TrueHadith

اس آیت کریمہ کی تفسیر وہ آیت ہے یعنی ان لوگوں کی سزا جو کہ اللہ اور رسول سے لڑتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ ملک میں فساد برپا کریں وہ (سزا) یہ ہے کہ وہ لوگ قتل کیے جائیں یا ان کو سولی دے دی جائے یا ان کے ہاتھ اور پاں کاٹ ڈالیں جائیں یا وہ لوگ ملک بدر کر دیئے جائیں اور یہ آیت کریمہ کن لوگوں سے متعلق نازل ہوئی ہے یہ ان کا بیان ہے

Sunan An-Nasa'iHadith 3958

أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو رَجَائٍ مَوْلَی أَبِي قِلَابَةَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو قِلَابَةَ قَالَ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّ نَفَرًا مِنْ عُکْلٍ ثَمَانِيَةً قَدِمُوا عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَوْخَمُوا الْمَدِينَةَ وَسَقِمَتْ أَجْسَامُهُمْ فَشَکَوْا ذَلِکَ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَلَا تَخْرُجُونَ مَعَ رَاعِينَا فِي إِبِلِهِ فَتُصِيبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا قَالُوا بَلَی فَخَرَجُوا فَشَرِبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا فَصَحُّوا فَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَعَثَ فَأَخَذُوهُمْ فَأُتِيَ بِهِمْ فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَّرَ أَعْيُنَهُمْ وَنَبَذَهُمْ فِي الشَّمْسِ حَتَّی مَاتُوا

اسماعیل بن مسعود، یزید بن زریع، حجاج صواف، ابورجاء، ابوقلابة، ابوقلابة، انس بن مالک سے روایت ہے کہ کچھ لوگ (یعنی قبیلہ عکل کی ایک جماعت) خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حاضر ہوئی ان لوگوں کو مدینہ منورہ کی آب وہوا موافق نہیں آئی تھی اور وہ لوگ بیمار پڑ گئے ان لوگوں نے حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شکایت کی۔ تم لوگ ہمارے چرواہے کے ساتھ جاگے۔ اونٹوں میں (یعنی تم لوگ تازہ ہوا کھانے کے واسطے باہر چلے جا اور) اونٹوں کا دودھ اور پیشاب پیو (جو کہ تم لوگوں کے مرض کا علاج ہے) ان لوگوں نے کہا کہ جی ہاں! (ٹھیک ہے) چنانچہ وہ لوگ گئے اور انہوں نے اونٹوں کا دودھ اور پیشاب کیا اور وہ صحت یاب ہو گئے جس وقت وہ لوگ تندرست اور شفا یاب ہو گئے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چرواہے کو انہوں نے قتل کر ڈالا (اور اونٹوں کو لے کر فرار ہو گئے) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے پیچھے لوگوں کو روانہ کیا اور وہ ان کو پکڑ کر لائے چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان لوگوں کے ہاتھ پاؤں کو الٹا کر کے کٹوا دیا اور ان لوگوں کو آنکھوں کی گرم سلائی سے اندھا کیا اور پھر ان کو دھوپ میں ڈالوا دیا۔ یہاں تک کہ وہ لوگ مر گئے۔

It was narrated that Anas said: “Eighty men from ‘Ukl came to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم and he (the narrator) mentioned a similar report up to the words: “And he did not have (their wounds) cauterized.” And he said: “They killed the herdsman.” (Sahih)

Permalink

Sunan An-Nasa'iHadith 3959

أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ کَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ الْوَلِيدِ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ يَحْيَی عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ نَفَرًا مِنْ عُکْلٍ قَدِمُوا عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ فَأَمَرَهُمْ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْتُوا إِبِلَ الصَّدَقَةِ فَيَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا فَفَعَلُوا فَقَتَلُوا رَاعِيَهَا وَاسْتَاقُوهَا فَبَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَلَبِهِمْ قَالَ فَأُتِيَ بِهِمْ فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَّرَ أَعْيُنَهُمْ وَلَمْ يَحْسِمْهُمْ وَتَرَکَهُمْ حَتَّی مَاتُوا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّمَا جَزَائُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ الْآيَةَ

عمرو بن عثمان بن سعید بن کثیر بن دینار، ولید، اوزاعی، یحیی، ابوقلابة، انس سے روایت ہے کہ قبیلہ عکل کے کچھ لوگ خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حاضر ہوئے تو ان کو مدینہ منورہ میں رہنا سہنا ناگوار اور گراں محسوس ہوا (کیونکہ ان کو مدینہ منورہ کی آب وہوا موافق نہیں آئی تھی) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو صدقہ کے اونٹ دیئے جانے کا حکم فرمایا اور ان کا دودھ اور پیشاب پی لینے کا (اس کی وجہ سابق میں گزر چکی ہے) چنانچہ ان لوگوں نے اسی طرح سے کیا اور انہوں نے چرواہے کو قتل کر دیا اور اونٹوں کو بھگا کر لے گئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو گرفتار کرنے کے واسطے لوگوں کو بھیجا چنانچہ وہ لوگ گرفتار کر کے لائے گئے اور ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیئے گئے پھر ان کی آنکھیں گرم سلائی سے گرم کر کے اندھی کی گئیں اور ان کے زخم کو (خون بند کرنے کے واسطے) تلا (داغا) نہیں بلکہ ان کو اسی حالت میں چھوڑ دیا گیا یہاں تک کہ وہ لوگ مر گئے۔ اس پر خداوند قدوس نے آیت کریمہ نازل فرمائی۔

It was narrated that Anas said: “A group of men from ‘Uk!, or ‘Uraynah, came to the Prophet صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم , and when the climate of Al Madinah did not suit them, he told them to go to some camels and drink their milk and urine. Then they killed the herdsman and stole the camels, He sent (men) after them, and had their hands and feet cut off, and their eyes gouged out.” (Sahih)

Permalink

Sunan An-Nasa'iHadith (internal ref #1430330)

أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ أَبِي کَثِيرٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَدِمَ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيَةُ نَفَرٍ مِنْ عُکْلٍ فَذَکَرَ نَحْوَهُ إِلَی قَوْلِهِ لَمْ يَحْسِمْهُمْ وَقَالَ قَتَلُوا الرَّاعِيَ

ترجمہ گزشتہ حدیث کے مطابق ہے۔

It was narrated from Anas bin Malik that some people from Uraynah came to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم but the climate of AlMadinah did not suit them. The prophet صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم sent them to some camels of his, and he drank some of their milk and urine. When they recovered, they apostatized from Islam and killed the herdsman of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم, who was a believer, and drove the camels off. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم sent (men) after them, and they were caught. He had their hands and feet cut off, their eyes gouged out, and had them crucified. (Da’if)

Permalink

Sunan An-Nasa'iHadith 3960

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ أَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَرٌ مِنْ عُکْلٍ أَوْ عُرَيْنَةَ فَأَمَرَ لَهُمْ وَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ بِذَوْدٍ أَوْ لِقَاحٍ يَشْرَبُونَ أَلْبَانَهَا وَأَبْوَالَهَا فَقَتَلُوا الرَّاعِيَ وَاسْتَاقُوا الْإِبِلَ فَبَعَثَ فِي طَلَبِهِمْ فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَّرَ أَعْيُنَهُمْ

احمد بن سلیمان، محمد بن بشر، سفیان، ایوب، ابوقلابة، انس سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں قبیلہ عکل یا قبیلہ عرینہ کے لوگ آئے (ان لوگوں کو مدینہ منورہ کی آب وہوا موافق نہیں آئی تھی) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (ان کے علاج کی غرض سے) ان کو اونٹوں کا یا دودھ والی اونٹنی کے دودھ اور پیشاب پینے کا حکم فرمایا پھر ان لوگوں نے چرواہے کو قتل کر ڈالا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اونٹوں کو ہانک کر لے گئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو گرفتار کر کے حاضر کرنے کا حکم فرمایا۔ پھر ان لوگوں کے ہاتھ پاؤں کٹوائے اور ان کی آنکھیں اندھی کی گئیں۔

-

Permalink