتَی صَاحِبِي الْأَنْصَارِيُّ يَدُقُّ الْبَابَ وَقَالَ افْتَحْ افْتَحْ فَقُلْتُ جَائَ الْغَسَّانِيُّ فَقَالَ أَشَدُّ مِنْ ذَلِکَ اعْتَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَزْوَاجَهُ فَقُلْتُ رَغِمَ أَنْفُ حَفْصَةَ وَعَائِشَةَ ثُمَّ آخُذُ ثَوْبِي فَأَخْرُجُ حَتَّی جِئْتُ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَشْرُبَةٍ لَهُ يُرْتَقَی إِلَيْهَا بِعَجَلَةٍ وَغُلَامٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْوَدُ عَلَی رَأْسِ الدَّرَجَةِ فَقُلْتُ هَذَا عُمَرُ فَأُذِنَ لِي قَالَ عُمَرُ فَقَصَصْتُ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا الْحَدِيثَ فَلَمَّا بَلَغْتُ حَدِيثَ أُمِّ سَلَمَةَ تَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّهُ لَعَلَی حَصِيرٍ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ شَيْئٌ وَتَحْتَ رَأْسِهِ وِسَادَةٌ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ وَإِنَّ عِنْدَ رِجْلَيْهِ قَرَظًا مَضْبُورًا وَعِنْدَ رَأْسِهِ أُهُبًا مُعَلَّقَةً فَرَأَيْتُ أَثَرَ الْحَصِيرِ فِي جَنْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَکَيْتُ فَقَالَ مَا يُبْکِيکَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ کِسْرَی وَقَيْصَرَ فِيمَا هُمَا فِيهِ وَأَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا تَرْضَی أَنْ تَکُونَ لَهُمَا الدُّنْيَا وَلَکَ الْآخِرَةُ
ہارون بن سعید ایلی، عبداللہ بن وہب، سلیمان ابن بلال، یحیی، عبید بن حنین، ابن عباس ، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں ایک سال تک ارادہ کرتا رہا کہ میں عمر بن خطاب سے اس آیت کے بارے میں پوچھوں لیکن ان کے رعب کی وجہ سے پوچھنے کی طاقت نہ رکھتا تھا جب ہم لوٹے تو کسی راستہ میں وہ ایک بار پیلو کے درختوں کی طرف قضائے حاجت کے لئے جھکے اور میں ان کے لئے ٹھہر گیا یہاں تک کہ وہ فارغ ہوئے پھر میں ان کے ساتھ چلا تو میں نے کہا اے امیر المومنین! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج میں سے کون ہیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر زور ڈالا تو انہوں نے کہا وہ حفصہ اور عائشہ تھیں میں نے ان سے کہا اللہ کی قسم اگر میں چاہتا تو آپ سے اس بارے میں ایک سال پہلے پوچھ لیتا لیکن آپ کے رعب کی وجہ سے ہمت نہ رکھتا تھا انہوں نے کہا ایسا نہ کرو جو تجھے اندازہ ہو کہ اس کا علم میرے پاس ہے تو اس بارے میں مجھ سے پوچھ لیا کرو اگر میں اسے جانتا ہوا تو تجھے خبر دے دوں گا اور عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا اللہ کی قسم! جب ہم جاہلیت میں تھے تو عورتوں کے بارے میں کسی امر کو شمار نہ کرتے تھے یہاں تک کہ اللہ نے ان کے بارے میں اپنے احکام نازل فرمائے اور ان کے لئے باری مقرر کی جو مقرر کی چنانچہ ایک دن میں کسی کام میں مشورہ کر رہا تھا میری بیوی نے مجھے کہا اگر آپ اس طرح کر لیتے میں نے اس سے کہا تجھے میرے کام میں کیا ہے اور یہاں کہاں؟ اور میں جس کام کا ارادہ کرتا ہوں تجھ پر اس کا بوجھ نہیں ڈالتا اس نے کہا اے ابن خطاب! تعجب ہے آپ پر آپ نہیں چاہتے کہ آپ کو کوئی جواب دیا جائے حالانکہ آپ کی بیٹی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جواب دیتی ہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پورا دن غصہ کی حالت میں گزرتا ہے عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا پھر میں نے اپنی چادر لی اور میں اپنے گھر سے نکلا یہاں تک کہ حفصہ کے پاس پہنچا تو اس سے کہا اے میری بیٹی کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جواب دیتی ہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دن غصہ میں گزرتا ہے حفصہ نے کہا اللہ کی قسم میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جواب دیتی ہوں میں نے کہا جان لے کہ میں تجھے اللہ کے عذاب سے ڈراتا ہوں اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غصہ سے اے میری بیٹی تجھے اس بیوی کا حسن اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت دھوکے میں نہ ڈالے پھر میں نکلا یہاں تک کہ ام سلمہ کے پاس اپنی رشتہ داری کی وجہ سے گیا میں نے اس سے گفتگو کی تو انہوں نے مجھے کہا اے ابن خطاب تجھ پر تعجب ہے کہ تم ہر معاملہ میں دخل اندازی کرتے ہو یہاں تک چاہتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج کے معاملہ میں بھی دخل دوں مجھے ان کی اس بات سے اس قدر دکھ ہوا کہ مجھے اس غم نے اس نصیحت سے بھی روک دیا جو میں انہیں چاہتا تھا میں ان کے پاس سے نکلا اور میرے ساتھ ایک انصاری رفیق تھا جب میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس سے غائب ہوتا تو وہ میرے پاس خبر لاتا اور جب وہ غائب ہوتا تو میں اسے خبر پہنچاتا اور ان دنوں ہم شاہاں غسان میں سے ایک بادشاہ کے حملے سے ڈرتے تھے ہمیں ذکر کیا گیا کہ وہ ہماری طرف چلنے والا ہے تحقیق ہمارے سینے اس کے خوف سے بھرے ہوئے تھے کہ میرے انصاری ساتھی نے دروازہ کھٹکھٹایا اور کہا کھولو تو میں نے کہا کیا غسانی آگیا؟ اس نے کہا اس سے سخت معاملہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی بیویوں سے علیحدہ ہو گئے ہیں میں نے کہا حفصہ اور عائشہ کی ناک خاک آلود ہو پھر میں نے اپنا کپڑا لیا باہر نکالا اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے بالا خانہ میں تشریف فرما تھے اور اس پر ایک کھجور کی جڑ کے ذریعے چڑھتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک سیاہ فام غلام اس کے کنارے پر تھا میں نے کہا یہ عمر ہے میرے لئے اجازت لو حضرت عمر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سارا واقعہ بیان کیا جب میں ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی بات پر پہنچا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تبسم فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک چٹائی پر تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر مبارک کے نیچے چمڑے کا ایک تکیہ تھا جو کھجور کے چھلکے سے بھرا ہوا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاؤں کے پاس سلم جس سے چمڑے کو رنگا جاتا ہے کے پتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سر کی طرف ایک کچا چمڑا لٹکا ہوا تھا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو پر چٹائی کے نشان دیکھے تو میں رو دیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تجھے کس چیز نے رلا دیا میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول قیصر و کسریٰ کیسے عیش وعشرت میں ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو اللہ کے رسول ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا تم اس بات پر خوش نہیں ہو کہ ان کے لئے دنیا اور تمہارے لئے آخرت ہے۔
Abdullah b. Abbas (Allah be pleased with them) reported: I intended to ask 'Umar b. al-Khattab (Allah be pleased with him) about a verse, but I waited for one year to ask him out of his fear, until he went out for Pilgrimage and I also accompanied him. As he came back and we were on the way he stepped aside towards an Arak tree to ease himself. I waited for him until he was free. I then walked along with him and said: Commander of the Faithful, who are the two among the wives of Allah's Messenger (may peace be upon him) who backed up one another (in their demand for extra money)? He said: They were Hafsa and 'A'isha (Allah be pleased with them). I said to him: It is for one year that I intended to ask you about this matter but I could not date so on account of the awe for you. He said: Don't do that. If you think that I have any knowledge, do ask me about that. And if I were to know that, I would inform you. He (the narrator) stated that 'Umar had said: By Allah, during the days of ignorance we had no regard for women until Allah the Exalt- ed revealed about them what He has revealed, and appointed (turn) for them what he appointed. He said: It so happened that I was thinking about some matter that my wife said: I wish you had done that and that. I said to her: It does not concern you and you should not feel disturbed in a matter which I intend to do. She said to me: How strange is it that you, O son of Khattab, do not like anyone to retort upon you, whereas your daughter retorts upon Allah's Messenger (may peace be upon him) until he spends the day in vexation. 'Umar said: I took hold of my cloak, then came out of my house until I visited Hafsa and said to her: O daughter, (I heard) that you retort upon Allah's Messenger (may peace be upon him) until he spends the day in vexation, whereupon Hafsa said: By Allah, we do retort upon him. I said: You should bear in mind, my daughter, that I warn you against the punishment of Allah and the wrath of His Messenger (may peace be upon him). You may not be misled by one whose beauty has fascinated her, and the love of Allah's Messenger (may peace be upon him) for her. I ('Umar) then visited Umm Salama because of my relationship with her and I talked to her. Umm Salama said to me: Umar b. al-Khattab, how strange is it that you meddle with every matter so much so that you are anxious to interfere between Allah's Messenger (may peace be upon him) and his wives, and this perturbed me so much that I refrained from saying what I had to say, so I came out of her apartment, and I had a friend from the Ansar. When I had been absent (from the company of the Holy Prophet) he used to bring me the news and when he had been absent I used to bring him the news, and at that time we dreaded a king of Ghassan. It was mentioned to us that he intended to attack us, and our minds were haunted by him. My friend, the Ansari, came to me, and he knocked at the door and said: Open it, open it. I said: Has the Ghassani come? He said: (The matter is) more serious than that. The Messenger of Allah (may peace be upon him) has separated himself from his wives. I said: Let the nose of Hafsa and 'A'isha be besmeared with dust. I then took hold of my cloth and went out until I came and found Allah's Messenger (may peace be upon him) in his attic to which he climbed by means of a ladder made of date-palm, and the servant of Allah's Messenger (may peace be upon him) who was black had been sitting at the end of the ladder. I said: This is Umar. So permission was granted to me. I narrated this news to Allah's Messenger (may peace be upon him) and as I narrated the news concerning Umm Salama, Allah's Messenger (may peace be upon him) smiled. He was lying on the mat and there was nothing between him and that (mat), and under his head there was a pillow made of leather and it was stuffed with palm fibres and at his feet were lying a heap of saut tree (acacia niloctica, meant for dyeing) and near his head there was hanging a hide. And I saw the marks of the mat on the side of Allah's Messenger (may peace be upon him), and so I wept. He said: What makes you weep? I said: Messenger of Allah, the Khusrau and the Ceasars spend their lives in the midst of luxuries, whereas you being Allah's Messenger (are leading your life in this poverty). Thereupon Allah's Messenger (may peace be upon him) said: Don't you like that they should have riches of their world, and you have the Hereafter.
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنِي يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَقْبَلْتُ مَعَ عُمَرَ حَتَّی إِذَا کُنَّا بِمَرِّ الظَّهْرَانِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ کَنَحْوِ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ قُلْتُ شَأْنُ الْمَرْأَتَيْنِ قَالَ حَفْصَةُ وَأُمُّ سَلَمَةَ وَزَادَ فِيهِ وَأَتَيْتُ الْحُجَرَ فَإِذَا فِي کُلِّ بَيْتٍ بُکَائٌ وَزَادَ أَيْضًا وَکَانَ آلَی مِنْهُنَّ شَهْرًا فَلَمَّا کَانَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ نَزَلَ إِلَيْهِنَّ
محمد بن مثنی، عفان، حماد بن سلمہ، یحیی بن سعید، عبید بن حنین، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے یہاں آیا یہاں تک کہ جب ہم مرالظہران بستی پر تھے باقی حدیث سلیمان کی حدیث کی طرح گزرچکی اس میں یہ اضافہ ہے کہ میں نے کہا وہ دو عورتیں کون تھیں عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا حفصہ اور ام سلمہ اور مزید اضافہ یہ ہے کہ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ میں حجروں کی طرف آیا تو ہر گھر میں رونا تھا اور مزید اضافہ یہ بھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے ایک مہنیہ کا ایلاء کیا تھاقسم کھائی جب انتیس دن مہینہ پورا ہو گیا تو ان کی طرف تشریف لے گئے۔
Ibn Abbas (Allah be pleased with them) said: I came along with Umar until we reached Marr al-Zahran (the name of a place), and the rest of the hadith is the same as narrated by Sulaiman b. Bilal (except with) the variation (of words) that I said: (What) about these two women? He said: They were Hafsa and Umm Salama. And he made this addition: I came to the apartments and in every apartment there was (the noise) of weeping. And this addition was also made: And he (the Holy Prophet) had taken an oath of remaining away from them for a month, and when twenty-nine days had passed, he visited them.
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَکْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ حُنَيْنٍ وَهُوَ مَوْلَی الْعَبَّاسِ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُا کُنْتُ أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَ عُمَرَ عَنْ الْمَرْأَتَيْنِ اللَّتَيْنِ تَظَاهَرَتَا عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَبِثْتُ سَنَةً مَا أَجِدُ لَهُ مَوْضِعًا حَتَّی صَحِبْتُهُ إِلَی مَکَّةَ فَلَمَّا کَانَ بِمَرِّ الظَّهْرَانِ ذَهَبَ يَقْضِي حَاجَتَهُ فَقَالَ أَدْرِکْنِي بِإِدَاوَةٍ مِنْ مَائٍ فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَلَمَّا قَضَی حَاجَتَهُ وَرَجَعَ ذَهَبْتُ أَصُبُّ عَلَيْهِ وَذَکَرْتُ فَقُلْتُ لَهُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَنْ الْمَرْأَتَانِ فَمَا قَضَيْتُ کَلَامِي حَتَّی قَالَ عَائِشَةُ وَحَفْصَةُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، سفیان بن عیینہ، یحیی بن سعید، عبید بن حنین، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے میں ارادہ کرتا تھا کہ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ان دو عورتوں کے بارے میں پوچھوں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں زور ڈالا تھا میں نے ایک سال تک اس کے لئے موقعہ نہ پایا یہاں تک کہ میں نے مکہ کی طرف سفر میں ان کی رفاقت کی جب وہ مرالظہران میں تھے اور اپنی حاجت کے لئے جانے لگے تو کہا مجھے پانی کا برتن دو میں نے وہ دیا جب آپ اپنی ضرورت سے فارغ ہو کر لوٹے تو میں نے پانی ڈالنا شروع کیا اور مجھے یاد آیا تو ان سے کہا اے امیر المومنین! وہ دو عورتیں کون تھیں میں ابھی اپنی بات پوری بھی نہ کر پایا تھا کہ آپ نے کہا عائشہ اور حفصہ۔
Ibn Abbas (Allah be pleased with them) is reported to have said: I intended to ask Umar about those two ladies who had pressed for (worldly riches) during the lifetime of the Holy Prophet (may peace be upon him), and I kept waiting for one year, but found no suitable opportunity with him until I happened to accompany him to Mecca. And as he reached Marr al Zahran he went away to answer the call of nature, and he said (to me): Bring me a jug of water, and I took that to him. After having answered the call of nature, as he came back, I began to pour water (over his hands and feet), and I remembered (this event of separation of Allah's Apostle [may peace be upon him] from his wives). So I said to him: Commander of the Faithful, who are the two ladies (who had pressed the Holy Prophet [may peace be upon him] for providing comforts of life) and I had not yet finished my talk when he said: They were 'A'isha and Hafsa.
و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ وَتَقَارَبَا فِي لَفْظِ الْحَدِيثِ قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا و قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمْ أَزَلْ حَرِيصًا أَنْ أَسْأَلَ عُمَرَ عَنْ الْمَرْأَتَيْنِ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّتَيْنِ قَالَ اللَّهُ تَعَالَی إِنْ تَتُوبَا إِلَی اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُکُمَا حَتَّی حَجَّ عُمَرُ وَحَجَجْتُ مَعَهُ فَلَمَّا کُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ عَدَلَ عُمَرُ وَعَدَلْتُ مَعَهُ بِالْإِدَاوَةِ فَتَبَرَّزَ ثُمَّ أَتَانِي فَسَکَبْتُ عَلَی يَدَيْهِ فَتَوَضَّأَ فَقُلْتُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَنْ الْمَرْأَتَانِ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّتَانِ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُمَا إِنْ تَتُوبَا إِلَی اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُکُمَا قَالَ عُمَرُ وَاعَجَبًا لَکَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ الزُّهْرِيُّ کَرِهَ وَاللَّهِ مَا سَأَلَهُ عَنْهُ وَلَمْ يَکْتُمْهُ قَالَ هِيَ حَفْصَةُ وَعَائِشَةُ ثُمَّ أَخَذَ يَسُوقُ الْحَدِيثَ قَالَ کُنَّا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ قَوْمًا نَغْلِبُ النِّسَائَ فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ وَجَدْنَا قَوْمًا تَغْلِبُهُمْ نِسَاؤُهُمْ فَطَفِقَ نِسَاؤُنَا يَتَعَلَّمْنَ مِنْ نِسَائِهِمْ قَالَ وَکَانَ مَنْزِلِي فِي بَنِي أُمَيَّةَ بْنِ زَيْدٍ بِالْعَوَالِي فَتَغَضَّبْتُ يَوْمًا عَلَی امْرَأَتِي فَإِذَا هِيَ تُرَاجِعُنِي فَأَنْکَرْتُ أَنْ تُرَاجِعَنِي فَقَالَتْ مَا تُنْکِرُ أَنْ أُرَاجِعَکَ فَوَاللَّهِ إِنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُرَاجِعْنَهُ وَتَهْجُرُهُ إِحْدَاهُنَّ الْيَوْمَ إِلَی اللَّيْلِ فَانْطَلَقْتُ فَدَخَلْتُ عَلَی حَفْصَةَ فَقُلْتُ أَتُرَاجِعِينَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ نَعَمْ فَقُلْتُ أَتَهْجُرُهُ إِحْدَاکُنَّ الْيَوْمَ إِلَی اللَّيْلِ قَالَتْ نَعَمْ قُلْتُ قَدْ خَابَ مَنْ فَعَلَ ذَلِکَ مِنْکُنَّ وَخَسِرَ أَفَتَأْمَنُ إِحْدَاکُنَّ أَنْ يَغْضَبَ اللَّهُ عَلَيْهَا لِغَضَبِ رَسُولِهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هِيَ قَدْ هَلَکَتْ لَا تُرَاجِعِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا تَسْأَلِيهِ شَيْئًا وَسَلِينِي مَا بَدَا لَکِ وَلَا يَغُرَّنَّکِ أَنْ کَانَتْ جَارَتُکِ هِيَ أَوْسَمَ وَأَحَبَّ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْکِ يُرِيدُ عَائِشَةَ قَالَ وَکَانَ لِي جَارٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَکُنَّا نَتَنَاوَبُ النُّزُولَ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَنْزِلُ يَوْمًا وَأَنْزِلُ يَوْمًا فَيَأْتِينِي بِخَبَرِ الْوَحْيِ وَغَيْرِهِ وَآتِيهِ بِمِثْلِ ذَلِکَ وَکُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّ غَسَّانَ تُنْعِلُ الْخَيْلَ لِتَغْزُوَنَا فَنَزَلَ صَاحِبِي ثُمَّ أَتَانِي عِشَائً فَضَرَبَ بَابِي ثُمَّ نَادَانِي فَخَرَجْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ حَدَثَ أَمْرٌ عَظِيمٌ قُلْتُ مَاذَا أَجَائَتْ غَسَّانُ قَالَ لَا بَلْ أَعْظَمُ مِنْ ذَلِکَ وَأَطْوَلُ طَلَّقَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَائَهُ فَقُلْتُ قَدْ خَابَتْ حَفْصَةُ وَخَسِرَتْ قَدْ کُنْتُ أَظُنُّ هَذَا کَائِنًا حَتَّی إِذَا صَلَّيْتُ الصُّبْحَ شَدَدْتُ عَلَيَّ ثِيَابِي ثُمَّ نَزَلْتُ فَدَخَلْتُ عَلَی حَفْصَةَ وَهِيَ تَبْکِي فَقُلْتُ أَطَلَّقَکُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ لَا أَدْرِي هَا هُوَ ذَا مُعْتَزِلٌ فِي هَذِهِ الْمَشْرُبَةِ فَأَتَيْتُ غُلَامًا لَهُ أَسْوَدَ فَقُلْتُ اسْتَأْذِنْ لِعُمَرَ فَدَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ إِلَيَّ فَقَالَ قَدْ ذَکَرْتُکَ لَهُ فَصَمَتَ فَانْطَلَقْتُ حَتَّی انْتَهَيْتُ إِلَی الْمِنْبَرِ فَجَلَسْتُ فَإِذَا عِنْدَهُ رَهْطٌ جُلُوسٌ يَبْکِي بَعْضُهُمْ فَجَلَسْتُ قَلِيلًا ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَجِدُ ثُمَّ أَتَيْتُ الْغُلَامَ فَقُلْتُ اسْتَأْذِنْ لِعُمَرَ فَدَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ إِلَيَّ فَقَالَ قَدْ ذَکَرْتُکَ لَهُ فَصَمَتَ فَوَلَّيْتُ مُدْبِرًا فَإِذَا الْغُلَامُ يَدْعُونِي فَقَالَ ادْخُلْ فَقَدْ أَذِنَ لَکَ فَدَخَلْتُ فَسَلَّمْتُ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هُوَ مُتَّکِئٌ عَلَی رَمْلِ حَصِيرٍ قَدْ أَثَّرَ فِي جَنْبِهِ فَقُلْتُ أَطَلَّقْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ نِسَائَکَ فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَيَّ وَقَالَ لَا فَقُلْتُ اللَّهُ أَکْبَرُ لَوْ رَأَيْتَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَکُنَّا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ قَوْمًا نَغْلِبُ النِّسَائَ فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ وَجَدْنَا قَوْمًا تَغْلِبُهُمْ نِسَاؤُهُمْ فَطَفِقَ نِسَاؤُنَا يَتَعَلَّمْنَ مِنْ نِسَائِهِمْ فَتَغَضَّبْتُ عَلَی امْرَأَتِي يَوْمًا فَإِذَا هِيَ تُرَاجِعُنِي فَأَنْکَرْتُ أَنْ تُرَاجِعَنِي فَقَالَتْ مَا تُنْکِرُ أَنْ أُرَاجِعَکَ فَوَاللَّهِ إِنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُرَاجِعْنَهُ وَتَهْجُرُهُ إِحْدَاهُنَّ الْيَوْمَ إِلَی اللَّيْلِ فَقُلْتُ قَدْ خَابَ مَنْ فَعَلَ ذَلِکِ مِنْهُنَّ وَخَسِرَ أَفَتَأْمَنُ إِحْدَاهُنَّ أَنْ يَغْضَبَ اللَّهُ عَلَيْهَا لِغَضَبِ رَسُولِهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هِيَ قَدْ هَلَکَتْ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ دَخَلْتُ عَلَی حَفْصَةَ فَقُلْتُ لَا يَغُرَّنَّکِ أَنْ کَانَتْ جَارَتُکِ هِيَ أَوْسَمُ مِنْکِ وَأَحَبُّ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْکِ فَتَبَسَّمَ أُخْرَی فَقُلْتُ أَسْتَأْنِسُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ نَعَمْ فَجَلَسْتُ فَرَفَعْتُ رَأْسِي فِي الْبَيْتِ فَوَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ فِيهِ شَيْئًا يَرُدُّ الْبَصَرَ إِلَّا أُهَبًا ثَلَاثَةً فَقُلْتُ ادْعُ اللَّهَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ يُوَسِّعَ عَلَی أُمَّتِکَ فَقَدْ وَسَّعَ عَلَی فَارِسَ وَالرُّومِ وَهُمْ لَا يَعْبُدُونَ اللَّهَ فَاسْتَوَی جَالِسًا ثُمَّ قَالَ أَفِي شَکٍّ أَنْتَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ أُولَئِکَ قَوْمٌ عُجِّلَتْ لَهُمْ طَيِّبَاتُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فَقُلْتُ اسْتَغْفِرْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ وَکَانَ أَقْسَمَ أَنْ لَا يَدْخُلَ عَلَيْهِنَّ شَهْرًا مِنْ شِدَّةِ مَوْجِدَتِهِ عَلَيْهِنَّ حَتَّی عَاتَبَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ
اسحاق بن ابراہیم حنظلی، محمد بن ابی عمر، اسحاق، عبدالرزاق، معمر، زہری، عبیداللہ بن عبداللہ بن ابی ثور، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں ہمیشہ اس بات کا حریص اور خواہش مند رہا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ازواج النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں سے ان دو عورتوں کے بارے میں پوچھو جن کے بارے میں اللہ نے فرمایا اگر تم دونوں رجوع کرلو اللہ کی طرف تو تمہارے دل جھک جائیں گے یہاں تک کہ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حج کیا اور میں نے بھی ان کے ساتھ حج کیا ہم جب کسی راستہ میں تھے اور عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ راستہ سے کنارہ پر ہوئے تو میں بھی برتن لے کر کنارے پر ہوگیا انہوں نے حاجت پوری کی پھر وہ میرے پاس آئے میں نے ان پر پانی ڈالنا شروع کیا تو انہوں نے وضو کیا میں نے کہا اے امیر المومنین! وہ دو عورتیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویوں میں سے کون تھیں جن کے بارے میں اللہ عزوجل نے فرمایا اگر تم اللہ کی طرف رجوع کرلو تو تمہارے دل جھکے رہیں عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا اے ابن عباس! تیرے لئے تعجب ہے زہری نے کہا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ان کا اس بارے میں پوچھنا ناپسند ہوا اور کیوں لاعلمی میں اسے چھپائے رکھا کہا وہ حفصہ اور عائشہ تھیں پھر حدیث بیان کرنا شروع کی اور کہا ہم قریش کے نوجوان ایسی قوم میں تھے جو عورتوں پر غلبہ رکھتے تھے جب ہم مدینہ آئے تو ہم نے ایسی قوم پائی کہ انہیں ان کی عورتیں مغلوب رکھتی تھیں ہماری عورتوں نے ان کی عورتوں کی عادات اختیار کرنا شروع کردیں اور میرا گھر مدینہ کی بلندی پر بنی امیہ بن زید میں تھا میں ایک دن اپنی بیوی پر غصے ہوا تو اس نے مجھے جواب دیا میں نے اس کو جواب دینے کو برا جانا اس نے کہا تم میرے جواب دینے کو کیوں برا جانتے ہو اللہ کی قسم! نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویاں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جواب دیتی ہیں اور ان میں سے کوئی ایک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چھوڑ دیتی ہے دن سے رات تک میں چلا اور حفصہ (اپنی بیٹی) کے پاس پہنچا میں نے کہا کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جواب دیتی ہے؟ اس نے کہا ہاں میں نے کہا کیا تم سے کوئی ایک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دن سے رات تک چھوڑے رکھتی ہے؟ اس نے کہا ہاں میں نے کہا تم میں سے جس نے ایسا کیا وہ محروم اور نقصان اٹھائے گی کیا تم میں سے ہر ایک اس بات سے نہیں ڈرتی کہ اللہ اس پر اپنے رسول کی ناراضگی کی وجہ سے غصہ کرے جس کی وجہ سے وہ اچانک ہلاک ہو جائے گی تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جواب نہ دیا کرو اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کسی چیز کا سوال کرو اور جو تیری ضرورت ہو وہ مجھ سے مانگ لے اور تجھے تیری ہمسائی دھوکے میں نہ ڈالے وہ تجھ سے زیادہ حسین ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو زیادہ محبوب ہے یعنی عائشہ اور میرا ایک ہمسایہ انصاری تھا پس ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس باری باری حاضر ہوتے تھے ایک دن وہ آتا اور ایک دن میں وہ میرے پاس وحی وغیرہ کی خبر لاتا میں بھی اسی طرح اسکو خبر دیتا اور ہم گفتگو کرتے تھے کہ غسان کا بادشاہ اپنے گھوڑوں کے پیروں میں نعل لگوا رہا ہے تاکہ وہ ہم سے لڑیں پس میرا ساتھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا پھر عشاء کو میرے پاس آیا اور میرا دروازہ کھٹکھٹا کر مجھے آواز دی میں اس کی طرف نکلا تو اس نے کہا ایک بڑا واقعہ پیش آیا ہے میں نے کہا کیا بادشاہ غسان آگیا ہے اس نے کہا نہیں اس سے بھی بڑا اور سخت کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے میں کہا بد نصیب ہوئی حفصہ اور گھاٹے میں پڑی اور میں گمان کرتا تھا کہ یہ ہونے والا ہے یہاں تک کہ میں نے صبح کی نماز ادا کی اپنے کپڑے پہنے پھر نیچے کی جانب اترا اور حفصہ کے پاس گیا تو وہ رو رہی تھی میں نے کہا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تم کو طلاق دے دی ہے اس نے کہا میں نہیں جاتنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم سے علیحدہ ہو کر اس بالاخانہ میں تشریف فرما ہیں میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غلام اسود کے پاس آیا میں نے کہا عمر کے لئے اجازت لو وہ اندر داخل ہوا پھر میری طرف آیا اور کہا کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تمہارا ذکر کیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے میں چلا یہاں تک کہ منبر تک پہنچا اور میں بیٹھ گیا اور یہاں پاس ہی کچھ لوگ بیٹھے تھے اور ان میں سے بعض رو رہے تھے میں تھوڑی دیر بیٹھا رہا پھر مجھے اسی خیال کا غلبہ ہوا میں پھر غلام کے پاس آیا اس سے کہا کہ عمر کے لئے اجازت لو وہ داخل ہوا پھر میری طرف نکلا تو کہا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تمہارا ذکر کیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے میں پیٹھ پھیر کر واپس ہوا کہ غلام نے مجھے پکار کر کہا داخل ہو جائیں آپ کے لئے اجازت دے دی گئی ہے میں نے داخل ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کیا آپ ایک بورئیے کی چٹائی پر تکیہ لگائے ہوئے تھے جس کے نشانات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو پر لگ چکے تھے میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری طرف اپنا سر اٹھا کر فرمایا نہیں میں کہا اَللَّهُ أَکْبَرُ! کاش آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں دیکھتے اے اللہ کے رسول کہ قریشی قوم تھی عورتوں کو مغلوب رکھتے تھے جب ہم مدینہ آئے تو ہم نے ایسی قوم پائی جن پر ان کی عورتیں غالب تھیں ہماری عورتوں نے ان کی عورتوں سے عادات سیکھنا شروع کردیں میں ایک دن اپنی عورت پر غصے ہوا تو اس نے مجھے جواب دینا شروع کردیا میں نے اس کے جواب دینے کو برا محسوس کیا تو اس نے کہا کہ تم میرا جواب دینے کو برا تصور کرتے ہو اللہ کی قسم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویاں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جواب دیتی ہیں اور ان میں کوئی ایک دن سے رات تک چھوڑ بھی دیتی ہے تو میں نے کہا بد نصیب ہوئی ان میں سے جس نے ایسا کیا اور نقصان اٹھایا ان میں سے کوئی اللہ کے غضب سے اور رسول اللہ کی ناراضگی سے کیسے بچ سکتی ہے پس وہ ہلاک ہی ہوگئی تو رسول اللہ مسکرائے میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! میں حفصہ کے پاس گیا میں نے کہا تجھے دھوکہ میں نہ ڈالے کہ تیری ہمسائی تجھ سے زیادہ خوبصورت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پسندیدہ ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسری مرتبہ تبسم فرمایا میں نے کہا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! میں کوئی دل لگانے والی بات کروں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہاں سر اٹھا کر نظر دوڑائی پھر میں نے گھر میں سر اٹھایا تو اللہ کی قسم میں نے کوئی چیز نہ دیکھی جسے دیکھ کر میری نگاہ پھرتی سوائے تین چمڑوں کے میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ سے دعا کریں کہ اللہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت پر وسعت کر دے جیسا کہ فارس و روم پر وسعت کی ہے حالانکہ وہ اللہ کی عبادت نہیں کرتے پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدھے ہو کر بیٹھ گئے پھر فرمایا اے ابن خطاب کیا تو شک میں ہے ان لوگوں کی عمدہ چیزیں انہیں دنیا ہی میں دے دی گئی ہیں میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول میرے لئے مغفرت طلب کریں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سخت غصہ کی وجہ سے قسم کھائی کہ ایک مہینہ تک اپنی بیویوں کے پاس نہ جاؤں گا یہاں تک کہ اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر عتاب فرمایا۔
Ibn 'Abbas (Allah be pleased with them) reported. I had always been anxious to ask 'Umar (Allah be pleased with him) about the two ladies amongst the wives of Allah's Prophet (may peace be upon him) about whom Allah, the Exalted, said: "If you both turn in repentance to Allah, then indeed your hearts are inclined (to this)" (Ixvi. 4), until 'Umar (Allah be pleased with him) set out for Hajj and I also went along with him. And as we were going along a path, 'Umar (Allah be pleased with him) went aside and I also went aside with him with a jug (of water). He answered the call of nature, and then came to me and I poured water over his hands and he performed ablution I said: Commander of the Faithful, who are the two ladies amongst the wives of Allah's Prophet (may peace be upon him) about whom Allah, the Exalted and Majestic, said: 'If you both turn to Allah in repentance, then indeed your heart are inclined to it"? 'Umar (Allah he pleased with him) said: How strange is it for you, Ibn 'Abbas! (Zuhri said: By Allah, he disliked what he asked about, but did not keep it a secret.) He ('Umar) said: They are Hafsa and 'A'isha; and he then began to narrate the hadith and said: We were such people among the Quraish who dominated women, and as we reached Medina we found there people who were dominated by their women, and our women began to learn (the habits) of their women. He further said: And my house was situated in the suburb of Almedina in the tribe of Banu Umayya b. Zaid. One day I became angry with my wife and she retorted upon me. I did not like that she should retort upon me. She said: You disapprove of my retorting upon you by Allah, the wives of Allah's Apostle (may peace be upon him) retort upon him, and one of them detaches herself from him for the day until the night. So I ('Umar) went out and visited Hafsa and said: Do you retort upon Allah's Messenger (may peace be upon him)? She said: Yes. I said; Does any one of you detach herself from him from the day to the night? She said: Yes. He said: She who did like it amongst you in fact failed and incurred loss. Does everyone amongst you not fear the wrath of Allah upon her due to the wrath of His Messenger (may peace be upon him), and (as a result thereof) she may perish? So do not retort upon Allah's Messenger (may peace be upon him) and do not ask him for anything, but ask me that which you desire, (and the frank behaviour) of your companion may not mislead you, if she is more graceful and is dearer to Allah's Messenger (may peace be upon him) than you (meaning 'A'isha) (Allah be pleased with her). He (Hadrat 'Umar further) said: I had a companion from the Ansar and we used to remain in the company of the Messenger (may peace be upon him) turn by turn. He remained there for a day while I remained there on the other day, and he brought me the news about the revelation and other matters, and I brought him the news like this. And we discussed that the Ghassanids were shoeing the horses in order to attack us. My companion once attended (the Apostle) and then came to me at night and knocked at my door and called me, and I came out to him, and he said: A matter of great importance has happened. I said: What is that? Have the Ghassanids come? He said: No, but even more serious and more significant than that: the Holy Prophet (may peace be upon him) has divorced his wives. I said: Hafsa has failed and has incurred loss and I feared that it would happen. When it was dawn I observed the dawn prayer and dressed myself, and then came there (in the house of the Holy Prophet) and visited Hafsa, and she was weeping. I said: Has Allah's Messenger (may peace be upon him) divorced you (all)? She said: I do not know. He has, however, separated himself in his attic. I came to a black servant and said to him: Seek permission for 'Umar. He went in and then came to me and said: I made mention of you to him, but he kept quiet. I then went to the pulpit and sat there, and there was a group of people sitting by it and some of them were weeping. I sat there for some time, until I was overpowered (by that very idea) which was in my mind. I then came back to the boy and said to him: Seek permission for Umar. He went in and came to me and said: I made mention of you to him but he kept quiet. I was about to turn back when the boy called me and said: Go in; permission has been granted to you. I went in and greeted Allah's Messenger (may peace be upon him) and he was reclining against the couch of mat and it had left its marks upon his side. I said: Messenger of Allah, have you divorced your wives? He raised his head towards me and said: No. I said: Allah is the Greatest. Messenger of Allah, I wish if you had seen how we, the people of Quraish had domination over women but when we came to Medina we found people whom their women dominated. So our women began to learn from their women. One day I became angry with my wife and she began to retort upon me. I did not approve that she should retort upon me. She said: You do not like that I should retort upon you, but, by Allah. the wives of Allah's Apostle (may peace be upon him) retort upon him and any one of them separates herself from him for a day until night. I said: He who did that amongst them in fact failed and incurred loss. Does any of them feel safe from the wrath of Allah upon her due to the wrath of Allah's Messenger (may peace be upon him), and she has certainly perished. Allah's Messtnger (may peace be upon him) smiled, I said: Messenger of Allah, I visited Hafsa and said: (The behaviour) of your companion ('A'isha) may not mislead you, if she is more graceful than you and is dearer to Allah's Messenger (may peace be upon him) than you. Allah's Messenger (may peace be upon him) smiled for the second time. I said: Allah's Messenger, may I talk to you about agreeable things? He said: Yes. I sat down and lifted my head (to see things) in the house and, by Allah, I did not see anything significant besides three hides. I said: Messenger of Allah, supplicate the Lord that He should make (life) prosperous for your Ummah as He has made plentiful for the people of Persia and Rome (in spite of the fact) that they do not worship Allah, the Exalted and Majestic, whereupon he (Allah's Messenger) sat up and then said: Ibn Khattab, do you doubt that they are a nation whom their nice things have been given immediately in the life of this world. I said: Allah's Messenger! seek pardon for me. And he (Allah's Messenger) had taken an oath that he would not visit them for a month due to extreme annoyance with them until Allah showed His displeasure to him (Allah's Messenger).
قَالَ الزُّهْرِيُّ فَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا مَضَی تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدَأَ بِي فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّکَ أَقْسَمْتَ أَنْ لَا تَدْخُلَ عَلَيْنَا شَهْرًا وَإِنَّکَ دَخَلْتَ مِنْ تِسْعٍ وَعِشْرِينَ أَعُدُّهُنَّ فَقَالَ إِنَّ الشَّهْرَ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ ثُمَّ قَالَ يَا عَائِشَةُ إِنِّي ذَاکِرٌ لَکِ أَمْرًا فَلَا عَلَيْکِ أَنْ لَا تَعْجَلِي فِيهِ حَتَّی تَسْتَأْمِرِي أَبَوَيْکِ ثُمَّ قَرَأَ عَلَيَّ الْآيَةَ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِکَ حَتَّی بَلَغَ أَجْرًا عَظِيمًا قَالَتْ عَائِشَةُ قَدْ عَلِمَ وَاللَّهِ أَنَّ أَبَوَيَّ لَمْ يَکُونَا لِيَأْمُرَانِي بِفِرَاقِهِ قَالَتْ فَقُلْتُ أَوَ فِي هَذَا أَسْتَأْمِرُ أَبَوَيَّ فَإِنِّي أُرِيدُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ قَالَ مَعْمَرٌ فَأَخْبَرَنِي أَيُّوبُ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ لَا تُخْبِرْ نِسَائَکَ أَنِّي اخْتَرْتُکَ فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ أَرْسَلَنِي مُبَلِّغًا وَلَمْ يُرْسِلْنِي مُتَعَنِّتًا قَالَ قَتَادَةُ صَغَتْ قُلُوبُکُمَا مَالَتْ قُلُوبُکُمَا
زہری، عروہ، عائشہ نے کہا مجھے عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے خبر دی انہوں نے کہا جب انتیس راتیں گزر گئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور مجھ سے بیویوں کو ملنے کا آغاز فرمایا میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے پاس آنے کی ایک مہینہ کی قسم اٹھائی تھی حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انتیس دن کے بعد ہی تشریف لے آئے ہیں میں انہیں شمار کر رہی ہوں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مہینہ کبھی کبھی انتیس دن کا بھی ہوتا ہے پھر فرمایا اے عائشہ! میں تجھ سے ایک معاملہ پیش کرنے والا ہوں تجھ پر اس میں جلدی نہ کرنا لازم ہے یہاں تک کہ تو اپنے والدین سے مشورہ کر لے پھر میرے سامنے آیت تلاوت کی ( يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِکَ حَتَّی بَلَغَ أَجْرًا عَظِيمًا) تک عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا تحقیق اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جانتے تھے کہ میرے والدین مجھے کبھی بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جدا ہونے کو مشورہ نہ دیں گے میں نے کہا کیا میں اس معاملہ میں اپنے والدین سے مشورہ کروں میں تو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آخرت کے گھر کا ارادہ کرتی ہوں معمر نے کہا مجھے ایوب نے خبر دی کہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی بیویوں کو اس بات کی خبر نہ دیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اختیار کیا ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا اللہ نے مجھے مبلغ بنا کر بھیجا ہے تکلیف میں ڈالنے والا بنا کر مبعوث نہیں فرمایا قتادہ نے " صَغَتْ قُلُوبُکُمَا " کا معنی تمہارے دل جھک رہے ہیں کیا ہے۔
Zuhri said: 'Urwa informed me that 'A'isha (Allah be pleased with her) said: When twenty-nine nights were over, Allah's Messenger (may peace be upon him) visited me, and he began (his visit) with me. I said: Messenger of Allah, you had taken an oath that you would not visit us for a month, while you have visited after I have counted only twenty-nine (nights). Thereupon he said: The month may also be of twenty-nine (days). He then said: 'A'isha, I am going to talk to you about a matter, and you should not be hasty in it (and do not give your final decision) until you have consulted your parents. He then recited this verse to me: "O Prophet, say to your wives" till he reached "mighty reward" (xxxiii. 28). 'A'isha (Allah be pleased with her) said: By Allah, he knew that my parents would not allow me to separate from him. I said: Is there any need to consult my parents in this matter? I in fact choose Allah and His Messenger (may peace be upon him) and the abode in the Hereafter. Ma'mar said: Ayyub reported to me that 'A'isha said: Don't inform your wives that I have chosen you, whereupon Allah's Apostle (may peace be upon him) said: Verily Allah has sent me as a conveyer of message, and He has not sent me as a source of hardship (to others). Qatada said: "Saghat qulubukum" means "Your hearts have inclined."