TrueHadith

گر کوئی شخص عدت کے خلاف طلاق دے (یعنی حالت حیض میں طلاق دے) تو کیا حکم ہے؟

Sunan An-Nasa'iHadith 3346

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَقَالَ هَلْ تَعْرِفُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ فَإِنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَسَأَلَ عُمَرُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا ثُمَّ يَسْتَقْبِلَ عِدَّتَهَا فَقُلْتُ لَهُ فَيَعْتَدُّ بِتِلْکَ التَّطْلِيقَةِ فَقَالَ مَهْ أَرَأَيْتَ إِنْ عَجَزَ وَاسْتَحْمَقَ

قتیبہ ، حماد، ایوب، محمد، حضرت یونس بن جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ جس کسی نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ تم چاہتے ہو کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو انہوں نے اپنی اہلیہ محترمہ کو طلاق دے دی تھی حالت حیض میں پھر حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مسئلہ دریافت کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم اس کو حکم دو کہ وہ اپنی بیوی (کی طلاق سے) رجوع کر لے۔ پھر وہ اس کی عدت کا انتظار کرے میں نے عرض کیا کہ تم جو طلاق دے چکے ہو وہ تو واقع ہو چکی ہے اور وہ شمار ہوگی انہوں نے کہا کہ کس وجہ سے نہیں اور اگر طلاق سے رجوع نہ کرتے اور حماقت کرتے رہتے تو کیا وہ طلاق شمار نہ ہوتی۔

It was narrated from Ibn ‘Umar that he divorced his wife when she was menstruating, but the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم told him to take her back, and divorce her when she was pure (not menstruating). (Sahih)

Permalink

Sunan An-Nasa'iHadith 3347

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ يُونُسَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ رَجُلٌ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَقَالَ أَتَعْرِفُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ فَإِنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَأَتَی عُمَرُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُ فَأَمَرَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا ثُمَّ يَسْتَقْبِلَ عِدَّتَهَا قُلْتُ لَهُ إِذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ أَيَعْتَدُّ بِتِلْکَ التَّطْلِيقَةِ فَقَالَ مَهْ وَإِنْ عَجَزَ وَاسْتَحْمَقَ

یعقوب بن ابراہیم، ابن علیہ، یونس، محمد بن سیرین، حضرت یونس بن جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ جس کسی نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی حضرت ابن عمر فرمانے لگے کہ تم چاہتے ہو کہ حضرت عبداللہ بن عمر کو، انہوں نے اپنی اہلیہ محترمہ کو طلاق دے دی تھی حالت حیض میں پھر حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حضرت عمر نے مسئلہ دریافت کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم اس کو حکم دو کہ وہ اپنی بیوی (کی طلاق سے) رجوع کر لے۔ پھر وہ اس کی عدت کا انتظار کرے میں نے عرض کیا کہ تم جو طلاق دے چکے ہو وہ تو واقع ہو چکی ہے اور وہ شمار ہوگی انہوں نے کہا کہ کس وجہ سے نہیں اور اگر طلاق سے رجوع نہ کرتے اور حماقت کرتے رہتے تو کیا وہ طلاق شمار نہ ہوتی۔

It was narrated that Yunus bin Jubair said: “I asked Ibn ‘Umar about a man who divorced his wife while she was menstruating. He said: ‘Do you know ‘Abdullah bin ‘Umar?’ He divorced his wife while she was menstruating, and ‘Umar asked the Prophet صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم about that, and he told him to take her back, then wait for the right time. I said to him: ‘Was that divorce counted?’ He said: ‘Be quiet! What do you think if some becomes helpless and behaves foolishly?” (Sahih).

Permalink