TrueHadith

بالوں کو برابر کرنے یعنی کنگھی کرنے اور تیل لگانے سے متعلق

Sunan An-Nasa'iHadith 5141

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ قَالَ أَنْبَأَنَا عِيسَی عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ قَالَ أَتَانَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَی رَجُلًا ثَائِرَ الرَّأْسِ فَقَالَ أَمَا يَجِدُ هَذَا مَا يُسَکِّنُ بِهِ شَعْرَهُ

علی بن خشرم، عیسی، الاوزاعی، حسان بن عطیہ، محمد بن منکدر، جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم لوگوں کے پاس تشریف لائے تو آپ نے ایک آدمی کو دیکھا کہ اس کے سر کے بال پراگندہ (یعنی بکھرے ہوئے) تھے۔ آپ نے فرمایا کیا اس شخص سے یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ اپنے بال برابر (صحیح) کر لے۔

It was narrated from ‘Abdullah bin Buraidah that a man from among the Companions of the Prophet صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم, who was called ‘Ubaid said: “The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم :; used to forbid too much of Al-Irfah.” Ibn Buraidah was asked what too much of Al-Irfah meant, and he said: “It includes combing the hair.” (Sahih)

Permalink

Sunan An-Nasa'iHadith 5142

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُقَدَّمٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ کَانَتْ لَهُ جُمَّةٌ ضَخْمَةٌ فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهُ أَنْ يُحْسِنَ إِلَيْهَا وَأَنْ يَتَرَجَّلَ کُلَّ يَوْمٍ

عمرو بن علی، عمر بن علی بن مقدم، یحیی بن سعید، محمد بن منکدر، ابوقتادة سے روایت ہے کہ ان کے سر پر بالوں کا ہجوم تھا انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم ان کو اچھی طرح سے رکھو اور تم روزانہ کنگھی کرو۔

It was narrated from ‘Aishah that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم liked to start on the right whenever possible; when purifying himself, when putting on his shoes, and when combing his hair. (Sahih)

Permalink