TrueHadith

اپنی بیوی کو اختیار دینے کے بیان میں اور یہ کہ اس سے طلاق نہیں واقع ہوتی جب تک نیت نہ ہو

Sahih MuslimHadith 2696

و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ح و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی التُّجِيبِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا أُمِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَخْيِيرِ أَزْوَاجِهِ بَدَأَ بِي فَقَالَ إِنِّي ذَاکِرٌ لَکِ أَمْرًا فَلَا عَلَيْکِ أَنْ لَا تَعْجَلِي حَتَّی تَسْتَأْمِرِي أَبَوَيْکِ قَالَتْ قَدْ عَلِمَ أَنَّ أَبَوَيَّ لَمْ يَکُونَا لِيَأْمُرَانِي بِفِرَاقِهِ قَالَتْ ثُمَّ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِکَ إِنْ کُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ أُمَتِّعْکُنَّ وَأُسَرِّحْکُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا وَإِنْ کُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ فَإِنَّ اللَّهَ أَعَدَّ لِلْمُحْسِنَاتِ مِنْکُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا قَالَتْ فَقُلْتُ فِي أَيِّ هَذَا أَسْتَأْمِرُ أَبَوَيَّ فَإِنِّي أُرِيدُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ قَالَتْ ثُمَّ فَعَلَ أَزْوَاجُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ مَا فَعَلْتُ

ابوطاہر، ابن وہب، حرملہ بن یحیی، عبداللہ بن وہب، یونس بن یزید، ابن شہاب، ابوسلمہ بن عبدالرحمن بن عوف، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج کے بارے میں اختیار دینے کا حکم دیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے شروع کیا اور فرمایا کہ میں تجھے ایک معاملہ ذکر کرنے والا ہوں پس تم پر لازم ہے کہ جلدی نہ کر یہاں تک کہ تو اپنے والدین سے مشورہ کر لے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جانتے تھے کہ میرے والدین مجھے کبھی بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جدائی کا مشورہ نہیں دیں گے کہتی ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ نے فرمایا اے نبی اپنی بیویوں سے کہہ دو کہ اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی آرائش کا ارادہ رکھتی ہو تو آؤ میں تمہیں آرام کی چیزیں اور عمدہ سامان دے دوں اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور قیامت کی عافیت کی طلبگار ہو تو اللہ نے تم میں سے نیک عورتوں کے لئے اجر عظیم تیار کر رکھا ہے میں نے عرض کیا کہ اس میں کونسی بات ہے جس کے بارے میں میں اپنے والدین سے مشورہ کروں میں تو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آخرت کے گھر کی عافیت کی طلبگار ہوں فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی باقی ازواج نے بھی اسی طرح کہا جو میں نے کہا تھا ۔

'A'isha (Allah be pleased with her) reported: When the Messenger of Allah (may peace be upon him) was commanded to give option to his wives, he started it from me saying: I am going to mention to you a matter which you should not (decide) in haste until you have consulted your parents. She said that he already knew that my parents would never allow me to seek separation from him. She said: Then he said: Allah, the Exalted and Glorious, said: Prophet, say to thy wives: If you desire this world's life and its adornment, then come, I will give you a provision and allow you to depart a goodly departing; and if you desire Allah and His Messenger and the abode of the Hereafter, then Allah has prepared for the doers of good among you a great reward. She is reported to have said: About what should I consult my parents, for I desire Allah and His Messenger and the abode of the Hereafter? She ('A'isha) said: Then all the wives of Allah's Messenger (may peace be upon him) did as I had done.

Permalink

Sahih MuslimHadith 2697

حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَأْذِنُنَا إِذَا کَانَ فِي يَوْمِ الْمَرْأَةِ مِنَّا بَعْدَ مَا نَزَلَتْ تُرْجِي مَنْ تَشَائُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْکَ مَنْ تَشَائُ فَقَالَتْ لَهَا مُعَاذَةُ فَمَا کُنْتِ تَقُولِينَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَأْذَنَکِ قَالَتْ کُنْتُ أَقُولُ إِنْ کَانَ ذَاکَ إِلَيَّ لَمْ أُوثِرْ أَحَدًا عَلَی نَفْسِي

سریج بن یونس، عباد بن عباد، عاصم، معاذہ عدویہ، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم سے اجازت لیتے تھے جب ہم میں سے کسی عورت کا دن ہوتا ( تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْکَ مَنْ تَشَاءُ) کے نازل ہونے کے بعد۔ تو ان سے معاذہ نے کہا۔ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کیا کہتی تھیں جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تجھ سے اجازت طلب کرتے تھے کہا میں کہتی تھی اگر یہ معاملہ میرے سپرد ہوتا تو میں اپنی ذات پر کسی کو ترجیح نہ دیتی۔

'A'isha (Allah be pleased with her) reported that Allah's Messenger (may peace be upon him) sought our permission when he had a (turn to spend) a day with (one of his wives) amongst us (whereas he wanted to visit his other wives too). It was after this that this verse was revealed: "Thou mayest put off whom thou pleasest of them, and take for thee whom thou pleasest" (xxxiii. 5). Mu'adha said to her: What did you say to Allah's Messenger (may peace be upon him) when he sought your permission? She said: I used to say: If I had the option in this I would not have (allowed anyone) to have precedence over me.

Permalink

Sahih MuslimHadith (internal ref #1221190)

و حَدَّثَنَاه الْحَسَنُ بْنُ عِيسَی أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ

حسن بن عیسی، ابن مبارک، عاصم اس اسناد سے بھی یہ حدیث مبارکہ اسی طرح مروی ہے۔

00000 ENG.TEXT NOT AVAILABLE07/08/09

Permalink

Sahih MuslimHadith 2698

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْثَرٌ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ قَدْ خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ نَعُدَّهُ طَلَاقًا

یحیی بن یحیی تمیمی، عبثر، اسماعیل بن ابی خالد، شعبی، مسروق، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اختیار دیا تو ہم نے اس اختیار کو طلاق شمار نہیں کیا۔

'A'isha reported: Allah's Messenger (may peace be upon him) gave us the option (to get divorce) but we did not deem it as divorce.

Permalink

Sahih MuslimHadith 2699

و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ مَا أُبَالِي خَيَّرْتُ امْرَأَتِي وَاحِدَةً أَوْ مِائَةً أَوْ أَلْفًا بَعْدَ أَنْ تَخْتَارَنِي وَلَقَدْ سَأَلْتُ عَائِشَةَ فَقَالَتْ قَدْ خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفَکَانَ طَلَاقًا

ابوبکر بن ابی شیبہ، علی بن مسہر، اسماعیل بن ابی خالد، شعبی، حضرت مسروق سے روایت ہے کہ مجھے اس بات سے پرواہ نہیں ہے کہ میں اپنی بیوی کو ایک یا سو یا ہزار مرتبہ اختیار دوں جبکہ وہ مجھے پسند کر چکی ہو اور میں نے عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اختیار دیا تو کیا یہ طلاق ہوگئی تھی اظہار تعجب کیا یعنی نہیں ہوئی تھی۔

Masruq reported: I do not mind if I give option to my wife (to get divorce) once, hundred times, or thousand times after (knowing it) that she has chosen me (and would never seek divorce). I asked 'A'isha (Allah be pleased with her) (about it) and she said: Allah's Messenger (may peace be upon him) gave us the option, but did it imply divorce? (It was in fact not a divorce; it is effective when women actually avail themselves of it.)

Permalink

Sahih MuslimHadith 2700

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيَّرَ نِسَائَهُ فَلَمْ يَکُنْ طَلَاقًا

محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، عاصم، شعبی، مسروق، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ازواج کو اختیار دیا جو کہ طلاق نہ شمار ہوئی۔

'A'isha reported that Allah's Messenger (may peace be upon him) gave option to his wives, but it was not a divorce.

Permalink

Sahih MuslimHadith 2701

و حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ وَإِسْمَعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَرْنَاهُ فَلَمْ يَعُدَّهُ طَلَاقًا

اسحاق بن منصور، ، عبدالرحمن ، سفیان، عاصم، اسماعیل بن ابی خالد، شعبی، مسروق، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اختیار دیا تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہی پسند کیا تو یہ طلاق شمار نہ کی گئی۔

'A'isha (Allah be pleased with her) reported: Allah's Messenger (may peace be upon him) gave us the option (to get divorce) and we chose him and he did not count it a divorce.

Permalink

Sahih MuslimHadith 2702

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَرْنَاهُ فَلَمْ يَعْدُدْهَا عَلَيْنَا شَيْئًا

یحیی بن یحیی، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابومعاویہ، اعمش، مسلم، مسروق، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اختیار دیا تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کو پسند کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے کچھ بھی طلاق شمار نہ کیا۔

'A'isha (Allah be pleased with her) reported: Allah's Messenger (may peace be upon him) gave us the option (to get divorce), but me made a choice of him and he did not count anything (as divorce) in regard to us.

Permalink

Sahih MuslimHadith (internal ref #1221196)

و حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ زَکَرِيَّائَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ وَعَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ بِمِثْلِهِ

ابوربیع زہرانی، اسماعیل بن زکریا، اعمش، ابراہیم، اسود، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اسی طرح اس سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے۔

A hadith like this has been transmitted on the authority of 'A'isha through another chain of narrators.

Permalink

Sahih MuslimHadith 2703

و حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا زَکَرِيَّائُ بْنُ إِسْحَقَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ دَخَلَ أَبُو بَکْرٍ يَسْتَأْذِنُ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَ النَّاسَ جُلُوسًا بِبَابِهِ لَمْ يُؤْذَنْ لِأَحَدٍ مِنْهُمْ قَالَ فَأُذِنَ لِأَبِي بَکْرٍ فَدَخَلَ ثُمَّ أَقْبَلَ عُمَرُ فَاسْتَأْذَنَ فَأُذِنَ لَهُ فَوَجَدَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا حَوْلَهُ نِسَاؤُهُ وَاجِمًا سَاکِتًا قَالَ فَقَالَ لَأَقُولَنَّ شَيْئًا أُضْحِکُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ رَأَيْتَ بِنْتَ خَارِجَةَ سَأَلَتْنِي النَّفَقَةَ فَقُمْتُ إِلَيْهَا فَوَجَأْتُ عُنُقَهَا فَضَحِکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ هُنَّ حَوْلِي کَمَا تَرَی يَسْأَلْنَنِي النَّفَقَةَ فَقَامَ أَبُو بَکْرٍ إِلَی عَائِشَةَ يَجَأُ عُنُقَهَا فَقَامَ عُمَرُ إِلَی حَفْصَةَ يَجَأُ عُنُقَهَا کِلَاهُمَا يَقُولُ تَسْأَلْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَيْسَ عِنْدَهُ فَقُلْنَ وَاللَّهِ لَا نَسْأَلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا أَبَدًا لَيْسَ عِنْدَهُ ثُمَّ اعْتَزَلَهُنَّ شَهْرًا أَوْ تِسْعًا وَعِشْرِينَ ثُمَّ نَزَلَتْ عَلَيْهِ هَذِهِ الْآيَةُ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِکَ حَتَّی بَلَغَ لِلْمُحْسِنَاتِ مِنْکُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا قَالَ فَبَدَأَ بِعَائِشَةَ فَقَالَ يَا عَائِشَةُ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَعْرِضَ عَلَيْکِ أَمْرًا أُحِبُّ أَنْ لَا تَعْجَلِي فِيهِ حَتَّی تَسْتَشِيرِي أَبَوَيْکِ قَالَتْ وَمَا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَتَلَا عَلَيْهَا الْآيَةَ قَالَتْ أَفِيکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَسْتَشِيرُ أَبَوَيَّ بَلْ أَخْتَارُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ وَأَسْأَلُکَ أَنْ لَا تُخْبِرَ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِکَ بِالَّذِي قُلْتُ قَالَ لَا تَسْأَلُنِي امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ إِلَّا أَخْبَرْتُهَا إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَبْعَثْنِي مُعَنِّتًا وَلَا مُتَعَنِّتًا وَلَکِنْ بَعَثَنِي مُعَلِّمًا مُيَسِّرًا

زہیر بن حرب، روح بن عبادہ، زکریا بن ابی اسحاق، ابوزبیر، حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہونے کے لئے اجازت مانگی تو صحابہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دروازہ پر بیٹھے ہوئے پایا ان میں سے کسی کو اجازت نہ دی گئی ابوبکر کو اجازت دی گئی تو وہ داخل ہو گئے پھر عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے اجازت مانگی تو انہیں بھی اجازت دے دی گئی تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیٹھے ہوئے پایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارد گرد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج غمگین اور خاموش بیٹھی تھیں عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا میں ضرور کسی بات کے ذریعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہنساؤں گا تو انہوں نے کہا اے اللہ کے رسول اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خارجہ کی بیٹی کو دیکھتے جو کہ ان کی بیوی ہیں اس نے مجھ سے نفقہ مانگا تو میں اس کا گلا دبانے کے لئے اٹھ کھڑا ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہنس پڑے فرمایا یہ میرے ارد گرد ہیں جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو یہ مجھ سے نفقہ مانگتی ہیں پس ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا گلا دبانے کے لئے کھڑے ہوگئے اور عمر حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا گلا دبانے کے لئے اٹھے اور یہ دونوں ان سے کہہ رہے تھے کہ تم نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایسا سوال کرتی ہو جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس نہیں انہوں نے کہا اللہ کی قسم! ہم کبھی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی ایسی چیز نہیں مانگیں گی جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس نہ ہو پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سے ایک ماہ یا انیتس دن علیحدہ رہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی (يٰ اَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا وَزِيْنَتَهَا فَتَعَالَيْنَ اُمَتِّعْكُنَّ وَاُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيْلًا 28 وَاِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَه وَالدَّارَ الْاٰخِرَةَ فَاِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلْمُحْسِنٰتِ مِنْكُنَّ اَجْرًا عَظِيْمًا) 33۔ الاحزاب : 28) پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے شروع فرمایا اور فرمایا اے عائشہ میں ارادہ رکھتا ہوں کہ تیرے سامنے ایک معاملہ پیش کروں یہاں تک کہا اپنے والدین سے مشورہ کر لے انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول وہ کیا معاملہ ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے سامنے یہ آیت تلاوت فرمائی سیدہ عائشہ رضی اللہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کیا میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معاملہ میں اپنے والدین سے مشورہ کروں بلکہ میں اللہ اور اللہ کے رسول اور آخرت کے گھر کو پسند کرتی ہوں میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گزارش کرتی ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی دوسری ازواج سے اس کا ذکر نہ فرمائیں جو میں نے کہا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو ان میں سے مجھ سے پوچھے گی تو میں اسے خبر دے دوں گا کیونکہ اللہ نے مجھے مشکلات میں ڈالنے والا اور سختی کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا بلکہ اللہ نے مجھے معلم اور آسانی کرنے والا بنا کر بھیجا ہے۔

Jabir b. 'Abdullah (Allah be pleased with them) reported: Abu Bakr (Allah be pleased with him) came and sought permission to see Allah's Messenger (may peace be upon him). He found people sitting at his door and none amongst them had been granted permission, but it was granted to Abu Bakr and he went in. Then came 'Umar and he sought permission and it was granted to him, and he found Allah's Apostle (may peace be upon him) sitting sad and silent with his wives around him. He (Hadrat 'Umar) said: I would say something which would make the Holy Prophet (may peace be upon him) laugh, so he said: Messenger of Allah, I wish you had seen (the treatment meted out to) the daughter of Khadija when you asked me some money, and I got up and slapped her on her neck. Allah's Messenger (mav peace be upon him) laughed and said: They are around me as you see, asking for extra money. Abu Bakr (Allah be pleased with him) then got up went to 'A'isha (Allah be pleased with her) and slapped her on the neck, and 'Umar stood up before Hafsa and slapped her saying: You ask Allah's Messenger (may peace be upon him) which he does not possess. They said: By Allah, we do not ask Allah's Messenger (may peace be upon him) for anything he does not possess. Then he withdrew from them for a month or for twenty-nine days. Then this verse was revealed to him:" Prophet: Say to thy wives... for a mighty reward" (xxxiii. 28). He then went first to 'A'isha (Allah be pleased with her) and said: I want to propound something to you, 'A'isha, but wish no hasty reply before you consult your parents. She said: Messenger of Allah, what is that? He (the Holy Prophet) recited to her the verse, whereupon she said: Is it about you that I should consult my parents, Messenger of Allah? Nay, I choose Allah, His Messenger, and the Last Abode; but I ask you not to tell any of your wives what I have said He replied: Not one of them will ask me without my informing her. God did not send me to be harsh, or cause harm, but He has sent me to teach and make things easy.

Permalink