أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَامَ أَحَدُکُمْ عَقَدَ الشَّيْطَانُ عَلَی رَأْسِهِ ثَلَاثَ عُقَدٍ يَضْرِبُ عَلَی کُلِّ عُقْدَةٍ لَيْلًا طَوِيلًا أَيْ ارْقُدْ فَإِنْ اسْتَيْقَظَ فَذَکَرَ اللَّهَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ فَإِنْ تَوَضَّأَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ أُخْرَی فَإِنْ صَلَّی انْحَلَّتْ الْعُقَدُ کُلُّهَا فَيُصْبِحُ طَيِّبَ النَّفْسِ نَشِيطًا وَإِلَّا أَصْبَحَ خَبِيثَ النَّفْسِ کَسْلَانَ
محمد بن عبداللہ بن یزید، سفیان، ابوزناد، اعرج، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص سو رہا ہوتا ہے تو شیطان اس کے سر پر تین گرہیں لگا دیتا ہے اور ہر گرہ باندھتے ہوئے کہتا ہے کہ رات بہت لمبی ہے سوجا لیکن اگر وہ شخص بیدار ہوجائے اور اللہ کا ذکر کرنے لگے تو اس کی ایک گرہ کھل جاتی ہے پھر اگر وضو کرتا ہے تو دوسری گرہ بھی کھل جاتی ہے۔ پر اگر نماز ادا کرتا ہے تو تیسری گرہ بھی کھل جاتی ہے۔ اس صورت میں صبح کے وقت وہ چاک و چوبند اور خوش مزاج رہتا ہے ورنہ منحوس اور سست رہتا ہے۔
It was narrated that ‘Abdullah said: “A man said: ‘Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم. So-and-so slept and missed the prayer yesterday until morning came.’ He said: ‘The Shaitan urinated in that one’s ears.” (Sahih)
أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ ذُکِرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ نَامَ لَيْلَةً حَتَّی أَصْبَحَ قَالَ ذَاکَ رَجُلٌ بَالَ الشَّيْطَانُ فِي أُذُنَيْهِ
اسحاق بن ابراہیم، جریر، منصور، ابووائل عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اس شخص کا ذکر کیا گیا جو رات کو سوتا ہے تو صبح تک سویا ہی رہتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا وہ تو ایسا شخص ہے جس کے کان میں شیطان نے پیشاب کر دیا ہو۔
It was narrated that Abu Hurairah said: “The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم said: ‘May Allah have mercy on a man who gets up at night and prays, then he wakes his wife and she prays, and if she refuses he sprinkles water in her face. And may Allah have mercy on a woman who gets up at night and prays, then she wakes her husband and he prays, and if he refuses she sprinkles water in his face.” (Hasan)
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فُلَانًا نَامَ عَنْ الصَّلَاةِ الْبَارِحَةَ حَتَّی أَصْبَحَ قَالَ ذَاکَ شَيْطَانٌ بَالَ فِي أُذُنَيْهِ
عمرو بن علی، عبدالعزیز بن عبدلصمد، منصور، ابووائل، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! رات کو ایک شخص سو گیا اور صبح تک سویا رہا نماز نہیں پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا شیطان نے اس کے کانوں میں پیشاب کر دیا تھا جس کی وجہ سے وہ نماز میں شریک نہیں ہوا۔
It was narrated from ‘Ali bin Abi Talib that the Prophet came to him and Fatimah at night and said: “Won’t you pray?” I said: “Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم, our souls are in the hand of Allah and if He wants to make us get up, He will make us get up.” The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم went away when I said that to him. Then, as he was leaving I heard him striking his thigh and saying: But, man is ever more quarrelsome than anything. (Sahih)
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَی عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ قَالَ حَدَّثَنِي الْقَعْقَاعُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحِمَ اللَّهُ رَجُلًا قَامَ مِنْ اللَّيْلِ فَصَلَّی ثُمَّ أَيْقَظَ امْرَأَتَهُ فَصَلَّتْ فَإِنْ أَبَتْ نَضَحَ فِي وَجْهِهَا الْمَائَ وَرَحِمَ اللَّهُ امْرَأَةً قَامَتْ مِنْ اللَّيْلِ فَصَلَّتْ ثُمَّ أَيْقَظَتْ زَوْجَهَا فَصَلَّی فَإِنْ أَبَی نَضَحَتْ فِي وَجْهِهِ الْمَائَ
یعقوب بن ابراہیم، یحیی، ابن عجلان، قعقاع، ابوصالح، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو رات کو بیدار ہو کر نماز ادا کرے اور پھر اپنی بیوی کو جگائے اور وہ بھی نماز پڑھے۔ اگر وہ (بیوی) اٹھنے سے انکار کر دے (یا سستی کرے) تو یہ اس کے چہرے پر پانی کا ایک چھینٹا مار دے۔ پھر اللہ اس عورت پر بھی رحم کرے جو رات کو اٹھے اور پھر اپنے خاوند کو جگائے اور وہ بھی نماز پڑھے پھر اگر وہ نہ اٹھے تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مار کر اسے اٹھائے۔
It was narrated from ‘Ali bin Husain, from his father, that his grandfather ‘Ali bin Abi Talib said: “The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم came in to Fatimah and I, one night and woke us up to pray, then he went back to his house and prayed for part of the night, and he did not hear any movement from us. He came back to us and woke us up, and said: ‘Get up and pray.’ I sat up, rubbing my eyes, and said: ‘By Allah, we will only pray that which Allah has decreed for us; our souls are in the hand of Allah and if He wants to make us get up, He will make us get up.’ The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم turned away, striking his hand on his thigh, and saying: ‘We will only pray that which Allah has decreed for us! “But, man is ever more quarrelsome than anything.”’ (Sahih).
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ أَنَّ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ حَدَّثَهُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَقَهُ وَفَاطِمَةَ فَقَالَ أَلَا تُصَلُّونَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا أَنْفُسُنَا بِيَدِ اللَّهِ فَإِذَا شَائَ أَنْ يَبْعَثَهَا بَعَثَهَا فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قُلْتُ لَهُ ذَلِکَ ثُمَّ سَمِعْتُهُ وَهُوَ مُدْبِرٌ يَضْرِبُ فَخِذَهُ وَيَقُولُ وَکَانَ الْإِنْسَانُ أَکْثَرَ شَيْئٍ جَدَلًا
قتیبہ، لیث، عقیل، زہری، علی بن حسین، حسین بن علی، علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اور فاطمہ کو آواز دے کر فرمایا کیا تم لوگ نماز نہیں پڑھتے؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! ہماری جانیں اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔ وہ جب چاہتا ہے ہمیں جگا دیتا ہے۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوٹ گئے اور ران پر ہاتھ مار کر فرمانے لگے یعنی انسان سب سے زیادہ جھگڑا کرنے والا ہے۔
It was narrated from Humaid bin ‘Abdur-Rahman — that is Ibn ‘Awf, that Abu Hurairah said: “The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم said: ‘The best fasting after the month of Ramadan is the month of Allah, AlMuharram, and the best prayer after the obligatory prayer is prayer at night.” (Sahih)
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَمِّي قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ ابْنِ إِسْحَقَ قَالَ حَدَّثَنِي حَکِيمُ بْنُ حَکِيمِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ حُنَيْفٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ شِهَابٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَی فَاطِمَةَ مِنْ اللَّيْلِ فَأَيْقَظَنَا لِلصَّلَاةِ ثُمَّ رَجَعَ إِلَی بَيْتِهِ فَصَلَّی هَوِيًّا مِنْ اللَّيْلِ فَلَمْ يَسْمَعْ لَنَا حِسًّا فَرَجَعَ إِلَيْنَا فَأَيْقَظَنَا فَقَالَ قُومَا فَصَلِّيَا قَالَ فَجَلَسْتُ وَأَنَا أَعْرُکُ عَيْنِي وَأَقُولُ إِنَّا وَاللَّهِ مَا نُصَلِّي إِلَّا مَا کَتَبَ اللَّهُ لَنَا إِنَّمَا أَنْفُسُنَا بِيَدِ اللَّهِ فَإِنْ شَائَ أَنْ يَبْعَثَنَا بَعَثَنَا قَالَ فَوَلَّی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ وَيَضْرِبُ بِيَدِهِ عَلَی فَخِذِهِ مَا نُصَلِّي إِلَّا مَا کَتَبَ اللَّهُ لَنَا وَکَانَ الْإِنْسَانُ أَکْثَرَ شَيْئٍ جَدَلًا
عبیداللہ بن سعد بن ابراہیم بن سعد، عمی، ابن اسحاق ، حکیم بن حکیم بن عباد بن حنیف، محمد بن مسلم بن شہاب، علی بن حسین، جدہ، علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے اور فاطمہ کے پاس رات کو تشریف لائے اور ہمیں نماز کے لیے جگایا۔ پھر اپنے گھر آگئے اور خاصی دیر تک نماز ادا فرماتے رہے جب ہماری کوئی آہٹ نہ سنی تو دوبارہ تشریف لائے اور فرمایا اٹھو اور نماز ادا کرو۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اٹھ بیٹھا اور آنکھیں ملتا ہوا کہنے لگا کہ ہم اتنی ہی نماز پڑھیں گے جتنی اللہ نے ہمارے مقدر میں لکھ دی ہے۔ پھر ہماری جانیں بھی اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہیں لہذا جب وہ ہمیں جگانا چاہتا ہے تو جگا دیتا ہے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی ران پر ہاتھ مار کر یہ کہتے ہوئے واپس چلے گئے کہ ہم اتنی ہی نماز پڑھیں گے جتنی ہمارے مقدر میں لکھی ہوئی ہے۔ انسان سب سے زیادہ جھگڑالو واقع ہوا ہے۔
It was narrated from Abu Bishr Ja’far bin Abi Washiyyah that he heard Humaid bin ‘Abdur Rahman say: “The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم said: ‘The best prayer after the obligatory prayer is prayer at night and the best fasting after the month of Ramadan is AlMuharram.” Shu’bah bin Al-Hajjaj narrated it in Mursal form. (Sahih)