TrueHadith

زکوة ادا نے کرنے کی وعید اور عذاب سے متعلق احادیث

Sunan An-Nasa'iHadith 2397

أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ فِي حَدِيثِهِ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ جِئْتُ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ فِي ظِلِّ الْکَعْبَةِ فَلَمَّا رَآنِي مُقْبِلًا قَالَ هُمْ الْأَخْسَرُونَ وَرَبِّ الْکَعْبَةِ فَقُلْتُ مَا لِي لَعَلِّي أُنْزِلَ فِيَّ شَيْئٌ قُلْتُ مَنْ هُمْ فِدَاکَ أَبِي وَأُمِّي قَالَ الْأَکْثَرُونَ أَمْوَالًا إِلَّا مَنْ قَالَ هَکَذَا وَهَکَذَا وَهَکَذَا حَتَّی بَيْنَ يَدَيْهِ وَعَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ ثُمَّ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَمُوتُ رَجُلٌ فَيَدَعُ إِبِلًا أَوْ بَقَرًا لَمْ يُؤَدِّ زَکَاتَهَا إِلَّا جَائَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْظَمَ مَا کَانَتْ وَأَسْمَنَهُ تَطَؤُهُ بِأَخْفَافِهَا وَتَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا کُلَّمَا نَفِدَتْ أُخْرَاهَا أُعِيدَتْ أُولَاهَا حَتَّی يُقْضَی بَيْنَ النَّاسِ

ہناد بن سری، ابومعاویہ، اعمش، معروربن سوید، ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت اللہ شریف کے سایہ میں بیٹھے ہوئے تھے جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ کو اپنی جانب آتے ہوئے دیکھا تو ارشاد فرمایا وہ ہی لوگ نقصان اور ٹوٹے والے ہیں اور خانہ کعبہ کے پروردگار کی قسم میں نے عرض کیا کہ کیا ارشاد ہے؟ ہو سکتا ہے کہ مجھ سے متعلق کوئی حکم نازل ہوا ہو۔ میں نے دریافت کیا کون حضرات ہیں۔ میرے والدین آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قربان ہوجائیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو لوگ بہت دولت جمع رکھتے ہیں لیکن جو اس قسم کے لوگ ہیں اور اس جانب اشارہ کیا یہاں تک کہ سامنے اور دائیں بائیں جانب بھی (مراد یہ ہے کہ ہر جانب سے ضرورت مند لوگوں کا خیال رکھتے ہیں) پھر ارشاد فرمایا بلکہ اس ذات کی قسم کہ جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ جو کوئی اونٹ اور بیل چھوڑ کر فوت ہو جائے کہ جن کی اس نے زکوة ادا نہ کی ہو تو وہ اونٹ اور بیل قیامت کے دن بڑے ہو کر حاضر ہوں گے اور اس زکوة ادا نہ کرنے والے شخص کو اپنے قدم سے روند ڈالیں گے اور اپنے سینگوں سے اس کو مار لگائیں گے جس وقت سب سے آخری جانور اس شخص کے ساتھ یہ تکلیف دہ عمل کرے گا تو پھر دوبارہ سے یہی تکلیف دہ کام شروع کریں گے (یعنی دوبارہ مارنا شروع کر دیں گے) یہاں تک کہ انسانوں میں حکم ہو یعنی لوگوں کے دوزخی اور جنتی ہونے کا ۔

It was narrated that Abu Dharr said: “I came to the Prophet صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم while he was sitting in the shade of the Ka’bah. When he saw me coming he said: ‘They are the losers, by the Lord of the Ka’bah!’ I said: ‘What’s happening? Perhaps something has been revealed concerning me.’ I said: ‘Who are they, may my father and mother be ransomed for you?’ He said: ‘Those who have a lot of wealth, except one who does like this, and like this, and like this,’ (motioning) in front of him, and to his right, and to his left. Then he said: ‘By the One in Whose hand is my soul, no man dies leaving camels, or cattle, or sheep on which he did not pay the Zakah, but they will come on the Day of Resurrection as big and fat as they ever were, trampling him with their hooves and goring him with their horns. Every time the last of them runs over him, the first of them will come back, until judgement is passed among the People.” (Sahih)

Permalink

Sunan An-Nasa'iHadith 2398

أَخْبَرَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَی قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ جَامِعِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ رَجُلٍ لَهُ مَالٌ لَا يُؤَدِّي حَقَّ مَالِهِ إِلَّا جُعِلَ لَهُ طَوْقًا فِي عُنُقِهِ شُجَاعٌ أَقْرَعُ وَهُوَ يَفِرُّ مِنْهُ وَهُوَ يَتْبَعُهُ ثُمَّ قَرَأَ مِصْدَاقَهُ مِنْ کِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مُحَمَّد بْن مَاجَةَ وَلَا تَحْسَبَنَّ مُحَمَّد بْن مَاجَةَ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمْ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ هُوَ خَيْرًا لَهُمْ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَهُمْ سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْآيَةَ

مجاہد بن موسی, ابن عیینہ، جامع بن ابوراشد، ابووائل، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص مالدار ہو اور وہ شخص مال و دولت کی زکوة نہ دے تو دولت اس شخص کی گردن کا بار ہوگی ایک گنجا سانپ بن کر۔ وہ اس سے بھاگنے لگے گا اور اس شخص کے ساتھ یہ عمل ہوگا ۔ پھر اس کی تصدیق و تائید کے واسطے آپ نے آیت تلاوت فرمائی نہ سمجھو ان لوگوں کو جو کہ کنجوسی کرتے ہیں اس دولت کے ساتھ جو کہ خداوند قدوس نے ان کو اپنے فضل و کرم سے عطا فرمایا ہے کہ یہ دولت ان لوگوں کے واسطے بہتر ہے بلکہ وہ دولت بری ہے ان کے واسطے جس کے ساتھ وہ لوگ کنجوسی کرتے ہیں وہ قیامت کے دن ان کی گردن کا ہار بنائی جائے گی۔

It was narrated that Abdullah said: “The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم said: ‘There is no man who has wealth and does not pay the dues of his wealth, but a bald- headed Shuja’a will be made to encircle his neck, and he will run away from it but it will follow him.’ Then he recited the confirmation of that from the Book of Allah: ‘And let not those who covetously withhold of that which Allah has bestowed on them of His Bounty (wealth)’ think that it is good for them (and so they do not pay the obligatory Zakah). Nay, it will be worse for them; the things which they covetously withheld, shall be tied to their necks like a collar on the Day of Resurrection.” (Sahih)

Permalink

Sunan An-Nasa'iHadith 2399

أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي عَمْرٍو الْغُدَانِيِّ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَيُّمَا رَجُلٍ کَانَتْ لَهُ إِبِلٌ لَا يُعْطِي حَقَّهَا فِي نَجْدَتِهَا وَرِسْلِهَا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا نَجْدَتُهَا وَرِسْلُهَا قَالَ فِي عُسْرِهَا وَيُسْرِهَا فَإِنَّهَا تَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ کَأَغَذِّ مَا کَانَتْ وَأَسْمَنِهِ وَآشَرِهِ يُبْطَحُ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ فَتَطَؤُهُ بِأَخْفَافِهَا إِذَا جَائَتْ أُخْرَاهَا أُعِيدَتْ عَلَيْهِ أُولَاهَا فِي يَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ حَتَّی يُقْضَی بَيْنَ النَّاسِ فَيَرَی سَبِيلَهُ وَأَيُّمَا رَجُلٍ کَانَتْ لَهُ بَقَرٌ لَا يُعْطِي حَقَّهَا فِي نَجْدَتِهَا وَرِسْلِهَا فَإِنَّهَا تَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَغَذَّ مَا کَانَتْ وَأَسْمَنَهُ وَآشَرَهُ يُبْطَحُ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ فَتَنْطَحُهُ کُلُّ ذَاتِ قَرْنٍ بِقَرْنِهَا وَتَطَؤُهُ کُلُّ ذَاتِ ظِلْفٍ بِظِلْفِهَا إِذَا جَاوَزَتْهُ أُخْرَاهَا أُعِيدَتْ عَلَيْهِ أُولَاهَا فِي يَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ حَتَّی يُقْضَی بَيْنَ النَّاسِ فَيَرَی سَبِيلَهُ وَأَيُّمَا رَجُلٍ کَانَتْ لَهُ غَنَمٌ لَا يُعْطِي حَقَّهَا فِي نَجْدَتِهَا وَرِسْلِهَا فَإِنَّهَا تَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ کَأَغَذِّ مَا کَانَتْ وَأَکْثَرِهِ وَأَسْمَنِهِ وَآشَرِهِ ثُمَّ يُبْطَحُ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ فَتَطَؤُهُ کُلُّ ذَاتِ ظِلْفٍ بِظِلْفِهَا وَتَنْطَحُهُ کُلُّ ذَاتِ قَرْنٍ بِقَرْنِهَا لَيْسَ فِيهَا عَقْصَائُ وَلَا عَضْبَائُ إِذَا جَاوَزَتْهُ أُخْرَاهَا أُعِيدَتْ عَلَيْهِ أُولَاهَا فِي يَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ حَتَّی يُقْضَی بَيْنَ النَّاسِ فَيَرَی سَبِيلَهُ

اسماعیل بن مسعو د، یزید بن زریع، سعید بن ابوعروبة، قتادة، ابوعمرو غدانی، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے جس شخص کے پاس اونٹ ہوں اور وہ شخص ان کی زکوة ادا نہ کرے تنگی اور وسعت میں (مطلب یہ ہے کہ جس وقت اونٹ موٹے تازے ہوں اور دولت صیحح حالت میں ہو تو) اس وقت زکوة ادا نہ کرے اس لئے کہ عمدہ موٹے تازے قسم کے اونٹ صدقہ کرنا زیادہ بھاری گزرتا ہے اور جس وقت وہ اونٹ دبلے پتلے ہو جائیں تو ان کو برا اور خراب خیال کر کے زکوة خیرات کرے یا جس وقت قحط سالی کا زمانہ ہو تو زکوة نہ ادا کرے۔ اس پر لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! تنگی اور وسعت سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا مشکل اور دشواری کے دور میں تو وہ اونٹ قیامت کے دن خوب موٹے تازے اور فربہ ہو کر آئیں گے اور ان کا مالک ان اونٹوں کے سامنے ایک صاف برابر میدان میں الٹے منہ لٹکایا جائے گا اور وہ اونٹ اس کو روند ڈالیں گے اپنے قدموں سے اور جس وقت آخر کا اونٹ اس کو اپنے قدم سے روند چکے گا تو پھر از سر نو پہلے والے اونٹ کو لایا جائے گا تمام دن اسی طریقہ سے جو پچاس ہزار سال کے برابر ہوگا یہاں تک کہ فیصلہ ہو لوگوں کے درمیان اور وہ لوگ اپنا راستہ دیکھ لیں یعنی اپنے انجام کو پہنچ جائیں اور جس کے پاس بکریاں ہوں گی اور وہ ان کی زکوة تنگی اور آسانی کے وقت نہ ادا کرے تو قیامت کے دن وہ بکریاں موٹی اور تیز ہوں گی اور چالاک بن کر آئیں گی پھر اس کے مالک کو الٹے منہ لٹکایا جائے گا ایک ہموار اور کشادہ میدان میں اور ہر ایک قدم والی بکری اس کو اپنے قدم سے روند لے گی اور سینگوں والی اپنے سینگ سے مارے گی اور کوئی ان میں مڑے ہوئے سینگ کی یا ٹوٹے ہوئے سینگ کی نہیں ہوگی بلکہ تمام کے تمام سینگ سیدھے اور طاقتور ہوں گے تاکہ مالک کو زیادہ سے زیادہ اور شدید تکلیف ہو اور جس وقت آخر کی بکری نکل جائے گی تو پھر دوبارہ پہلی والی بکری کو لایا جائے گا تمام دن جو کہ پچاس ہزار سال کا ہوگا یہاں تک کہ لوگوں کا فیصلہ ہو اور لوگ اپنے اپنے ٹھکانہ یعنی (جنت اور دوزخ) میں پہنچ جائیں۔

Abu Hurairah said: “I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم say: ‘Any man who has camels and does not pay what is due on them in its Najdah or its Risi;’ they said: ‘Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم, what does its Najdah and its Risi mean?’ He said: In times of hardship or in times of ease; they will come on the Day of Resurrection as energetic, fat and lively as they ever were. He will be laid face down in a flat arena for them and they will trample him with their hooves. When the last of them has passed, the first of them will return, on a day that is as long as fifty thousand years, until judgment is passed among the people, and he realizes his end. Any man who has cattle and does not pay what is due on them in drought or in plenty, they will come on the Day of Resurrection as energetic, fat and lively as they ever were. He will be laid face down in a flat arena for them, and they will trample him with their cloven hooves. When the last of them has passed the first of them will return, on a day that is as long as fifty thousand years, until judgment is passed among the people and he realizes his end. Any man who has sheep and does not pay what is due on them in drought or in plenty, they will come on the Day of Resurrection as energetic, fat and lively as they ever were. He Will be laid face down in a flat arena for them and they will trample him with their cloven hooves, and each horned one will gore him with its horn, and there will be none among them with twisted or broken horns. When the last of them has passed, the first of them will return, on a day that is as long as fifty thousand years, until Judgment is passed among the people, and he realizes his end.” (Hasan)

Permalink