TrueHadith

اہل ایمان کی روحوں سے متعلق احادیث

Sunan An-Nasa'iHadith 2046

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ عَنْ مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ کَعْبٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَاهُ کَعْبَ بْنَ مَالِکٍ کَانَ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّمَا نَسَمَةُ الْمُؤْمِنِ طَائِرٌ فِي شَجَرِ الْجَنَّةِ حَتَّی يَبْعَثَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَی جَسَدِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

قتیبہ، مالک، ابن شہاب، عبدالرحمن بن کعب، کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مومن کی جان جنت کے درختوں پر پرواز کرتی رہے گی یہاں تک کہ خداوند قدوس اس کو قیامت کے دن اس کے جسم کی طرف بھیج دے گا۔

It was narrated that Anas said: “During the night, the Muslims heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم standing and calling out at the well of Badr: ‘Abu Jahl bin Hisham! Shaibah bin Rabi’ah! ‘Utbah bin Rabi’ah! Umayyah bin Khalaf! Have you found what your Lord promised to be true? For I have found what my Lord promised me to be true.’ They said: ‘Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم, are you calling out to people who have turned into rotten corpses?’ He said: ‘You do not hear what I say any better than they do, but they cannot answer.” (Sahih)

Permalink

Sunan An-Nasa'iHadith 2047

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَی قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ وَهُوَ ابْنُ الْمُغِيرَةِ قَالَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ کُنَّا مَعَ عُمَرَ بَيْنَ مَکَّةَ وَالْمَدِينَةِ أَخَذَ يُحَدِّثُنَا عَنْ أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُرِينَا مَصَارِعَهُمْ بِالْأَمْسِ قَالَ هَذَا مَصْرَعُ فُلَانٍ إِنْ شَائَ اللَّهُ غَدًا قَالَ عُمَرُ وَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ مَا أَخْطَئُوا تِيکَ فَجُعِلُوا فِي بِئْرٍ فَأَتَاهُمْ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَادَی يَا فُلَانُ بْنَ فُلَانٍ يَا فُلَانُ بْنَ فُلَانٍ هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّکُمْ حَقًّا فَإِنِّي وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي اللَّهُ حَقًّا فَقَالَ عُمَرُ تُکَلِّمُ أَجْسَادًا لَا أَرْوَاحَ فِيهَا فَقَالَ مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ

عمروبن علی، یحیی، سلیمان، ابن مغیرة، ثابت، انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم لوگ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ مکہ اور مدینہ منورہ کے درمیان میں تھے وہ حضرات اہل بدر کا تذکرہ فرمانے لگے تو حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہم کو کفار کے قتل کیے جانے کی جگہ دکھلائی اور فرمایا کہ یہ فلاں کے (قتل ہو کر) گرنے کی جگہ ہے اور یہ فلاں شخص کے (قتل ہو کر) گرنے کی جگہ ہے اگر خدا چاہے کل۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر اس ذات کی قسم کہ جس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سچا پیغمبر بنا کر بھیجا ان جگہوں میں فرق نہیں ہوا (یعنی ہر ایک کافر اور مشرک اپنی مقررہ جگہ پر قتل کیا گیا) ان تمام کو ایک کنویں میں ڈالا اس کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور پکارا اے فلاں کے بیٹے اے فلاں کے بیٹے! تمہارے پروردگار نے جو تم سے وعدہ کیا تھا اس کو تم نے حاصل کرلیا (یعنی تم کو عذاب ہو رہا ہے یا نہیں؟) اور میں نے تو اپنے پروردگار کا وعدہ حاصل کرلیا ہے (یعنی ہم کو تو کامیابی اور کامرانی حاصل ہوگئی ہے) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان لوگوں سے کلام کر رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم میری بات ان سے زیادہ نہیں سنتے۔

It was narrated from Ibn ‘Umar that the Prophet صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم stood at the well of Badr and said: “Have You found what your Lord promised to be true?” He said: “They can hear what I am saying to them now.” Mention of that was made to ‘Ajshah and she said: “Ibn ‘Umar is mistaken. Rather the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم said: ‘Now they know that what I used to say to them is the truth.’ Then she recited: So verily, you (0 Muhammad) cannot make the dead to hear., until she recited the verse.” (Sahih)

Permalink

Sunan An-Nasa'iHadith 2048

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ سَمِعَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ اللَّيْلِ بِبِئْرِ بَدْرٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يُنَادِي يَا أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ وَيَا شَيْبَةُ بْنَ رَبِيعَةَ وَيَا عُتْبَةُ بْنَ رَبِيعَةَ وَيَا أُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّکُمْ حَقًّا فَإِنِّي وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي رَبِّي حَقًّا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَ تُنَادِي قَوْمًا قَدْ جَيَّفُوا فَقَالَ مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ وَلَکِنَّهُمْ لَا يَسْتَطِيعُونَ أَنْ يُجِيبُوا

سوید بن نصر، عبد اللہ، حمید، انس سے روایت ہے کہ مسلمانوں نے رات میں غزوہ بدر کے کنویں پر سنا کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے آواز دے رہے تھے اے ابوجہل بن ہشام اور اے شیبہ بن ربعیہ اور اے عتبہ بن ربیعہ اور امیہ بن خلف کیا تم نے وہ پا لیا جو تمہارے پروردگار نے وعدہ کیا۔ لوگوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان لوگوں کو پکارتے ہیں جو کہ مرنے کے بعد بوسیدہ ہو گئے اور سڑ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم لوگ ان لوگوں سے زیادہ میری گفتگو نہیں سن سکتے لیکن یہ لوگ جواب دینے کی قوت نہیں رکھتے۔

It was narrated that Abu Hurairah said: “The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم said: ‘The whole of the son of Adam will be consumed by the earth, except for the tailbone, from which he was created and from which he will be created anew.” (Sahih)

Permalink

Sunan An-Nasa'iHadith 2049

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ عَلَی قَلِيبِ بَدْرٍ فَقَالَ هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّکُمْ حَقًّا قَالَ إِنَّهُمْ لَيَسْمَعُونَ الْآنَ مَا أَقُولُ لَهُمْ فَذُکِرَ ذَلِکَ لِعَائِشَةَ فَقَالَتْ وَهِلَ ابْنُ عُمَرَ إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُمْ الْآنَ يَعْلَمُونَ أَنَّ الَّذِي کُنْتُ أَقُولُ لَهُمْ هُوَ الْحَقُّ ثُمَّ قَرَأَتْ قَوْلَهُ إِنَّکَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَی حَتَّی قَرَأَتْ الْآيَةَ

محمد بن آدم، عبدة، ہشام، عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بدر کے کنویں پر کھڑے ہوئے اور فرمایا تم نے وہ سچ اور واقعہ کے مطابق حاصل کیا کہ جس کا تمہارے پروردگار نے وعدہ فرمایا تھا فرمایا کہ یہ اس وقت سنتے ہیں جو میں کہتا ہوں۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے اس کا تذکرہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ حضرت عبداللہ ابن عمر کو بھول ہو گئی۔ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس طریقہ سے فرمایا تھا وہ اب واقف ہیں کہ جو میں نے ان سے بیان کیا تھا وہ سچ تھا پھر اس آیت کریمہ کی تلاوت فرمائی آخرتک۔

It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم said: “Allah, the Mighty and Sublime, says: ‘The son of Adam denied Me and he had no right to do so. And the son of Adam reviled Me and he had no right to do so. As for his denying Me, it is his saying that I will not resurrect him as I created him in the beginning, but resurrecting him is not more difficult for Me than creating him in the first place. And as for his reviling Me, it is his saying that Allah has taken a son, but I am Allah, the One, the Self- Sufficient Master, I beget not nor was I begotten, and there is none co-equal or comparable unto Me.”(Sahih).

Permalink

Sunan An-Nasa'iHadith 2050

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ عَنْ مَالِکٍ وَمُغِيرَةُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کُلُّ بَنِي آدَمَ وَفِي حَدِيثِ مُغِيرَةَ کُلُّ ابْنِ آدَمَ يَأْکُلُهُ التُّرَابُ إِلَّا عَجْبَ الذَّنَبِ مِنْهُ خُلِقَ وَفِيهِ يُرَکَّبُ

قتیبہ، مالک و مغیرة، ابوزناد، اعرج، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تمام انسانوں کے جسم کو زمین کھا جاتی ہے علاوہ انسان کی ریڑھ کی ہڈی کے کہ انسان اسی سے پیدا کیا گیا اور پھر اس میں جوڑا جائے گا۔

It was narrated that Abu Hurairah said: “I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم say ‘There was a man who wronged himself greatly, and when he was dying he said to his family When I am dead, burn my body then grind my bones and scatter me in the wind and at sea, for by Allah, if Allah gets hold of me, He will punish me in a way that He will not punish anyone else. So his family did that, but, Allah the Mighty and Sublime, said to everything that had taken any part of him to give up what it had taken. Then there he was, standing. Allah, the Mighty and Sublime,said: What made you do what you did? He said: Fear of You. So Allah forgave him.” (Sahih)

Permalink

Sunan An-Nasa'iHadith 2051

أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ کَذَّبَنِي ابْنُ آدَمَ وَلَمْ يَکُنْ يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يُکَذِّبَنِي وَشَتَمَنِي ابْنُ آدَمَ وَلَمْ يَکُنْ يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَشْتُمَنِي أَمَّا تَکْذِيبُهُ إِيَّايَ فَقَوْلُهُ إِنِّي لَا أُعِيدُهُ کَمَا بَدَأْتُهُ وَلَيْسَ آخِرُ الْخَلْقِ بِأَعَزَّ عَلَيَّ مِنْ أَوَّلِهِ وَأَمَّا شَتْمُهُ إِيَّايَ فَقَوْلُهُ اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا وَأَنَا اللَّهُ الْأَحَدُ الصَّمَدُ لَمْ أَلِدْ وَلَمْ أُولَدْ وَلَمْ يَکُنْ لِي کُفُوًا أَحَدٌ

ربیع بن سلیمان، شعیب بن لیث، لیث، ابن عجلان، ابوزناد، اعرج، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ خداوند قدوس ارشاد فرماتا ہے کہ انسان نے مجھ کو جھٹلایا اور اس کو اس طریقہ سے کرنا لازم (اور مناسب نہ تھا) اور انسان نے مجھ کو گالی دی اور اس کو اس طرح سے کرنا لازم نہیں تھا تو انسان کا مجھ کو جھوٹا قرار دینا تو یہ ہے کہ وہ یہ بات کہتا ہے کہ میں اس کو دوسری مرتبہ زندہ نہیں کروں گا جس طریقہ سے کہ اس کو پہلی مرتبہ پیدا کیا اور دوسری مرتبہ کی پیدائش پہلی مرتبہ کی پیدائش سے میرے واسطے مشکل نہیں ہے اور انسان کا مجھ کو گالی دینا یہ ہے کہ وہ کہتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا ایک بیٹا ہے (جس طریقہ سے عیسائی لوگ کہتے ہیں) حالانکہ میں تنہا ہوں کسی کا محتاج نہیں ہوں نہ مجھ سے کسی کی ولادت ہوئی اور نہ میری کسی سے ولادت ہوئی اور میری برابری کا کوئی نہیں ہے۔

It was narrated from Hudhaifah that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم said: “There was a man among those who came before you who thought badly of his deeds, so when death was approaching he said to his family: ‘When I am dead, burn my body and grind up my bones, then scatter me in the sea, for if Allah gets hold of me, He will never forgive me.’ But Allah commanded the angels to seize his soul. He said to him: ‘What made you do what you did?’ He said: ‘Lord, I only did it because I feared You.’ So Allah forgave him.” (Sahih)

Permalink

Sunan An-Nasa'iHadith 2052

أَخْبَرَنَا کَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ الزُّبَيْدِيِّ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَسْرَفَ عَبْدٌ عَلَی نَفْسِهِ حَتَّی حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ قَالَ لِأَهْلِهِ إِذَا أَنَا مُتُّ فَأَحْرِقُونِي ثُمَّ اسْحَقُونِي ثُمَّ اذْرُونِي فِي الرِّيحِ فِي الْبَحْرِ فَوَاللَّهِ لَئِنْ قَدَرَ اللَّهُ عَلَيَّ لَيُعَذِّبَنِّي عَذَابًا لَا يُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِهِ قَالَ فَفَعَلَ أَهْلُهُ ذَلِکَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِکُلِّ شَيْئٍ أَخَذَ مِنْهُ شَيْئًا أَدِّ مَا أَخَذْتَ فَإِذَا هُوَ قَائِمٌ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَا حَمَلَکَ عَلَی مَا صَنَعْتَ قَالَ خَشْيَتُکَ فَغَفَرَ اللَّهُ لَهُ

کثیربن عبید، محمد بن حرب، زبیدی، زہری، حمید بن عبدالرحمن، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے کہ ایک آدمی نے بہت زیادہ گناہ کا ارتکاب کیا تھا جس وقت وہ شخص مرنے لگ گیا تو اس نے اپنے لوگوں سے کہا کہ جس وقت میرا انتقال ہوجائے تو تم لوگ مجھ کو پہلے تو آگ میں جلانا اور پھر مجھ کو پیس دینا۔ پھر میری مٹی کو کچھ تو ہوا میں اڑا دینا اور کچھ دریا میں ڈال دینا کیونکہ خداوند قدوس مجھ پر قدرت والا ہوگا تو اس طرح سے مجھ کو عذاب میں مبتلا کرے گا۔ ویسا کسی مخلوق کو نہیں کرے گا۔ لوگوں نے اس شخص کے مرنے کے بعد اسی طرح سے کیا۔ خداوند قدوس نے ہر ایک چیز کو جس نے کہ اس کا کچھ حصہ لیا تھا یعنی پانی اور زمین اور ہوا کو حکم فرمایا جو تم نے لیا ہے تم اس کو حاضر کرو یہاں تک کہ وہ شخص مکمل ہو کر (یعنی جسمانی اعتبار سے پورا ہو کر) خداوند قدوس کے سامنے کھڑا ہوگیا اس وقت اس سے خداوند قدوس نے باز پرس کی تو نے کسی وجہ سے یہ حرکت کی؟ اس نے عرض کیا کہ تیرے خوف سے۔ چنانچہ خداوند تعالیٰ نے اس شخص کی مغفرت فرما دی۔

It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم delivering a Khutbah from the Minbar and he said: ‘You will meet Allah barefoot, naked and uncircumcised.” (Sahih)

Permalink

Sunan An-Nasa'iHadith 2053

أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ رِبْعِيٍّ عَنْ حُذَيْفَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ کَانَ رَجُلٌ مِمَّنْ کَانَ قَبْلَکُمْ يُسِيئُ الظَّنَّ بِعَمَلِهِ فَلَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ قَالَ لِأَهْلِهِ إِذَا أَنَا مُتُّ فَأَحْرِقُونِي ثُمَّ اطْحَنُونِي ثُمَّ اذْرُونِي فِي الْبَحْرِ فَإِنَّ اللَّهَ إِنْ يَقْدِرْ عَلَيَّ لَمْ يَغْفِرْ لِي قَالَ فَأَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْمَلَائِکَةَ فَتَلَقَّتْ رُوحَهُ قَالَ لَهُ مَا حَمَلَکَ عَلَی مَا فَعَلْتَ قَالَ يَا رَبِّ مَا فَعَلْتُ إِلَّا مِنْ مَخَافَتِکَ فَغَفَرَ اللَّهُ لَهُ

اسحاق بن ابراہیم، جریر، منصور، ربیعی، حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم لوگوں میں سے ایک آدمی اپنے کاموں کو برا سمجھتا تھا جس وقت اس شخص کی وفات کا وقت قریب آیا تو اس نے اپنے رشتہ داروں سے کہا (وصیت کی) کہ جس وقت میری وفات ہوجائے تو تم لوگ مجھ کو آگ میں جلا دینا۔ اس کے بعد دریا میں پھینک دینا کیونکہ اگر خداوند قدوس نے (گناہوں کی وجہ سے) میری گرفت کرلی تو وہ کبھی میری مغفرت نہیں کرے گا (اس کے بعد اس شخص کا انتقال ہوگیا) اس کے متعلقین نے اسی طرح سے کیا۔ خداوند قدوس نے فرشتوں کو حکم فرمایا کہ اس شخص کی روح کو پکڑ لو پھر خداوند قدوس نے اس شخص سے دریافت کیا تو نے کس وجہ سے یہ حرکت کی؟ اس نے عرض کیا تیرے خوف کی وجہ سے اے میرے مولی میں نے یہ عمل کیا ہے۔ بہرحال خداوند قدوس نے اس شخص کی مغفرت فرما دی۔

It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Prophet صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم said: “The people will be gathered on the Day of Resurrection naked and uncircumcised. The first one to be clothed will be Ibrahim “ Then he recited: As We began the first creation, We shall repeat it.(Sahih)

Permalink