TrueHadith

تیسری صورت بعضوں نے کہا کہ امام جب ایک گروہ کے ساتھ ایک رکعت پڑھ لے تو امام کھڑا رہے اور باقی لوگ تنہا مزید ایک رکعت پڑھ کر سلام پھیر دیں پھر فارغ ہو کر دشمن کے سامنے چلے جائیں اور سلام میں اختلاف ہے

Sunan Abu DawoodHadith 1049

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ عَنْ مَالِکٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ عَمَّنْ صَلَّی مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ ذَاتِ الرِّقَاعِ صَلَاةَ الْخَوْفِ أَنَّ طَائِفَةً صَفَّتْ مَعَهُ وَطَائِفَةً وِجَاهَ الْعَدُوِّ فَصَلَّی بِالَّتِي مَعَهُ رَکْعَةً ثُمَّ ثَبَتَ قَائِمًا وَأَتَمُّوا لِأَنْفُسِهِمْ ثُمَّ انْصَرَفُوا وَصَفُّوا وِجَاهَ الْعَدُوِّ وَجَائَتْ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَی فَصَلَّی بِهِمْ الرَّکْعَةَ الَّتِي بَقِيَتْ مِنْ صَلَاتِهِ ثُمَّ ثَبَتَ جَالِسًا وَأَتَمُّوا لِأَنْفُسِهِمْ ثُمَّ سَلَّمَ بِهِمْ قَالَ مَالِکٌ وَحَدِيثُ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ أَحَبُّ مَا سَمِعْتُ إِلَيَّ

قعنبی، مالک، یزید بن رومان، صالح، بن خوات، حضرت صالح بن خوات نے ایک ایسے شخص کے حوالہ سے روایت کی ہے جس نے غزوہ ذات الرقاع میں رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز خوف پڑھی ہے کہ ایک گروہ نے امام کے ساتھ صف باندھی اور دوسرا گروہ دشمن کے سامنے رہا پس پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس گروہ کو ایک رکعت پڑھائی جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے رہے اور اس گروہ نے اپنی نماز تنہا تنہا پوری کی اور نماز سے فراغت کے بعد یہ لوگ دشمن کے سامنے پہنچ گئے۔ پھر دوسرا گروہ آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے ساتھ اپنی بقیہ نماز پڑھی۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھے رہے اور اس گروہ کے لوگوں نے اپنی اپنی ایک رکعت پڑھ کر نماز پوری کی اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام پھیرا۔ امام مالک نے کہا کہ صلوة خوف کے سلسلہ میں جتنی روایات میں نے سنی ہیں ان میں یہ یزید بن رومان والی حدیث مجھے سب سے زیادہ پسند ہے

-

Permalink

Sunan Abu DawoodHadith 1050

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ عَنْ مَالِکٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ سَهْلَ بْنَ أَبِي حَثْمَةَ الْأَنْصَارِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّ صَلَاةَ الْخَوْفِ أَنْ يَقُومَ الْإِمَامُ وَطَائِفَةٌ مِنْ أَصْحَابِهِ وَطَائِفَةٌ مُوَاجِهَةُ الْعَدُوِّ فَيَرْکَعُ الْإِمَامُ رَکْعَةً وَيَسْجُدُ بِالَّذِينَ مَعَهُ ثُمَّ يَقُومُ فَإِذَا اسْتَوَی قَائِمًا ثَبَتَ قَائِمًا وَأَتَمُّوا لِأَنْفُسِهِمْ الرَّکْعَةَ الْبَاقِيَةَ ثُمَّ سَلَّمُوا وَانْصَرَفُوا وَالْإِمَامُ قَائِمٌ فَکَانُوا وِجَاهَ الْعَدُوِّ ثُمَّ يُقْبِلُ الْآخَرُونَ الَّذِينَ لَمْ يُصَلُّوا فَيُکَبِّرُونَ وَرَائَ الْإِمَامِ فَيَرْکَعُ بِهِمْ وَيَسْجُدُ بِهِمْ ثُمَّ يُسَلِّمُ فَيَقُومُونَ فَيَرْکَعُونَ لِأَنْفُسِهِمْ الرَّکْعَةَ الْبَاقِيَةَ ثُمَّ يُسَلِّمُونَ قَالَ أَبُو دَاوُد وَأَمَّا رِوَايَةُ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ الْقَاسِمِ نَحْوَ رِوَايَةِ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ إِلَّا أَنَّهُ خَالَفَهُ فِي السَّلَامِ وَرِوَايَةُ عُبَيْدِ اللَّهِ نَحْوَ رِوَايَةِ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ قَالَ وَيَثْبُتُ قَائِمًا

قعنبی، مالک، یحیی بن سعید، قاسم بن محمد، صالح بن خوات، حضرت سہل بن ابی حثمہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ سے روایت ہے کہ نماز خوف اس طرح ہے کہ امام کھڑا ہو اور ایک گروہ اس کے ساتھ کھڑا ہو اور دوسرا گروہ دشمن کے سامنے رہے پہلے امام ایک رکعت پڑھے اور اپنے مقتدیوں کے ساتھ سجدہ کرے اور جب سجدہ سے کھڑا ہو تو کھڑا ہی رہے اور مقتدی تنہا تنہا ایک اور رکعت پڑھ کر اپنی نماز پوری کرلیں اور پھر سلام پھیر کر دشمن کے سامنے چلے جائیں اور امام اسی طرح کھڑا رہے پھر دوسرا گروہ جس نے نماز نہیں پڑھی وہ آئے اور امام کے پیچھے تکبیر کہے پھر امام ان کے ساتھ رکوع و سجدہ کر کے سلام پھیر دے اور مقتدی کھڑے ہو کر ایک رکعت جو باقی رہ گئی تھی پوری کریں اور سلام پھیر دے ابوداؤد کہتے ہیں کہ قاسم سے یحیی بن سعید کی روایت یزید بن رومان کی روایت کی طرح ہے مگر سلام کا فرق ہے اور عبیداللہ کی روایت یحیی بن سعید کی روایت کے مثل ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدھے کھڑے رہے۔

-

Permalink