TrueHadith

ایک شخص اگر دوسرے سے لڑائی میں اپنے دفاع میں کسی کو مار دے تو کیا حکم ہے؟

Sunan Abu DawoodHadith 3970

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَی عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَائٌ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَی عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَاتَلَ أَجِيرٌ لِي رَجُلًا فَعَضَّ يَدَهُ فَانْتَزَعَهَا فَنَدَرَتْ ثَنِيَّتُهُ فَأَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَهْدَرَهَا وَقَالَ أَتُرِيدُ أَنْ يَضَعَ يَدَهُ فِي فِيکَ تَقْضِمُهَا کَالْفَحْلِ قَالَ وَأَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْکَةَ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ أَبَا بَکْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَهْدَرَهَا وَقَالَ بَعِدَتْ سِنُّهُ

مسدد، یحیی، ابن جریح، عطاء، حضرت صفوان رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن یعلی اپنے والد یعلی بن امیہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ فرماتے ہیں کہ میرے ایک ملازم نے کسی سے لڑائی کی تو اس کا ہاتھ کاٹ ڈالا اس نے اپنا ہاتھ (ملازم کے منہ سے) کھینچا تو اس کے ملازم کے سامنے کا دانت ٹوٹ گیا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے اس کو ہدر قرار دیدیا اور فرمایا کہ کیا تو یہ چاہتا ہے کہ وہ اپنا ہاتھ تیرے منہ میں رکھے رہتا اور تو اسے اونٹ کی طرح چباتا رہتا۔ راوی کہتے ہیں کہ مجھے ابن ابی ملیکہ نے اپنے دادا کے حوالہ سے بیان کیا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی اسے ہدر قرار دیا اور فرمایا کہ اس کا دانت دور ہوجائے۔

-

Permalink

Sunan Abu DawoodHadith (internal ref #1331182)

حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ وَعَبْدُ الْمَلِکِ عَنْ عَطَائٍ عَنْ يَعْلَی بْنِ أُمَيَّةَ بِهَذَا زَادَ ثُمَّ قَالَ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْعَاضِّ إِنْ شِئْتَ أَنْ تُمَکِّنَهُ مِنْ يَدِکَ فَيَعَضُّهَا ثُمَّ تَنْزِعُهَا مِنْ فِيهِ وَأَبْطَلَ دِيَةَ أَسْنَانِهِ

زیاد بن ایوب، ہشیم، حجاج، عبدالملک، حضرت عطاء، یعلی بن امیہ سے یہی روایت بیان کرتے ہیں کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کاٹنے والے سے کہ اگر تو چاہے تو اپنا ہاتھ اس کے منہ میں دے اور وہ اسے کاٹ لے پھر تو اپنا ہاتھ کھینچے اس کے منہ سے۔ اور آپ نے اس کے دانتوں کی دیت کو باطل قرار دیا۔

-

Permalink