Narrated by Abdullah ibn Abbas
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَی قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَتَبَ إِلَی هِرَقْلَ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ إِلَی هِرَقْلَ عَظِيمِ الرُّومِ سَلَامٌ عَلَی مَنْ اتَّبَعَ الْهُدَی قَالَ ابْنُ يَحْيَی عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ أَخْبَرَهُ قَالَ فَدَخَلْنَا عَلَی هِرَقْلَ فَأَجْلَسَنَا بَيْنَ يَدَيْهِ ثُمَّ دَعَا بِکِتَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا فِيهِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ إِلَی هِرَقْلَ عَظِيمِ الرُّومِ سَلَامٌ عَلَی مَنْ اتَّبَعَ الْهُدَی أَمَّا بَعْدُ
حسن بن علی، محمد بن یحیی، عبدالرزاق، معمر، زہری، عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہرقل کو خط لکھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے روم کے بڑے بادشاہ ہرقل کی طرف سلام اس پر جس نے ہدایت کی پیروی کی۔ محمد بن یحیی راوی نے کہا کہ ابن عباس نے فرمایا کہ ابوسفیان نے انہیں بتلایا اور کہا کہ ہم ہرقل کے دربار میں داخل ہوئے تو اس نے ہمیں اپنے سامنے بٹھایا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نامہ مبارک منگوایا تو اس میں لکھا تھابِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔ مُحَمَّدُ رَسُولُ اللَّهِ کی طرف سے روم کے بڑے بادشاہ کی طرف۔ سلام اس پر جس نے ہدایت کی پیروی کی۔ امابعد۔
Narrated Abdullah ibn Abbas: The Prophet (peace_be_upon_him) wrote a letter to Heraclius: "From Muhammad, the Apostle of Allah, to Hiraql (Heraclius), Chief of the Byzantines. Peace be to those who follow the guidance." Ibn Yahya reported on the authority of Ibn Abbas that AbuSufyan said to him: We then came to see Hiraql (Heraclius) who seated us before him. He then called for the letter from the Apostle of Allah (peace_be_upon_him). Its contents were: "In the name of Allah, the Compassionate, the Merciful, from Muhammad the Apostle of Allah, to Hiraql, chief of Byzantines. Peace be to those who follow the guidance. To proceed."
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِيرٍ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ قَالَ حَدَّثَنِي سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَجْزِي وَلَدٌ وَالِدَهُ إِلَّا أَنْ يَجِدَهُ مَمْلُوکًا فَيَشْتَرِيَهُ فَيُعْتِقَهُ
محمد بن کثیر، سفیان، سہیل بن ابوصالح، ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا لڑکا اپنے والد (کے احسان) کا بدلہ پورا نہیں کرسکتا سوائے اسکے کہ وہ اپنے باپ کو کسی کا غلام پائے اور اسے خرید کر آزاد کر دے۔
-
Narrated by Abdullah ibn Umar
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَی عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ قَالَ حَدَّثَنِي خَالِي الْحَارِثُ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ کَانَتْ تَحْتِي امْرَأَةٌ وَکُنْتُ أُحِبُّهَا وَکَانَ عُمَرُ يَکْرَهُهَا فَقَالَ لِي طَلِّقْهَا فَأَبَيْتُ فَأَتَی عُمَرُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ ذَلِکَ لَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَلِّقْهَا
مسدد، یحیی، ابن ابوذئب، حارث، حمزہ بن حضرت عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ ایک عورت میرے نکاح میں تھی اور میں اس سے محبت کرتا تھا اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کو ناپسند کرتے تھے انہوں نے کہا کہ اسے طلاق دیدو میں نے انکار کیا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے اور آپ سے یہ بات ذکر کی، آپ نے فرمایا کہ اسے طلاق دیدو۔
Narrated Abdullah ibn Umar: A woman was my wife and I loved her, but Umar hated her. He said to me: Divorce her, but I refused. Umar then went to the Prophet (peace_be_upon_him) and mentioned that to him. The Prophet (peace_be_upon_him) said: Divorce her.
Narrated by Mu'awiyah ibn Hayadah
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِيرٍ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ بَهْزِ بْنِ حَکِيمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَبَرُّ قَالَ أُمَّکَ ثُمَّ أُمَّکَ ثُمَّ أُمَّکَ ثُمَّ أَبَاکَ ثُمَّ الْأَقْرَبَ فَالْأَقْرَبَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَسْأَلُ رَجُلٌ مَوْلَاهُ مِنْ فَضْلٍ هُوَ عِنْدَهُ فَيَمْنَعُهُ إِيَّاهُ إِلَّا دُعِيَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَضْلُهُ الَّذِي مَنَعَهُ شُجَاعًا أَقْرَعَ
محمد بن کثیر، سفیان حضرت بہز بن حکیم اپنے والد سے اور ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں کس کے ساتھ نیک سلوک کروں؟ فرمایا کہ اپنی ماں کے ساتھ اپنی ماں کے ساتھ پھر اپنی ماں کے ساتھ، پھر اپنے باپ کیساتھ پھر اپنی قرابت داری میں زیادہ قریب جو ہوں ان کے ساتھ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اپنے آزاد کردہ غلام سے اس کے مال کا سوال کرے جو اس کی ضرورت سے زائد اس کے پاس ہو اور پھر وہ اسے منع کردے تو قیامت کے روز اس کا وہ زائد مال لایا جائے گا ایک گنجا سانپ بنا کر۔
Narrated Mu'awiyah ibn Hayadah: I said: Apostle of Allah! to whom should I show kindness? He replied: Your mother, next your mother, next your mother, and then comes your father, and then your relatives in order of relationship. The Apostle of Allah (peace_be_upon_him) said: If a man asks his slave whom he freed for giving him property which is surplus with him and he refuses to give it to him, the surplus property which he refused to give will be called on the Day of resurrection as a large bald snake.
Narrated by Bakr ibn al-Harith al-Anmari
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَی حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ مُرَّةَ حَدَّثَنَا کُلَيْبُ بْنُ مَنْفَعَةَ عَنْ جَدِّهِ أَنَّهُ أَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَبَرُّ قَالَ أُمَّکَ وَأَبَاکَ وَأُخْتَکَ وَأَخَاکَ وَمَوْلَاکَ الَّذِي يَلِي ذَاکَ حَقٌّ وَاجِبٌ وَرَحِمٌ مَوْصُولَةٌ
محمد بن عیسی، حارث بن مرہ، حضرت کلیب بن منفعہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ میں کس کے ساتھ حسن سلوک کروں؟ فرمایا کہ اپنی ماں کے ساتھ باپ کیساتھ بہن بھائی کے اور اپنے آزاد کرنے والے کیساتھ جس کا حق واجب ہے اور جس سے صلہ رحمی اور قرابت داری ہے۔
Narrated Bakr ibn al-Harith al-Anmari: Bakr went to the Prophet (peace_be_upon_him) and said: Apostle of Allah! to whom should I show kindness? He said: Your mother, your sister, your brother and the slave whom you set free and who is your relative, a due binding (on you), and a tie of relationship which should be joined.
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ قَالَ أَخْبَرَنَا ح و حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مُوسَی قَالَا حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ أَکْبَرِ الْکَبَائِرِ أَنْ يَلْعَنَ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ کَيْفَ يَلْعَنُ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ قَالَ يَلْعَنُ أَبَا الرَّجُلِ فَيَلْعَنُ أَبَاهُ وَيَلْعَنُ أُمَّهُ فَيَلْعَنُ أُمَّهُ
محمد بن جعفربن زیاد، عباد بن موسی، ابراہیم بن سعد، حمید بن عبدالرحمٰن، حضرت عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کبائر میں سب سے بڑا کبیرہ گناہ یہ ہے کہ انسان اپنے والدین پر لعنت کرے۔ آپ سے کہا گیا یا رسول اللہ۔ آدمی اپنے والدین پر لعنت کرتا ہے؟ یہ کیسے؟ فرمایا کہ انسان کسی آدمی کے باپ پر لعنت کرتا ہے وہ اس کے باپ کو لعنت کرتا ہے اور جب کسی ماں کی لعنت کرتا ہے تو جوابا وہ اس کی ماں پر لعنت کرتا ہے۔
-
Narrated by AbuUsayd Malik ibn Rabi'ah as-Sa'idi
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ الْمَعْنَی قَالُوا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سُلَيْمَانَ عَنْ أَسِيدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عُبَيْدٍ مَوْلَی بَنِي سَاعِدَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ مَالِکِ بْنِ رَبِيعَةَ السَّاعِدِيِّ قَالَ بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَائَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلَمَةَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ بَقِيَ مِنْ بِرِّ أَبَوَيَّ شَيْئٌ أَبَرُّهُمَا بِهِ بَعْدَ مَوْتِهِمَا قَالَ نَعَمْ الصَّلَاةُ عَلَيْهِمَا وَالِاسْتِغْفَارُ لَهُمَا وَإِنْفَاذُ عَهْدِهِمَا مِنْ بَعْدِهِمَا وَصِلَةُ الرَّحِمِ الَّتِي لَا تُوصَلُ إِلَّا بِهِمَا وَإِکْرَامُ صَدِيقِهِمَا
ابراہیم بن مہدی، عثمان بن ابوشہبہ، محمد بن علاء، ابوعبداللہ بن ادریس، عبدالرحمٰن بن سلیمان، اسید بن علی بن عبید، ، حضرت ابوسید مالک بن ربیعہ الساعدی فرماتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھے کہ اس دوران بنی سلمہ کا ایک شخص آیا اور اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا میرے والدین کیساتھ حسن سلوک کوئی صورت باقی ہے کہ میں ان کی موت کے بعد ان کیساتھ حسن سلوک کروں؟ فرمایا کہ ہاں ان کے لیے دعا کرنا، استغفار کرنا، اور ان کے بعد ان کی وصیت یا عہد کو پورا کرنا اور ان کے متعلقین کے ساتھ صلہ رحمی کرنا جوانہی سے جڑے تھے اور ان کے دوست کا اکرام کرنا۔
Narrated AbuUsayd Malik ibn Rabi'ah as-Sa'idi: While we were with the Apostle of Allah! (peace_be_upon_him) a man of Banu Salmah came to Him and said: Apostle of Allah is there any kindness left that I can do to my parents after their death? He replied: Yes, you can invoke blessings on them, forgiveness for them, carry out their final instructions after their death, join ties of relationship which are dependent on them, and honour their friends.
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَبَرَّ الْبِرِّ صِلَةُ الْمَرْئِ أَهْلَ وُدِّ أَبِيهِ بَعْدَ أَنْ يُوَلِّيَ
احمد بن منیع، ابونضر، لیث ابن سعد، یزید بن عبداللہ بن اسامہ بن ہاد، عبداللہ بن دینار، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ بیشک بہترین نیکی یہ ہے والد کے انتقال کے بعد ان سے محبت کرنے والے متعلقین واحباب سے صلہ رحمی کرے۔
-
Narrated by AbutTufayl
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ قَالَ حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ يَحْيَی بْنِ عُمَارَةَ بْنِ ثَوْبَانَ أَخْبَرَنَا عُمَارَةُ بْنُ ثَوْبَانَ أَنَّ أَبَا الطُّفَيْلِ أَخْبَرَهُ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ لَحْمًا بِالْجِعِرَّانَةِ قَالَ أَبُو الطُّفَيْلِ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ غُلَامٌ أَحْمِلُ عَظْمَ الْجَزُورِ إِذْ أَقْبَلَتْ امْرَأَةٌ حَتَّی دَنَتْ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَسَطَ لَهَا رِدَائَهُ فَجَلَسَتْ عَلَيْهِ فَقُلْتُ مَنْ هِيَ فَقَالُوا هَذِهِ أُمُّهُ الَّتِي أَرْضَعَتْهُ
ابن مثنی، ابوعاصم، جعفر بن یحیی بن عمارہ بن ثوبان، حضرت ابوالطفیل فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جعرانہ کے مقام پر دیکھا کہ گوشت تقسیم فرما رہے ہیں ابوالطفیل فرماتے ہیں کہ اس وقت میں لڑکا تھا اور اونٹ کی ہڈی اٹھایا کرتا تھا۔ اس دوران ایک عورت سامنے آئی یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہوگئی آپ نے اس کے لیے اپنی چادر بچھائی وہ اس پر بیٹھ گئی میں نے کہا کہ یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا کہ یہ آپ کی رضاعی ماں ہیں۔
Narrated AbutTufayl: I saw the Prophet (peace_be_upon_him) distributing flesh at Ji'irranah, and I was a boy in those days bearing the bone of the camel, and when a woman who came forward approach the Prophet (peace_be_upon_him), he spread out his cloak for her, and she sat on it. I asked: Who is she? The people said: She is his foster-mother.
Narrated by Umar ibn as-Sa'ib
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ السَّائِبِ حَدَّثَهُ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ جَالِسًا فَأَقْبَلَ أَبُوهُ مِنْ الرَّضَاعَةِ فَوَضَعَ لَهُ بَعْضَ ثَوْبِهِ فَقَعَدَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَقْبَلَتْ أُمُّهُ مِنْ الرَّضَاعَةِ فَوَضَعَ لَهَا شِقَّ ثَوْبِهِ مِنْ جَانِبِهِ الْآخَرِ فَجَلَسَتْ عَلَيْهِ ثُمَّ أَقْبَلَ أَخُوهُ مِنْ الرَّضَاعَةِ فَقَامَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَجْلَسَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ
احمد بن سعید ہمدانی، ابن وہب، عمروبن حارث، عمر بن السائب کہتے ہیں کہ انہیں یہ بات پہنچی ہے کہ ایک روز نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرما تھے کہ سامنے آپ کے رضاعی والد آگئے آپ نے ان کے لیے اپنا کوئی کپڑا بچھا یا وہ اس پر بیٹھ گئے پھر آپ کی رضاعی والدہ آئیں تو آپ نے ان کے لیے اپنے کپڑے کا دوسرکونہ بچھایا تو اس پر بیٹھ گئیں پھر آپ کے رضاعی بھائی تشریف لائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے لیے کھڑے ہوگئے اور انہیں اپنے پاس بٹھایا۔
Narrated Umar ibn as-Sa'ib: One day when the Apostle of Allah (peace_be_upon_him) was sitting, his foster-father came forward. He spread out of a part of his garment and he sit on it. Then his mother came forward to him and he spread out the other side of his garment and she sat on it. Again , his foster-brother came forward. The Apostle of Allah (peace_be_upon_him) stood for him and seated him before himself.