TrueHadith

ایک شخص جب کوئی فتوی دے اور پھر اسے نبی اکرم کے حوالے سے کسی حدیث کا پتہ چلے تو اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔

Sunan DarimiHadith 639

أَخْبَرَنَا قَبِيصَةُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الْأَعْمَشِ قَالَ كَانَ إِبْرَاهِيمُ يَقُولُ يَقُومُ عَنْ يَسَارِهِ فَحَدَّثْتُهُ عَنْ سُمَيْعٍ الزَّيَّاتِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَامَهُ عَنْ يَمِينِهِ فَأَخَذَ بِهِ

اعمش بیان کرتے ہیں ابراہیم نخعی یہ فتوی دیتے تھے کہ ایک مقتدی امام کے بائیں طرف کھڑا ہوگا میں نے سمیع الزیات کے حوالے سے انہیں یہ حدیث سنائی کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے دائیں طرف کھڑا کیا تھا تو ابراہیم نخعی نے اس حدیث کو اختیار کرلیا۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 640

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ عَقَّارِ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ عَنْ أَبِيهِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ نَشَدَ عُمَرُ النَّاسَ أَسَمِعَ مِنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدٌ مِنْكُمْ فِي الْجَنِينِ فَقَامَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ فَقَالَ قَضَى فِيهِ عَبْدًا أَوْ أَمَةً فَنَشَدَ النَّاسَ أَيْضًا فَقَامَ الْمَقْضِيُّ لَهُ فَقَالَ قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِي بِهِ عَبْدًا أَوْ أَمَةً فَنَشَدَ النَّاسَ أَيْضًا فَقَامَ الْمَقْضِيُّ عَلَيْهِ فَقَالَ قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيَّ غُرَّةً عَبْدًا أَوْ أَمَةً فَقُلْتُ أَتَقْضِي عَلَيَّ فِيهِ فِيمَا لَا أَكَلَ وَلَا شَرِبَ وَلَا اسْتَهَلَّ وَلَا نَطَقَ أَنْ تُطِلَّهُ فَهُوَ أَحَقُّ مَا يُطَلُّ فَهَمَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ بِشَيْءٍ مَعَهُ فَقَالَ أَشِعْرٌ فَقَالَ عُمَرُ لَوْلَا مَا بَلَغَنِي مِنْ قَضَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَجَعَلْتُهُ دِيَةً بَيْنَ دِيَتَيْنِ

عقار بن مغیرہ اپنے والد حضرت مغیرہ بن شعبہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں حضرت عمر نے لوگوں کو قسم دے کر دریافت کیا کہ کیا کسی شخص نے یا کیا آپ میں سے کسی شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی پیٹ کے بچے کے بارے میں کوئی حکم سنا ہے تو حضرت مغیرہ بن شعبہ کھڑے ہوئے اور بولے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں ایک غلام یا کنیز ادا کرنے کا فیصلہ دیا تھا ۔ حضرت عمر نے لوگوں کو یہ قسم دے کر دریافت کیا تو جس شخص کے حق میں یہ فیصلہ ہوا تھا اس نے یہ بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے حق میں ایک غلام یا کنیز کی ادائیگی کا فیصلہ دیا تھا ۔ حضرت عمر نے پھر لوگوں کو قسم دی تو جس شخص کے خلاف فیصلہ ہوا تھا اس نے یہ بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اوپر ادائیگی لازم کی تھی۔ جو ایک غلام یا ایک کنیز تھی تو میں نے عرض کی تھی کیا آپ میرے خلاف اس بچے کے بارے میں فیصلہ دے رہے ہیں جس نے نہ کچھ کھایا ہے نہ کچھ پیا ہے۔ نہ وہ چلا کر رویا نہ وہ کچھ بولا اس طرح کا خون تو اس بات کا حق دار ہے کہ وہ ضائع ہوجائے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی چیز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کیا تم شاعری کر رہے ہو تو حضرت عمر نے ارشاد فرمایا اگر مجھے اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کا پتا نہ چلتا تو میں ایسے بچے کی دیت دو طرح کی دیت کے درمیان کی دیت مقرر کردیتا۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 641

أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ كَانَ سَلَّامٌ يَذْكُرُ عَنْ أَيُّوبَ قَالَ إِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَعْرِفَ خَطَأَ مُعَلِّمِكَ فَجَالِسْ غَيْرَهُ

ایوب بیان کرتے ہیں جب تمہیں کسی تعلیم دینے والے کی غلطی کا پتا چلے تواٹھ کر کسی اور کی محفل میں چلے جاؤ۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 642

أَخْبَرَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ قَالَ تَذَاكَرْنَا بِمَكَّةَ الرَّجُلَ يَمُوتُ فَقُلْتُ عِدَّتُهَا مِنْ يَوْمِ يَأْتِيهَا الْخَبَرُ لِقَوْلِ الْحَسَنِ وَقَتَادَةَ وَأَصْحَابِنَا قَالَ فَلَقِيَنِي طَلْقُ بْنُ حَبِيبٍ الْعَنَزِيُّ فَقَالَ إِنَّكَ عَلَيَّ كَرِيمٌ وَإِنَّكَ مِنْ أَهْلِ بَلَدٍ الْعَيْنُ إِلَيْهِمْ سَرِيعَةٌ وَإِنِّي لَسْتُ آمَنُ عَلَيْكَ وَإِنَّكَ قُلْتَ قَوْلًا هَا هُنَا خِلَافَ قَوْلِ أَهْلِ الْبَلَدِ وَلَسْتُ آمَنُ فَقُلْتُ وَفِي ذَا اخْتِلَافٌ قَالَ نَعَمْ عِدَّتُهَا مِنْ يَوْمِ يَمُوتُ فَلَقِيتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ عِدَّتُهَا مِنْ يَوْمِ تُوُفِّيَ قَالَ وَسَأَلْتُ مُجَاهِدًا فَقَالَ عِدَّتُهَا مِنْ يَوْمِ تُوُفِّيَ وَسَأَلْتُ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ فَقَالَ مِنْ يَوْمِ تُوُفِّيَ وَسَأَلْتُ أَبَا قِلَابَةَ فَقَالَ مِنْ يَوْمِ تُوُفِّيَ وَسَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ سِيرِينَ فَقَالَ مِنْ يَوْمِ تُوُفِّيَ وَحَدَّثَنِي نَافِعٌ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ مِنْ يَوْمِ تُوُفِّيَ و سَمِعْت عِكْرِمَةَ يَقُولُ مِنْ يَوْمِ تُوُفِّيَ قَالَ وَقَالَ جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ مِنْ يَوْمِ تُوُفِّيَ قَالَ وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ مِنْ يَوْمِ تُوُفِّيَ قَالَ حَمَّادٌ وَسَمِعْتُ لَيْثًا حَدَّثَ عَنْ الْحَكَمِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ قَالَ مِنْ يَوْمِ تُوُفِّيَ قَالَ تُوُفِّيَ عَلِيٌّ مِنْ يَوْمِ يَأْتِيهَا الْخَبَرُ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَقُولُ مِنْ يَوْمِ تُوُفِّيَ

ایوب بیان کرتے ہیں ہم مکہ میں ایک ایسے شخص کا ذکر کررہے تھے جو فوت ہوچکا تھا میں نے کہا اس کی بیوی کی عدت اس دن سے شروع ہوگی جب اس شخص کی وفات کی اطلاع ملے گی کیونکہ حسن بصری قتادہ اور ہمارے مشائخ کی یہی رائے ہے۔ ایوب بیان کرتے ہیں پھر میری ملاقات طلق بن حبیب عنزی سے ہوئی تو وہ بولے آپ مجھ پر بڑے مہربان ہیں آپ اس علاقے سے تعلق رکھتے ہیں جن کی طرف لوگوں کی نظریں تیزی سے جاتی ہیں اور میں آپ کے بارے میں امن میں نہیں ہوں اس نے یہ بھی کہا کہ آپ نے یہاں ایک بات کی ہے جو اس شہر کے اہل علم کے قول کے خلاف ہے اس لیے میں مطمئن نہیں ہوں میں نے دریافت کیا اس کے بارے میں اختلاف ہے اس نے جواب دیا جی ہاں۔ اس عورت کی عدت اس دن سے شروع ہوگئی جب وہ شخص فوت ہوا تھا کیونکہ میری ملاقات حضرت سعید بن جبیر سے ہوئی تھی اور میں نے یہی سوال ان سے کیا تھا تو انہوں نے جواب دیا تھا کہ اس عورت کی عدت اس دن سے شروع ہوگی جب وہ مرد فوت ہوا تھا پھر میں نے مجاہد سے سوال کیا تو انہوں نے بھی یہی جواب دیا۔ پھر میں نے عطاء بن ابی رباح سے سوال کیا تو انہوں نے بھی یہی جواب دیا، پھر میں نے ابوقلابہ سے سوال کیا تو انہوں نے بھی یہی جواب دیا کہ وفات کے دن سے ہوگی پھر میں نے محمد بن سیرین سے سوال کیا تو انہوں نے بھی یہی جواب دیا کہ وفات کے دن سے ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ نافع نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے بھی یہ بات ارشاد فرمائی ہے کہ اس دن سے شروع ہوگی جس دن اس کے مرد کا انتقال ہوا ہے ۔ میں نے عکرمہ کو اور حضرت جابر بن زید کو اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کو بھی یہی فتوی دیتے سنا ہے کہ وفات کے دن سے آغاز ہوگا۔ حماد بیان کرتے ہیں میں نے لیث کو حکم کے حوالے سے یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود یہ ارشاد فرمایا کرتے تھے کہ وفات کے دن سے آغاز ہوگا۔ وہ یہ بھی بیان کرتے ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ ارشاد فرمایا جس دن اس کی وفات کی خبر آئے گی اس دن سے آغاز ہوگا۔ عبداللہ بن عبدالرحمن فرماتے ہیں تو میں نے بھی یہی فتوی دیا کہ وفات کے دن سے حساب شمار ہوگا۔

-

Permalink